Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • 0علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ ۔محاضرہ نمبر(۳) بر صغیر میں علماء اہل حدیث کی خدمات (قسط:۲)

    اب آئیے دوسرے پہلو پر بات کرتے ہیں وہ ہے توحید اور سنت کی طرف دعوت ،شرک و بدعت کے خلاف کوشش ،اس کا بھی سلسلہ شاہ ولی اللہ سے ہی شروع ہوتا ہے،انہوں نے عقیدہ کی کتاب’’ حسن العقیدہ‘‘(۱) کے نام سے لکھی ہے جو’’ العقیدہ الحسنہ‘‘ کے نام سے بھی چھپی ہے ،اس میں انہوں نے اشعری اور ماتریدی طریقہ چھوڑ دیا اور خالص سلفی طریقہ لکھا ہے،اسی طرح ان کے پوتے شاہ محمد اسماعیل دہلوی رحمہ اللہ نے ایک کتاب عقیدہ کی ایسی لکھی جس پر پورے بر صغیر میں ایک طرح سےکہہ لیجئے انقلاب آگیا ،انہوں نے’’ تقویۃ الایمان‘‘(۲) کے نام سے چھوٹی سی ایک کتاب لکھی ،جتنے شرک کے مسائل تھے ان سب کا آپریشن کرڈالا ،اس کا اتنا اچھا اسلوب اختیار کیا کہ پہلے آیتیں لکھتے ہیں پھر حدیثیں لکھتے ہیں اور پھر تشریح کرتے چلے جاتے ہیں ،پھر اس کا فائدہ۔ایسے ہی سمجھیں جیسے کتاب التوحید شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی ہے(۳) ،وہ بھی پہلے قرآنی آیت پھر حدیث اس کے بعد فوائد بیان کرتے ہیں، جب تک لوگ ان کتابوں کو نہیں پڑھتے ہیں تب تک انہیں لگتا ہےکہ نہ جانے کیا کیا گالیاں اور برابھلا لوگوں کو ان کتابوں میں کہا ہوگا ، لیکن جب پڑھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس میں تو صرف قرآن و حدیث ہی ہے ۔تقویۃ الایمان کا سب سے پہلا ایڈیشن سنہ ۱۲۴۲ھ یعنی ان کی شہادت سے چار سال پہلے شائع ہواتھا ،اسی کتاب کی بنیاد پر لوگ انہیں کافر قرار دیتے ہیں اور ان کے ماننے والوں کو سب کو کافر قرار دیتے ہیں ،یہ صرف ایک دو کتابوں کا نام میں نے ذکر کیا ،میں نے یہیں ریاض کے اندر ہی کسی لکچرمیں کہا تھا کہ اس طرح کی تقریباً پچاس ساٹھ کتابیں لکھی گئی ہیں ،جو کتابیں عربی ،اردو اور فارسی میں بھی ہیں ، ان کے ذریعہ سے عقائد کے اصلاح کا کام ہوا۔
    پھر شاہ اسماعیل نے اس کتاب کے لکھنے کے ساتھ ساتھ سیداحمد شہید کے ساتھ مل کرکے ایک ایسی تحریک چلائی کہ جس کو ’’تحریک شہیدین ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے ،تحریک شہیدین دو چیزوں سے عبارت ہے ،ایک ہے توحید و سنت کی طرف دعوت دوسرا جہاد(غیر مسلموں سے جہاد،غیر مسلم اس زمانہ میںسکھ تھے اور انگریز تھے )۔(۴)
    شاہ اسماعیل رحمہ اللہ نے اپنے بہت سے داعی پورے ہندوستان کے طول و عرض میں بھیجے ،مولانا ولایت علی صادق پوری کو بنگال بھیج دیا ،مولانا محمد علی رامپوری کو مدراس بھیج دیا ،بہر حال جس کو جہاں بھیجا اس نے وہاں پر توحید و سنت کا کام کیا ،اور الحمد للہ ان لوگوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بدعات و خرافات سےتائب ہوئے ،اسی طرح بہت سے رسوم ورواج بھی جو غیرمسلموں سے شادی بیاہ کے اندر آگئے تھے ان کی بھی اصلاح ہوئی ،ایک مثال دیتا ہوں،بیوہ عورتوں کی شادی کا کوئی تصور ہندؤں کے اندر نہیں تھا ، اب جن لوگوں نے اختیار کیا ہے وہ مسلمانوں سے متاثر ہوکر اختیار کیا ہے ،تو اس چیز کو بھی رواج دینے کا کام تحریک شہیدین نے کیا ،اب مخالفین کی طرف سے ان پر حملہ شروع ہوا اور لوگوں نے کہا کہ یہ لوگ جن چیزوں کو بدعت قرار دیتے ہیں وہ سب سنت ہیں ،ان میں ایک بڑے مشہور عالم ہیں بدعتیوں کے مولانا فضل رسول بدایونی(ت :۱۲۸۹ھ) (۵)انہوں نے ان کے رد میں کئی ایک کتابیں فارسی وغیرہ میں لکھیں ،(۶)۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جیسے ایک مقولہ ہے ہر فرعونے راموسی ،تو اللہ تعالیٰ نے انہی کے زمانہ میں پیدا کیا مولانا بشیر الدیل قنوجی رحمہ اللہ (۱۲۹۶ھ)، مولانا صدیق حسن صاحب کے یہاں بھوپال میں یہ قاضی بھی تھے ،انہوں نے ان کی ایک ایک کتاب کا منہ توڑ جواب دیا،تقریباً چار پانچ کتابیں انہوں نے لکھیں ، اس زمانہ میں اہل بدعت اور شرک میں مبتلا لوگوں نے شاہ اسماعیل کے رد میں یعنی تقویۃ الایمان کے رد میں کتابیں لکھیں ۔لیکن الحمد للہ مولانا بشیر الدین قنوجی کی تصانیف سے حقیقت کھلی ،اسی تیرہویں صدی ہجری میں ابھی ہم ہیں ،قاضی بشیر الدین قنوجی اس زمانہ کی ایک بڑی شخصیت تھی(۷) ،ان کے علاوہ بھی مولانا خرم علی بلہوری(۱۳۷۳ھ) (۸)کی کتاب نصیحۃالمسلمین ہے ، جس کے اندر انہوں نے بڑے بہترین انداز میں بدعت کی تردید کی ہے ۔نواب صدیق حسن خاں قنوجی ان کے والد مولانا اولاد حسن قنوجی تھے ،انہوں نے ایک کتاب ’’ہدایت المسلمین ‘‘کے نام سے لکھی، جس کے اندر تما م طرح کے خرافات پر انہوں نے رد کیاہے ۔اس طرح بیسویوں عالم تیرہویں صدی ہجری کے اندر ملتے ہیں اور انہو ں نے عقیدہ کے موضوع پر کتابیں لکھیں اور وہ کتابیں چھپی بھی ہیں ۔حارق الاشرا ر کے نام سے ایک بہترین نظم ہے جس میں تمام طرح کے بدعات پر رد ہے ۔(۹)
    نواب صدیق حسن جو اس زمانہ کی بڑ ی عہد ساز شخصیت ،اور کوئی بھی بر صغیر کی تاریخ لکھے ، حدیث کی تاریخ لکھے ، اصلاح و تجدید کی تاریخ لکھے ،نواب صاحب کانام نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔چاہے وہ عربی کے اندر ہو ،فارسی کے اندر ہو ،چاہےاردو کے اندر ہو ،یا اسی طرح علم حدیث کے نشر واشاعت کے تعلق سے ہو ان تمام پہلوؤں پران کے کارنامے اتنے زیادہ ہیں کہ جیسے میاں صاحب نے ۱۲۵۸ھ سے لے کر کے ۱۳۲۰ھ تک یعنی ۶۲سال حدیث کا درس دیا ،اسی طرح نواب صاحب نے تقریباً۲۰سال کا عرصہ پایا تھا ،بھوپال میں وہ گئے تھے ملازمت کرنے کے لیے اور وہ شادی شدہ تھے ،وہاں وہ پوری ایمانداری کے ساتھ حکومت کا جتنا کام تھا وہ کرتے تھے ،بعد میں نواب شاہ جہاں بیگم جو بیوہ ہوگئی تھیں ،جو وہاں کی ملکہ تھیں ، تو انہوں نے سوچا کہ بہت سارے امور میں مردوں کی ضرورت پڑتی ہے ، جس میں ان سے مشورہ کرنا ہوتا ہے ،تو انہوں نے خود خواہش ظاہر کی نواب صاحب سے شادی کرنے کی ، نواب صاحب نے پہلے تو انکا ر کیا ،لیکن بہت اصرار کے بعد کہ ہم آپ کو بے حد معتمد پاتے ہیں ،ملکہ بھوپال نے کہا کہ ہم ریاست میں امن وامان چاہتے ہیں اور علمی اعتبارسے بھی اسے آگے لے جانا چاہتے ہیں ۔تو آخر میں انہوں نے رضامندی کا اظہا رکیا اور پھر شادی کرلی ، یہ شادی نواب شاہ جہاں کی طلب اور ان کی رضامندی پر ہوئی تھی ۔ (یہاں پر ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نواب صاحب نے پیغامِ نکاح بھیجا تھا ،ان کی یہ بات بے بنیاد ہے ، خودلوگوں کو شاہجہاں بیگم کی کتاب ’’تاج الاقبال ‘‘ کامطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے سید نواب صاحب سے نکاح کے اسباب ذکر کرتے ہوئے لکھاہے کہ ان کی سترہ سالہ خدمات جلیلہ ،ان کی وفاداری ، خلوص، جانفشانی ،اعلیٰ قابلیت اور دیانت داری اوربیگم کی والدہ کی اظہار پسندیدگی ،دینی خدمات اور حسب ونسب وغیرہ تھے)۔ (آفا ق احمد سنابلی )
    بہر حال نواب صاحب نے شادی کی ، اور سوچیں انسان کے پاس جب دولت آتی ہے تو وہ اپنے اوپر ،بچوں پر اور زمین وغیرہ خریدنے میں صرف کرتا ہے ،نواب صاحب نے کیا کیا ،اپنی پوری دولت کو چونکہ وہ بڑے منصب پر تھے ، اور ملکہ کے شوہر بھی ، اسی طرح حکومت کا جو مد تھااس کو انہوں نے کئی طرح کے کاموں میں لگایا ،سب سے بڑا کا م یہ کیا کہ اس وقت کے بڑے بڑے جو علماء اور فضلاء تھے سب کو بھوپال میں جمع کیا ،(۱۰)حدیث کے بہت بڑے عالم جس طرح میاں نذیر حسین محدث دہلوی تھے ،اسی طرح یمن سے آئے ہوے ایک عالم تھے حسین بن محسن الیمانی (۱۳۲۷ھ)(۱۱) وہ شوکانی کے ایک واسطہ سے شاگرد ہیں ،تو نواب صاحب نے ان کو وہیں رکھ لیا تھا اور کہا کہ یہیں درس دیجئے ،آج سے سو سال ڈیڑھ سال پہلے جس کے بھی حالات دیکھیں گے اس نے یاتو حدیث میاں صاحب سے پڑھی یا پھر حسین بن محسن الیمانی سے پڑھی ،اس وجہ سے کہ یہی دونوں اس زمانہ میں حدیث پڑھنے اور پڑھانے کے معاملہ میں بہت معروف تھے ،مولا نا سلامت اللہ جیراج پوری اعظم گڑ ھ(۱۲) کے علاقہ کے تھے ان کو بلایا ،قاضی بشیر الدین قنوجی ،جب تک زندہ رہے وہیں پر رہے ،ان کی وفات کے بعد قاضی شیخ محمدبن عبد العزیز مچھلی شہری (۱۳)یہ بھی بہت بڑے محدث اور عالم تھے ،مولانا محمد بشیر شہسوانی،گویا کہ انہوں نے ایک بڑا علمی مجمع بنالیاتھا ۔
    اب تک کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ برصغیر کے اندر اصلاحی تحریک کی شروعات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے ہوتی ہے ،مولانا مسعود عالم ندوی کی ایک کتاب ہے ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک ،(۱۴)اس کی شروعات انہوں نے یہیں سے کیا،بر صغیر میں جو کچھ اصلاحی کام آپ دیکھ رہے ہیں ،جو بھی توحید و سنت کے نظار ے دیکھ رہے ہیں ،یہ سب صرف تحریک شہدین کی دین ہے ،اسی کے اثرات ہیں جو ابھی تک چلے آرہے ہیں ۔اس لیے اس تحریک سے متعلق اور اس کی ہمہ گیر خدمات پر بڑی لمبی چوڑی گفتگو ہوسکتی ہے ۔اس تحریک کو بڑے بڑے محققین نے داد وتحسین دی ہے ،مولانا غلام رسول مہر(۱۵)نے چار جلدوں میں اس حوالہ سے کتاب لکھی ،دو جلد سید احمد شہید کےنام سے اور دو جلدوں میں جماعت مجاہدین اور سرگزشت مجاہدین کےنام سے ،ایک ڈاکٹر قیام الدین کے نام سے پٹنہ کے اندر وہابی مومنٹ(۱۶) کے نام سے انہوں نے کتاب لکھی ،یہ سارے وہابی ہیں جن کو بدنام کیاجارہا ہے ، غیر مقلد اور لامذہب کہا جارہا ہے ، یہ سارا اصلاحی کا م انہی کے ذریعہ سے ہوا ہے۔عقیدہ اور سنت کی طرف کھل کرکے لوگوں کی رہنمائی کی ہے ۔
    بہر حال میں پہنچا تھا نواب صدیق حسن خاں قنوجی تک ،انہوں نے بھوپال کے اندر علمی مجلس جمائی ،علماء فضلاء کو جمع کیا ،اس کے بعد انہوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ چار پانچ میدان میں کام کیا ،پہلا میدان یہ کہ انہوں نے حدیث کی کتابوں کے ترجمہ پر لوگوں کو لگا دیا ،مولا نا وحید الزماں حیدر آبادی ،کتب ستہ اور دیگر کتابوں کے ترجمہ انہوں نے کرائے ،دوسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ حدیث کی کتابوں کے حفظ کے مقابلہ کروائے ،کئی لوگوں نے حدیث کی کتابیں حفظ کیں ،صحیح بخاری تک لوگوں نے حفظ کرلیا ،بلوغ المرام کسی نے حفظ کیا، مشکوٰۃ کسی نے حفظ کرلیا،ایک مشہوراور نابینا عالم تھے مولانا عبد التواب علیگڑ ھی انہوں نے صحیح بخاری حفظ کرلیا،اسی طرح اس پر انعام بھی اچھا خاصا رکھا،تیسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ حدیث کی کتابوں کی طباعت ، چنانچہ پوری دنیا میں سب سے پہلے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری کو انہوں نے مطبع دولاب مصر سے اپنے ذاتی خرچہ پر چھپوایا ،اور ہندوستان میں پھر اس کا الگ ایڈیشن چھپوایا جو لیتھو پر چھپا تھا،عرب میں بھی چھپوایا ، آج تک سب سے صحیح ایڈیشن وہی ہے ، ،انہوں نے پورے بر صغیر کے اندر جتنی بھی کتابیں چھپوائیں چاہے وہ فتح الباری ہو یا تفسیر ابن کثیر ہو یا پھر نیل الاوطار ہو ،معالم التزیل بغوی کی ہو ،اپنی تفسیر فتح البیان چھپوائی ،جس طرح سے دارالافتاء ریاض یا پھر وزارہ الشؤن الاسلامیہ سے کتابیں پیکٹ میں پیک کرکے چھپوائیں جاتی ہیں اور ادارو ں ، ملکو ں وغیرہ میں بھجوائی جاتی ہیں ، وہاں سے وہ سارے ادارں کے نام بلا تفریق مسلک و ملت سب کو کتابیں بھیجی جاتی ہیں ،لیکن بدقسمت کچھ ایسے تھے جو ان کی کتابیں واپس کردیتے تھے اور کہتے تھے کہ ان سے وہابیت ہمارے یہاں پھیلے گی ،یہ تفسیر کی کتابیں ،فقہ کی کتابیں ہم نہیں لیں گے ۔ میں نے خود اس طرح کا واقعہ مکہ میں دیکھا ہے ،ایک صاحب کے ساتھ میں ایک صاحب کے گھر گیا اور گفتگو چلی اور میرے ساتھ جو تھے وہ کچھ کتابیں ان کو ہدیۃً دینے کے لیےلے کر کےگئے تھے ، جو بیٹھے تھے انہوں نے تو وہ کتاب لے لی اور جب ہم واپس ہونے لگے تو اندر سے ایک خاتون کی آواز آئی کہ دیکھو جو کتاب دے کر گئے ہیں وہ مت لینا۔
    چوتھا کام انہوں نے یہ کیا کہ بھوپال کے اندر جتنے ادارے تھے ان سب کی تنظیم و ترتیب ،اسلامی عدالت انہوں نے قائم کیا،جہاں پر قاضی بشیر الدین ،قاضی محمد مچھلی شہری وغیرہ متعین تھے ،اس کے علاوہ ایک بڑا کا م انہو ں نے یہ کیا کہ بہت سے پریس انہوں نے خود لگوائے اور بہت سے پریس لوگوں کو پیسہ دے کرکے لگوائے ،مطبع صدیقی بھوپال میں ،مطبع شاہ جہانی بھو پال میں ،مولا ناسعید بنارسی جو بنارس کے رہنے والے تھے ، ان کو بنارس میں مطبع قائم کرنے کے لیے پیسہ دیا،پھر اپنی کتابیں انہوں نے مصر ،ترکی اور ہندوستان وغیرہ میں چھپوائیں ،ان کی کتابوں کی صحیح تعداد تین سو کے قریب ہے ،لوگ جو دو سو کے قریب بتاتے ہیں وہ درست نہیں ہے ۔انہوں نے اردو ،فارسی اور اردو وغیرہ میں کتابیں لکھیں ۔ان کی تصنیف و تالیف کا ایک بڑا سلسلہ ہے ، کوئی موضوع ایسا نہیں ہے جس پر انہوں نے کچھ لکھا نہ ہو ۔ان کی بڑی مشہور کتاب ہے ’’الدین الخالص‘‘ کے نام سے، اس کے اندر انہوں نے ساری بدعات وخرافات کا پوسٹ مارٹم کرکے رکھ دیا ہے۔اور وہ کتاب انہوں نے اپنے نام سے نہیں چھاپی ،ہاں بعد میں لوگوں کو جب معلو م ہواتو ان کا نام لکھنا شروع کیا ،اور اسی کتاب میں پوری دنیا میں سب سے پہلی بار ابن تیمیہ کی کتا ب ’’اقتضا ء الصراط المستقیم ‘‘میں چھپی تھی ۔سنہ۱۳۰۲ھ میں یہ کتاب دو جلدوں میں چھپی ہے ۔
    حواشی : ابویوسف آفاق احمد السنابلی المدنی
    1- حسن العقيدة رسالة مختصرة له في العقائد العربية. العقيدة الحسنة المعروف به ’’عقائداسلام‘‘. اردو ترجمہ :خلیل العلماء مفتی محمد خلیل خاں القادری البرکاتی المارہری ۔دوسرا اردو ترجمہ عبد الحمید سواتی نے کیاہے ۔ یہ رسالہ کئی مختلف ناموں سے معروف ہے ،جیسا کہ اوپرسے ظاہر ہوتا ہے۔
    شاہ صاحب کی عقیدہ کے باب میں ایک اور کتاب ہے’’ تحفة الموحدين‘‘ اس زمانہ میں جو بھی لوگوں میں اعتقادی خرابیاں تھیں ، شرک کی جو قسمیں تھیں ،ان تمام کا رَد اس کتاب کے اندر کیا گیا ہے۔
    ۲۔ تقویۃ الایمان کی اولین طباعت : اس کا پہلا ایڈیشن ۱۲۴۲ھ میں کلکتہ سے شائع ہواتھا۔(علامہ شمس الحق عظیم آبادی حیات و خدمات از علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ ص:۲۶)
    ’’اصلا ًیہ کتاب عربی میں ’’رد الاشراک ‘‘کے نام سے لکھی گئی تھی ، اس کے دو ابواب تھے ،پہلے باب میں توحید اور شرک کابیان تھا جبکہ دوسرے باب میں اتباع سنت اور اجتناب بدعت کے مباحث تھے ۔عربی کتاب مختصر ہے ، اس میں قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کو مختلف موضوعات کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔شاہ اسماعیل نے کتاب کے باب اول کو اردو زبان میں تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ منتقل کیا اور کتاب کے دوسرے باب کو اردو جامہ’’تذکیر الاخوان‘‘ کے نام سے ان کے شاگرد مولانا محمد سلطان نے پہنایاہے۔اصل عربی کتاب ’’رد الاشراک جماعت اہل حدیث کی محبوب شخصیت اور ہمارے محترم فاضل دوست شیخ عزیر شمس(۱۹۵۷ء۔۲۰۲۲ء)کی تحقیق و تخریج کے ساتھ ۱۹۸۳ء میں المکتبہ السلفیہ ،لاہور سے شائع ہو چکی ہے‘‘ ۔ رفیق رئیس سلفی حفظہ اللہ کے مضمون سے مستفاد ،دی فری لانسر پر یہ مضمون موجود ہے)۔
    علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی اس کتاب کے تعلق سے لکھتے ہیں :’’یوں سمجھئے کہ تقویۃ الایمان کی انبیائی دعوت توحید نے کلکتہ سے پشاور اور شمالی ہند سے جنوبی ہند کے ایوان ہائے بدعت میں تزلزل پیدا کردیا تھا اور جب مشرکانہ رسوم و رواج کے صدیوں پرانے قلعوں میں شگاف پڑنے شروع ہو گئے تو یونانی منطق کی نظریاتی بحثوں میں مگن خانقاہی تصوف کے اجارہ دار اور تقلید جامد میں سر شار اصحاب جبہ و دستار موحدانہ اثرات و نتائج سے تلملا اٹھے اور ایک طوفان بدتمیزی برپا کردیا ،اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ حضر ات تقویۃ الایمان کے بیان اور توحید خالص کویاتو سمجھ نہ سکے یا پھر کسی اندرون نفس کی مخفی شرارت یا کسی سازش کا شکار ہوگئے ‘‘۔(اکمل البیان: ص:۱۴)
    ایک سرسری اندازے کے مطابق چالیس پچاس لاکھ سےکم نہ چھپی ہوگی۔کروڑوں آدمیوں نے اسے پڑھا اورہدایت کی روشنی حاصل کی ۔ بقول غلام رسول مہر (م ۱۹۷۱ء)’’یہ ایسا شرف ہے جو تقویۃ الایمان کے سوا اردو کی کسی دوسری کتاب کو شاید ہی نصیب ہواہو ‘‘۔(مقدمہ تقویۃ الایمان ،ص:۱۶،لاہور۱۹۷۴ء )
    اس کتاب کی تصنیف کے بعد شرک و بدعات کے داعیان حیران و پریشان ہوئے اور اس کتاب کو کسی بھی طرح سے عوام الناس کےیہاں حاصل ہونے والے اعتماد کو ختم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور انہوں نے لگادیا ۔خاص طور پر علماء بدایوں اور بریلی قابل ذکر ہیں ۔ اور ایک دو نہیں کئی ایک کتابیں اس کے رد میں لکھیں جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔
    تقویۃالایمان پررد: تقویۃ الایمان پر اعتراضات مولانا فضل حق صاحب خیرآبادی مرحوم (۱۲۱۲ھ؍۱۷۹۷ء۔ ۱۲۷۸ھ؍۱۸۶۱ء) کو بھی تھے مثلاً وہ جو بعد میں ’’امتناع النظیر لحضرة خاتم النبيين عليه السلام و التسليم‘‘(فارسی ) عنوان پا گیا ۔ جس کا جواب خود مولانا شہید ہی نے قلم برداشتہ لکھ دیا تھا اور یہ جواب ’’ یک روزی ‘‘(شاہ اسماعیل رحمہ اللہ نے ایک ہی دن میں اس کاجواب تیار کردیاتھا ،اس وجہ سے اس کا نام یک روزی رکھا گیا۔) کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔غالبا ً اس کےبعد مولانا فضل حق خیر آبادی موصوف نے ’’تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی‘‘ (ترجمہ و تحقیق : محمد عبد الحکیم شرف قادری،صفحات :۴۴۰)کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ،جس کاجواب مولانا حید ر علی رامپوری ٹونکی متوفی(۱۲۷۲ھ؍۱۸۵۶ء)نے تحریر فرمایا ۔
    مرادآباد میں ایک مفتی مولوی نعیم الدین صاحب تھے ،وہ بھی اس کتاب کو تفویت الایمان کے نام سے پکارا کرتے تھے ۔ انہو ں نے تقویۃ الایمان کے رد میں جو کتاب لکھی اس کانام’’ اطیب البیان فی رد تقویۃ الایمان‘‘ رکھا۔
    تقویۃ الایمان کی مخالف برائے مخالفت کی شروعات بدایوں کے ایک صاحب مولوی فضل رسول صاحب کے سر بندھتا ہے ۔
    رد تقویۃ الایمان سے متعلق اہم تاریخی دستاویز از خلیفہ حضور مفتی اعظم علامہ بدر الدین صاحب قبلہ رضوی ۔ اس کے اندر کئی ایک ان کتابوں کو جمع کردیا گیا جو تقویۃ الایمان کے رد میں لکھی گئی ہیں ۔نیٹ پریہ کتاب موجود ہے۔
    تقویۃ الایمان بمقابلہ عظمت قرآن از مفتی عبد الوہاب خاں
    مولانا اسماعیل اور تقویۃ الایمان از حضرت زید ابو الحسن فاروقی مجددی
    تقویۃ الایمان میں تحریف کیوں از مولانا محمد علی رضا قادری برکاتی
    تجلیات غفوریہ ترجمہ احقاق الحق از حضرت علامہ میاں نصیر الدین احمد مترجم میاں ظاہر شاہ قادری ۔
    تنزیۃالرحمٰن عن شائبۃ الکذب و النقصان، مولانا احمد حسن کانپوری۔ویکیپیڈیا میں تو اس کتاب کا ذکر تقویۃ الایمان کے رد میں لکھی جانے والی کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے ،لیکن اس کتاب کو پڑھ کرکے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اس کے رد میں نہیں لکھی گئی ہے،ایسا بھی ممکن ہے کہ تقویۃ الایمان کے کسی ایک مسئلہ کے رد میں یہ کتاب لکھی گئی ہو ۔واللہ اعلم ۔
    الصمصام القاضب لراس المفتری علی اللہ الکذب. مولانا حکیم سید برکات احمد، ٹونکی
    عجالۃ الراکب فی امتناع کذب الواجب. مفتی محمد عبد اللہ ٹونکی
    تزكية الإيقان برد تقوية الإيمان للشيخ نقي علي البريلوي. نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر . الإعلام بمن في تاريخ الهند من الأعلام.(۷؍۱۱۲۶۔۱۱۲۷)
    إزالة ‌الشكوك والأوهام رداً على تقوية الإيمان، السيد فخر الدين الإله آبادي المعروف بحكيم بادشاه. نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر.الإعلام بمن في تاريخ الهند من الأعلام. (۸؍۱۳۲۵)
    تقویۃ الایمان پر ردود کے جوابات:
    ’’اطیب البیان رد تقویۃ الایمان ‘‘از صدر الفاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی کا جوا ب بنا م’’ اکمل البیان فی تائید تقویۃ الایمان‘‘، عزیز الدین مراد آبادی، اہل حدیث نے دیا ہے ۔یہ کتاب انہوں نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ایماء پر لکھاتھا۔
    دوسری کتاب ’’فیض الرحمٰن لتائید تقویۃ الایمان‘‘ لکھی گئی ۔مؤلف : مولانا محمد داؤد راز رحمہ الله علیہ، سال اشاعت ۱۳۸۴ھ، ناشر : ادارہ اشاعت دین اجمیری گیٹ دہلی، صفحات :۴۸
    تقویۃ الایمان کی تحقیق :
    (۱) تقویۃ الایما ن ،تحقیق شیخ رضاء اللہ عبد الکریم مدنی
    (۲) تسہیل و تدوین تقویۃ الایمان : ابوالمرجان فیضی ۔ مراجعہ ،دکتور سلمان احمد سراج احمد
    تقویۃ الایمان کے عربی اور دیگر زبانوں میں تراجم :
    تقویۃ الایمان کا اولین عربی ترجمہ جامعہ سلفیہ کے سابق شیخ الجامعہ حضرت مولانا عبد الوحید رحمانی(ت :۱۹۹۷ء) نے کیا، اس کے کچھ سالوں بعد دوسرا ترجمہ حضرت ابو الحسن علی ندوی (ت:۱۹۹۹ء) نے انجام دیا ،محترم ڈاکٹر عبد الاحد بنارسی مدنی حفظہ اللہ نے نئے پیرہن میں تحقیق کے ساتھ مولانا رحمانی کاترجمہ عالم عرب سے شائع کیا۔ (تقویۃ الایمان کے دو عربی ترجمہ ،مولانا محفوظ الرحمٰن کے مضمون سے مستفاد ، ص:۲۷آگہی جلد نمبر ۱ شمارہ نمبر۲، اپریل مئی جون ۲۰۲۵ء)۔
    ۳۔ کتاب التوحید پر تفصیلی طور پر کسی دوسرے موقع پر گفتگو کریں گے ، فی الحال اس بے نظیر کتاب کے تعلق سے ایک حوالہ واقعہ ذکر کرتاہوں جس سے یہ حقیقت واشگاف ہوگی کہ انسان جب تک ان کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتاہے کس قدر تعصب کے سبب ان سے نفرت اس کے دل میں بیٹھی رہتی ہے۔
    قصة عجيبة بكتاب التوحيد لشيخ الإسلام محمد بن عبد الوهاب:
    وأَنا أَقص الآن قصة عبد الرحمن البكري من اَهل نجد- كان أَولا من طلاب العلم على العم الشيخ عبد الله (۱) وغيره، ثم بدا له أَن يفتح مدرسة في عمان يعلم فيها التوحيد من كسبه الخاص فإذا فرغ ما في يده أخذ بضاعة (۲) من أَحد وسافر إلى الهند وربما أخذ نصف سنة في الهند. قال الشيخ البكري: كنت بجوار مسجد في الهند وكان فيه مدرس إذا فرغ من تدريسه لعنوا ابن عبد الوهاب، وإذا خرجمن المسجد مر بي وقال: أَنا أُجيد العربية لكن أحب أَن أَسمعها من أَهلها، ويشرب من عندي ماءً باردًا. فأَهمني ما يفعل في درسه، قال: فاحتلت بأَن دعوته وأَخذت ((كتاب التوحيد)) (۳) ونزعت ديباجته ووضعته على رف في منزلي قبل مجيئه، فلما حضر قلت: أَتأْذن لي أَن آتي ببطيخة. فذهبت، فلما رجعت إذا هو يقرأُ ويهز رأْسه فقال: لمن هذا الكتاب؟ هذه التراجم (۴) شبه تراجم البخاري هذا والله نفس البخاري؟! فقلت لا أدري، ثم قلت أَلا نذهب للشيخ الغزوي لنسأَله -وكان صاحب مكتبة وله رد على جامع البيان- فدخلنا عليه فقلت للغزوي كان عندي أَوراق سأَلني الشيخ من هي له؟ فلم أَعرف، ففهم الغزوي المراد، فنادى من يأْتي بكتاب ((مجموعة التوحيد)) فأُتي بها فقابل بينهما فقال هذا لمحمد بن عبد الوهاب. فقال العالم الهندي مغضبًا وبصوت عال: الكافر. فسكتنا وسكت قليلاً. ثم هدأَ غضبه فاسترجع. ثم قال: إن كان هذا الكتاب له فقد ظلمناه. ثم إنه صار كل يوم يدعو له ويدعوا معه تلاميذه وتفرق تلاميذ له في الهند وإذا فرغوا من القراءة دعوا جميعًا للشيخ ابن عبد الوهاب. اهـ.
    ( فتاویٰ ورسائل سماحۃ الشيخ محمد بن إبراہیم بن عبد اللطيف آل الشیخ؍ج :۱؍ص:۷۵۔۷۶ )
    (۱) ابن عبد اللطيف آل الشيخ۔ (۲) مال يتجر فيہ ببعض ربہ۔ (۳) الذي ھو حق الله علی العبد۔(۴) العناوین۔
    ترجمہ : نجد کے ایک تاجر عبدالرحمٰن البکری تجارت کی غرض سے ہندوستا ن کا سفر کرتے ہیں، تقریباً نصف سال تک ہندوستان میں ان کا قیام رہتا ہے ۔شیخ عبدالرحمٰن البکری کہتے ہیں کہ جس جگہ میں ٹھہرا تھا وہاں بغل میں ایک مسجد تھی۔اور اس مسجد میں ایک شیخ درس دیتے تھے ،جب وہ اپنے درس سے فارغ ہوتے تو شیخ اور تلامذہ ایک ساتھ مل کر’’شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ‘‘پر لعنت بھیجتے تھے ۔
    عبد الرحمٰن البکری کہتے ہیں شیخ جب مسجد سے نکلتے تو ان کا گزر میرے پاس سے ہوتا اور وہ مجھ سے گویا ہوتے کہ مجھے عربی اچھے سے آتی ہے لیکن میں عربی اہل زبان سے سننا چاہتاہوں،پھر وہ میرے پاس بیٹھ کر ٹھنڈ ا پانی پیتے ۔
    عبد الرحمٰن البکری کہتے ہیں کہ’’شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب‘‘ کے ساتھ ان کے اس سلوک کے سبب میں مغموم وبے چین تھا ۔چنانچہ میں نےایک حیلہ کے ذریعہ انہیں بلایا اور’’کتاب التوحید‘‘ کا غلاف پھاڑ کر ان کے آنے سے پہلے اپنے گھر کی الماری میں رکھ دیا ۔چنانچہ جب وہ حاضر ہوئے تو میں نے ان سے کہا مجھے ذرا اجاز ت دیں میں آپ کے لیے تربوزہ لے کر آتا ہوں۔جب میں تربوزہ لے کر واپس آیا تو کیا دیکھتاہوں کہ وہ’’ کتاب التوحید‘‘ کا مطالعہ کر رہے ہیں اور سر دھن رہے ہیں ۔اس کےبعد وہ سوالیہ اندازمیں مخاطب ہوکرپوچھتے ہیں کہ یہ کس کی کتاب ہے ؟ اس کتاب کے تراجم تو صحیح بخاری میں موجود کتاب التوحید کے تراجم کے مشابہ ہیں ۔عبدالرحمٰن البکری جواباً کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم ہے۔ پھر عرض کرتے ہیں کہ کیوں نہ ہم شیخ غزوی کے پاس چلیں جن کے پاس لائبریری ہے اور انہوں نے جامع البیان پر رد بھی لکھا ہے۔چنانچہ ہم غزوی کے پاس گئے اور ہمارے پاس جو اوراق تھے اسے ہم نے انہیں دکھایا اور ان سے کہا کہ یہ شیخ اس کتاب کے مؤلف کو جاننا چاہتے ہیں ؟عبد الرحمٰن البکری کہتے ہیں کہ غزوی میری مراد خوب سمجھ رہے تھے چنانچہ غزوی ’’کتاب التوحید‘‘منگواتے ہیں اور دونوں کو ملانے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ تو ’’شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ‘‘ کی کتاب ’’ کتاب التوحید ‘‘ ہے ۔یہ سنتے ہی وہ شیخ چراغ پا ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’کافر‘‘۔ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ اتنی عمدہ کتاب اس کافر شخص نے لکھی ہے۔
    عبدالرحمٰن البکری بیان کرتے ہیں کہ ہم ان کے اس رویہ پر خاموش رہے اور وہ بھی تھوڑی دیر بعد غصہ ٹھنڈا ہوجانے کے بعد خاموش ہوجاتے ہیں۔ پھرکہتے ہیں ’’ اگر واقعتاً یہ کتاب انہیں کی لکھی ہوئی ہے تو میں نے ان پر ظلم کیا ہے ۔پھر اس دن کے بعد سے وہ شیخ اور ان کے تلامذہ ایک ساتھ روز انہ درس سے فراغت کے بعد شیخ الاسلام کے لیے دعا کا اہتمام کرتے تھے۔
    ( فتاویٰ ورسائل سماحۃ الشيخ محمد بن إبراہیم بن عبد اللطيف آل الشیخ؍ج :۱؍ص:۷۵۔۷۶ )
    (۴) غلام رسول مہر نے اس تعلق سے کئی ایک کتابیں لکھی ہیں ۔ (۱) سید احمد شہید (۲)جماعت مجاہدین(۳) سرگزشت مجاہدین(۴)۱۸۵۷ءکے مجاہد ۔
    (۵) ان کی ایک کتاب ہے سیف الجبار ، اس کے سر ورق پرلکھا ہواہے ’’ہندوستان میں فتنہ نجدیہ و اسماعیلیہ کی تفصیلی تر دید پر مشتمل تیرہویں صدی ہجری کی ایک شاہکار اور مشہور زمانہ تصنیف ‘‘ ۔
    (۶) انہوں نے شاہ ولی اللہ ، شاہ اسماعیل اور تقویۃ الایمان وغیرہ کو اپنے رد و قدح کا ہدف بنایا ۔ او راس دل پسند موضوع پر متعدد کتابیں لکھی جن کے ناموں سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان کے اندر کیا کچھ ہوگا،
    تصحیح المسائل در تردید مسائل نجدیہ اراذل، البوارق المحمدیہ لرجم الشیاطین النجدیہ ملقب بہ سوط الرحمٰن علی قرن الشیطان۔سیف الجبار علی الاعداء للابرار ۔احقاق الحق و ابطال الباطل،مقولات عشر وغیرہ ۔ ان تمام کتابوں میں ’’ البوارق المحمدیہ لرجم الشیاطین النجدیہ ملقب بہ سوط الرحمٰن علی قرن الشیطان‘‘
    تقویۃ الایمان اور اس کے مصنف پر رد ہے ۔لیکن الحمد للہ جو بھی اعتراضات اس عظیم کتاب کے تعلق سے کئے گئے سبھوں کاجواب تقریبا علماء اہل حدیث نے دیا ہے۔
    (۷) قاضی بشیر الدین قنوجی کی مفصل سیرت کے لیے رجوع کریں ۔
    غایۃ المقصود فی حل سنن ابی داؤد از شمس الحق عظیم آبادی ص:۵۵۔۵۶ ؍وحققہ محمد عزير شمس و ابو القاسم الاعظمي، المجمع العلمي کراچی۔ نزھۃ الخواطر وبھجۃ المسامع والنواظر (۷؍۹۳۶)، فقہائے پاک و ہند تیرہویں صدی ہجری از محمد اسحاق بھٹی:ص:۱۴۵، دبستان حدیث از اسحاق بھٹی :صفحہ۱۱۷، تراجم علمائے حدیث ہند از ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی:ص:۳۲۹،(اسی تراجم علماء اہلحدیث ہند میں اولاد حسن قنوجی کے تعلق سے بھی پڑھ سکتے ہیں)۔
    انہوں نے جواب مولانا فضل رسول بدایونی کی لکھی گئی کتاب ’’ البوارق المحمدیہ لرجم الشیاطین النجدیہ ملقب بہ سوط الرحمٰن علی قرن الشیطان‘‘کا جواب’’الصواعق الالھيۃ لرد الشیاطین ‘” کے نام سے دیا ۔
    (۸) یہ مفید رسالہ مؤلف نے ۱۲۲۸ھ میں تحریر فرمایا۔(نصیحہ المسلمین :ص:۷ )۔
    (۹) حارق الاشرا ر جناب فتح اللہ مرحوم کی ہے ۔
    (۱۰)علامہ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں کہ:’’ بھوپال ایک زمانہ میں علمائے حدیث کا مرکز رہا ۔ قنوج، سہوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کر رہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی ان سب کے سرخیل تھے‘‘۔ (تراجم علمائے حدیث ہند ، ص:۳۶’’مقدمہ‘‘)۔
    مولانا عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :’’علو م عقلیہ کے امام مولانا قاضی بشیر الدین قنوجی، علامہ محمد بشیر شہسوانی ، مولانا سلامت اللہ صاحب جیراج پوری ،مولانا مظہر حسین اعظمی ، قاضی محمد مچھلی شہری وغیرہم دسیوں علماء تھے جو بھوپال میں نواب صاحب رحمہ اللہ کے سایہ شفقت میں کتاب وسنت اور دوسرے علو م اسلامیہ کی تدریسی ،تصنیفی ،تحقیقی اور تبلیغی خدمات انجام دے رہے تھے اور صرف بھوپال ہی میں نہیں بلکہ باہر بھی مولانا محمد سعید محدث کنجاہی ثم بنارسی ،مولانا محمد علی ابو المکار م مئوی ، نواب وحید الزماں خاں ، مولانا عبد الوہاب نابینا وغیرہم کو نواب صاحب ماہانہ وظائف سے نوازتے تھے ، تاکہ یہ لوگ علم عقیدہ کی شمع فروزاں رکھ سکیں ۔ (مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی :ج: ۳ص:۱۹)
    (۱۱)علامہ شیخ حسین بن محسن انصاری ، حدیدی ،یمانی (المتوفی:۱۳۲۷ھ ) نواب صاحب کے استاذ تھے اور ہندوستان کے تقریباً تمام جلیل القدر محدثین نے آپ سے سند تحدیث و اجازہ لی ،خدمت علم کی خاطر آپ نے اپنا اصلی وطن یمن چھوڑ کر بھوپال کو دوسرا وطن بنالیا اور اپنی پوری زندگی تدریس و تحدیث اورافتاء و تحقیق میں گزاردی ۔(مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی ج ۳ص:۲۰)
    آپ کی سوانح کے لیے دیکھئے :نور العينين في فتاوى الشيخ حسين ، ، مقدمة تحفة الأحوذي ، نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر(۸؍۱۲۱۲) . مقدمة غاية المقصود في شرح سنن أبي داؤد: ص:۶۸،۶۹،۷۰) (کاروان حدیث عبد الرشید عراقی: ص:۳۵۶)
    (۱۲) ان کی سیرت پڑھنے کے لیے رجوع کریں۔تذکرہ علماء اعظم گڑھ مؤلف ، حبیب الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ ،ص:۱۴۴ ، ۱۴۵،۱۴۶)نزھۃالخواطر،تراجم علماء اہل حدیث ص:۸۸،تذکرہ علماء حال)گلستان حدیث،اسحاق بھٹی :ص: ۱۰۲) ۔
    (۱۳) ان کی سیرت کے لیے رجوع کریں ۔تذکرۃ المحدثین عبد الرشید عراقی ص:۵۶۔نزہۃ الخواطر ۔ تراجم علمائے حدیث ہند :ص:۳۷۷
    (۱۴) مسعود عالم ندوی برصغیر کے نامور مؤرخ اور ادیب گزرے ہیں ،یہ علامہ تقی الدین کے کامیاب اور نمایاں شاگردوں میں سے ہیں ، اصلاً یہ اہل حدیث تھے ،ندوہ میں تعلیم کے سبب ندویت کی جھلک کہیں نہ کہیں نظر آ جاتی تھی ،کئی علمی کتابوں کے مؤلف ہیں ، جماعت اسلامی سے بھی ان کی وابستگی رہی ہے ، دارالعروبة للدعوة الاسلامية کے ذریعہ مودودی کی کتابوں کی چند ایک کتابوں کا ترجمہ کرکے عرب دنیا میں تعارف کرایا ، بعدمیں اس جماعت سے انہوں نے برأت کا اظہار کیا تھا یا نہیں اللہ اعلم ۔ آپ کی مشہور کتابیں عربی زبان میں ہیں۔ تاثیر الاسلام فی الشعر العربی، تاریخ الدعوہ الاسلامیہ فی الہند، حاضر مسلمی الہند وغابرہم وغیرہ۔ اردو میں شیخ محمد بن عبد الوہاب ایک مظلوم داعی ومصلح، اشتراکیت اور اسلام، ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک اور مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کے افکار وخیالات پر ایک نظر وغیرہ۔تفصیلی سیرت کے لیے دیکھیں : مولانا مسعود عالم ندوی حیات اور کارنامے،مصنف : ڈاکٹر عبد الحمید فاضلی، علامہ مسعود عالم ندوی شخصیت اور خدمات، مصنف :مفتی شرف عالم قاسمی، مسعود عالم ندوی، اختر راہی۔
    (۱۵) مولانا غلام ر سول مہر ضلع جالندھر کے ایک گاؤں پھول پور میں مئی ۱۸۹۴ء میں ایک باحمیت سلفی خاندان میں پیدا ہوئے ، مولانا مہر کی گوناں گوں خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس کے لیے مستقل کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔سیاست و صحافت ،ادب و بلاغت ،تاریخ و سیر، تمدن وثقافت ،تاریخ اسلام ،تاریخ عالم ،تحریک آزادی ہند ،تاریخ مجاہدین اور آزادی ہند وغیرہ اہم موضوعات پر آپ نے نہایت محققانہ اور شاہکار تصانیف چھوڑی ہیں۔آپ تقریباً ڈیڑھ سو کتابوں کے مصنف ،مؤلف ،مرتب یا مترجم تھے ۔اور آپ کی تمام تصانیف اپنے باب میں شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں۔ آپ کا سب سے عظیم الشان کار نامہ شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد شہید رحمہما اللہ کی چلائی ہوئی تحریک جہاد کی وہ عظیم الشان تاریخ ہے جس کا دائرہ بحث شہیدین کی شہادت (۱۸۳۱ء ) سے لے کر۱۹۴۷ء تک وسیع ہے اور جس پر آپ نے اپنے عمر عزیز کے تیس سال صرف کرکے چار ضخیم جلدوں (سید احمد شہید اول ،ثانی جماعت مجاہدین اور سرگزشت مجاہدین )کی شکل میں بڑی تقطیع کے تقریباً تین ہزار صفحات پر مشتمل پیش کیاہے اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس کی تحقیق میں لگے رہے ۔(مستفاد :مولانا غلام رسول مہر کی سیرت،مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی:ج:۲،ص:۳۷۔۴۱) مولانا غلام رسول مہر کی شخصیت او رسیرت پر تفصیلی طورپر پڑھنے کے لیے رجوع کریں۔ مولانا غلام رسول مہر: حیات اورکارنامے از ڈاکٹر شفیق احمد
    (۱۶)یہ کتاب اصلاً انگریزی زبان میں ڈاکٹر قیام الدینThe Wahabi Movement In India
    نے لکھی ہے ، اس کااردو میں ترجمہ پروفیسر محمد مسلم عظیم آبادی نے کیاہے ۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings