Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(۱۶)

    رسالہ’’القاعدةالمراکشیة‘‘ کا تعلق فن عقیدہ سے ہے،یہ مضمون اسی رسالہ کے تعارف پر مشتمل ہے ۔
    رسالہ کا نام : مخطوطات میں اس رسالہ کا نام’’القاعدة المراكشية‘‘ ملتا ہے۔ اسی طرح بعد میں کئی ایک مصنفین ومحققین نے بھی یہی نام ذکر کیاہے۔ جیسے ابن عبد الہادی’’وَأُخْرَى فِي الصِّفَات تسمى ‌المراكشية‘‘ العقود الدرية في مناقب ابن تيمية: ص:۶۷ ت الفقي)
    ابن تیمیہ کی تحریروں کے ماہر ابن رشیق نے بھی یہی نام ذکر کیاہے ۔ دیکھیں:‌المراكشية وَهِي فتيا فِي الصِّفَات خَمْسُونَ ورقة،أسماء مؤلفات شيخ الإسلام ابن تيمية:ص:۲۰)
    نوٹ:’’ أسماء مؤلفات شيخ الإسلام ابن تيمية‘‘ یہ کتاب ابن قیم کی طرف منسوب ہے ، اصلاً یہ کتاب ابن رشیق کی ہے ،جیساکہ علامہ عزیر شمس نے اپنے کسی محاضرہ میں بیا ن کیا ہے۔
    صفدی وغیرہم نے بھی یہی نام ذکر کیاہے ۔أعيان العصر وأعوان النصر:۲۴۱/۱ یہ رسالہ مجموع الفتاویٰ:۱۵۳/۵ ۔۱۹۴میں بھی موجو د ہے ۔
    سببِ تالیف : صفات با للہ بطور خاص اللہ کی صفت ،صفت علو پر مراکش سے آنے والے ایک سوال کے جواب میں شیخ الاسلام نے یہ رسالہ سلف صالحین کے طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے تحریر فرمایاتھا ، دراصل دو لوگو ںمیں بحث ہوئی اثبات صفات اورعلو علی العرش کے اثبات کے تعلق سے ۔ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ اللہ کے لیے صفات کا ثابت کرنا دراصل اللہ کے لیے جسم ثابت کرنا ہے اور یہ ناپسندیدہ ہے ،دوسرے کا کہنا تھا کہ نہیں اللہ کے لیے جو صفا ت ثابت ہیں انہیں ثابت کیا جائے گا ،اب سوال یہ ہے ان دونوں میں سے کون حق پر ہے ۔اسی کا جواب ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں اس رسالہ کے اندر دیا ہے۔ اوراس سے متعلق اٹھائے جانے والے شبہات کا رد بھی احسن اور نفیس اسلوب میں کیا ہے ۔
    شیخ الاسلام کی کئی ایک تالیفات ایسی ہیں جن کی نسبت سائل کے شہر کی جانب ہے ،جیسے الواسطیہ ، الحمویہ وغیرہ۔
    مراکش کا صحیح ضبط ۔‌‌‌‌‌‌ مَرّاكُشُ: بالفتح ثم التشديد، وضم الكاف، وشين معجمة: أعظم مدينة بالمغرب وأجلّها. [معجم البلدان:۹۴/۵]
    تاریخ تالیف : یہ کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ۷۱۲ھ میں قاہرہ میں لکھی ، اس وقت ان کی عمر۵۱ سال کی تھی ۔اس رسالہ کی تالیف کے ۱۶ سال بعد ان کا انتقال ہوگیا۔واسطیہ اور حمویہ کے بعداس کی تالیف ہے ۔
    موضوع : در اصل یہ رسالہ اللہ رب العزت کی صفات اور بطور خاص صفت علو سے متعلق ہے۔
    فوائدعلمیہ : (۱) اللہ رب العزت کے حکم کے مطابق رسول اللہ ﷺنے پوری ایمانداری کے ساتھ بغیر کچھ چھپائے لوگوں کے سامنے الٰہی تعلیمات کو پیش کردیا ، ایک نبی اللہ کے پیغام کوچھپائے یہ نبوت کے برخلاف بات ہے۔
    (۲) امت کی خیر وبھلائی کی جتنی بھی شکلیں اور راستے ہوسکتے تھے ،ان تمام کی صراحت و وضاحت رسول اللہ ﷺ نے کردی ہے ۔جیسا کہ نبی اکر م ﷺکا فرمان ہے:
    ’’أَيُّهَا النَّاسُ، إنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ مِنْ الْجَنَّةِ وَيُبْعِدُكُمْ مِنْ النَّارِ إلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنْ النَّارِ وَيُبْعِدُكُمْ مِنْ الْجَنَّةِ إلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ‘‘.’’اے لوگو! کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہیں جنت سے قریب اور جہنم سے دور کردے مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دےدیا ہے، اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے تو تمہیں جہنم سے قریب اور جنت سے دور کردے مگر میں نے تمہیں اس سے روک دیا ہے‘‘۔
    [شرح السنۃ للبغوی:۴۱۱۱]
    (۳) قرآن فہمی اور جذبہ عمل قرآن کریم کے تعلق سے صحابۂ کرام کا دیکھیں، دس آیتوں سے آگے اس وقت تک نہ بڑھتے تھے جب تک کہ وہ انہیں اچھے سے سمجھ نہیں لیتے اور ان پر عمل نہیں کرلیتے تھے ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے تعلق سے ملتا ہے کہ انہوں نے سورہ ٔبقرہ کو سیکھنے میں آٹھ برس لگادیا ۔ لہٰذا قرآن کی تلاوت اور فہم دونوں ضروری ہے۔
    (۴)جب ایک انسان طب ، حساب ،نحواو رفقہ وغیرہ کی کتابیں پڑھتا ہے تو اسے ضرور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ،پھر قرآ ن کے سلسلہ میں تو اسے بدرجۂ اولیٰ کوشش کرنی چاہیے ، کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کی گئی کتاب ہے ،راہ ہدایت اسی سے ملتی ہے ، حق و باطل کی پہچان اسی کتاب کے ذریعہ سے ممکن ہے ۔
    (۵)اللہ رب العزت نے قرآن میں کئی سارے مقامات پر تدبر و تفکر کی دعوت دی ہے ۔ دیکھیں :(سورہ: ص:۲۹، محمد :۲۴،المؤمنون:۶۸،نساء :۸۲)
    (۶) اللہ رب العزت نے ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں ہیں ۔جیسے کہ اللہ نے فرمایا:
    ﴿وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِھِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَھُوهُ وَفِي آذَانِھِمْ وَقْرًا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَىٰ أَدْبَارِهِمْ﴾[سورة الإسراء:۴۶]
    ’’اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب آپ صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ اس قرآن میں کرتے ہیں تو وہ رو گردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں‘‘۔
    [سورة الإسراء:۴۶]
    (۷)تابعی مجاہد رحمہ اللہ کا تفسیر میں مقام ومرتبہ سفیان ثوری کے اس قول سے بخوبی واضح ہوتا ہے:’’كان سفيان الثوري يقول: إذا جاءك التفسير عن مجاهد فحسبك به. ’’سفیان ثوری کہتےہیں :جب آپ کے پاس مجاہد کی تفسیر آجائے تو آپ کو وہی کافی ہے‘‘۔[مقدمة في أصول التفسيرلابن تيمية:۴۴]
    (۸) اللہ کے لیے صفت علو متعدد نصوص شرعیہ سے ثابت ہے ،ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کئی ایک قرآنی آیات اس باب میں ذکر کی ہیں ، اللہ رب العزت نے قرآن میں سات مقامات پر استواء علی العرش کا ذکر کیا ہے، (الاعراف:۵۴، یونس:۳،الرعد:۲،الفرقان:۵۹،السجدہ:۴،الحدید:۴،طہ:۵)
    (۹)سلف اس امت کے بہترین لوگ ہیں اور ان کا راستہ افضل ترین راستہ ہے۔
    (۱۰) سورہ مجادلہ کی آیت﴿ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُھُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُھُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَھُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ﴾ کی تفسیر کئی اہل علم نے ’’ علم‘‘ سے کی ہے اور اس پر ابو عمر المالکی نے تمام صحابہ و تابعین کا اجماع بھی نقل کیا ہے۔
    (۱۱)مکہ سے بیت المقدس تک کے سفر کو ’’اسراء‘‘ اور بیت المقدس سے آسمان تک کے سفر کو ’’معراج‘‘ کہتے ہیں ۔
    (۱۲) سفر معراج میں پہلے آسمان پر آپ کی ملاقا ت آ دم علیہ السلام سے دوسرے آسمان پر یحییٰ وعیسیٰ، تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے ،چوتھے پر ادریس، پانچویں پر ہارون، چھٹے پر موسیٰ اور ساتویں پر ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی تھی جیساکہ اس تعلق سے صحیح حدیث موجو د ہے ۔
    (۱۳)جو اسلام کو ظاہر کرے اور دل میں کفر کو چھپا ئے رکھے وہ منافق ، زندیق اور علمانی ہے ۔
    (۱۴)اسراء اور معراج دونوں ایک ہی رات میں ہوئے ہیں ۔
    (۱۵) ابو عمر بن عبد البر المالکی مؤطا کی شرح میں جب’’حدیث النزول‘‘ پر بات کرتے ہیں تو لکھتے ہیں کہ حدیث النزول کی صحت پر محدثین کا اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ تو متواتر ہے۔
    تحقیقات و شروحات:
    (۱)القاعدة المراكشية لابن تيميةـ تحقيق دغش العجمي. (۲)شرح المراكشية . أ.د ابراهيم بن عامر الرحيلي۔
    (۳)التعليقات الإيضاحية على القاعدة المراكشية، مؤلف:عبد العزيز بن عبد الله الراجحي.
    (۴)تحقیق : الدكتور ناصرين سعد الرشيد۔ (۵)التعليقات السلفية على القاعدة المراكشية .د/عبد العزيز بن ريس الريس
    جاری ……….

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings