-
معیار الحق: مشمولات واثرات (قسط خامس) علمی حیثیت اور اثرات:
اس میں شک نہیں کہ معیار الحق اپنے عہد کی انتہائی علمی کتاب تسلیم کی گئی ہے، جب یہ شائع ہو کر منظر عام پر آئی تو اس وقت شیخ الکل کا غلغلہ اکناف عالم میں بلند ہوچکا تھا، اس لیے لازما ًاس کتاب کو غیر معمولی شہرت ملنی یقینی تھی، سو ملی، ہرمکتب فکر کے لوگوں نے اس محدثانہ طرز کی منفرد کتاب پڑھی اور اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد تھی جس نے اپنے تاثرات قلم بند کئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب نے اپنے زمانہ میں کس قدر پذیرائی حاصل کی تھی، کتاب معیار الحق کے آخر میں وہ سارے تاثرات وتقریظات شامل کرلیے گئے ہیں، جو عظمت رفتہ کا احساس دلاتے ہیں۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی گجرانوالہ رقم طراز ہیں: ’’انتصارالحق اس وقت میر ے سامنے ہے، جو مولانا ارشاد حسین نے لکھی ہے، لیکن مولانا اس پتھر کو نہیں اٹھاسکے جو معیار الحق نے ان کی راہ میں ڈال دیا تھا، وہ مسئلہ کے منہ پر تشکیک کا غبار بھی نہیں ڈال سکے، ویسے یہ کتاب معیار الحق سے بھی بڑی تقطیع پر شائع ہوئی ہے، اس سے ضخیم بھی زیادہ ہے‘‘۔ (مقدمہ معیار الحق بقلم مولانا سلفی :ص:۸۴)
مولانا ارشاد حسین رامپوری، جو علامہ شبلی کے استاد تھے، نے’’انتصار الحق‘‘ کے نام سے معیار الحق کا جواب لکھا، یہ جواب مولانا نے لکھ تو دیا تو لیکن مولانا سلفی کے بقول معیار الحق نے جو پتھر رکھ دیا تھا مولانا اسے ہٹانے میں ناکام رہے، حتیٰ کہ مولانا آزاد نے بھی انتصار کے مؤلف کا علمی ضعف محسوس کرلیا۔
معیار الحق کی بابت اسی زمانہ میں مشاہیر اہل علم نے داد تحسین بلند کی تھی، اس کی علمی حیثیت اور استدلال واستنباط معانی کی قوت کا ادارک ہوا تھا، کتاب کے مشمولات سے اختلاف کرنے والوں نے کیا، لیکن علمی حیثیت اور قوت دلائل وبراہین کا اعتراف کرنے کے بعد، ذیل میں تمام نہ سہی کچھ اہل علم کے اعترافات نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، کہ بیشتر کے لیے معیار کا قدیم نسخہ ملاحظہ کرنا ہوگا، کہ اس کے اخیر میں کچھ اعترافات جمع کئے گئے ہیں۔ ترجمہ سے اعراض کرتے ہیں کہ یہ خالص علمی مقالہ ہے۔ (افسوس کہ یہ اعترافات بعد کے نسخوں سے حذف کردئیے گئے ہیں، جو قطعی طور پر غیر علمی رویہ ہے)
شیخ علیم الدین حسین الانصاری العظیم آبادی نگرنہسوی: ھٰذا شیء عجیب ما یدرکہ إلا اللبیب، ما أطیب کلامہ، وما أحسن نظامہ، اللہ أکبر! کتاب أی کتاب تضمن أجزاؤہ یواقیت وجواھر باھرۃ، وتشتمل مضامینہ علی لآلٍ ودُردٍ فاخرۃٍ، بل ھو سـرُّ أسـرار الحکمۃ الیمانیۃ، ونور أنوار الشـرعیۃ البرہانیۃ، إذا رأیتَ دیباجۃ جمالہ = تذھب عنک کل العنا، ومتی طالعتَ صفحۃ محیَّا کمالہ = یأتی إلیک کل الغنا، ہذا ما وصف بہ فھو القلّ، وما بقی فھو الجلّ، للفاضل الغطریف، ذی المقام الشـریف، ھو البلیغ الذی إن تکلم أجزل وأوجز، وإن نظم أفحم کلّ لسن بإنشائہ وأعجز، کفی کلامہ علی غزارۃ فضلہ مرشدًا ودلیلًا، ولا یجد معاندہ مع الغلو فی العتو إلی القدح فیہ سبیلًا، بل یطاوع الأحباء بإجراء مدحہ علی لسانہ بالاضطرار، ولا یتصور إنکار ضوء الشمس یوم الصحو وقت نصف النھار، فالأعداء والخلان علی فضلہ شاھدان عادلان، کیف لا، وھو بالشـرف الوضاح، والعلم والتقی، وبالحسب العالی، وأخلاقہ الغُرّ الذری، وأضحی بہ الشـرع الشـریف مؤیدًا، ومرتبۃ الإسلام سامیۃ القدر سـرمدًا، لم تنظر الأنوار منھا تصاعدت ولاحت کضوء الشمس فی البر والبحر، قد انتشـر صیت کمالہ واشتھر بناء جلالہ، أعنی بہ العالم القمقام، صفوۃ النبلاء الأعلام، المولوی السید محمد نذیر حسین حفظہ اللہ عن المعرۃ والشین، لازالت بدور فوائدہ طالعۃ من مطالع الحدیث والقرآن، وشموس معارفہ مشـرقۃ من آفاق التبیان أحلی أن یجتنی من ثمار معانیہ فی بساتین الکلام، وأشھی ما یستلذ بہ من فواکہ تبیانہ أولوا الأفھام، صانہ اللہ الکبیر المتعال عن شـر عین الکمال، وأبقاہ مدی الزمان سالمًا عن مطاعن أھل البدعۃ والطغیان بحرمۃ سید الثقلین، جد الحسن والحسین. آمین. (معیار الحق = نسخہ قدیمہ :ص:۲۴۸)
شیخ ابو عبداللہ غلام علی قصوری: فصاحب المعیار أثبت عدم وجوبہ (التقلید) بالبراہین الساطعۃ والحجج القاطعۃ، وما أورہا مسألۃ إلا وأسندہا إلی الکتاب والسنۃ السنیۃ، وما أتی بدعوی إلا واستشھد علیہا بروایات الثقات والنقول المعتبرات من کتب سادات الحنفیۃ، ولعمری إن الکتاب والسنۃ وأقوال المجتھدین وإجماع المسلمین یؤید قولہ، ولا یحوم الباطل بوجہ من الوجوہ حولہ، ولیس قولی ھذا بالتقلید واقتفاء الأقاویل، قلتہ بعد التحقیق وصـرف الأنظار، وإنی قد صرفت برھۃ من الزمان وبضعۃ من الأیام من قبل ذلک فی تحقیق تلک المسألۃ، فصفحت لذلک کثیرا من الکتب والرسائل القدیمۃ والجدیدۃ، وتتبعت أقوال المتقدمین والمتأخرین، حتی صـرت منہا علی الیقین، فللّٰہ درُّہ وعلی اللہ أجرہ؛ حیث أوقد شموع الھدایۃ فی زمان شیوع الظلمۃ، ونطق بالحق وقت خمول السنۃ، ونموِّ فروع البدعۃ…(ص:۲۴۸)
شیخ أحمد اللہ تلمیذ شیخ ابو عبد اللہ: إنی طالعت معیار الحق للأوحد الکامل، محط رحال الأفاضل، محی السنۃ، ماحی البدعۃ، وحید زمانہ، فرید أوانہ، مولانا وبالفضل أولانا، المشتھر فی الخافقین السید محمد نذیر حسین،جزاہ اللہ عنا خیر الجزاء فی الدارین، وطالعت ذلک الکتاب من أولہ إلی آخرہ، واطلعت علی باطنہ وظاھرہ فوجدتہ محلی بیواقیت التحقیق وجواھرہ، ودرر فرید التدقیق وزواھرہ، جامع للمواہب اللطیفۃ والمطالب الشـریفۃ، مرقاۃ للصعود علی منازل الحق إلی الدرجات العلی، وملجاۃ للنجاۃ فی طریق الصدق من الظلمات الدجی، فإنہ خلاصۃ توضیح المحققین، وتنقیح المدققین، کل مطالبہ مبین، وجل مقاصدہ مبرھن، غایۃ تقریب، نھایۃ تھذیب، بادرہ یا طالب الحق! إنہ مغتنم، وعند فحول العلماء مسلَّم، واجعلہ عقد جیدک، والفوز بہ عیدک، فإنہ أورد فیہ النصوص القطعیۃ من الآیات والأحادیث والنقول المعتبرۃ من فقہاء المذاہب الأربعۃ، مؤیدۃ لمدعاہ، مؤکدۃ لما ادعاہ، بحیث لم یبق لمخالفہ دلیل، ولا لفارّ من الحق سبیل، ولا تغتر بھذیانات صاحب التنویر، فإنہ لا دلیل لہ من صحاح الحدیث، ولا الکتاب المنیز، والحق ما أفادہ مولانا فی المعیار، کما لا یخفی علی الأخیار، فجعل اللہ حجتہ بالغۃ وکلمتہ عالیۃ. (ص:۲۴۹)
شیخ محمد پنجابی خلف الصدق شیخ بارک اللہ: أما بعد! فھذا الکتاب المطابق بالمسمی معیار الحق بل عین الحق، حقیق بالقبول، لا مجال للعدول عنہ لأھل الحق والإنصاف، وإن أنکرہ أھل التعصب والاعتساف، ألفہ أستاذنا ومولانا المحقق المدقق الکامل فی فن الفقہ من الأصول والفروع والتفسیر والحدیث: السید محمد نذیر حسین،أدام اللہ فیوضہ، ولقد کنا مترددین فی ھذہ المسألۃ المعضلۃ، فکشف عنھا حجابھا، فاستنارت کالقمر لیلۃ البدر، جزاہ اللہ عنا وعن سائر المسلمین خیر الجزاء فی الدارین، قال اللہ تعالٰی: والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا، وإن اللہ لمع المحسنین. (ص:۲۵۰)
استاد جناب میر حسن شاہ قادری فاضلی بٹالوی: أما بعد! فلما کان علم الفقہ أعظم العلوم قدرًا وأعلاھا منزلۃً، وأرفعھا شأنا وأسناھا برھانا، وکانت مسألۃ وجوب تقلید إمام واحد وعدم وجوبہ من أدقّ مسائلہ وأغمضھا، قد تحیرت فیھا أفھام الأذکیاء، وتقعس عن تحقیقھا أذھان الفضلاء، فصنَّف فیھا الفاضل النحریر العلامۃ، والفاضل الجلیل الفھامۃ، متصدر الفضلاء المدرسین، فخر العلماء الراسخین، الفقیہ الذی تزینت بدرسہ المساجد والمدارس، واحتاج إلی تفریع منطوقہ ومفھومہ کل الذاکر والمدرس، أحیی دروس المدارس وزان دروسھا، وجمَّل صدور المجالس، وأطلع شموسھا، عمدۃ المفتین المحققین، قدوۃ المحدثین المدققین، المبرأ عن الشین، مولانا السید محمد نذیر حسین؍ لازالت شموس فضائلہ لامعۃ، وأنوار جلائلہ ساطعۃ کتابًا سمَّاہ: معیار الحق، بإلھام اللہ الملھم للصواب، ولعمری إن ذلک الکتاب لا ریب فی أنہ فی المسألۃ فصل الخطاب، یسلک بمن یتأمل فیہ سبیل الرشاد، ویخلع ربقۃ وجوب تقلید الإمام الواحد أعناق العباد، فإنہ برھن فیہ علی ما ھو الحق الحقیق: مِن أن التقلید لإمام من أئمۃ الھدی واجب، وتقلید الإمام الواحد المعین غیر لازب، کیف وھو ھوس من ھوساتھم، لم یأتوا علیہ بسلطان مبین، وما أیدوہ إلا بأقوال المقلدین لا المجتھدین، فضلا عن النص الصـریح أو الحدیث المأثور من سید المرسلین، جزاہ اللہ خیر الجزاء ، وجعل سعیہ مشکورًا، وکلامہ بین أہل الحق مقبولًا ومشہورًا.
شیخ حافظ عمر الدین ہوشیار پوری: کتاب المعیار الذی صنفہ مولانا المحقق المدقق، قدوۃ العلماء المتبحرین، أسوۃ الفضلاء والمحدثین: السید محمد نذیر حسین؍ أدام اللہ فیوضہ فی الملوین (؟)، کتاب یشتمل علی الحق، والحق لا ینفک عنہ، والباطل لا یحوم حولہ، والحق إنّ ھکذا کان طریق السلف والخلف، وما کان أحد یری تقلید أحد واجبًا علی أحد، ولقد رأیت فی الطحطاوی موافقًا لما فی ہذا الکتاب… (ص:۲۵۱)
شیخ برہان الدین: أما بعد! فما حققہ العلامۃ المدقق الفھامۃ المحقق، سند المحدثین، حجۃ المفسـرین، مروِّج التوحید والسنۃ، ماحی الشـرک والبدعۃ، طالب الحسنیین: السید المولوی محمد نذیر حسین؍ رزقہ اللہ خدمۃ سنتہ سید الثقلین = فی معیار الحق فھو عندی الحق المأمور بہ المطاع، ولعمری ھو الحقیق الحق بالاتباع. (ص:۱۵۲)
اس کے علاوہ متعدد اہل علم کے عربی؍فارسی اور اردو میں کلماتِ اعتراف درج ہیں۔ جنہیں ہم بخوفِ طوالت قلم انداز کرتے ہیں۔
تنقیدات وجوابات: کتاب (انتصار الحق از: ارشاد حسین رامپوری)کا شیخ الکل محدث دہلوی مرحوم کے متعدد تلامذہ واہل علم نے علمی جواب دیا، یہ کل چار جوابات تھے۔
ث براھین اثنا عشریہ: مؤلف: مولانا امیر حسن سہسوانی ، انتصار کے چھپنے کے بعد محض ایک دن میں یہ مکمل جواب لکھا، لوگ انگشت بدنداں تھے کہ آخر ایک رات میں کیسے کوئی کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
ث تلخیص الأنظار فیما بنی علیہ الانتصار: یہ کتاب مطبع فاروقی دہلی سے تقریبا ًبیس صفحات پر بڑے سائز پر طبع ہوئی۔ سن تالیف ۱۲۹۰ھ ہے۔
ث اختیار الحق: مؤلف: مولانا قاضی محمد احتشام الدین مرادآبادی،یہ کتاب صفحات پر بڑے سائز پر مطبع فاروقی دہلی سے شائع ہوئی۔
ث البحر الزخار لإزھاق صاحب الانتصار: مؤلف: مولانا شہود الحق عظیم آبادی، مطبع فاروقی دہلی سے صفحات پر بڑے سائز پر شائع ہوئی۔
طباعتیں: کتاب متعدد بار شائع ہوچکی ہے،کچھ اہم طباعتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
ث پہلی بار مطبع فاروقی۔ دہلی سے ۱۲۸۳ھ میں ۲۶۸صفحات پر شائع ہوئی۔
ث ایک اشاعت مطبع رحمانی۔ دہلی سے ۱۳۳۷ھ =۱۹۱۹ء کو ہوئی۔
ث پھر ایک طویل عرصہ بعد مولانا حنیف یزدانی رحمہ اللہ نے اپنے اشاعتی ادارہ مکتبہ نذیریہ لاہور پاکستان سے شائع کی۔ تحقیق وتخریج کے فرائض مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ نے انجام دئیے، مراجع کی کمی کے باعث یہ تخریج ناقص رہ گئی تھی۔
ث پھر مولانا ابو انس گوندلوی حفظہ اللہ نے مزید تحقیق وجستجو کرکے مولانا عبدہ والے نسخے کو سنوارا، اور جو کمیاں رہ گئیں تھیں ان کی اصلاح وتکمیل کی اور اپنے اشاعتی ادارہ مکتبہ تعلیم القرآن والحدیث سیالکوٹ۔ پاکستان سے مئی؍۲۰۰۷ء میں شائع کیا۔ اس پر مقدمہ شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی گجرانوالہ مرحوم کا ہے، اسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ عمدہ ترین نسخہ ہے۔ کل ۳۹۴صفحات پر مکمل ہوتی ہے۔
ث اسی نسخہ کو بنیاد بناکر محترم حافظ شکیل احمد میرٹھی؍حفظہ اللہ نے اپنے اشاعتی ادارہ دارالکتب الاسلامیہ، دہلی سے شیخ الکل پر ہوئے سیمینار کی مناسبت سے ۲۰۱۷ء میں عمدگی سے شائع کیا، لیکن کہیں کہیں غلطیاں نظر آرہی ہیں، پھر بھی جو ہے وہ بہت غنیمت ہے، عمدہ طباعت اور دیدہ زیب پیرہن میں۔
عربی ترجمہ: ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب کی تعریب؍ عربی ترجمہ حضرت العلام شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ وغفرلہ نے مکمل کرلیا تھا، خاکسار کو مکمل عربی نسخہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہے، اس میں مولانا سلام اللہ دہلوی مرحوم کی شرح موطا کے کچھ حوالے رہ گئے تھے، وجہ یہ تھی کہ یہ شرح اب تک مخطوط تھی، لیکن ادھر کچھ عرصہ ہوا مکمل شائع ہوچکی ہے، لہٰذا ان حوالوں کی تکمیل کے بعد اسے جلد از جلد شائع کیا جانا چاہیے، کہ ہمارے اس عہد کی اہم ترین علمی پیش رفت ہے۔ اللہم وفق۔
موارد ومراجع : ذیل میں ہم شیخ الکل محدث دہلوی کی اس اہم کتاب معیار الحق بجواب تنویر الحق کے اہم علمی مواردومراجع یہاں نقل کرتے ہیں، جن سے آپ نے خصوصی استفادہ کیا، یا جن کے حوالے زیادہ آئے ہیں، کہ جس کی علمی دنیا میں اہمیت ہے، کچھ کتابیں اس دور میں شائع نہیں تھیں، یا دستیاب نہیں تھیں، تو شیخ کے پاس ان کے مسودات تھے، جن سے گاہے بگاہے استفادہ جاری رہتا تھا، خاکسار نے آپ کی لائبریری کے متعدد قدیمی نسخے دیکھے ہیں، جو ہمدرد لائبریری – دہلی میں موجود تھے، بلکہ آپ کی جملہ کتابوں کا باقی ماندہ ذخیرہ بنام نذیریہ کلیکشن عرصہ تک موجود تھا، لیکن کچھ عرصہ قبل یہ قیمتی ذخیرہ نہ جانے کس مصلحت کے پیش نظر دیگر کتابوں کے ساتھ ضم کردیا گیا، ذمہ داروں سے پتہ کیا تو بتایا گیا کہ جگہ کی قلت ہے، چار پانچ منزلہ عظیم الشان لائبریری میں جگہ کی قلت کا شکوہ شاید کسی کے لیے بھی ناقابل فہم ہو۔ بہر حال ممکن ہے کوئی قابل قبول سبب ہو، اب یہاں کتاب سے متعلقہ اہم موارد ومراجع ملاحظہ فرمائیں۔ اس وضاحت کے ساتھ کہ مشاہیر کتب حدیث ودیگر کتب ستہ وسنن وغیرہ کا ہم نے یہاں ذکر نہیں کیا۔
(۱) اختلاف الحدیث امام محمد بن ادریس شافعی
(۲) الاستیعاب امام ابن عبد البر اندلسی
(۳) الاشباہ والنظائر علامہ ابن نجیم حنفی
(۴) إمعان النظر علامہ محمد اکرم حنفی
(۵)إیضاح الحق الصریح فی أحکام المیت والضریح علامہ شاہ محمد إسماعیل دہلوی شہید
(۶) البحر الرائق شرح کنز الدقائق علامہ ابن نجیم حنفی
(۷)بستان المحدثین علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
(۸) بلوغ المرام من أدلۃ الاحکام امام ابن حجر عسقلانی
(۹) تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق علامہ عثمان بن علی زیلعی
(۱۰)التحریر مع التقریر والتحبیر علامہ ابن الحاج حنفی
(۱۱)تدریب الراوی شرح تقریب النواوی امام حافظ جلال الدین سیوطی
(۱۲) تذکرۃ الموضوعات علامہ محمد طاہر پٹنی
(۱۳)الترغیب والترہیب امام حافظ عبد العظیم المنذری
(۱۴)تفسیر احمدی علامہ احمد ملا جیون
(۱۵)تفسیر بیضاوی علامہ قاضی ناصرالدین بیضاوی
(۱۶)تفسیر عزیزی علامہ شاہ عبد العزیز دہلوی
(۱۷)تفسیر مظہری علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی
(۱۸)تفسیر نیساپوری علامہ نظام الدین نیساپوری
(۱۹)تقریب التہذیب امام حافظ ابن حجر
(۲۰)تقویۃ الایمان علامہ شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی
(۲۱)التلویح علی التوضیح (لمتن التنقیح فی اصول الفقہ) علامہ سعد الدین تفتازانی
(۲۲)تنویر العینین فی إثبات رفع الیدین علامہ شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی
(۲۳)التوضیح علامہ صدر الشریعہ عبید اللہ المحبوبی
(۲۴)تہذیب التہذیب امام ابن حجر
(۲۵)تہذیب الاسماء امام یحییٰ بن شرف النووی
(۲۶)جامع بیان العلم امام ابن عبد البر اندلسی
(۲۷)حجۃ اللہ البالغۃ علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
(۲۸)در المختار مع رد المحتار علامہ محمد علاء الدین حصفکی
(۲۹)رد المحتار علامہ ابن عابدین شامی
(۳۰)رسالہ وصیہ وآخر تفہیمات علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
(۳۱)سفر السعادت علامہ فیروز آبادی
(۳۲)سیر اعلام النبلاء امام شمس الدین ذہبی
(۳۳)شرح السنہ امام بغوی
(۳۴)شرح مسلم (المنہاج فی شرح مسلم بن الحجاج) امام نووی
(۳۵)شرح معانی الآثار امام طحاوی
(۳۶)شرح نخبۃ الفکر امام حافظ ابن حجر
(۳۷)معجم طبرانی کبیر واوسط وصغیر امام ابوالقاسم سلیمان طبرانی
(۳۸)طبقات الشافعیہ علامہ تاج الدین سبکی
(۳۹)طحطاوی (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار) علامہ احمد بن محمد طحطاوی
(۴۰)عقد الجید علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
(۴۱)علل الترمذی امام ابو عیسیٰ ترمذی
(۴۲)عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری علامہ بدر الدین عینی
(۴۳)عقائد نسفی علامہ عمر بن محمد نسفی
(۴۴)غمز عیون الابصار شرح الاشباہ والنظائر علامہ سید احمد مصری
(۴۵)غنیہ المتسملی شرح منیہ المصلی شیخ ابراہیم حلبی
(۴۶)فتاویٰ بزازیہ حاشیہ بر فتاویٰ عالمگیری شیخ محمد بن محمد بن شہاب ابن البزاز
(۴۷)فتاویٰ عالمگیری اورنگ زیب عالمگیر نے علماء کی ایک ٹیم سے فقہ حنفی پر یہ فتاوی تیار کرایا تھا۔
(۴۸)فتح الباری شرح صحیح البخاری امام حافظ ابن حجر
(۴۹)فتح القدیر شرح ہدایۃ علامہ کمال ابن الہمام حنفی
(۵۰)فتح المغیث امام شمس الدین سخاوی
(۵۱)فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت علامہ عبد العلی انصاری
(۵۲)قواعد الاحکام امام عز بن عبد السلام حنفی
(۵۳)الکامل فی ضعفاء الرجال امام ابن عدی الجرجانی
(۵۴)کتاب الموضوعات امام ابو الفرج الاصفہانی
(۵۵)کتاب الیواقیت والجواہر شیخ عبد الوہاب شعرانی
(۵۶)لسان المیزان امام حافظ ابن حجر
(۵۷)اللآلی المصنوعہ امام جلال الدین سیوطی
(۵۸) لمعات التنقیح شرح مشکاۃ المصابیح علامہ عبد الحق محدث دہلوی
(۵۹)مجمع البحار علامہ طاہر پٹنی
(۶۰)مجمع الزوائد امام نور الدین علی الہیثمی
(۶۱)المحلی امام ابن حزم اندلسی
(۶۲)المختصر المنتہی الاصولی ملحق مسلم الثبوت امام ابن حاجب مالکی
(۶۳)المدخل إلی السنن الکبریٰ امام ابوبکر البیہقی
(۶۴)مرقاۃ المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح علامہ ملا علی قاری
(۶۵)المستدرک علی الصحیحین امام ابو عبد اللہ الحاکم
(۶۶)مسلم الثبوت علامہ سلامہ بہاری
(۶۷)المقاصد الحسنہ امام سخاوی
(۶۸)مقدمہ فی علوم الحدیث امام ابن الصلاح
(۶۹)المواہب اللطیفہ شرح مسند ابی حنیفہ علامہ عابد سندھی
(۷۰)میزان الاعتدال امام ابو عبد اللہ الذہبی
(۷۱)میزان الکبریٰ شیخ عبد الوہاب شعرانی
(۷۲)نور الانوار شیخ ملا جیون
(۷۳)وفیات الاعیان امام ابن خلکان
(۷۴)ہدایہ علامہ برہان الدین مرغینانی
(۷۵)ھدی الساری مقدمہ فتح الباری امام حافظ ابن حجر عسقلانی