-
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(۱۷) مقدمہ فی اصول التفسیر کا تعارف :
’’مقدمہ فی اصول التفسیر ‘‘ شیخ الاسلام کا بڑا اہم ،قابل قدر اور شاہکار کہے جانے کے لائق کارنامہ ہے ،جو شیخ کی فن تفسیر میں مہارت ،وسعت نظری اور قوت استنباط پر دلالت کرتاہے، علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے اس مختصر و بے نظیر رسالے میں بہت عمدہ اور مدلل بحث فرمائی ہے اور خاص طور پر صحیح حدیث میں شک پیدا کرنے والے باریک سے باریک شبہات کو کریدا اور نہایت کامیاب طریقہ سے ان کاحل پیش کیا ہے ۔اس کے علاوہ ہر طبقہ کے اصحاب تفسیر کو اصول تفسیر میں جو الجھنیں پیش آتی رہی ہیں ،ان کو نہایت عمدگی سے سلجھایا ہے۔
گنتی کے چند صفحات میں معلومات کا خزانہ ہے ،اس میں امام ابن تیمیہ نے واضح کیاہے کہ کتاب اللہ کو کس طرح سمجھنا چاہیے اور کتاب اللہ کی تفسیر کس طرح کرنی چاہیے ، اس کے اصو ل و ضوابط کیا ہیں۔
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک شریعت اور لغت کو جاننے والا ہی تفسیر کرسکتا ہے ۔تفسیر کے لیے محض عربی لغت کا علم کافی نہیں ،بہترین تفسیر قرآن کی تفسیر قرآن کے ذریعہ ہے ،اس کے بعد سنت کے ذریعہ کیونکہ تفسیر اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتی جب تک رسول اللہ ﷺسے حاصل نہ کی جائے ،کیونکہ قرآن کے حقیقی شارح اور مفسر رسول اللہ ﷺ ہی ہیں ۔اس کے بعد پھر صحابۂ کرام اور تابعین و تبع تابعین کا پورا سلسلہ ہے ۔
مقدمہ فی اصو ل التفسیر کی اہمیت :
اصول تفسیر پر اپنی نوعیت کی یہ پہلی اہم تصنیف ہے ،جس کی مثال تفسیر کے وسیع ذخیرہ میں نہیں ملتی ،بعض اہل نظر کا خیال ہے کہ اس سے پہلے اصول تفسیر میں ایسی وقیع ،مختصر اور جامع تحریر پورے اسلامی لٹریچر میں نہیں ملتی ۔(تاریح دعوت و عزیمت ابو الحسن ندوی:۲؍۳۱۶)
اس کے بعد گو بہت سی اہم او رقابل قدر مختصر و مفصل تصنیفات وجو د میں آئیں ،مگر ان میں اسی مقدمہ سے استفادہ کیا گیا ہے ، بعد میں آنے والوں میں سے اکثر کی بنیاد یہی رسالہ ہے ،حتیٰ کہ امام ابن کثیر ،امام قاسمی وغیرہ نے اپنی تفاسیر میں بھی اسی سے استفادہ کیا ہے، اسی طرح علوم القرآن کی کتابوں میں امام بد ر الدین زرکشی رحمہ اللہ (۷۴۵ھ)نے ’’البرہان‘‘امام جلال الدین سیوطی نے’’الاتقان‘‘ اور امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے ’’الفوزالکبیر ‘‘ میں اسی کو مد نظر رکھا ہے ،اور الفوزالکبیر کے بعض مباحث مثلاً شان نزول تو اسی سے ماخوذ معلوم ہوتے ہیں ۔ اس رسالہ کو اپنے موضوع ہی میں نہیں خود شیخ الاسلام کی تصانیف میں بھی کئی حیثیتوں سے بڑا امتیاز حاصل ہے۔(اوپر کی ساری باتیں ’’مقدمہ فی اصول التفسیر ازشیخ الاسلام ابن تیمیہ کا اسلوب اور منہج ‘‘سے نقل کی گئی ہیں)
سبب تالیف :
شیخ الاسلام نے یہ رسالہ دو وجوہ کی بنا پر لکھا ہے :
(۱) ایک وجہ تو بعض شاگردوں کی فرمائش ہے ۔(۲)دوسری وجہ یہ بیان کی کہ کتب تفسیر رطب و یابس سے بھری ہوئی ہیں ان سے آگاہی انتہائی ضروری ہے ۔یہ دونوں وجوہات کتاب میں موجود ہیں۔
مقدمہ فی اصول التفسیر کے مباحث :
اس مقدمہ کے اہم موضوعات کو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مندرجہ ذیل پانچ فصول میں تقسیم کیاہے ۔ ذیلی طور پر کئی ایک عناوین اور قائم کئے جاسکتے ہیں اور قواعد کی شکل میں بھی اس کتاب کے مباحث کو بیان کیا جاسکتا ہے۔
پہلی فصل : نبی کریم ﷺکا الفاظ کے ساتھ معانی کو بیان کرنا ۔
دوسری فصل : سلف کی تفسیر میں اختلاف تنوع اور اختلاف تضاد۔
تیسری فصل :اختلاف کی د ونوعیتیں ۔ (۱) نقل کے اعتبار سے ۔(۲)استدلال کے اعتبار سے ۔
چوتھی فصل :تفسیر کے سب سے بہترین طریقے۔
پانچویں فصل : تفسیر بالرائے۔
فوائد علمیہ :
(۱)رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کےلیےقرآن کے معانی اور الفاظ دونوں بیان کردیئے ہیں ۔
(۲)عثمان بن عفان ، عبد اللہ بن مسعود ودیگر صحابۂ کرام؇ نبی کریم ﷺسے دس آیتیں سیکھتے اور ان سے آگے نہیں بڑھتے تھے یہاں تک کہ ان آیتوں میں موجود ہر اعتبار سے تدبر و تفکر کرکے انہیں عملی زندگی میں نافذ نہ کرلیتے ۔اسی وجہ سے وہ سورتوں کی حفظ میں ایک مدت لگادیتے تھے۔
(۳) انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ہم میں سورہ بقرہ پڑھ لیتا تو وہ ہماری نگاہوں میں عظیم ہو جاتاتھا ۔
(۴)ابن عمر رضی اللہ عنہ نےسورہ بقرہ حفظ کرنے میںکئی سال لگائے ،کہا جاتاہے کہ آٹھ سال لگے ۔ اسے امام مالک نے مؤطا میں ذکر کیا ہے۔ (۱)
(۵)کوئی بھی کلام کسی کابھی ہواس سے مقصود اس کے معانی کو سمجھنا ہے ،صرف اس کے الفاظ کو پڑھنا نہیں ہوتا ہے،قرآن ان تمام میں تو سب سے بڑھ کرکے اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے معانی پر تدبر و تفکر کے لیے خوب وقت لگایا جائے ۔ایک بندہ جب علم طب یا کسی اورفن کی کتاب کو بغیر سمجھے نہیں پڑھتا ہے تو پھر وہ اللہ کے کلام کو کیسے بغیر غور وفکر کے پڑھتا ہے۔
(۶)صحابۂ کرام کے مابین تفسیر میں اختلافات بہت کم ہیں اور جو کچھ ہیں بھی تو ان میں بھی اکثرا ختلافات اختلاف تنوع کے زمرے میں آتے ہیں ۔ بطو ر مثال صراط مستقیم کی تفسیر بعض صحابۂ قرآن سے کرتے ہیں اور بعض صحابہ اسلام سے کرتے ہیں ، اب دونوں باتوں پر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ قرآن کی اتبا ع میں اسلام بھی داخل ہے اور اسلام کی پیروی میں قرآن شامل ہے ۔ تو یہی اختلاف تنوع ہے کہ معنیٰ اور مفہوم ایک ہی ہوتا ہےبس تعبیر اور الفاظ الگ الگ ہوتے ہیں ۔
(۷)سبب نزول کی معرفت سے قرآن فہمی میں مدد ملتی ہے ۔
(۸)اہل علم کے یہاں ایک بڑا مشہور ومعروف قاعدہ ہے کہ :
’’قرآن کی کوئی آیت کسی متعین شخص سے متعلق کسی دینی حکم کو اگر بیان کررہی ہے ،توایسا نہیں ہوگا کہ وہ حکم صرف اسی شخص ہی کے لیے خاص ہے ،بلکہ وہ سبب اگر اورکسی کے اندر پایا جائے گا تو وہی حکم اس پر بھی نافذ ہوگا،جیسے چوری میں بطور سزا کے جو آیت ہے۔یا جیسے آیت ظہار ہے ،یہ اوس بن صامت کی بیوی سے متعلق نازل ہوئی ہے ، آیت لعان عویمر العجلان یا ہلال بن امیہ سے متعلق ہے ،آیت کلالہ کا نزول جابر بن عبد اللہ سے متعلق ہے ،اس کے علاوہ اور بھی کئی آیتیں بطو رمثال کی ذکر کی گئی ہیں ۔ ان آیتوں میں موجود احکام صرف انہی کے لیے مختص نہیں ہیں بلکہ عام ہیں ۔ جیسا کہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :’’والناس وإن تنازعوا في اللفظ العام الوارد على سبب هل يختص بسببه أم لا؟ فلم يقل أحد من علماء المسلمين: إن عمومات الكتاب والسنة تختص بالشخص المعين، وإنما غاية ما يقال: إنها تختص بنوع ذلك الشخص فيعم ما يشبهه، ولا يكون العموم فيها بحسب اللفظ‘‘۔
(۹)کسی بھی آیت کے ایک سے زائد سبب نزول(شان نزول)ہوسکتے ہیں ، جیسا کہ ذکر کیاجاتا ہے کہ سورہ اخلاص کا نزول دو مرتبہ ہوا ۔
(۱۰) مترادف الفاظ لغت میں کم ہیں اور قرآن میں نادر یا تو بالکل بھی نہیں ہیں ۔
(۱۱)تفسیر میں کچھ اختلافات تو ایسے ہیں جو کسی دلیل صحیح کی بنیاد پر نہیں ہیں اور نہ ہی ان اختلافات کا کوئی فائدہ ہے ، جیسے اصحاب کہف کے کتے کا رنگ ، نوح علیہ السلام کی کشتی کی لمبائی و چوڑائی اور کون سی لکڑی کی تھی،اس بچے کا نام جسے خضرعلیہ السلام نے قتل کردیاتھا ۔
تحقیقات ،شروحات :
(۱)مقدمة في أصول التفسير لشيخ الإسلام ابن تيمية (تحقيق) سامي بن محمد بن جاد الله
(۲)شرح مقدمة في أصول التفسير لابن تيمية. تأليف: د. مساعد بن سليمان بن ناصر الطيار. دار النشر: دار ابن الجوزي. سنة الطبع: الطبعة الثانية (۱۴۲۸ هـ). نوع التغليف: مجلد (۳۸۴).
(۳)مقدمة في أصول التفسير لشيخ الإسلام ابن تيمية دروس القاہا معالی الشیخ صالح بن عبد العزیز بن محمد آل الشیخ
(۴)مقدمة في أصول التفسير لشيخ الإسلام ابن تيمية تحقیق دکتور:عبد لمحسن بن محمد عبد القاسم
(۵)شرح مقدمة في أصول التفسير لابن تيمية تأليف : محمد بن عمر بن سالم بازمول
(۶)شرح مقدمہ فی اصول التفسیر :محمد بن صالح العثیمین۔
(۷)الكواشف العلمية مقدمة في أصول التفسير ) لابن تيمية- د. عبدالعزيز بن ريس الريس.
(۸)مقدمہ فی اصول التفسیر تحقیق :الدکتور عدنا ن زرزور۔ (المدرس بلکیہ الشریعہ جامعہ دمشق)۔
اردو اور دیگر زبانوں میں ترجمہ :
(۱) مقدمہ فی اصول التفسیر ،ترجمہ :عبد الرزاق ملیح آبادی ،تحقیق :محمد عطاء اللہ بھوجیانوی ،المکتبہ السلفیہ ،لاہور۔
(۲)Introduction to the exegesis of the quran .Translated by DR.Muhammad Abdul Haq Ansari۔ (مترجم کاتعلق جماعت اسلامی سے ہے )
اس پر دیگر پہلو سے کام ۔
(۱)مقدمہ فی اصول التفسیر ازشیخ الاسلام ابن تیمیہ کا اسلوب اور منہج (تحقیقی جائزہ)ڈاکٹر ثناء اللہ(اسسٹنٹ پروفیسر ،شعبہ قرآن و تفسیر ،علامہ اقبال اوپن یونیو رسٹی ،اسلام آباد ۔ عبد الحئی (لیکچرار ،شعبہ علوم اسلامیہ ،نمل یونیورسٹی ، اسلام آباد )۔اس سے کئی باتیں اس مضمون میں نقل کی گئی ہیں ۔
حواشی : آفا ق احمد
(۱) امام مالک نے بلاغا ذکر کیاہے ،لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔ابن سعد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کوسورہ بقرہ سیکھنے میں چار سال لگے ۔یہ بات بعض شارحین نے ذکر کیاہے ۔
جاری ……….