Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • وراثتِ نسواں، اسلام کا انصاف پر مبنی نظام

    دنیا کے مختلف ادوار میں عورت کو کبھی کمزور سمجھا گیا، کبھی کمتر ٹھہرایا گیا اور کبھی ظلم و ناانصافی کی چکی میں پیس دیا گیا، لیکن اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو عزت، حق اور انصاف کے ساتھ اس کا کھویا ہوا مقام واپس لوٹایا، عورت کو نہ صرف ماں، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے وقار بخشا بلکہ اسے مالی حق کے میدان میں بھی مکمل عدل کے ساتھ حصہ عطا فرمایا، وراثت کا یہ اسلامی نظام محض قانونی تقسیم نہیں بلکہ الٰہی عدل و حکمت کا حسین مظہر ہے جس میں خاندان، ذمہ داری اور سماجی توازن کے تمام پہلو شامل ہیں، زیرِ نظر تحریر اسی عدلِ الٰہی کا آئینہ ہے جو’’وراثتِ نسواں‘‘ کے روشن پہلوؤں کو قرآن و سنت کی روشنی میں اجاگر کرتی ہے۔
    دینِ اسلام نے اپنے عدل و انصاف سے عورتوں کے ساتھ کیے گئے ظلم و تعصب کو دور کیا اور حقوق میں عورتوں کو بھی مردوں کے برابر قرار دیا۔ جس طرح واجبات میں نظر انداز یا کوتاہی ممکن نہیں بالکل اسی طرح وراثت میں عورتوں کے بھی حقوق ہیں جس میں کسی بھی طرح کی کمی یا کوتاہی یا خواتین پر ظلم و نقصان ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    ﴿وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْھِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [البقرۃ : ۲۲۸]
    ’’اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے اُن پر مردوں کے ہیں اچھے انداز کے ساتھ‘‘۔
    اللہ تعالیٰ کے یہاں میزان میں ترجیح (فضیلت) اسی کو حاصل ہوگی جو متقی ہو، خواہ وہ مرد ہویا عورت، مذکر و مؤنث یہ دو ایسی صفات ہیں جن کا آخرت میں کوئی اعتبار نہیں ہوگا بلکہ جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ ایمان اور عمل صالح ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
    ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾[الحجرات : ١٣]
    ’’اللہ کے نزدیک تم سب میں سے عزت دار وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو‘‘۔نیز فرمایا:
    ﴿فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ﴾ [آل عمران : ١٩٥ ]
    ’’پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کروں گا تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘۔
    خواتین کی وراثت کا اسلامی نظام اور دیگر مذاہب کے نظام و قوانین کے درمیان موازنہ کرنے پر ہمیں مندرجہ ذیل فوائد و نکات حاصل ہوتے ہیں :
    ۱۔ اسلام میں وراثت کی تقسیم کا معاملہ کسی بشر نے نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے سنبھالا ہے، اللہ تعالیٰ کا یہ نظام عدالت اور درستی پر مبنی ہے اور ترکات کی درست تقسیم کا معاملہ انسانوں کے لیے ناممکن ہے جب تک اللہ تعالیٰ کی ہدایت و رہنمائی ان کے ساتھ نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
    ﴿آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّھُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾ [النساء : ١١]
    ’’تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہنچانے میں زیادہ قریب ہے، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے‘‘۔
    ۲۔ دینِ اسلام نے ضرورت مندوں کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے لیے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حصہ مقرر کیا، اسی لیے وراثت میں بیٹوں کا حصہ باپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اولاد زندگی کے دہانے پر ہوتی ہے اور باپ کی زندگی گزر جانے کے قریب ہوتی ہے، اسی طرح بیٹوں کو بیٹیوں کے مقابلے میں دوہرا حصہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ خاندان کی ذمہ داری اکثر بیٹے پر ہی ہوتی ہے، نیز بیوی کا مہر ادا کرنا، بیوی اور اولاد کے نان و نفقہ کا خرچہ بھی اسی کے ذمے ہوتا ہے، ایسی صورت میں وہ اپنی بہن سے زیادہ محتاج ہوتا ہے، جبکہ بیٹی اپنے شوہر سے مہر حاصل کرے گی اور اس کے نان و نفقے کی خرچ کی ذمہ داری بھی اس کے شوہر پر ہوگی۔
    ۳۔ اسلام نے وراثت کو مال کی حد تک ہی محدود رکھا، مورث کی بیوی کو اس کے ترکہ میں نہیں شمار کیا جس طرح زمانۂ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا، بلکہ دینِ اسلام نے ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کے درمیان محبت و ہمدردی کو موت کے بعد وراثت کا سبب بنا دیا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔
    ۴۔ وراثت میں مرد اور عورت کے درمیان مطلق مساوات کا اصول جس طرح فرانسیسی اور رومانی قوانین میں ہے اسلام نے اس اصول کو مسترد کر دیا جس میں عدل و اجتماعی توازن کے مطالبے کو مجسم کیا گیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
    ﴿وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾[النساء : ١٧٦]
    ’’اور اگر وہ کئی بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوگا‘‘۔
    ۵۔ اسلام نے بیٹيوں کو بھی بیٹوں کے ساتھ وراثت میں مشارکت کا حق دیا کہ وہ بھی اپنے والدین کی وراثت میں حصہ لیں، اور انہیں بیٹوں کی وجہ سے وراثت سے محروم نہیں کیا گیا جیسے یہود کیا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
    ﴿لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا﴾[النساء : ٧]
    ’’ماں باپ اور رشتہ داروں کے ترکہ میں مردوں کا حصہ ہے اور عورتوں کا بھی ماں باپ اور رشتہ داروں کے ترکہ میں حصہ ہے، مال کم ہو یا زیادہ حصہ مقرر کر دیا گیا ہے‘‘۔
    ۶۔ شریعتِ اسلامیہ نے یہ حکم دیا کہ وارث کی موجودگی میں ان کے اولاد (پوتا یا پوتی) کا وراثت میں کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ ان کے والد (وارث) ہی کا پہلا حق ہے اور ان کا دوسرا حق ہے تو وہ وراثت میں شریک نہیں ہوں گے، جبکہ رومانی اور فرانسیسی قانون مورث کے بیٹے کے ساتھ پوتے کو اور بھائی کے ساتھ بھتیجے کو بھی وارث بناتی ہے۔ [خلاصہ : أحكام ميراث المرأة في الفقه الإسلامي : ص : ١٣-١٥]
    مذکورہ نکات سے ہم پر ایک روشن حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دیگر مذاہب کے مقابلے میں دینِ اسلام کا وراثتی نظام حق، عدل و انصاف اور حکمت پر مبنی ہے، یہی وہ واحد نظام ہے جو بشر کی کوشش اور سرگرمی کی تحریک سے متفق ہے اور انسان کو اُس حق سے محروم نہیں کرتا جس کا وہ مستحق ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کے اس عادلانہ اور متوازن نظام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، نیز ہمیں ایسا معاشرہ نصیب کرے جو قرآن و سنت کی روشنی میں عدل، محبت اور توازن پر قائم ہو، آمین۔ يارب العالمین
    ظظظ
    ظ

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings