-
علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ ۔محاضرہ نمبر(۳) بر صغیر میں علماء اہل حدیث کی خدمات
(قسط:۳)
مطبع کے سلسلہ میں ذکر کروں ایک مطبع خلیلی آرہ(۱) کے نام سے ہے ،یہ مدرسہ احمدیہ آرہ (۲)کے زیر اہتمام تھا،وہاں سے حدیث کی کئی کتابیں ،نصابی کتابیں بھی اور ترجمہ شدہ کئی کتابیں چھپتی تھیں ،ان میں ایک کتاب الادب المفرد ،دنیا میں پہلی بار سنہ ۱۳۰۶ھ(۱۸۸۹ ء) میں اسی مطبع سے چھپی اور اس کا دنیا میں سب سے پہلا ترجمہ سلیقہ کے نام سے مولانا عبد الغفار رحمہ اللہ نے کیا۔(۳)کہنا یہ چاہتا ہوں کہ حدیث کی کتابیں اصل دیکھ لیجئے یا ان کے ترجمہ دیکھ لیجئے یا پھر ان کے لیے مطابع یا پریس دیکھ لیجئے ،امام ابن تیمیہ کی ساری کتابیں جو پہلی باردنیا میں چھپی ہیں وہ سب ہندوستا ن میں ہی چھپی ہیں ۔اور ان کتابوں کے چھپنے کی پوری تاریخ بیان کرسکتاہوں ،لیکن اس طر ف جانا نہیں چاہتا ، سب سےپہلے ’’الفرقان بین اولیاء الرحمٰن و اولیاء الشیطان‘‘ جو ان کی بڑی مقبول کتاب ہے ،اور رد بدعت پر بالکل بے نظیر کتاب ہے ، یہ کتاب پہلی بار ۱۲۹۵ھ میں ترجمہ کے ساتھ یعنی عربی بھی یہیں سے چھپی تھی ، کتاب الحمویہ کا ترجمہ شافیہ کے نام سے ایک تھے غلام علی قصوری(۴) کی تحقیق اور ترجمہ کے ساتھ پہلی با رتقریباً ۱۲۹۶ھ میں چھپی ،یہ امرتسر میں تھے اور امرتسر میں سب سے پہلے عقیدۂ توحید کی اشاعت مولانا عبد اللہ غزنوی(۵) کے ذریعہ سے نہیں ہوئی ان سے پہلے مولانا غلام علی قصوری تھے ،بلکہ غلام علی جو نام ہے اس کے حوالہ بطور لطیفہ یہ بات ذکر کروں جب توحید صحیح نہیں تھا تو ان کا نام غلام علی قصوری تھا ،جب ان کو علم ہواکہ یہ صحیح نہیں ہے تو انہوں نے غلام العلی کرلیا اور اب نام صحیح ہوگیا کیونکہ یہ العلی اللہ کی صفت ہے ۔یہ عبد اللہ غزنوی جو میاں نذیر حسین محدث دہلوی صاحب کے شاگرد تھے اوربہت مشہور عالم بھی تھے ،ان کا علاقہ افغانستان کا تھا ،توانہوں نے وہاں توحید کو قبول کیا اور انہیں تو وہاں اتنا ستایا گیا کہ وہاں سے گھر بار چھو ڑ ہجرت کرنی پڑی ،اور امرتسر آئے ،لیکن وہ آئے ان سے پہلے یہاں پر توحید و سنت کا کام مولانا غلام العلی قصوری کے ذریعہ سے ہو چکا تھا ،ان سے متعلق اگر مضمون پڑھنا ہوآپ کو تو ایک تھے حکیم محمد موسی امرتسری ، انہوں نے ایک کتاب لکھی ’’تذکرہ علماء امرتسر‘‘حکیم محمد موسیٰ سے میری ملاقات ۱۹۸۰ء میں لاہور میں ہوئی تھی ،اور وہ بریلوی عالم تھے ،ان کی اس کتاب میں مولانا غلام العلی قصوری کا ذکر مل جائے گا۔
علامہ ابن القیم کی ایک بہت مشہور کتاب ہے ’’اعلام الموقعین عن رب العالمین ‘‘(۶)اس میں شریعت کے بنیادی اصول و قواعد بیان کیے گئے ہیں ،تقلید اور اجتہاد پر بڑی شاندار بحث ہے ،کوئی بھی اس کوپڑھے گا اسے تقلید کی حقیقت سمجھ میں آجائے گی،جیسا کہ بعض علماء کہتے تھے کہ اس مسئلہ سے متعلق میں نےبارہ سال غور کیا،تب مجھے اپنے مسلک کی دلیل سمجھ میں آئی ،یہ حال ہے حدیث پڑھنے اورپڑھانے والوں کا ، ایک صاحب تو اخیر عمر میں رو رہے تھے کہ میں نے پوری عمر ضائع کردی ،شاگردوں نے کہا کہ آپ نے تو حدیث کی خدمت کی ہے، کہا کہ نہیں پوری زندگی صرف اپنے مسلک کے دفاع میں دلیلیں تلاش کرنے میں لگادی ۔
مدارس اور تعلیم گاہیں جو ہیں انہیں بھی انہی علماء اہل حدیث نے قائم کیاتھا ،ان کا بھی مقصدیہی تھا کہ فقہ کی ،حدیث کی، قرآن کی اور دیگر شرعی علو م کی تعلیم دی جائے ،چنانچہ برصغیر کے چپہ چپہ میں کثیر تعداد میں انہوں نے مدارس قائم کیا ، جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا ہے ،جو شمار کئے گئے ہیں وہ بھی ناقص ہیں ،ایک سرسری جائزہ اگر لیا جائے تو میاں صاحب کی جو درس گاہ تھی وہ تقریباً۱۹۰۲ءمیں اجڑ گئی تھی ،اس کے بعد مولانا بشیر سہسوانی(۷) ان کی جگہ پر آئے حدیث پڑھانے ،چھ سال کے بعد وہ بھی انتقال کر گئے ،۱۳۲۰ھ میں میاں صاحب کا انتقال ہوا ، اور۱۳۲۶ھ میں بشیر سہسوانی کا انتقال ہوا،لیکن میاں صاحب کے جو شاگرد تھے جو ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہیں انہوں نے اپنے اپنے علاقہ میں بڑی بڑی درسگاہیں قائم کیں،ان میں بڑی بڑی جو درسگاہیں ،ان میں ایک ہیں مولا نا ابراہیم آروی جن کی وفات ۱۹۰۱ءمیں ہوئی،مولانا ابراہیم آروی انہو ں نے ۱۲۹۷ھ میں مدرسہ احمد یہ سلفیہ کی بنیاد رکھی ،ان کامقصد یہ تھا کہ نصاب تعلیم کی اصلاح کی جائے ،عربی زبان کی تعلیم پر توجہ دی جائے ،حدیث کی تعلیم و تعلم کا انتظام ہو ،اور زیادہ سے زیادہ حدیث کی کتابوں کے ترجمہ ہوں او ران کی اشاعت ہو،چنانچہ انہوں نے ایک پریس بھی قائم کیا ،سب سے پہلی مرتبہ مدارس کی تاریخ میں ہاسٹل کاتصور انہوں نے ہی دیا ہے ،اس سے پہلے لوگ مدارس میں جاکرکے پڑھتے توتھے لیکن کھانے کا انتظام فلاں کے گھر فلاں کے پاس وغیرہ ہوا کرتاتھا ،لیکن انہوں نے ہاسٹل کا تصور پیش کرکے طلبہ کی پریشانی ختم کردی کہ جو انہیں کھانے کے لیے دَر دَر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی تھیں اب اس سے وہ بچ گئے ،انہوں نےسب سے پہلے مذاکرۂ علمیہ کے نام سے ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا ،جس کی رودادیں اب بھی موجو دہیں ،اس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ جیسے دیوبند وغیرہ سے بھی شرکت کرتے تھے ،مختلف تعلیمی مسائل اور دینی مسائل حل ہوتے تھے ،پہلی مرتبہ مدرسہ کی تاریخ میں یہ اضافہ ہواکہ مدرسہ میں پریس قائم کیا گیا ،اب تو بہت سے مدارس میں پریس قائم کئے گئے ،اور یہ سب باتیں میں اپنی طرف سے نہیں کہتا ہوں بلکہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ(۸)،انہوں نے حیات شبلی کے اندر ،تراجم اہل حدیث کے مقدمہ میں مختلف جگہوں پر شہادت دی ہے(۹) ، کہ علامہ ابراہیم آروی رحمہ اللہ کتنے دور اندیش تھے ،یہ مدرسہ کے قیام اور ان کے مقاصد صاف طور پر بتلا رہے ہیں ، جب علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ نے ندوۃ العلماء کے اندر یہ مشورہ رکھا کہ کچھ بڑے بڑے مدارس منتخب کرلیے جائیں ، اور دوسرے چھوٹے چھوٹے مدارس ملحق کردیئے جائیں ،تو ان میں جن مدرسوں کا نام لیا ، دیوبند ،ندوہ اور مدرسہ احمدیہ سلفیہ بہار ،فیض عام کانپور وغیرہ تھے،تو اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ احمد یہ سلفیہ کتنا بڑا ادارہ تھا ،دوسرا مدرسہ جو جماعت اہل حدیث نے قائم کیاوہ مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی ہے۔ (۱۰) ۔یہ ۱۳۳۹ھ میں قائم ہوا ،یہ شیخ عطاء الرحمان اور شیخ عبد الرحمٰن دو تاجر تھے ،اللہ نے انہیں توفیق دی ،اور مولانا عبد العزیز رحیم آبادی (مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی ج ۳ص:۱۵میں تھوڑی سے اس سے متعلق تفصیل ہے ۔(آفا ق احمد)کے کہنے پر انہوں نے اس کی بنیاد ڈال دی،آج بھی وہ عمارت قائم ہے دہلی میں لیکن افسو س کسی اور کے ہاتھ میں ہے ،اس کے بعد ایک مرکزی ادارہ جامعہ سلفیہ بنارس میں قائم ہوا،(۱۱)اس کے بھی فارغین پوری دنیا میں پھیل گئے ہیں ،میں بھی وہیں کا فارغ ہوں ، ۱۹۶۳ءمیں جامعہ سلفیہ کی بنیاد پڑی اور ۱۹۶۶ءسے تعلیم شروع ہوئی ،پاکستان میں اس کے مقابلہ میں دیکھیں ۱۹۵۵ء میں یہاں بھی جامعہ سلفیہ کی بنیاد پڑی،فیصل آباد کے اندر اور ۱۹۵۷ء سے باقاعدہ تعلیم کی شروعات ہوئی۔
حواشی : ابویوسف آفاق احمد السنابلی المدنی
(۱)مطبع خلیلی آرہ: اس مطبع کا قیام ۱۳۰۴ھ ؍ ۱۸۸۷ء میں عمل میں آیا ۔اس کے مالک مولانا محمد ادریس آروی اور مہتمم مولانا ابو محمد ابر اہیم آروی تھے ۔ یہ دونوں سگے بھائی اور حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔ اس مطبع سے بڑے صحت و اہتمام کے ساتھ کتابوں کی طباعت کی جاتی تھی ۔بڑے بڑے علماء کتابوں پر نظر ثانی اور تحقیق کا فریضہ انجام دیتے تھے ۔ امام شافعی کی ’’المسند‘‘،امام بخاری کی ’’الادب المفرد‘‘اور ابن قیم کی’’الجواب الکافی‘‘وغیرہا کی طباعت اسی مطبع سے ہوئی ۔ (بر صغیر میں اصحاب الحدیث (ایک مطالعہ)ص:۳۵۶۔۳۵۷)۔ مؤلف :تنزیل الصدیقی الحسینی
(۲) مدرسہ احمدیہ آرہ: اس مدرسہ کی بنیاد حضرت شیخ الکل سید نذیر حسین دہلوی کے تلمیذ ِرشید مولانا حافظ ابراہیم آروی (م۱۳۱۹ھ؍۱۹۰۲ء) نے ۱۳۰۵ھ؍۱۸۸۸ء میں رکھی۔ سید صاحب تراجم علمائے حدیث ہند مؤلفہ مولوی ابویحییٰ امام خان نوشہروی کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’’مولانا سید نذیر حسین دہلوی کی درسگاہ کے ایک مولانا ابراہیم صاحب آروی تھے، جنہوں نے سب سے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال قائم کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی‘‘ ۔ (تراجم علمائے حدیث ہند ص ۳۶)
مولوی ابویحییٰ امام خان نوشہروی (۱۹۶۶ء) لکھتے ہیں:
’’مدرسہ احمدیہ آرہ اپنے عہد میں اہل حدیث بہار کی یونیورسٹی تھی، جس میں پورے ملک کے حصوں سےطلبا حاضر رہے‘‘۔ (ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات ص۱۴۹) تفصیل کے لیے دیکھیں ۔ (بر صغیر میں اصحاب الحدیث (ایک مطالعہ) ص:۱۹۷۔۲۰۲)۔ مؤلف :تنزیل الصدیقی الحسینی
(۳) یہ عظیم الشان کتاب سب سے پہلے۱۳۰۶ھ بمطابق ۱۸۸۹ء میں مطبع الخلیلی آرہ سے طبع ہوئی۔ امام بخاری کی الاد ب المفرد کا اصل عربی متن علمائے اہل حدیث نے پہلی بار شائع کیا تھا(اس ایڈیشن کے بارے میں محمد فواد عبد الباقی لکھتے ہیں ۔’’هذه الطبعة اولى الطبعات و اصحها‘‘،(مقدمہ الادب المفرد :ص:۹)، اس کا سب سے پہلا اردو ترجمہ نواب صدیق حسن خاں نے’’ توفیق الباری فی ترجمہ الادب المفرد البخاری‘‘ کے نام سے کیاتھا ،ترجمہ کا آغازانہوں نے ۲؍رمضان ۱۳۰۶ھ میں کیا اور کل اٹھارہ ایام میں ترجمہ کی تکمیل ہوئی ، اسی سال یہ مطبع مفید عام پریس ،آگرہ سے۱۳۰۶ھ میں شائع ہوا،یہ ترجمہ کل۳۱۹صفحات پر مشتمل تھا ۔حضرت نواب صاحب کا یہ ترجمہ آج سے ایک سو تیس سال پرانا ہے ، اور اس دو ر کی دفتری زبان ہونے کے ناطے اس میں بہت سے فارسی الفاظ بھی آگئے ہیں ۔غالباً اسی وجہ سے بعض حضرات نے اسے فارسی ترجمہ سمجھا ہے ۔عرصہ ہوا مخدومنا الشیخ المحدث عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی رحمہ اللہ جن کی نواب صاحب سے غایت درجہ محبت تھی ، انہوں نے ترجمہ کی تسہیل اپنے ہفتہ روز ہ الاعتصام میں شائع کرنا شروع کی مگر پیرانہ سالی کی بنا پر اس کی تکمیل نہ کر پائے ۔بالآخر اس کی تکمیل انہی کے نیاز مند مولانا محمد اشرف صاحب نے کی جو الاعتصام میں مکمل شائع ہوئی ۔
دوسراترجمہ مولانا عبد الغفار المھدانوی نے ’’سلیقہ‘‘کے نام سے کیاجو ۱۳۰۹ھ مطبع الخلیلی آرہ سے شائع ہوا۔
اس کا تیسرا ترجمہ مولانا عبد القدوس ہاشمی ندوی نے’’ کتاب زندگی ‘‘کے نام سے کیاجو نفیس اکیڈمی سے طبع ہوا ، جس کا دسواں ایڈیشن ۱۹۸۳ءمیں شائع ہوا تھا ۔دیکھیں ۔(الادب المفرد مترجم مولانا محمد ارشد کمال :ص:۴۴)۔ شمس الحق عظیم آبادی حیات و خدمات از عزیر شمس رحمہ اللہ ص:۴۰)۔
ابھی چوتھاترجمہ اس کا مولانا محمد ارشد کمال حفظہ اللہ نے کیاہے ۔
ترجمہ کے علاوہ اردو شرح بھی اس کتاب کی موجود ہے۔ فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد:مولانا عثمان منیب
دیگر مسالک کے کئی ایک لوگوں نے بھی اس کااردو میں ترجمہ اور شرح کیا ہے۔
(۴)تذکرہ علماء امرتسر حکیم محمد موسیٰ (ص ۳۵سے ۵۶)۔(قصوری خاندان ، اسحاق بھٹی )گلستان حدیث ص۷۷ اسحاق بھٹی ۔تذکرہ النبلاء ،عبد الرشید عراقی۔
(۵) عبد اللہ غزنوی: تفصیل کے لیے دیکھیں ۔ سوانح عمری مولوی عبداللہ الغزنوی مع مجموعہ مکتوبات۔ جو مولوی عبداللہ الغزنوی کی سوانح حیات اور ان کے مکتوبات کا مجموعہ ہے۔جس کو مولوی عبد الجباراور مولوی غلام رسول قلعوی نے مرتب کیا ہے۔یہ مجموعہ رفاہ عام سسٹم پریس لاہور سے شائع ہواہے۔۲۔ غزنوی خاندان : عبد الرشید عراقی۔
(۶) اعلام الموقعین کا اردو ترجمہ علامہ محمد جونا گڑھی رحمہ نے ’’دین محمد ی‘‘ کےنام سے کیا ہے ، جس پر مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ نے ان کی تعریف بھی کی تھی ۔مترجم نسخہ میں مولانا آزاد کے تعریفی مکتوب موجو د ہیں۔
(۷)علامہ بشیر سہسوانی میاں صاحب کے تلامذہ میں سے ہیں ،اپنے زمانہ کے مشہور محقق اور محدث تھے ،انہوں نے کئی ایک کتابیں لکھی ہیں ، ان کی سب سے مشہور زمانہ کتاب ’’ صيانة الإنسان عن وسوسة الشيخ دحلان‘‘ ہے ۔اس کتاب کی تالیف کا سبب یہ ہے کہ حج بیت اللہ کے لیے گئے تھے ،مکہ میں ان کا شیخ احمد دحلان سے عقیدۂ توحید کے مسائل پر مناظرہ ہو ا ،ہندوستان و اپس آکرکے انہوں نے یہ کتاب تصنیف کی ۔ سب سے پہلے یہ کتاب لیتھو طباعت پر شائع ہوئی تھی ،جس میں غلطیاں اور تحریفات بھی تھیں ، شروع میں اس کتاب پر مؤلف کے طورپر شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن عبد الرحیم السندی کا نام لکھا ہوا تھا ،اوریہ طریقہ اس زمانہ کے علماء کے یہاں معروف تھا ،سہسوانی۔:۔۔۔۔ قال عنه العلّامة محمد رشيد رضا: إنّه ليس رداً على الشيخ دحلان فحسب…بل هو ردٌّ على جميع القبوريين والمبتدعين.سید رشید رضا مصری اس کتاب کے تعلق سے کہتے ہیں ‘‘یہ کتاب صرف شیخ دحلان پر ہی رد نہیں ہے بلکہ قبر پرست اور مبتدعین پر بھی رد ہے ۔
(صيانة الإنسان عن وسوسة الشيخ دحلان،مطبعة المنار بمصر،مقدمة للسيد محمد رشيد رضا في التعريف بالكتاب ص:۳۰،۳۱،۳۲)ان کی مفصل سیرت کے لیے رجوع کریں۔الیاقوت والمرجان فی ذکر علماء شہسوان محمد عبد الباقی۔
(۸)مولانا سید سلیمان ندوی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے ، آپ برصغیر ہند و پاک کے ایک جید عالم وجلیل القدر مصنف ،محقق ،سیرت نگار و مورخ گزرے ہیں۔آپ مسلکاً حنفی تھے ،لیکن چونکہ آپ نے بچپن میں اتباع سنت کے ماحول میں تربیت پائی ،اس لیے جمود سے دور رہے ،تاآنکہ اپنی آخری زندگی میں جب آپ مشہور عالم و صوفی مولانا اشرف علی تھانوی کے حلقہ اثر میں داخل ہوگئے تو ’’فنا فی الشیخ ‘‘ کے تصور نے آپ پر دوبارہ جمود کی کیفیت طاری کردی ۔ایک مرتبہ کسی نے آپ سے فتویٰ پوچھا کہ جب مسبوق اپنی فوت شدہ رکعتیں ادا کرے تو ان میں سورہ فاتحہ ادا کرے یا خاموش کھڑا رہے ۔ آپ نے جواب کے لیے بہشتی زیور منگائی اور اسے دیکھ کر اس کے مطابق خاموش کھڑے رہنے کا فتویٰ دیا ۔آپ کے بعض عقیدت مندوں نے لکھا ہے کہ آپ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کے بارے میں فرمایاکرتے تھے ’’علمه اكبر من عقله‘‘.( مزید تفصیل کے لیے دیکھیں :مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی: ج:۳، ص : ۱۳)۔
(۹)سید سلیمان ندوی مولانا ابراہیم آروی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔مولوی نذیر حسین کے شاگردوں میں مولوی ابراہیم آروی خاصی حیثیت رکھتے تھے وہ نہایت خوشگواراور پُر زوروعظ کہتے تو خود روتے اور دوسروں کو بھی رُلاتے ،نئی باتوں میں سے اچھی باتو ں کو پہلے قبول کرتے چنانچہ نئے طرز پر انجمن علماء اور عربی مدرسہ اور اس میں دار الاقامہ کی بنیاد کا خیال انہی کے دل میں آیا اور انہی نے ۱۸۹۰ء (۱۲۹۸ھ) میں مدرسہ احمد یہ کے نام سے آرہ میں ایک مدرسہ قائم کیا اور اس کے لیے ’’”جلسہ مذاکرۂ علمیہ ‘‘کے نام سے ایک مجلس بنائی جس کا سال بسال جلسہ آرہ میں ہو تا اس مدرسہ میں انگریزی بھی پڑھائی جا تی تھی ندوہ کے قیام کے بعد۱۳۱۳ھ مطابق ۱۸۹۶ءمیں اس کا سب سے پہلا جلسہ آرہ در بھنگہ میں ہوا ۔بہر حال وہ مدرسہ قائم رہا اور مدتوں خوش اسلوبی کے ساتھ چلتا رہا ۔(حیات شبلی: ص:۳۰۸۔) تفصیل کے لیے دیکھیں ۔(دبستان حدیث :ص:۲۳۷۔۲۴۶)
(۱۰) تاریخ دار الحدیث رحمانیہ دہلی کے لیے رجوع کریں ۔تاریخ و تعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی ،اسعد اعظمی ،مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی :ج :۳،ص :۱۴۰)
(۱۱)تاریخ مرکزی دار العلوم (جامعہ سلفیہ بنارس) مصنف : محفوظ الرحمٰن فیضی۔تاریخ مرکزی دارالعلوم بنارس ، مطیع اللہ سلفی ۔مرکزی دارالعلوم بنارس نوگڑھ کانفرنس کی ہی دین ہے ۔ مؤلف :عبد الرزاق عبد الغفار سلفی ۔جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس کا ایک مختصر تعارف: مؤلف ابو القاسم ابو الخیر بنارسی۔
جاری ……