Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شادی میں تاخیر کے نقصانات اور اسلامی رہنمائی

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو فطرت کے عین مطابق اور انسانی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہی ضروری امور میں نکاح بھی شامل ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں شادی کو آسانی سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بلاوجہ تاخیر کرنے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ تاخیر کا نقصان صرف ایک انسان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ…﴾ ’’اپنے غیر شادی شدہ لوگوں کا نکاح کر دو‘‘۔[النور:۳۲]
    اس آیت میں صاف حکم دیا گیا ہے کہ جہاں مناسب رشتے میسر ہوں وہاں بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے۔ دین اسلام اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ معاشرہ پاکیزہ ہو، حق پر جما رہے اور بے راہ روی و بےحیائی سے بچا رہے۔ اور بلا شبہ نکاح ہی اس پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
    نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ…‘‘. ’’جب تمہارے پاس کوئی ایسا رشتہ آئے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس کی شادی کر دو، اگر ایسا نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور فساد پھیلے گا‘‘۔[سنن ترمذی:۱۰۸۵]
    اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ بلاوجہ رشتوں میں رکاوٹیں ڈالنا اور تاخیر کرنا ذاتی اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔
    ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:“مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ…” ’’جس کے اندر شادی کی استطاعت ہو وہ شادی کر لے‘‘۔[صحیح بخاری:۱۹۰۵]
    یہ تعلیم اس لیے دی گئی تاکہ جوانی کی خطاؤں اور لغزشوں سے بچا جا سکے اور ساتھ ہی ساتھ معاشرہ بھی پاک رہے۔
    بلاوجہ تاخیر کے نقصانات :
    (۱) گناہوں میں پڑنے کا خطرہ: جب نکاح میں تاخیر ہوتی ہے تو نفس کمزور پڑ جاتا ہے، انسان کا میلان گناہوں کی طرف بڑھنے لگتا ہے جس کی وجہ سے ماحول کے فتنے بڑھ جاتے ہیں اور آخر کار انسان گناہوں کا شکار بن جاتا ہے ۔
    (۲)ذہنی دباؤ اور بے اطمینانی: تاخیر کی وجہ سے لڑکے اور لڑکی دونوں کے ذہنی پریشانی، بے چینی اور مایوسی جیسی چیزوں میں مبتلا ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے حتیٰ کہ بعض نوجوان ڈپریشن کے شکار بن جاتے ہیں ۔
    (۳)معاشرتی و سماجی فتنے اور بگاڑ: جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، رشتوں میں بلاوجہ رکاوٹیں معاشرے میں بڑے فتنے پیدا کرتی ہیں ،ظاہر سی بات ہے کہ جب ہم نو جوانوں کے لیے حلال راستہ مہیا نہیں کریں گے تو وہ نا جائز طریقے کو اپنائیں گے جس کی وجہ سے نہ تو خود ان کا نقصان بلکہ آس پاس کا ماحول بھی خسارے میں پڑ جائے گا۔
    (۴) غیر ضروری مطالبات کا بڑھ جانا: یہ بڑا ہی اہم نقطہ ہے کہ جہیز جیسی بدعت ، اونچے رشتے کی تلاش، بڑی تنخواہ اورذات کا میل نہ کھانا جس کا تصور دین اسلام میں ہے ہی نہیں ، گاؤں شہر کا تال میل نہ ہونا اسی طرح سے دوسری غیر شرعی شرطیں عموماً تاخیر کا سبب بنتی ہیں جبکہ اسلام نے ایسی پابندیاں ناپسند کی ہیں۔
    (۵)خاندانی نظام کی کمزوری: نکاح خاندانوں کو جوڑتا ہے۔ تاخیر معاشرتی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے ۔
    اسلام نے نکاح کو آسان اور سہل بنانے کا حکم دیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:’’سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو‘‘۔ (ابن حبان)
    یعنی شریعت ایسے نکاح کو پسند کرتی ہے جس میں بناوٹ، دکھاوا، رسم و رواج اور غیر ضروری امور شامل نہ ہوں۔
    شریعت کی اصل تعلیم یہ ہے کہ جہاں دین اور اخلاق موجود ہوں، وہاں مناسب وقت پر نکاح کر دینا چاہیے تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں محفوظ رہیں اور امن قائم ہو سکے۔
    آج کے دور میں تاخیر کے نقصانات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں، اور اسلام کی یہ رہنمائی مزید واضح ہو گئی ہےکہفطرت کی آواز کو دبانا ایک روحانی نقصان لے کر آتا ہے۔
    آج دنیا ہر اعتبار سے ترقی کر چکی ہے ایک انسان کی پہنچ چاند تک ہو چکی ہے لیکن دینی اعتبار سے دیکھا جائے تو آج یہ اسی دنیا کے لوگ ایک نو جوان لڑکا ہو یا لڑکی ان کو اپنی شادی کی بات کرنے پر اسے بےحیا قرار دیتے ہیں حق بات بولنے پر پابندیاں عائد کرتے ہیں ۔ پھر ہم کہاں ترقی یافتہ ہوئے؟
    ہر انسان کے اندر اللہ نے محبت، سکون، رفاقت اور جسمانی و جذباتی ضرورت رکھی ہے۔
    جب شادی کو بلاوجہ روکا جاتا ہے تو یہ فطری آوازیں کہیں دب جاتی ہیں اور انسان کے اندر بے چینی، گھٹن اور خاموش ذہنی تھکن پیدا کرتی ہیں۔
    اسلام چاہتا ہے کہ یہ ضرورتیں حلال دائرے میں پوری ہوں کیونکہ یہ روحانی سکون کا حصہ ہیں۔ جب نکاح موخر ہوتا ہے تو انسان ایک نامکمل کیفیت میں جی رہا ہوتا ہے جسے اس نے خود بھی پوری طرح محسوس نہیں کیا ہوتا۔
    تاخیر صرف وقت نہیں لیتی، شخصیت بھی لے جاتی ہے۔
    ہر انسان کی زندگی میں کچھ لمحے بہت قیمتی ہوتے ہیں ۔
    محبت کرنے کے، کسی کا ہاتھ تھامنے کے، کسی کے ساتھ مل کر زندگی بنانے کے۔
    یہ لمحے عمر کے ایک مخصوص حصے میں سب سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
    جب شادی میں تاخیر کی جاتی ہے تو یہ سنہرا وقت نکل جاتا ہے اور اعتماد کم ہو جاتا ہے ، شخصیت سخت یا تلخ ہونے لگتی ہے، دل میں بے ربط خواہشیں جمع ہونے لگتی ہیں، رشتوں کا تصور بدل جاتا ہے ، یہ سب روحانی تھکن پیدا کرتے ہیں، جو کسی کتاب میں نہیں لکھی ہوتی مگر زندگی میں محسوس ہوتی ہے۔
    (۶) تعلقات کی حسرت ،سب سے بڑا نقصان: جس وقت لڑکا یا لڑکی کو محبت، توجہ، قبولیت اور ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے، اکثر والدین ’’ابھی وقت نہیں آیا‘‘ کا بہانہ بنا کر ٹال دیتے ہیں۔
    وقت گزرنے کے بعد دل سخت ہو جاتا ہے، جذبات بجھ جاتے ہیں، تعلق کی خواہش کمزور پڑ جاتی ہے پھرایسا انسان شادی تو کر لیتا ہے مگر دل میں وہ تازگی نہیں آ پاتی جو بروقت نکاح سے پیدا ہوتی۔اسی لیے اسلام کہتا ہے: ’’اور ان کا نکاح کر دو…‘‘۔[النور:۳۲]کیونکہ دین جانتا ہے کہ تاخیر جذبات کی موت ہے۔
    (۷)زنا یعنی شیطان کا راستہ: شادی میں بلا وجہ تاخیر کے سب سے بڑے اور خطرناک نتائج میں سے ایک زنا اور بے حیائی کے گناہوں کا عام ہونا ہے۔ جب نوجوانوں کے لیے شرعی طور پر حلال راستہ یعنی نکاح مشکل بنا دیا جائے تو شیطان ان کے لیے حرام راستے آسان کردیتا ہے۔ معاشرہ فتنوں سے بھرا ہے، موبائل، انٹرنیٹ، فحاشی، غلط صحبت اور تنہائی کے مواقع نوجوان دلوں کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں نکاح میں تاخیر نوجوانوں کو شدید ذہنی و جذباتی کشمکش میں مبتلا کرتی ہے جس کا نتیجہ اکثر غیر شرعی تعلقات، دوستیوں اور حتیٰ کہ بدکاری تک پہنچ سکتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو عفت، پاکیزگی اور کردار کی حفاظت کا ذریعہ قرار دیا ہے کیونکہ یہی راستہ انسان کو حرام سے بچاتا ہے۔ اس لیے والدین اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ جلدی نکاح کی سنت کو زندہ کریں تاکہ ہمارے نوجوان گناہوں سے محفوظ رہ سکیں اور معاشرہ پاکیزگی کی طرف لوٹ آئے۔
    جدید دور میں فتنوں کے دروازے پہلے سے ہزار گنا زیادہ کھلتے جا رہے ہیں جیسے کہ موبائل فون ، سوشل میڈیا، حرام تعلقات، مخلوط تعلیم اورنو جوان مرد اور خواتین کا اکٹھا ہونا ، یہ تمام کی تمام چیزیں جذباتی کمزوریاں حرام راستوں کی آسانی کا سبب بنتی ہیں ۔
    جب شریعت کہتی ہے کہ فحاشی کا سب سے مؤثر اور حلال حل نکاح ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح نہ ہونے کی وجہ سے دل، نظر، خیال اور خواہش سب خطرے میں رہتے ہیں۔
    یہ نقصان کتابوں میں نہیں لکھا ہوتا مگر ہاں حقیقت میں سب سے طاقتور حقیقت یہی ہے جو عموماً ہر فرد محسوس کرتا ہے اور ان مراحل سے گزرتا ہے ۔
    یہ ایک معاشرتی حقیقت ہے جسے اسلام نے ایک چھوٹے سے جملے میں سمجھا دیا:
    اگر تم نکاح کر دو تو اللہ انہیں غنی کر دے گا…
    یعنی برکت نکاح کے بعد آتی ہے، نکاح سے پہلے نہیں۔
    لہٰذا شریعت کا تقاضا ہے کہ نکاح میں تاخیر نہ کرو، فطرت کے ساتھ چلو، غیر ضروری مطالبات چھوڑ دو، عزت کو رسموں سے نہ باندھو۔
    والدین کے نام پیغام :
    محترم والدین! اللہ تعالیٰ نے نکاح کو زندگی کی پاکیزہ اور بابرکت سنت بنایا ہے۔ اولاد کی بہتر دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کے بعد والدین پر یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مناسب وقت پر ان کی شادی کا بندوبست کریں۔ ان کو حلال راستہ کی طرف لائیں نہ کہ رکاوٹ بنیں ،بلا وجہ تاخیر اولاد کے لیے ذہنی، جذباتی اور معاشرتی مشکلات کا سبب بنتی ہے۔
    جدید دور میں آئے دن اخبارات میں سننے کو ملتا ہے کہ فلاں لڑکی گھر سے غائب ہے، فلاں کا بیٹا لاپتہ ہے، اسی طرح آئے دن زنا کی خبریں مسلسل چھپ رہی ہیں، کہیں نہ کہیں اس کے ذمہ دار سرپرست خود ہیں، لہٰذا آج ضرورت ہے کہ اولاد سے پہلے والدین کو سمجھایا جائے اوران کے عقل سے پردے کو ہٹایا جائے تاکہ معاشرے کو راہ راست پر لایا جائے ۔
    اسلام ہمیں آسانی اختیار کرنے اور رشتوں کو مشکل بنانے سے منع کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’جب تمہارے پاس کوئی ایسا رشتہ آئے جس کے دین و اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کردو، ورنہ زمین میں فساد ہوگا اور بڑا فتنہ برپا ہوگا‘‘۔
    لہٰذا فتنے فساد کی وجہ آپ خود نہ بنیں بلکہ آپ آسانی پیدا کرنے والوں میں سے بنیں ۔
    اس لیے والدین سے گزارش ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی پسند، رضامندی، حالات اور مستقبل کے گناہوں کے خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے بلا وجہ تاخیر نہ کریں۔ نکاح نہ صرف دو افراد بلکہ دو خاندانوں کی عزت، سکون اور پاکیزگی کا ذریعہ بنتا ہے۔ وقت پر فیصلہ کرنا اولاد اور خاندان دونوں کے لیے خیر و برکت کا سبب بنتا ہے۔
    اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ بوجھ کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings