Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • معیار الحق: مشمولات واثرات (قسط رابع)

    جمع بین الصلاتین:
    دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرکے پڑھنا اہل حدیث اور احناف کے مابین ایک نزاعی مسئلہ رہا ہے، اہل حدیث اور بقیہ تمام ائمۂ کرام وجمہور اہل علم باتفاق جمع بین الصلاتین عذر یا سفر وغیرہ کی وجہ سے جمع تقدیم وتاخیر دونوں کے قائل ہیں، نوعیت میں قدرے اختلاف ہے، یہ جمع کرنا ظہر اور عصر کے درمیان، اور مغرب اور عشاء کے درمیان ہوگا۔ جبکہ احناف اسے درست نہیں سمجھتے سوائے عرفات اور مزدلفہ کے۔ احناف جمع بین الصلاتین کے بارے میں تمام احادیث کی تاویل کرتے ہیں، اور انہیں جمع صوری پر محمول کرتے ہیں، مثلاً ظہرکی نماز عصر کے ساتھ ایسے ملائی کہ ظہر کا آخر وقت تھا اور عصر کا اول وقت، جبکہ یہ معنیٰ اپنے طور پر تاویل کرتے ہوئے ہوسکتا ہے، لیکن احادیث وسنت میں اس کی کوئی وضاحت نہیں، یہ محض ایک نوع کا ذہنی خیال ہے اور بس۔
    شیخ الکل مرحوم نے اس پر بھی مفصل کلام کیا ہے، پہلے موضوع سے متعلق ایک مختصر سی تمہید ہے، اس کے بعد جمع تقدیم اور جمع تاخیر دونوں قسم کی احادیث کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے، اور درمیان میں ان کے معانی ومفاہیم کی درست تفہیم کی خاطر کلامِ سلف اور علماء متقدمین ومتاخرین سے استیناس کیا ہے، جمع تقدیم کی بابت تین احادیث اور جمع تاخیر کی بابت گیارہ احادیث وآثار پر اکتفا کیا ہے، جبکہ احادیث اس کے علاوہ مزید بھی ہیں، اس کے بعد مؤلف تنویر کے پیش کردہ دلائل کا محاکمہ کیا ہے۔
    ابتدائیہ ملاحظہ فرمائیں:
    اس مسئلہ کی تحقیق کان لگا کر سننی چاہیے، کہ اس مسئلہ میں جناب مؤلف نے بہت آبلہ فریبی اور حق پوشی کی ہے کہ دلائل میںوہ حدیثیں بیان کی ہیں، جن کی طرف ہم کو کچھ التفات نہیں، یعنی ایک روایت ابوداؤد کی جس کے راوی میں ضعف تھا، ہماری دلیل ٹھہرا کر نقل کردی، اور جو روایتیں صحیحہ متعددہ اس میں تھیں، چھوڑدیں۔ ایسے ہی ایک روایت طبرانی کی معجم اوسط سے، اور ایک روایت حاکم کی اربعین سے، جن میں کچھ ضعف تھا، دلائل ٹھہرا کر نقل کرکے ان کے بعض راویوں پر طعن کیا، اور جو روایتیں صحیحہ متعددہ بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند ابی یعلیٰ، مصنفات بیہقی، مؤطا امام مالک، مؤطا امام محمد، معانی الآثار طحاوی اور مستخرج لابی نعیم وغیرھا میں مشہور اور متداول تھیں، نقل کرکے ان کاجواب نہیں دیا۔
    کاش صحاح ستہ ہی کی صحیح حدیثوں کو دلیل ٹھہراتا اور پھر ان سے جواب دیتا، یہ کیا دین داری ہے، اور کیا مردانگی کہ کتب متداولہ صحیحہ بخاری ومسلم جیسی کو چھوڑ کر اربعین حاکم اور اوسط طبرانی کو جا پکڑ ا، اور ان سے دو ضعیف روایتیں نقل کرکے ان کا جواب دے دیا، تاکہ عوام کو یقین ہو کہ مجوزین جمع بین الصلاتین کے فقط اسی قدر دلیلیں رکھتے ہیں، جن کو مؤلف نے ضعیف کردیا۔ خیر جو کیا بزعم خود اچھا کیا، اب ہم سے تحقیق اس مسئلہ کی کما ینبغی سننا چاہئے، کہ اپنی دلیلیں کیسی قوی پیش کرتے ہیں، اور تمام حنفیوں کے عذرات کو، جو مؤلف نے بیان کئے ہیں وہ بھی، اورجو دیگر حنفیوں نے بیان کئے ہیں وہ بھی، کس طرح بالاستیعاب نقل کرکے ان کا جواب دیتے ہیں۔
    پس مخفی نہ رہے کہ جمع بین الصلاتین فی السفر صحیح اورثابت ہے رسول اللہ ﷺسے بروایت جماعت عظیمہ کے صحابہ کبار سے جن میں سے چندہیں:(۱) علی رضی اللہ عنہ (۲) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (۳)انس بن مالک رضی اللہ عنہ (۴) عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما (۵)عائشہ رضی اللہ عنہا (۶) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (۷) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ (۸)جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما (۹)ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ (۱۰)معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (۱۱)عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فی إحدی الروایتین (۱۲)سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ (۱۳)سعید بن زید رضی اللہ عنہ (۱۴) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (۱۵)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہم۔ اور مروی ہیں روایتیں ان کی ان تیرہ کتب حدیث میں جن کا ذکر بالا گزرا، اور کتنی اور کتب میں سوائے ان کے۔ لیکن مجموعہ روایات میں بعض تو ایسی ہیں کہ ان میں فقط جمع کرنا رسول اللہ ﷺ کا دو نمازوں کو بیان کیا ہے اور کیفیت اس جمع کی بیان نہیں کی۔ (معیار:ص:۴۸۱۔۴۸۲)
    شیخ الکل مرحوم نے بڑی تفصیل سے جمع تقدیم وتاخیر کی بیشتر احادیث بیان کی ہیں اور اس مسئلہ کو بڑی دقت وباریکی کے ساتھ اقوال سلف وخلف کی روشنی میں واضح کیا ہے، اخیر میں اس حوالے سے علماء احناف کے تمام شبہات کا ازالہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ جمع فی السفر یہ واضح اور بدیہی مسئلہ ہے۔ اس طرح یہ بحث کتاب کی آخری بحث ہے، جو (ص:۵۴۴ ) پر کتاب کے ختم ہونے کے ساتھ تمام ہوتی ہے۔ آخری جملے یہ ہیں:
    فللّٰه الحمد أولا وآخرًا وظاهرًا وباطنًا على ما أيدنا لإثبات الجمع فى السفر بين الصلاتين، الصحيح الثابت المروي عن النبى صاحب قاب قوسين صلى الله عليه وسلم وآله وصحبه صفوة الثقلين.
    اس کے بعد شیخ الکل نے – خاتمہ الکتاب – مختصراً تحریر فرما کر رخصت لی۔ اور اختتامیہ یوں کیا:
    (هذا آخر ما ألهم الله خالق الثقلين عبده العاجز: محمد نذير حسين،عافاه الله فى الدارين، بجاه سيد الثقلين)
    (جاہ الثقلین کا جملہ اہل حدیث اور کتاب وسنت کے خلاف ہے،کہ یہ وسیلہ بالاموات کی قبیل سے ہے، لہٰذا یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے ملاحظہ کیا جائے اور اختلاف سوائے شارع کے سب سے کیا جاسکتا ہے، منہج اہل حدیث کی یہی خوبصورتی ہے، جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے : كل يؤخذ من قوله ويُرد إلا صاحب هذا القبر صلى الله عليه وسلم۔
    سچ یہ ہے کہ یہ کتاب طلبۂ علم کو خاص طور پر پڑھنا چاہیے، غیر معمولی علمی فائدہ ہوگا، بس شرط یہ ہے کہ سرسری نہ پڑھی جائے، دلجمعی اور رغبت وتوجہ اور گہرائی سے مطالعہ کیاجائے، تو یقین ہے کہ علم واستدلال، مسائل کی بحث وتمحیص اور استخراج فوائد ونکات کے باب میں واقعی فرق محسوس ہوگا، محسوس ہوگا کہ مطالعہ سے دل کو ایک نوع کا ا عتماد علمی حاصل ہوا۔
    اسلوب:
    معیار الحق کے مباحث حساس اور خالص مناظرانہ ہیں، لیکن مؤلف نے انتہائی متانت اور سنجیدگی سے موضوع کو برتا ہے، اصل موضوع کو سامنے رکھا ہے، پوری کتاب میں کہیں زائد یا لغو باتیں شاید ہی مل سکیں، جس گوشے پر گفتگو کی ہے انتہائی عالمانہ اندازکی ہے، جملہ دلائل وبراہین عقلیہ ونقلیہ کا استقصاء کیا ہے، دلائل اس قدر فراوانی سے دئیے ہیں کہ باشعور قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، مسائل کے کشف وایضاح میں قلم بڑے اعتماد کے ساتھ چلا ہے، اس قدر خشک موضوع میں بھی ادبیت کی چاشنی اور اعلیٰ ذوقی کے جابجا مظاہر ملتے ہیں، یہ وصف آپ کے دیگر رسائل میں بھی ملتا ہے، سوائے بعض ان رسائل کے جو انتہائی اختصار سے لکھے گئے ہیں۔ ساتھ ہی متقدمین ومتاخرین کی کتابوں سے جابجا حوالے ہیں، جو مؤلف کی وسعت نظر اور فقہ وبصیرت پر دلالت کناں ہیں،بہت سی کتابیں ایسی ہیں جن کی بابت عہد ِنو میں جینے والی نسل شاید آگاہ نہ ہو، اس طرح محض ایک کتاب کے مطالعہ سے علماء سابقین کی نادر اور قیمتی کتابوں سے بھی آگاہی ہوجاتی ہے۔
    زبان قدیم اردو کی نمائندگی کرتی ہے، علماء رفتہ کے یہاں فارسی وعربی زدہ اردو لکھنے کا رواج عام تھا، اس زمانہ میں یہی اہلِ ذوق واہلِ شعور کی زبان تھی، اس کو علمی حلقوں میں برتا جاتا تھا، گو عہد ِنو کے لیے یا نسلِ نو کے لیے یہ بہت آسان نہیں، تاہم رہروانِ علم وآگہی اس طرزِ سخن سے بہت کچھ کشید کرسکتے ہیں، اس کاافسوس ہے کہ اس طرح کی زبان کو پاسداران ادب اردو نے اپنے یہاں جگہ نہیں دی، غالباً اس کی وجہ ایک یہ ہوسکتی ہے کہ میاں صاحب کے یہاں مشمولات بیشتر مذہبی ہیں، اور وہ بھی وہابیت زدہ تو اس تلخ گھونٹ کو کیسے پیا جاسکتا تھا، سو نہ پیا گیا۔
    کتاب میں کہیں کسی بھی طرح کی تعلی اور عجب کی اظہار سے قطعی احتراز کیا ہے، اپنی سنجیدہ علمی شناخت کی پوری چھاپ چھوڑی ہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ بھی اس علمیت، سنجیدگی اور بلند معیار کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے:
    ’’اسی زمانے میں معیار الحق دیکھی اور اس کا جواب انتصار الحق مولانا ارشاد حسین رامپوری کا اور مجھ پر معیار الحق کی سنجیدہ اور وزنی بحث کا بہت اثر پڑا ۔ اور صاحب انتصار کا علمی ضعف صاف صاف نظر آگیا‘‘۔ (مولانا آزاد کی کہانی خود ان کی زبانی از: عبدالرزاق ملیح آبادی :ص:۳۶۶)
    ایک اہم بات شاید قابل ذکر ہو کہ شیخ الکل کبھی کبھی عربی میں بھی کسی مسئلہ کی وضاحت کرتے ، خصوصاً جب مخاطب اہل علم ہوں یا کسی پر نقد کرنا ہو، تاکہ یہ بات اہل علم کے ساتھ خاص رہے۔ مثلاً : (ص:۴۳۶ ) ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، اسے یہاں نقل کرنا باعث طوالت واتعاب ہے۔
    شیخ کی عادت ہے کہ فارسی اشعار بھی کثرت سے نقل کرتے ہیں جیسا کہ شروع میں ایک اقتباس گزرا۔ کتاب خواہ کتنی خشک اور علمی ہو، جملہ کتابوں میںآپ کا طریق کار یہی ہے، اس سے آپ کے ادبی ذوق میں اعلیٰ معیار کا پتہ چلتا ہے، نہ صرف فارسی، بلکہ گاہے عربی اور گاہے اردو، جس سے مترشح ہوتا ہے کہ آپ کی اعلیٰ ذوقی تینوں زبانوں میں تھی۔ یہاں ہم اقتباس قصداً نہیں نقل کرتے کہ طوالت ہوگی، اور گزشتہ صفحات میں منقولہ اقتباسات کافی ہیں، نیز اشعار وغیرہ کو بھی اسی قصد سے قلم انداز کرتے ہیں۔
    جاری …………..

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings