Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • امام ابوحنیفہ اورامام اوزاعی کا رفع الیدین پر مناظرہ

    امام ابوحنیفہ(المتوفی:۱۵۰ھ) کی وفات کے تقریبا ًڈیڑھ سو سال بعد پیداہونے والے ”ابو محمد عبد الله بن محمد بن يعقوب بن الحارث الحارثی (المتوفی:۳۵۰ھ)“ نے کہا:
    ”حدثنا محمد بن إبراهيم بن زياد الرازي، حدثنا سليمان ابن الشاذكوني، قال: سمعت سفيان بن عيينة يقول: اجتمع أبو حنيفة والأوزاعي في دار الحناطين بمكة، فقال الأوزاعي لأبي حنيفة: ما بالكم لا ترفعون أيديكم في الصلاة عند الركوع وعند الرفع منه؟ فقال أبو حنيفة: لأجل أنه لم يصح عن رسول الله ﷺ فيه شيء، فقال: كيف لم يصح وقد حدثني الزهري، عن سالم، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ أنه كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، وعند الركوع، وعند الرفع منه، فقال له أبو حنيفة: وحدثنا حماد، عن إبراهيم، عن علقمة، والأسود، عن عبد الله بن مسعود، أن رسول الله ﷺ كان لا يرفع يديه إلا عند افتتاح الصلاة، ولا يعود لشيء من ذلك، فقال الأوزاعي: أحدثك عن الزهري، عن سالم، عن أبيه، عن النبي ﷺ، وتقول: حدثني حماد، عن إبراهيم، فقال له أبو حنيفة: كان حماد أفقه من الزهري، وكان إبراهيم أفقه من سالم، وعلقمة ليس بدون ابن عمر في الفقه، وإن كانت لابن عمر صحبة، فله فضل صحبة، والأسود له فضل كثير، وعبد الله عبد الله، فسكت الأوزاعي“.
    ترجمہ: ”سفیان بن عیینہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی رحمہما اللہ مکہ میں ’’دارالحناطین‘‘ میں اکٹھا ہوئے تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے ابوحنیفہ سے کہا: تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ رکوع جاتے وقت اوررکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیوں نہیں کرتے؟ تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے جواب دیا: اس لیے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے اس سلسلے میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے ۔ تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: کیوں نہیں ثابت ہے جبکہ مجھ سے امام زہری نے بیان کیا ، انہوں نے سالم سے نقل کیا انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ،انہوں نے اللہ کے رسول ﷺسے روایت کیا کہ: آپ ﷺ نماز شروع کرتے وقت ، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے ۔ تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: اور ہم سے حماد نے بیان کیا ، انہوں نے ابراہیم سے روایت کیا ،انہوں نے علقمہ اور اسود سے نقل کیا ، انہوں نے عبداللہ بن مسعود؄ سے نقل کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ صرف نماز شروع کرتے وقت ہی رفع الیدین کرتے تھے ، اور اس کے بعد ایسا کچھ بھی نہیں کرتے تھے ۔ تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: میں تمہیں زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی ﷺ کے طریق سے روایت کررہاہوں اور تم حماد عن ابراھیم کے طریق سے روایت کررہے ہو ؟ تو ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ان سے کہا: حماد یہ زہری سے زیادہ فقیہ تھے اور ابراہیم یہ سالم سے زیادہ فقیہ تھے اور علقمہ ابن عمر؄ سے فقہ میں کم نہیں گرچہ ابن عمر؄ صحابی ہیں اور یہ شرف انہیں حاصل ہے ، اور عبداللہ بن مسعود ؄ تو عبداللہ بن مسعود ؄ ہیں۔ اس کے بعد امام اوزاعی رحمہ اللہ خاموش ہوگئے“ ۔
    [مسندأبي حنيفة للحارثي:۴۸۳/۱،رقم:۷۷۸،ط:المكتبة الإمدادية نیزدیکھیں:جامع المسانيد للخوارزمي :۳۵۲/۱:-۳۵۳]
    یہ پورا واقعہ جھوٹا ومن گھڑت ہے اور سند اس کی سلسلۃ الکذب ہے، اس کی سند میں کئی جھوٹے راوی ہیں جو اپنے جھوٹے استاذ سے نقل کررہے ہیں، تفصیل ملاحظہ ہو:
    عبد الله بن محمد بن يعقوب بن الحارث الحارثی:
    مسند ابوحنیفہ للحارثی اسی بدنصیب کی لکھی ہوئی کتاب ہے، یہ امام ابوحنیفہ کے دور میں پیداہی نہیں ہوا بلکہ امام ابوحنیفہ کی وفات کے تقریباً ڈیڑھ سوسال بعد پیدا ہوا اور ’’مسند ابوحنیفہ ‘‘نام کی کتاب لکھی جس میں اکاذیب وخرافات کاایک مجموعہ اکٹھا کردیا ۔
    یہ شخص جھوٹا و کذاب تھا اور غیرمعتبر تھا ۔
    امام أبو زرعہ احمد بن الحسين الرازي رحمہ الله (المتوفی:۳۷۵ھ)نے کہا:
    ”ضعيف“ ، ”یہ ضعیف ہے“۔ [سؤالات حمزة للدارقطني: ص:۲۲۸]
    خ امام ابو يعلیٰ الخليلی رحمہ الله (المتوفی:۴۴۶ھ)نے کہا:
    ”يعرف بالأستاذ، له معرفة بهذا الشأن، وهو لين ضعفوه، سمع عبد الصمد بن الفضل البلخي، وأقرانه من شيوخ بلخ وسمع ببخارى، ونيسابور، والعراق، يأتي بأحاديث يخالف فيها، حدثنا عنه الملاحمي، وأحمد بن محمد بن الحسين البصير بعجائب“.
    ”یہ استاذ کے لقب سے جانا جاتا ہے ،اسے حدیث کی جانکاری تھی ، لیکن یہ کمزور ہے، اہل فن نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس نے عبدالصمدبن الفضل اور ان کے ہم عصر میں بلخ کے مشائخ سے روایات سنیں ، اسی طرح بخارا ، نیسابور اور عراق میں بھی اس نے روایات سنیں ، یہ ایسی احادیث لاتا ہے جن میں دوسری کی مخالفت ہوتی ہے، اس کے واسطہ سے ہمیں ملاحمی اور احمدبن محمد نے عجیب وغریب روایات بیان کی ہیں“۔
    [الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي:۹۷۱/۳]
    خطيب بغدادي رحمہ الله (المتوفی:۴۶۳ھ) نے کہا: ”وليس بموضع الحجة“ .
    ”یہ اس لائق نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے“ ۔[تاريخ بغداد، مطبعة السعادة:۱۲۶/۱۰]
    خطيب بغدادي رحمہ الله (المتوفی:۴۶۳ھ)نے مزید کہا:
    ”صاحب عجائب ومناكير وغرائب“.
    ”یہ عجیب وغریب اور منکر باتیں بیان کرتاہے“ ۔
    [تاريخ بغداد، مطبعة السعادة:۱۲۶/۱۰]
    امام ابن الجوزي رحمہ الله (المتوفی:۵۹۷ھ)نے کہا:
    ”عبد الله بن محمد بن يعقوب البخاري يروي عن العباس بن حمزة قال أبو سعيد الرواس كان يتهم بوضع الحديث“ .
    ”عبد الله بن محمد بن يعقوب بخاري یہ عباس بن حمزہ سے روایات بیان کرتا ہے اور ابوسعید الرواس نے کہا کہ یہ حدیث گھڑنے میں متہم تھا“ ۔
    [الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي:۱۴۱/۲]
    امام ذہبی رحمہ الله (المتوفی:۷۴۸ھ)نے کہا :
    ”عبد الله بن محمد بن يعقوب البخاري قال أبو سعيد الرواس يتهم بالوضع“
    ”عبد الله بن محمد بن يعقوب کے بارے میں ابوسعید الرواس نے کہا کہ: یہ حدیث گھڑنے کے لیے متہم ہے“ [المغني في الضعفاء للذهبي: ص:۳۶]
    امام ذہبی رحمہ الله (المتوفی:۷۴۸ھ)نے کہا:
    ”عبد الله بن محمد بن يعقوب البخاري الفقيه: يأتي بعجائب واهية“.
    ”عبد الله بن محمد بن يعقوب انتہائی بودی قسم کی عجیب وغریب باتیں بیان کرتاہے“۔
    [ديوان الضعفاء ص:۲۲۷]
    امام ذہبی رحمہ الله (المتوفی:ھ۷۴۸)نے کہا:
    ”وقال أحمدالسليماني:كان يضع هذا الإسناد على هذا المتن، وهذا المتن على هذا الإسناد، وهذا ضرب من الوضع“.
    ”احمد سلیمانی نے کہا کہ:’’یہ شخص ایک سند کو دوسری متن پر فٹ کردیتاتھا اور دوسرے متن کو کسی اور سند پر فٹ کردیتا تھا ‘‘امام ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ چیز بھی حدیث گھڑنے میں شامل ہے“ ۔
    [ميزان الاعتدال للذهبي:۴۹۶/۲]
    محمد بن ابراہیم بن زیاد الرازي:
    حارثی کذاب نے اسی شخص سے مذکورہ واقعہ نقل کیا ہے اور یہ شخص بھی کذاب ہے ۔
    امام دارقطنی رحمہ الله (المتوفی:۳۸۵ھ)نے کہا:
    ”محمد بن إبراهيم بن زياد متروك“.
    ”محمدبن ابراہیم بن زیاد متروک ہے“۔
    [تاريخ بغداد، مطبعة السعادة:۴۰۶/۱]
    حافظ ابن حجر رحمہ الله نقل کرتے ہیں:
    ”قال الدارقطني أيضًا: دجال يضع الحديث“.
    ”امام دارقطنی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دجال اور حدیث گھڑنے والا تھا“۔
    [لسان الميزان ت أبي غدة:۴۷۴/۶]
    خطيب بغدادي رحمہ الله (المتوفی:۴۶۳ھ)نے کہا:
    ”سألت عنه أبا بكر البرقاني فقال بئس الرجل“.
    ”میں نے اس کے متعلق ابوبکر برقانی رحمہ اللہ نے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ بہت برا آدمی ہے“۔
    [تاريخ بغداد، مطبعة السعادة:۴۰۶/۱]
    خطيب بغدادي رحمہ الله (المتوفی:۴۶۳ھ)نے اس کی ایک حدیث ذکر کرنے کے بعدکہا:
    ”أراه مما صنعت يداه“.
    ”میں سمجھتاہوں کہ اس حدیث کو اسی کے ہاتھوں نے بنایا ہے“ ۔[تاريخ بغداد، مطبعة السعادة:۳۰۵/۱۱]
     سليمان بن داؤد الشاذکونی:
    خ امام ابن معين رحمہ الله (المتوفی:۲۳۳ھ)نے کہا:
    ”كذاب عدوالله كان يضع الحديث“.
    ”یہ بہت بڑا جھوٹا اور اللہ کا دشمن ہے یہ حدیث گھڑتاتھا“۔
    [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:۱۱۴/۴]
    امام احمد بن حنبل رحمہ الله (المتوفی:۲۴۱ھ)نے کہا:
    ”من نحو عبد الله بن سلمة الأفطس يعنى انه يكذب“ .
    ”یہ عبداللہ بن سلمہ کی طرح ہے یعنی یہ بھی جھوٹ بولتاہے“۔
    [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:۱۱۴/۴]
    خامام ابن عدي رحمہ الله (المتوفی:۳۶۵ھ)نے کہا:
    ”عندي ممن يسرق الحديث“.
    ”میرے نزدیک یہ حدیث چور ہے“۔
    [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي:۲۹۹/۴]
     ایک اشکال کا جواب :
    امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ”الکامل“ میں اس راوی کے بارے میں امام عبدان بن احمد الاہوزی کا قول نقل کیا ہے کہ :
    ’’معاذ الله أن يتهم الشاذكوني، وإنما كانت كتبه قد ذهبت فكان يحدث حفظا فيغلط‘‘.
    ”معاذ اللہ کہ شاذکونی پر تہمت لگائی جائے، بلکہ اس کی کتابیں ضائع ہو گئی تھیں، اس لیے وہ حفظ سے روایت کرتا تھا تو غلطی کر جاتا تھا“ ۔
    [الكامل لابن عدي طبعة الرشد:۲۹۹/۵]
    اور امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اسی کو ترجیح دی ہے ۔عرض ہے کہ:
    اولاً: امام عبدان کے برخلاف دیگر جن ائمۂ حدیث نے جرح کی ہے وہ جرح مفسر ہے نہ جارحین کی تعداد اوران کا وزن بھی زیادہ ہے لہٰذا ان کے برخلاف امام عبدان کا قول غیر مسموع ہے۔
    ثانیاً: امام ابن عدی رحمہ اللہ اس ترجیح میں شاذکونی کو صرف کذب سے بری قرار دیا ہے لیکن اسے ضعیف وسارق الحدیث اور بدکار تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’سليمان بن داود المنقري، يعرف بالشاذكوني بصري، يكْنَى أبا أيوب. حافظ ماجن عندي ممن يسرق الحديث‘‘.
    ”سلیمان بن داود المنقری، جو شاذکونی کے نام سے مشہور ہیں، بصری ہیں، اور ان کی کنیت ابو ایوب ہے۔ میرے نزدیک وہ حافظ ہیں مگر ماجن (یعنی فاسق اور بدکار)، اور ان لوگوں میں سے ہیں جو حدیث چراتے ہیں۔“
    [الكامل لابن عدي طبعة الرشد:۲۹۸/۵]
    معلوم ہوا کہ امام ابن عدی رحمہ اللہ کی نظر میں گرچہ یہ راوی جھوٹا نہیں مگر ضعیف اور بدکار ہے لہٰذا اس کی روایت معتبر نہیں ۔
    خلاصۂ کلام یہ کہ امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی رحمہما اللہ کی طرف منسوب یہ مناظرہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings