Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • تسبیحِ الٰہی اور اس کے فوائد

    الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین، اما بعد:
    آج دنیا کا ہر انسان مصروف ہے، مغموم و محزون ہے، طرح طرح کے آلام و مصائب میں گرفتار ہے ، ذہنی الجھنوں کا شکار ہے، قلبی طور پر بے چین و پریشان ہے ان تمام پریشانیوں کا سب سے نفع بخش اور بہترین علاج ایمان باللہ اور ذکر الہٰی ہے، ذکر ایک مومن کو زندہ رکھتی ہے، اس کے ایمان کو تازگی عطا کرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ﴾ ’’دلوں کو چین وسکون ذکرِ الہٰی سے حاصل ہوتا ہے‘‘۔[الرعد:۲۸]
    انہی ذکر واذکار میں ایک عظیم ذکر’’تسبیح‘‘ ہے جو انسان کو مشکلات اور مصیبتوں سے نجات دیتی ہے، غم و اندوہ کو دور کرتی ہے، خوشی اور سکون عطا کرتی ہے، چہرے اور جسم کو منور کرتی ہے، گناہوں کی مغفرت کا سبب بنتی ہے، دنیا و آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے ۔یہی نہیں بلکہ تسبیح، اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، درجات کی بلندی کا سبب ہے، اور یہ کوئی مشکل عمل نہیں بلکہ نہایت ہی آسان عبادت ہے۔ اس کے لیے کسی خاص مشقت یا بڑے اہتمام کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مسلمان ہر حالت میں، کام کے دوران، سفر و حضر میں، چلتے پھرتے اور روزمرہ کی مصروفیات کے ساتھ بھی تسبیح کرسکتا ہے۔ یہ ایسی عبادت ہے جس کے لیے صرف زبان اور ہونٹوں کو حرکت دینا کافی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اس نہایت آسان عمل پر بے شمار اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ وہ تھوڑے عمل پر بہت زیادہ بدلہ عطا فرماتا ہے۔اس مختصر مضمون میں قارئین کرام کے لیے ہم تسبیحِ الٰہی اور اس کے فوائد سے متعلق چند اہم باتیں پیش کریں گے۔
    تسبیح کا معنیٰ ومفہوم:
    تسبیح کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک قرار دینا ۔[مقاییس اللغۃ:۱۵۲/۳]
    حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تسبیح کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:’’ تعظیم جلال اللہ‘‘ یہ اللہ کے جلال کی تعظیم ہے۔[الدعاء للطبرانی،ص:۵۰۰، رقم:۱۷۶۲]
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمانفَسُبْحَانَ اللَّهِ.[الانبیاء:۲۲]کے بارے میں فرمایا: تنزیہ اللہ نفسہ عن کل سوء. اللہ نے اپنے آپ کو ہر برائی سے پاک قرار دیا ہے۔[تفسیر ابن ابی حاتم: ۱۱ ۲۳/۴ ، الدعاء للطبرانی،ص:۴۹۹، رقم:۱۷۵۷]
    معمر بن المثنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سبحان اللہ: تنزیہ اللہ وتبرئتہ. سبحان اللہ: اللہ کی پاکیزگی اور اس کو برائی سے بری قرار دینا ہے۔[الدعاء للطبرانی،ص:۵۰۰]
    علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ کلمہ (سبحان اللہ) : اللہ تعالیٰ کی ذات سے تمام صفاتِ نقص کی نفی کے ساتھ ساتھ لازمی طور پر اس کی عظمت و بزرگی کے اثبات کو شامل ہے، گویا کہ تسبیح ،اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کی برائی سے بری قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس کی تعظیم کرنے کا نام ہے‘‘۔[رد تعارض العقل و النقل،۱۷۷/۶]
    علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ کلمہ (سبحان اللہ) کا مطلب اللہ تعالیٰ کو ان تمام چیزوں سے پاک اور عظیم وبلند و بالا ماننا ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں‘‘ ۔[حادی الارواح،۴۱۷]
    تسبیح کے اطلاقات:
    تسبیح کا لفظ عام طور پر اللہ کی تعظیم کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا اطلاق نماز پر بھی ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’قرآن میں جہاں کہیں بھی تسبیح کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد نماز ہے‘‘[تفسیر طبری، ۱۹۱/۱۹]
    اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى﴾
    ’’پس کفار مکہ (آپ کے بارے میں) جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرنے کے لیے تسبیح پڑھیے، آفتاب طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ اوقات میں بھی تسبیح پڑھیے، اور دن کی ابتدا اور انتہا کے وقت تاکہ آپ خوش رہیے‘‘۔[طہ:۱۳۰] یہاں تسبیح سے مراد نماز ہے۔[تفسیر طبری،۲۰۹/۱۶]
    اسی طرح سنت میں بھی تسبیح سے مراد نماز کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:”وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَبِّحُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ قِبَلَ أَیِّ وَجْہٍ تَوَجَّہَ، وَیُوتِرُ عَلَیْہَا، غَیْرَ أَنَّہُ لاَ یُصَلِّی عَلَیْہَا المَکْتُوبَۃَ” رسول اللہ ﷺ سواری پر نفل پڑھ لیتے تھے وہ جدھر بھی منہ کر لیتی، اور نماز وتر بھی اسی پر پڑھ لیتے تھے، البتہ فرض نماز سواری پر نہیں پڑھتے تھے۔[صحیح بخاری:۱۰۹۸،صحیح مسلم:۷۰۰]
    تسبیح کا اطلاق عمومی ذکر پر بھی ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے:’’رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْقِدُ التَّسْبِیحَ” میں نے رسول اللہﷺ کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا۔[سنن ابی داؤد:۱۵۰۲،سنن ترمذی:۳۴۱۱، سنن نسائی:۱۳۵۵، قال الالبانی صحیح]
    علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تسبیح سے مراد ذکرِ الٰہی کی جنس ہے، کہا جاتا ہے : فلان یسبح ، فلاں اللہ کی تسبیح بیان کر رہا ہے۔ اور اس میں (تہلیل) لا الٰہ الا اللہ ، اور ( تحمید) الحمدللہ کہنا بھی داخل ہے، اسی معنی میں ’’ سباحۃ‘‘ اس انگلی کو کہا گیا ہے، جس سے اشارہ کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے توحید کے لیے اشارہ کیا جاتا ہے، اور کبھی تسبیح سے مراد بندے کا قول’’ سبحان اللہ‘‘ بھی ہوتا ہے، اس اعتبار سے لفظ تسبیح خاص ہوگا۔[جامع المسائل لابن تیمیۃ: ۲۹۲/۳]
    تسبیح کی اہمیت:
    تسبیح کی اہمیت اور اس کے مقام و مرتبے کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں اس کا بار بار ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کئی سورتوں کا آغاز تسبیح سے فرمایا، بلکہ کچھ سورتیں ایسی ہیں جنہیں ’’ذواتُ التسبیح‘‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں تسبیح کا ذکر اسّی (۸۰)سے زائد مرتبہ آیا ہے، اور سات سورتوں (سورہ اسراء ، حدید، حشر، صف، جمعہ، تغابن اور اعلیٰ) کی ابتداء تسبیح سے کی گئی ہے۔ ان میں مختلف انداز ماضی، حال اور مستقبل استعمال ہوئے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ﴾[الحدید:۱] اور فرمایا: ﴿یُسَبِّحُ لِلَّہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ﴾[الجمعہ:۱]اور فرمایا:﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی﴾ [الأعلی :۱]
    شریعت میں تسبیح کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس کا تعلق توحید اسماء و صفات اور اللہ تعالیٰ کو صفاتِ نقص سے پاک قرار دینے اور اسے ان چیزوں سے بری کرنے سے ہے ، جو اس کی شریعت، تخلیق اور حکم میں اس کی شان کے لائق نہیں۔[مجموع الفتاویٰ:۱۲۳/۱۶]
    اور تسبیحِ اعتقادی واجب ترین واجبات میں سے ہے۔ چاہے یہ اللہ کی ربوبیت ، الوہیت ، یا اس کے اسماء و صفات کے بارے میں ہو ، یا اس کی تخلیق اور احکامات کے بارے میں ہو۔[جامع الرسائل:۱۳۰/۱،ومنہاج السنۃ:۵۲۲/۲]
    رہی بات زبانی تسبیح کی، تو جمہور علماء کے نزدیک نماز میں اور نماز کے علاوہ مستحب ہے، جبکہ بعض علماء ِ سلف نے نماز میں زبانی تسبیح کو واجب قرار دیا ہے۔[شرح السنۃ للبغوی:۱۰۳/۳]
    تسبیح کی اہمیت اور اس کے مقام و مرتبہ کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ ساری کائنات( انس وجن، چرندو پرند، جمادات و نباتات) سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں۔
    جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا﴾
    ’’ساتوں آسمان اور زمین اور ان کے مابین میں جو مخلوقات پائی جاتی ہیں سبھی اس کی پاکی بیان کرتی ہیں اور ہر چیز صرف اسی کی حمد و ثنا اور پاکی بیان کرنے میں مشغول ہے لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ہو، وہ بےشک بڑا بردبار ، بڑا معاف کرنے والا ہے‘‘۔[الاسراء:۴۴]
    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ساتوں آسمان، زمین اور ان میں موجود تمام مخلوقات اُس کی پاکی بیان کرتی ہیں، اُس کو ہر عیب و نقص سے پاک ٹھہراتی ہیں، اُس کی تعظیم و اجلال کرتی ہیں اور اُسے اُن باتوں سے بلند و بالا قرار دیتی ہیں جو یہ مشرکین کہتے ہیں۔ اور یہ سب اُس کی ربوبیت اور الوہیت میں اُس کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہیں، کیونکہ ہر چیز میں اُس کی وحدانیت کی ایک نشانی موجود ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہِ﴾کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مخلوق ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح نہ کرتی ہو۔ ﴿وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ یعنی اے لوگو! تم اُن کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ وہ تمہاری زبان اور لغت کے برخلاف ہے۔ یہ حکم عام ہے: جانور، پودے اور یہاں تک کہ بے جان چیزیں بھی سب اللہ کی تسبیح کرتی ہیں۔[تفسیر ابن کثیر:۷۸/۵]
    اور اللہ تعالیٰ کا فرمان:﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ﴾
    ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پنکھ پھیلائے اڑنے والے کل پرندے اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے لوگ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے بخوبی واقف ہے ‘‘۔ [النور: ۴۱]
    اور اللہ تعالیٰ کا فرمان:﴿وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ﴾
    ’’اوربجلی اس کی حمدکے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے (تسبیح کرتے ہیں)اور وہ کڑک دار بجلیاں بھیجتا ہے، پھر جس پر چاہتا ہے ان کے ذریعے مار دیتا ہے، اور وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے رہتے ہیں، حالانکہ وہ سخت قوت والا ہے ‘‘۔[الرعد:۱۳]
    اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہُ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْإِشْرَاقِ﴾
    ’’بیشک ہم نے پہاڑوں کو اُس کے (حضرت داؤد علیہ السلام کے) ساتھ مسخر کر دیا تھا، وہ سب شام اور صبح کے وقت تسبیح کرتے تھے‘‘۔[ص:۱۸]
    کن مقامات پر تسبیح مشروع ہے؟
    دورانِ نماز سات مقامات پر تسبیح مشروع ہے۔ دعائے استفتاح میں، رکوع اور سجدے میں، سجدہ والی آیت پڑھنے کے وقت، نمازی کا امام کو کسی امر طاری پر متنبہ کرنے کے لیے، سورہ فاتحہ پڑھنے کے بدلے میں وہ شخص تسبیح پڑھے جسے سورہ فاتحہ یاد نہ ہو، اور نمازوں کے بعد، اور اسی طرح پست زمین میں اترنے کے وقت، بجلی کی گرج سننے کے وقت، حیرت وتعجب کے وقت، سونے کے وقت اور ان کے علاوہ دیگر مقامات میں تسبیح مستحب ہے ۔[التسبیح فی الکتاب والسنۃ:۵۱۴/۱،۱۱۰/۲]
    تسبیح کے فوائد:
    تسبیح کے بے شمار دنیوی و اخروی فوائد ہیں۔ ان میں سے بعض اہم فوائد درج ذیل ہیں:
    ۱۔ تسبیح ضیقِ صدر (بے چینی ) کا بہترین علاج ہے۔
    اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّکَ یَضِیقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِنَ السَّاجِدِین﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ (اے نبیﷺ) جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس سے آپ کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے۔ پس آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجیے اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیے‘‘۔[الحجر:۹۷۔۹۹]
    ۲۔ تسبیح، غم و مصیبت سے نجات کا ذریعہ اور دعا ؤں کی قبولیت کا وسیلہ ہے۔
    اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿فَلَوْلا أَنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ . لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ﴾’’اگروہ (یونس علیہ السلام) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے‘‘۔[الصافات:۱۴۳۔۱۴۴]
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: دَعْوَۃُ ذِی النُّونِ إِذْ دَعَا وَھُوَ فِی بَطْنِ الحُوتِ: لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ، فَإِنَّہُ لَمْ یَدْعُ بِھَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِی شَیْءٍ قَطُّ إِلاَّ اسْتَجَابَ اللّٰہُ لَہُ.’’ذوالنون (یعنی حضرت یونس علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی: لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ جب بھی کوئی مسلمان کسی حال میں یہ دعا مانگتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔[جامع ترمذی:۳۵۰۵،قال الالبانی صحیح]
    ۳۔تسبیح کی وجہ سے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں گرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے مانند بہت زیادہ ہوں ۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ، فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، حُطَّتْ خَطَایَاہُ، وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ البَحْرِ”۔’’جس نے ایک دن میں سو مرتبہ ’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ کہا اس کے تمام گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں خواہ سمندر کی جھاگ کی مانند ہوں‘‘۔[صحیح بخاری:رقم:۶۴۰۵،و صحیح مسلم:۲۶۹۱]
    ۴۔ تسبیح پر عظیم ترین اجر وثواب ہے ۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مَنْ قَالَ حِینَ یُصْبِحُ وَحِینَ یُمْسِی سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ لَمْ یَأْتِ أَحَدٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاء َ بِہِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَیْہِ”. ’’کوئی شخص اگر صبح وشام سو بار (سبحان اللہ وبحمدہ) کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس کے جو اسی کے مثل (یہ کلمات) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے‘‘۔[صحیح مسلم:۲۶۹۲]
    ۵۔ تسبیح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔
    ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ألا أخبرک بأحب الکلام إلی اللہ؟ قلت: یا رسول اللہ أخبرنی بأحب الکلام إلی اللہ، فقال:’’إن أحب الکلام إلی اللہ: سبحان اللہ وبحمدہ‘‘.’’کیا میں تمہیں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلمہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ضرور بتائیے۔آپﷺ نے فرمایا:’’اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلمہ (سبحان اللہ وبحمدہ ) ہے‘‘ ۔ [صحیح مسلم:۲۷۳۱]
    علما ءکہتے ہیں کہ یہ حکم عام انسانوں کی بات چیت پر محمول ہے، ورنہ قرآن سب سے افضل کلام ہے، اور اسی طرح قرآن کی تلاوت مطلق تسبیح و تہلیل سے بھی افضل ہے۔ البتہ اگر کسی خاص وقت یا حالت میں مسنون اذکار وارد ہوں تو ان میں مشغول ہونا افضل ہے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ یہ ذکر کے بہترین اقسام میں سے ہے۔
    ۶۔ تسبیح کے بدلے جنت میں درخت لگایا جاتا ہے۔
    حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من قال: سبحان اللہ العظیم وبحمدہ، غرست لہ نخلۃ فی الجنۃ.’’جو شخص یہ کہے: سبحان اللہ العظیم وبحمدہ، تو اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا ہے‘‘۔[جامع ترمذی: ۳۷۶۹،قال الالبانی صحیح]
    ۷۔تسبیح قیامت کے دن میزان میں بہت بھاری ہوگا ۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبیﷺ نے فرمایا:کَلِمَتَانِ حَبِیبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ خَفِیفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیلَتَانِ فِی الْمِیزَانِ سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللَّہِ الْعَظِیمِ.’’دو کلمے ایسے ہیں جو رحمان کو بہت ہی پسند ہیں، زبان پر بڑے ہلکے پھلکے ہیں، قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں بہت بھاری ہوں گے۔ وہ یہ ہیں: (سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم)۔[صحیح بخاری:۷۵۶۳،صحیح مسلم:۲۶۹۴]
    ۸۔ تسبیح روزانہ ایک ہزار نیکیاں حاصل کرنے کا وظیفہ ہے۔
    سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا ہم نبی ﷺ کے پاس تھے تو آپﷺ نے فرمایا: أیعجز أحدکم أن یکسب، کل یوم ألف حسنۃ؟ فسألہ سائل من جلسائہ: کیف یکسب أحدنا ألف حسنۃ؟ قال: یسبح مائۃ تسبیحۃ، فیکتب لہ ألف حسنۃ، أو یحط عنہ ألف خطیئۃ.’’کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں کما لے؟صحابۂ کرام میں سے ایک صحابی نے عرض کیا: ہم میں سے کوئی کس طرح ایک ہزار نیکیاں کما سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’وہ سو مرتبہ تسبیح پڑھ لے، تو اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، یا اس سے ایک ہزار گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں‘‘۔[صحیح مسلم:۲۶۹۸]
    محترم قارئین! یہ تھیں تسبیح کی چند فضیلتیں۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم اس نیک کام میں بخل نہ کریں اور تسبیح کو کثرت کے ساتھ پڑھنے کی پوری کوشش کریں۔ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تعمیل ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللَّہَ ذِکْرًا کَثِیرًا وَسَبِّحُوہُ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا ﴾’’اے ایمان والو! اللہ کو کثرت کے ساتھ یاد کرو، اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو‘‘۔[الاحزاب:۴۱۔۴۲]

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings