Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • عورت کی جائے حفاظت : اسی کی قرار گاہ

    اس رنگ برنگی دنیا کے ہنگامے اور فتنوں کے طوفان میں انسان کے لیے سب سے عظیم نعمت سکونِ قلب اور اطمینانِ نفس ہے، یہ وہ قیمتی دولت ہے جو ہر کسی کو میسر نہیں آتی اور درحقیقت وہی دل قرار پاتا ہے جو اپنے خالقِ حقیقی کے فرمان کے آگے سرِ تسلیم خم کردیتا ہے۔
    عورت کے لیے امن و سکون اور طمانیتِ قلب کی حقیقی پناہ گاہ اس کے گھر کی چہار دیواری ہے، یہی وہ حقیقت ہے جسے ربِ کائنات نے سورۂ احزاب میں نہایت حکمت و جامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے:
    ﴿وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا﴾[الأحزاب: ٣٣]
    ترجمہ: ’’اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اوراللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وہ (ہر قسم کی) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے‘‘۔
    اللہ تعالیٰ کے اس حکم ﴿وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ﴾ (اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو) میں مسلم خواتین کی سعادت و کامرانی کا راز پنہاں ہے، علماء کرام نے اس آیت کے تحت عورت کے گھر میں قیام کو اس کے وقار، سکون اور عفت و پاک دامنی کا ضامن قرار دیا ہے۔
    (۱) ابن کثیر رحمہ اللہ (۷۷۴ھ) اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں:
    ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے گھروں میں ٹھہری رہو، اور بلا کسی ضرورت کے گھر سے باہر نہ نکلو، البتہ شرعی ضروریات جیسے مسجد میں نماز ادا کرنا، اس سے مستثنیٰ ہے، بشرطیکہ اس کے تمام آداب و شرائط کا لحاظ رکھا جائے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
    ’’لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ‘‘۔’’اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں‘‘۔ [سنن ابی داؤد: ٥٦٥، قال الشيخ الألباني: حسن صحيح]
    ایک دوسری روایت میں ہے:
    ’’وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ‘‘۔’’البتہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں‘‘۔[سنن ابي داؤد: ٥٦٧،صححه الألباني] – [تفسير ابن كثير-ت السلامة:۴۰۹/۶]
    (۲) علامہ ابن باز رحمہ اللہ (۱۴۲۰ھ) کہتے ہیں:
    ’’اللہ تعالیٰ نے عورت کے گھر میں رہنے کو’’ قرار‘‘ کا نام دیا ہے جو نہایت بلند معنیٰ رکھتا ہے، کیونکہ گھر ہی میں عورت کے نفس کو استحکام، دل کو قرار اور سینے کو فراخی میسر آتی ہے۔
    لہٰذا جب یہ پردہ نشیں ’’قرار‘‘ سے باہر قدم رکھتی ہے، تو اس کی طبیعت میں بے چینی، دل میں اضطراب اور سینے میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے، نیز وہ ایسے ناپسندیدہ حالات اور ناخوشگوار نتائج سے دوچار ہوسکتی ہے جن کا انجام ہرگز اچھا نہیں ہوتا‘‘۔[مجموع فتاوىٰ للشيخ ابن باز:٤٢٢/١]
    (۳) شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ (۱۴۲۱ھ) اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
    ’’﴿فِیْ بُیوتِکُنَّ﴾ یعنی’’اپنے گھروں میں قرار سے رہو‘‘ کے الفاظ بہت گہرے ہیں، گویا فرما دیا گیا کہ: یہ گھر تو خاص تمہارے لیے ہی بنایا گیا ہے، تمہاری پردہ داری اور تمہاری حفاظت کے لیے، پس تم اسی گھر کو لازم پکڑو جو خاص تمہارے ہی لیے تعمیر کیا گیا ہے‘‘۔[تفسير سورة الأحزاب:ص:٤٠]
    (۴) شیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید رحمہ اللہ (۱۴۲۹ھ) رقمطراز ہیں:
    ’’جو شخص قرآن کریم کی آیات پر غور و فکر کرے گا، وہ اس حقیقت سے آگاہ ہوگا کہ قرآن میں تین مقامات پر :
    (۱) ﴿وَقَرۡنَ فِی بُیُوتِكُنَّ﴾ [الأحزاب: ٣٣] ’’اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو‘‘۔
    (۲) ﴿وَٱذۡكُرۡنَ مَا یُتۡلَىٰ فِی بُیُوتِكُنَّ مِنۡ ءَایَـٰتِ ٱللَّهِ وَٱلۡحِكۡمَةِ﴾ [الأحزاب: ٣٤] ’’اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو‘‘۔
    (۳) ﴿لَا تُخۡرِجُوهُنَّ مِنۢ بُیُوتِهِنَّ﴾[الطلاق: ١] ’’نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو‘‘۔
    (مذکورہ بالا تینوں آیات میں) گھروں کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی ہے، حالانکہ یہ گھر درحقیقت ان کے شوہروں یا سرپرستوں کی ملکیت ہوتے ہیں، یہ نسبت (واللہ اعلم) درحقیقت اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خواتین گھروں میں مستقل قیام اور استقرار کی پابند ہیں، چنانچہ یہ نسبت سکونت و اقامت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ ملکیت کی بنیاد پر‘‘۔ [حراسة الفضيلة: ص:۵۸]
    (۵) شیخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں:
    ’’اللہ عزوجل نے نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے فرمایا: ﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ﴾ ’’اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو‘‘۔
    اور ایک دوسری صحیح قرأت میں ہے:﴿وَقِرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ﴾’’اور اپنے گھروں میں باوقار رہو‘‘۔
    پہلی قرأت ﴿وَقَرْنَ﴾ (قاف کے زبر کے ساتھ) کا مفہوم ہے ٹھہرنا، جم جانا اور گھر میں قرار پذیر رہنا۔
    جبکہ دوسری قرأت ﴿وَقِرْنَ﴾ (قاف کے زیر کے ساتھ) کا مطلب وقار اور سنجیدگی اختیار کرنا۔
    ان دونوں قرأتوں سے ایک نہایت بلیغ اور جامع معنیٰ نکھر کر سامنے آتا ہے کہ:
    ’’عورت کا حقیقی وقار درحقیقت اسی میں ہے کہ وہ اپنے گھر میں قرار پکڑے‘‘۔
    جو عورت بار بار بلا ضرورت گھر سے باہر نکلتی ہے، اس کا وقار مجروح ہوتا ہے، ایسی عورت مردوں سے ملتی ہے، ان سے اونچی آواز میں گفتگو کرتی ہے، ایک کو ہاتھ سے روکتی ہے، دوسرے کو بیٹھنے کا حکم دیتی ہے، تیسرے کو چلنے کا کہتی ہے، گویا وہ خود بھی ایک مرد بن گئی ہو! یہ صورت حال بڑے بگاڑ کی علامت ہے!
    اس کے برعکس جو عورت اپنے گھر میں سکون و قرار اختیار کرتی ہے، وہی عزت و احترام کی حقیقی مستحق بنتی ہے اور اسے وقار و متانت کا حقیقی حصہ میسر آتا ہے‘‘۔
    [https://youtu.be/IIvl9vUhqWw?si=AhMqwdX2iFEocJpF]
    سلف ِصالحین کی خواتین نے اس حکم کے سامنے پورے اخلاص و کامل فرمانبرداری کے ساتھ سر تسلیم خم کیا، امام قرطبی رحمہ اللہ (۶۷۱ھ) اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ:
    ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب اس آیت کی تلاوت کرتیں تو اس قدر روتیں کہ ان کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا۔
    نیز انہوں (امام قرطبی رحمہ اللہ) نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: آپ اپنی بہنوں (یعنی دیگر ازواجِ مطہرات) کی طرح حج و عمرہ کے لئے کیوں نہیں جاتیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے حج و عمرہ کر لیا ہے، اور اب میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے گھر میں ٹھہری رہوں، راوی کہتے ہیں کہ: اللہ کی قسم! وہ اپنے حجرے کے دروازے سے کبھی باہر نہ نکلیں، یہاں تک کہ ان کے گھر سے ان کا جنازہ نکلا (اللہ ان سے راضی ہو)‘‘۔[تفسير القرطبي: ١٨٠/١٤]
    اسی طرح فاطمہ بنت العطار البغدادیہ رحمہا اللہ کے متعلق منقول ہے کہ:
    ’’وہ صرف تین بار اپنے گھر سے باہر نکلیں: ایک بار جب ان کی شادی ہوئی، دوسری بار جب انہوں نے حج کیا اور تیسری بار جب ان کا انتقال ہوا‘‘۔ [تاريخ الاسلام للذهبي:۱۲۶/۴۰]
    میری عزیز بہنو! ہمیں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ ہم اپنے رب کی عبادت کریں، اپنے شوہروں کی خدمت اور فرمانبرداری کریں، اور اپنی اولاد کی بہترین پرورش کریں، ہمیں اپنے شوہر کے گھر میں ملکہ کی طرح زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، نہ کہ غیر مردوں کے درمیان ملازمت یا مزدوری کرنے کے لیے، ہمارے رب نے ہمیں حکم دیا ہے: ﴿وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى﴾ [الأحزاب:٣٣]
    ترجمہ: ’’اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو‘‘۔
    لہٰذا اگر کبھی کسی ضرورت کے تحت گھر سے نکلنا بھی پڑے تو اللہ کا حکم ہے:
    ﴿وَلَا یُبۡدِینَ زِینَتَھُنَّ﴾[النور:٣١] ’’اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں‘‘۔
    اسی طرح چال ڈھال میں متانت و سنجیدگی ہو:
    ﴿وَلَا یَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِھِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِینَ مِن زِینَتِھِنَّ﴾[النور: ٣١] ’’اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہوجائے‘‘۔
    اور اگر کبھی کسی غیر محرم سے گفتگو کی ناگزیر ضرورت پیش آجائے تو آہنگ میں نرمی اور لچک نہ ہو۔
    ﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ ٱلَّذِی فِی قَلۡبِهِۦ مَرَضࣱ وَقُلۡنَ قَوۡلࣰا مَّعۡرُوفࣰا﴾ [الأحزاب: ٣٢] ’’نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو‘‘۔
    چنانچہ اگر کوئی عورت اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اور اس کی رضا کی خاطر اپنی پوری زندگی گھر میں قیام کرتے ہوئے گزارے، بلا کسی ضرورت گھر سے باہر قدم نہ رکھے، تو اسے اس ثابت قدمی اور اللہ کے حکم کو بجا لانے کی صورت میں اجرِ عظیم سے نوازا جائے گا۔
    اللہ عزوجل ہمیں شریعتِ مطہرہ کے دائرے میں رہتے
    ہوئے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings