Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • اعتبار راوی کی روایت کا ہوگا نہ کہ روایت کے برخلاف فتویٰ کا

    جب قرآن اور صحیح حدیث سے ایک مسئلہ ثابت ہوجائے تو اسی کو لیا جائے گا، اس کے خلاف کسی بھی امتی کا قول نہیں لیا جاسکتا کیونکہ قرآن و حدیث وحی ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں ہے جبکہ امتی کے قول میں غلطی کا امکان ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ امتی نے حالات یا کسی مصلحت کے سبب نص کے خلاف فتویٰ دیا ہو جس میں وہ معذورہو ۔
    حتیٰ کہ کوئی صحابی ایک حدیث روایت کریں اور خود اس کے خلاف فتویٰ دیں تو بھی ان کی روایت کردہ حدیث ہی کو لیا جائے گا نہ کہ اس کے خلاف ان کے فتویٰ کو ، کیونکہ ان کے اس طرح کے فتویٰ میں بھی مذکورہ احتمالات ہوسکتے ہیں، کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
    لبن الفحل کا مسئلہ:
    اگر ایک شوہر کی بیوی اس کے نطفہ سےحاملہ ہوجائے تو پھر ولادت کے بعد یہ بیوی جن جن کو دودھ پلائے گی وہ سب کے سب اس کے شوہر اور شوہر کےخونی اقرباء کے رضاعی رشتہ دار ہوں گے ، کیونکہ بیوی کو دودھ اس کے شوہر کے نطفہ کے سبب ہی ہوا ہے ، اس لیے اس دودھ کے ساتھ شوہر کا تعلق جڑا ہے۔ اسی مسئلہ کو’’ لبن الفحل‘‘ کہا جاتا ہے ، فحل سے مراد شوہر ہے اور لبن سے مراد بیوی کا دودھ ہے ، لیکن اسے شوہر کی طرف منسوب کرتے ہوئے’’ لبن الفحل‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ شوہر کے نطفہ کے سبب ہی یہ دودھ وجود میں آتا ہے۔
    ’’لبن الفحل‘‘ سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے اس سلسلے میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ صریح حدیث ملاحظہ کیجئے:
    امام بخاری رحمہ الله (المتوفی:۲۵۶ھ) نے کہا:
    حدثنا آدم، حدثنا شعبة، أخبرنا الحكم، عن عراك بن مالك، عن عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: ’’استأذن علي أفلح، فلم آذن له، فقال: أتحتجبين مني وأنا عمك، فقلت: وكيف ذلك؟ قال: أرضعتك امرأة أخي بلبن أخي، فقالت: سألت عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: صدق أفلح ائذني له“ .
    اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:’’ افلح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اسے اجازت نہ دی۔ وہ کہنے لگے۔ تم مجھ سے پردہ کرتی ہو، حالانکہ میں تو تمہارا چچا ہوں۔ میں نے کہا: وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا: میرے بھائی کی بیوی نےتمہیں دودھ پلایا ہے وہ دودھ میرے بھائی کی وجہ سے تھا۔ اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: افلح سچ کہتا ہے (اسے اندر آنے کی )اجازت دو“۔
    [صحيح البخاري:۱۶۹/۳، رقم۲۶۴۴]
    اس حدیث کو روایت کرنے والی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں ، لیکن اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے اس حدیث کے خلاف عمل ثابت ہے ،چنانچہ:
    امام مالک رحمہ الله (المتوفی:۱۷۹ھ ) نے کہا:
    عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، أنه أخبره:’’أن عائشة زوج النبي ﷺ كان يدخل عليها من أرضعته أخواتها، وبنات أخيها،ولا يدخل عليها من أرضعه نساء إخوتها“ .
    قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ :’’ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہ لوگ جاسکتے تھے جن کو ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہے ، لیکن وہ لوگ نہیں جاسکتے تھے جن کو ان کے بھائیوں کی بیویوں نے دودھ پلایا ہے“۔
    [موطأ مالك ت عبد الباقي:۶۰۴/۲،وإسناده صحيح وأخرجه البيهقي في معرفة السنن: رقم۱۵۴۲۷ من طريق عبد الرحمٰن بن القاسم به ، وأخرجه أيضا سعيد بن منصور في سننه رقم۹۶۳ من طرق عن القاسم بن محمد به ]
    اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بھابھیوں کا دودھ پینے والوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھیں ، حالانکہ’’ لبن الفحل‘‘ کے سبب یہ لوگ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی رشتہ دار تھے اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود یہ حدیث روایت کررکھی ہے کہ’’ لبن الفحل‘‘ سے رضاعی رشتہ ثابت ہوتا ہے اور ایسے رضاعی رشتہ والے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آسکتے ہیں ۔
    یہ مثال احناف کے اس اصول کی دھجیاں بکھیر دیتی ہے کہ راوی جب اپنی روایت کے خلاف عمل کرے تو راوی کے عمل و فتویٰ کو لیا جائے گا ۔کیونکہ احناف نے بھی اس مسئلہ میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل وفتویٰ کو ترک کردیا ہے اوراماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو اپنایا ہے۔
    امام ابن حزم رحمہ الله (المتوفی:۴۵۶) اس مثال کو لے کر احناف کے اس اصول کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ”وهذا خبر لم يروه عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم – إلا عائشة وحدها، وقد صح عنها خلافه، فأخذوا بروايتها وتركوا رأيها، ولم يقولوا: لم تخالفه إلا لفضل علم عندهن، وقالوا: لا ندري لأي معنى لم يدخل عليها من أرضعته نساء إخوتها“ .
    ”اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے بھی روایت نہیں کیا ہے ، اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے اس کے مخالفت ثابت ہے ، تو ان لوگوں نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو لے لیا اور ان کی رائے کو ترک کردیا ، اور حسب عادت یہ نہیں کہا کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس لیے مخالفت کی ہوگی کہ ان کے پاس کوئی اضافی علم ہوگا“۔
    [المحلى لابن حزم، ط بيروت:۱۸۳/۱۰]
    حافظ ابن حجررحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲) اس مثال کی روشنی میں احناف کے غلط اصول اور ان کی بے بسی کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ”وألزم به بعضهم من أطلق من الحنفية القائلين أن الصحابي إذا روي عن النبي صلى الله عليه وسلم حديثا وصح عنه ثم صح عنه العمل بخلافه أن العمل بما رأى لا بما روى لأن عائشة صح عنھا أن لا اعتبار بلبن الفحل ذكره مالك في الموطأ وسعيد بن منصور في السنن وأبو عبيد في كتاب النكاح بإسناد حسن وأخذ الجمھور ومنهم الحنفية بخلاف ذلك وعملوا بروايتھا في قصة أخي أبي القعيس وحرموه بلبن الفحل فكان يلزمھم على قاعدتھم أن يتبعوا عمل عائشة ويعرضوا عن روايتھا ولو كان روى هذا الحكم غير عائشة لكان لھم معذرة لكنه لم يروه غيرها وهو الزام قوي“ .
    ”احناف میں سے جن لوگوں نے علی الاطلاق یہ کہا ہے کہ جب ایک صحابی کوئی حدیث روایت کرے اور وہ سنداًاس سے ثابت ہو ، پھر اسی صحابی سے یہ بھی ثابت ہو کہ اس نے اس کے خلاف عمل کیا ہے تو اعتبار صحابی کے عمل وفتویٰ کا ہوگا نہ کہ صحابی کی روایت کردہ حدیث کا ۔اس اصول کا رد بعض اہل علم نے یہ الزامی جواب دیتے ہوئے کیا ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ عمل و فتویٰ ثابت ہے کہ’’ لبن الفحل‘‘کا اعتبار نہیں ہوگا ، جیساکہ مالک نے ’’مؤطا‘‘ ، سعیدبن منصور نے’’ سنن‘‘ اور ابوعبید نے ’’کتاب النکاح ‘‘میں بسند حسن روایت کیا ہے ، لیکن جمہور بشمول احناف نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ حدیث کو لیا ہے ، جس میں ابوالقیس کے بھائی (افلح) کا واقعہ ذکر ہے اور ’’لبن الفحل‘‘ کے سبب حرمت رضاعت کا اعتبار کیا ہے ۔ لہٰذا احناف پر لازم تھا کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل کی پیروی کرتے اور ان کی روایت کردہ حدیث سے اعراض کرتے ، اور اگر اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور صحابی نے روایت کیا ہوتا تو احناف کے لیے گنجائش تھی ، مگر صورت حال یہ ہے کہ اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے بھی روایت نہیں کیاہے ، اس لیے احناف کو دیا گیا یہ الزامی جواب بہت قوی اور مضبوط ہے“۔
    [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة:۱۵۲/۹]
    حقیقت یہ کہ اس مثال نے حنفیت کے اصول کا جنازہ نکال دیا ہے اور پوری دنیائے حنفیت میں کسی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔
    بعض احناف نے ہمت جٹا کر یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا جن لوگوں کے اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی ، تو اس کی وجہ حرمت رضاعت کا عدم اعتبار نہیں بلکہ کوئی اور وجہ ہوگی ۔
    عرض ہے کہ یہ جواب انتہائی لایعنی اور بے سود ہے کیونکہ روایت میں پوری طرح صراحت ہے کہ اجازت دینے اور نہ دینے کی وجہ حرمت رضاعت کا اعتبار اور عدم اعتبار تھا ۔چنانچہ جن کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنے کی اجازت دی ان کے تعلق سے الفاظ ہیں:
    امام مالک رحمہ الله (المتوفی:۱۷۹) نے کہا:
    ”كان يدخل عليها من أرضعته أخواتها، وبنات أخيها“.
    ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہ لوگ جاسکتے تھے جن کو ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہے“ ۔
    اور جن کو آنے کی اجازت نہ تھی ان کے تعلق سے الفاظ ہیں:
    ”ولا يدخل عليها من أرضعه نساء إخوتها“ .
    ”لیکن وہ لوگ نہیں جاسکتے تھے جن کو ان کی بھابھیوں نے دودھ پلایا ہے“ ۔
    ملاحظہ فرمائیں روایت پوری طرح صراحت کررہی ہے کہ یہ سارا معامہ صرف اور صرف حرمت رضاعت کی بنا پر تھا ۔
    امام ابن حزم رحمہ الله (المتوفی:۴۵۶) اس لایعنی جواب کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ”وقال بعضھم: للمرأة أن تحتجب ممن شاءت من ذوي محارمھا؟ فقلنا: إن ذلك لھا إلا أن تخصيصھا – رضي الله عنھا – بالاحتجاب عنھم من أرضعته نساء أبيھا، ونساء إخوتھا، ونساء بني أخواتھا، دون من أرضعته أخواتھا، وبنات أخواتھا، لا يمكن إلا للوجه الذي ذكرنا، لا سيما مع تصريح ابن الزبير – وهو أخص الناس بها – بأن لبن الفحل لا يحرم، وأفتى القاسم بذلك، فظھر تناقض أقوالھم والحمد لله رب العالمين“ .
    ”بعض نے یہ کہا ہے کہ : ایک عورت کی اپنی مرضی ہے کہ وہ محرم رشتہ داروں میں بھی جن کو چاہے اپنے پاس آنے سے روک دے ، تو ہمارا کہنا ہے کہ : بے شک عورت کو اس کا حق ہے ، لیکن یہاں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنہیں اپنے پاس آنے سے روکا ہے ان کی خاصیت یہ بتائی ہے کہ وہ ان کے والد ، بھائیوں اور بھتیجوں کی بیویوں کے رضاعی رشتہ دار ہیں ، اور جولوگ ان کی بہنوں اور نواسیوں کے رضاعی رشتہ دار ہیں انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت دی ہے ، لہٰذا یہاں وجہ صرف وہی ہوسکتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے ، بالخصوص جبکہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریبی ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے صراحت کے ساتھ یہ کہا ہے کہ’’ لبن الفحل‘‘ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے ، نیز قاسم بن محمد نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے ،اس سے ان مقلدین کی باتوں کا تناقض ثابت ہوگیا والحمدللہ“ ۔
    [المحلى لابن حزم، ط بيروت:۱۸۳/۱۰]
    خلاصہ یہ کہ جب اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی روایت کردہ صریح حدیث کے خلاف موقف اپنا سکتی ہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ طلاق سے متعلق اپنی حدیث کے خلاف تو بدرجۂ اولیٰ فتویٰ دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے والد نے طلاقِ بدعت کے وقوع کا قانون ہی بنادیا تھا۔
    ’’ صلاۃِ وسطیٰ ‘‘کا مسئلہ:
    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ مرفوع حدیث روایت کی ہے کہ’’ صلاۃ وسطیٰ ‘‘سے مراد صلاۃ عصر ہے ۔
    امام أحمد بن حنبل رحمہ الله (المتوفی:۲۴۱ھ) نے کہا:
    حدثنا عبد الصمد، حدثنا ثابت، حدثنا هلال، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: ’’قاتل النبي صلى الله عليه وسلم عدوا، فلم يفرغ منھم حتى أخر العصر عن وقتھا ، فلما رأى ذلك قال : اللھم من حبسنا عن الصلاة الوسطى ، فاملأ بيوتھم نارا ، واملأ قبورهم نارا“.
    ”ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں :’’کہ نبی ﷺ نے قتال کیا اور دشمنوں سے عصر کے آخری وقت ہی فارغ ہوئے ، جب آپ نے یہ دیکھا تو فرمایا: اے اللہ ! جن لوگوں نے ہمیں’’ صلاۃ وسطیٰ ‘‘سے روک دیا ہے ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے“ ۔
    [مسند أحمد ط الميمنية:۳۰۱/۱ وإسناده صحيح وأخرجه عبد بن حميد في المنتخب طريق محمد بن الفضل عن ثابت به ، وأخرجه أيضا البزار كما في كشف الأستار:۱۹۷/۱ من طريق عباد بن العوام، و الطبراني في الكبير:۳۲۹/۱۱ والأوسط:۲۸۴/۲ من طريق أبي عوانه ، كلاهما عن هلال به]
    لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہمانے اپنی روایت کردہ اس حدیث کے خلاف یہ فتویٰ دیا ہے کہ’’ صلاۃ وسطیٰ ‘‘سے مراد صلاۃ فجر ہے ۔
    امام ابن ابی شيبہ رحمہ الله (المتوفی:۲۳۵ھ) نے کہا:
    ”حدثنا وكيع، عن قرة, قال: حدثنا أبو رجاء، قال: صليت مع ابن عباس الصبح في مسجد البصرة، فقال: هذه الصلاة الوسطى“.
    ”ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بصرہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی تو انہوں نے کہا: یہی ’’صلاۃ وسطیٰ‘‘ ہے“ ۔
    [مصنف ابن أبي شيبة، ط الفاروق:۵۱۶/۳ وإسناده صحيح وأخرجه الطحاوی في شرح معاني الآثار، ت النجار:۱۷۰/۱ من طريق أبي داؤد عن قرة به ،وأخرجه أيضا عبد الرزاق في مصنفه، رقم:۲۲۰۷ والطحاوي في شرح معاني الآثار، ت النجار:۱۷۰/۱: من طريق عوف عن أبي رجاء به ، وأخرجه أيضا اسماعيل القاضي من طريق آخر و صححه كما في التمهيد لابن عبد البر:۲۸۵/۴ وله طرق كثيرة عن ابن عباس]
    واضح رہے کہ جن روایات میں یہ آیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی صلاۃ عصر کو صلاۃ وسطیٰ کہا ہے وہ ساری روایات ضعیف ہیں ، قدرے تفصیل کے لیے دیکھئے :[تفسير سنن سعيد بن منصور:۹۱۷/۳ تا۹۲۰حاشیہ]
    آزادی کے بعد شادی شدہ لونڈی کے نکاح کا مسئلہ:
    بریرہ رضی اللہ عنہا جب لونڈی تھی تبھی ان کی شادی ہوگئی تھی ،بعد میں ان کے مالک نے انہیں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیچ دیا اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خریدنے کے بعد آزاد کردیا ، لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے اس خرید وفروخت کو طلاق قرار نہیں دیا بلکہ انہیں اختیاردیا کہ وہ چاہیں تو بدستور اپنے شوہر کی بیوی بنی رہیں اور چاہیں تو الگ ہوجائیں ۔
    اس حدیث کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کیا ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ شادی شدہ لونڈی کو بیچ دینے یا اسے آزاد کردینے سے اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے چنانچہ :
    امام بخاری رحمہ الله (المتوفی:۲۵۶ھ) نے کہا:
    ثنا محمد، أخبرنا عبد الوهاب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس:’’أن زوج بريرة كان عبدا يقال له مغيث، كأني أنظر إليه يطوف خلفها يبكي ودموعه تسيل على لحيته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعباس: يا عباس، ألا تعجب من حب مغيث بريرة، ومن بغض بريرة مغيثا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لو راجعته. قالت: يا رسول الله تأمرني؟ قال: إنما أنا أشفع. قالت: لا حاجة لي فيه“.
    ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :’’کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا۔ گویا وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہاکے پیچھے روتے ہوئے گھوم رہے تھے اور ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں؟“ آخر نبی ﷺ نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا: ”کاش تم ان سے رجوع کرلو“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ آپ کا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، میں صرف سفارش کررہا ہوں،“ اس پربریرہ رضی اللہ عنہا کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے“۔
    [صحيح البخاري:۴۸/۷ رقم۵۲۸۳]
    اور سنن ترمذی کی اسی رویت میں ہے:
    يوم أعتقت بريرة“. ”جس دن بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد کی گئیں“۔[سنن الترمذي ت شاكر رقم۱۱۵۶وإسناده صحيح]
    اور مسند احمد کی اسی رویت میں ہے:
    ”لما خيرت بريرة رأيت“ . ”جب بریرہ کو اختیار دیا گیا“ ۔[مسند أحمد ط الميمنية:۲۱۵/۱ إسناده صحيح ]
    عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ اس حدیث میں واضح ہے کہ شادی شدہ لونڈی بیچ دی جائے یا آزاد کردی جائے تو اس سے اس کی طلاق نہیں ہوجاتی بلکہ اسے اختیار ہوتا ہے وہ چاہے تو بدستور بیوی بنی رہے اور چاہے تو الگ ہوجائے ۔
    لیکن دوسری طرف ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بسند صحیح یہ فتویٰ بھی ثابت ہے کہ لونڈی کو بیچنا ہی اس کی طلاق ہے، چنانچہ:
    امام سعيد بن منصور رحمہ الله (المتوفی:۲۷۷) نے کہا:
    حدثنا هشيم، قال: أخبرنا خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس:أنه كان يقول في بيع الأمة : فھو طلاقھا“.
    عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :کہ انہوں نے لونڈی کو بیچے جانے پر کہا کہ یہی اس کی طلاق ہے“۔ [سنن سعيد بن منصور، ت الأعظمي:۶۳/۲ وإسناده صحيح علي شرط الشيخين]
    ملاحظہ فرمائیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی ہی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ دیا ہے ۔ لیکن اہل علم نے یہاں ان کے فتویٰ کو نہیں لیا بلکہ ان کی حدیث کو لیا ہے۔
    لونڈی والی مثال پر احناف کا اعتراض اور اس کا جواب:
    مغیث وبریرہ رضی اللہ عنہما کی مثال پر بعض احناف کا اعتراض یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی روایت کردہ جس حدیث کے خلاف فتویٰ دیاہے وہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ دیگر صحابہ نے بھی روایت کیا ہے، اس لیے یہاں راوی کے فتویٰ کے مقابلے میں اس کی روایت کو ترک کرنا نہیں ہے ، کیونکہ دیگر صحابہ نے اپنی اس حدیث کے خلاف فتویٰ نہیں دیا ہے ۔
    جواباً عرض ہے کہ:
    اس مثال میں کم سے کم یہ تو تسلیم کیا گیا کہ ایک صحابی اپنی حدیث کے خلاف بھی فتویٰ دے سکتا ہے اور اس کی حدیث مقبول اور اس کا فتویٰ غیرمقبول ہوسکتا ہے، رہی بات یہ کہ اسی حدیث کو دیگر صحابہ نے روایت کیا ہے اور انہوں نے اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ نہیں دیا ہے ، تو اس کے باوجود بھی یہ حقیقت تو مسلم رہے گی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ دیا ہے اور ان کے فتویٰ کا اعتبار نہیں کیا گیا ہے۔
    تو جب لونڈی کے مسئلہ میں کوئی صحابی اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ دےسکتے ہیں ، تو طلاق کے مسئلہ میں بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں ۔
    رمل کے سنت ہونے کی مثال: ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے متعلق ایک اور مثال ایک بریلوی عالم کی زبانی سنئے ، مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی صاحب فرماتے ہیں:
    ”ہم آپ کو فقہ کے بیسیوں مسائل دکھا سکتے ہیں کہ فقہاء نے راوی کی روایت پر عمل کیا ہے اور اس کی رائے کو چھوڑ دیا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کی ایک مثال ملاحظہ فرماویں: عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم:’’ أمر أصحابه أن يرملوا الأشواط الثلاثة“. [بخاري: رقم ۱۶۰۲]
    اور آپ کا قول یہ ہے کہ: ”ليس الرمل ‌بسنة“ [سنن أبي داؤد: رقم۱۸۸۵] اب عمل روایت پر ہے ان کی رائے پر نہیں“ ۔( دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات :ص:۲۴۱)
    اس دوسری مثال سے متعلق ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    فإن قيل: إن ابن عباس قال في الرمل: ليس سنة، وهو راوي الحديث؟ قلنا: لا حجة في أحد مع رسول الله – صلى الله عليه وسلم.
    اگر کہا جائے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ رمل سنت نہیں ہے ، اور رمل والی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہی روایت کی ہے ، تو ہم کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کے خلاف کسی کا قول بھی حجت نہیں ہے“۔
    [المحلى لابن حزم، ط بيروت:۸۴/۵]
    ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ یہ بھی تو اصول ہے کہ راوی اپنی روایت کا مطلب دوسروں سے بہتر جانتا ہے۔
    تو عرض ہے کہ یہ بات تب کہی جاسکتی ہے جب اپنی روایت کردہ حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کوئی موقف اپنائے لیکن جہاں راوی اپنی روایت کردہ حدیث سے استدلال نہ کرکے بلکہ نا معلوم وجہ سے روایت کردہ حدیث کے خلاف موقف اپنا لے تو یہاں یہ کہا ہی نہیں جاسکتا کہ راوی نے اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف موقف اپنایا ہے۔ لہٰذا ایسے مواقع پر یہی اصول چلے گا کہ ”العبرۃ بما رویٰ لا بمارای“ ، یعنی اعتبار راوی کی روایت کا ہوگا نہ کہ روایت کے برخلاف فتویٰ کا ۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings