-
معیار الحق: مشمولات واثرات (قسط خامس) علمی حیثیت اور اثرات:
اس میں شک نہیں کہ معیار الحق اپنے عہد کی انتہائی علمی کتاب تسلیم کی گئی ہے، جب یہ شائع ہو کر منظر عام پر آئی تو اس وقت شیخ الکل کا غلغلہ اکناف عالم میں بلند ہوچکا تھا، اس لیے لازما ًاس کتاب کو غیر معمولی شہرت ملنی یقینی تھی، سو ملی، ہرمکتب فکر کے لوگوں نے اس محدثانہ طرز کی منفرد کتاب پڑھی اور اہل علم کی ایک بہت بڑی تعداد تھی جس نے اپنے تاثرات قلم بند کئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کتاب نے اپنے زمانہ میں کس قدر پذیرائی حاصل کی تھی، کتاب معیار الحق کے آخر میں وہ سارے تاثرات وتقریظات شامل کرلیے گئے ہیں، جو عظمت رفتہ کا احساس دلاتے ہیں۔
مولانا محمد اسماعیل سلفی گجرانوالہ رقم طراز ہیں: ’’انتصارالحق اس وقت میر ے سامنے ہے، جو مولانا ارشاد حسین نے لکھی ہے، لیکن مولانا اس پتھر کو نہیں اٹھاسکے جو معیار الحق نے ان کی راہ میں ڈال دیا تھا، وہ مسئلہ کے منہ پر تشکیک کا غبار بھی نہیں ڈال سکے، ویسے یہ کتاب معیار الحق سے بھی بڑی تقطیع پر شائع ہوئی ہے، اس سے ضخیم بھی زیادہ ہے‘‘۔ (مقدمہ معیار الحق بقلم مولانا سلفی :ص:۸۴)
مولانا ارشاد حسین رامپوری، جو علامہ شبلی کے استاد تھے، نے’’انتصار الحق‘‘ کے نام سے معیار الحق کا جواب لکھا، یہ جواب مولانا نے لکھ تو دیا تو لیکن مولانا سلفی کے بقول معیار الحق نے جو پتھر رکھ دیا تھا مولانا اسے ہٹانے میں ناکام رہے، حتیٰ کہ مولانا آزاد نے بھی انتصار کے مؤلف کا علمی ضعف محسوس کرلیا۔
معیار الحق کی بابت اسی زمانہ میں مشاہیر اہل علم نے داد تحسین بلند کی تھی، اس کی علمی حیثیت اور استدلال واستنباط معانی کی قوت کا ادارک ہوا تھا، کتاب کے مشمولات سے اختلاف کرنے والوں نے کیا، لیکن علمی حیثیت اور قوت دلائل وبراہین کا اعتراف کرنے کے بعد، ذیل میں تمام نہ سہی کچھ اہل علم کے اعترافات نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، کہ بیشتر کے لیے معیار کا قدیم نسخہ ملاحظہ کرنا ہوگا، کہ اس کے اخیر میں کچھ اعترافات جمع کئے گئے ہیں۔ ترجمہ سے اعراض کرتے ہیں کہ یہ خالص علمی مقالہ ہے۔ (افسوس کہ یہ اعترافات بعد کے نسخوں سے حذف کردئیے گئے ہیں، جو قطعی طور پر غیر علمی رویہ ہے)
شيخ عليم الدين حسين الانصاري العظيم آبادي نگرنهسوي:
هٰذا شيء عجيب ما يدركه إلا اللبيب، ما أطيب كلامه، وما أحسن نظامه، الله أكبر! كتاب أى كتاب تضمن أجزاؤه يواقيت وجواهر باهرة، وتشتمل مضامينه على لآلٍ ودُردٍ فاخرةٍ، بل هو سـرُّ أسـرار الحكمة اليمانية، ونور أنوار الشـرعية البرهانية، إذا رأيتَ ديباجة جماله = تذهب عنك كل العنا، ومتي طالعتَ صفحة محيَّا كماله = يأتى إليك كل الغنا، هذا ما وصف به فهو القلّ، وما بقي فهو الجلّ، للفاضل الغطريف، ذي المقام الشـريف، هو البليغ الذى إن تكلم أجزل وأوجز، وإن نظم أفحم كلّ لسن بإنشائه وأعجز، كفي كلامه على غزارة فضله مرشدًا ودليلًا، ولا يجد معانده مع الغلو فى العتو إلى القدح فيه سبيلًا، بل يطاوع الأحباء بإجراء مدحه على لسانه بالاضطرار، ولا يتصور إنكار ضوء الشمس يوم الصحو وقت نصف النهار، فالأعداء والخلان على فضله شاهدان عادلان، كيف لا، وهو بالشـرف الوضاح، والعلم والتقي، وبالحسب العالي، وأخلاقه الغُرّ الذري، وأضحي به الشـرع الشـريف مؤيدًا، ومرتبة الإسلام سامية القدر سـرمدًا، لم تنظر الأنوار منها تصاعدت ولاحت كضوء الشمس فى البر والبحر، قد انتشـر صيت كماله واشتهر بناء جلاله، أعني به العالم القمقام، صفوة النبلاء الأعلام، المولوي السيد محمد نذير حسين حفظه الله عن المعرة والشين، لازالت بدور فوائده طالعة من مطالع الحديث والقرآن، وشموس معارفه مشـرقة من آفاق التبيان أحلي أن يجتني من ثمار معانيه فى بساتين الكلام، وأشهي ما يستلذ به من فواكه تبيانه أولوا الأفهام، صانه الله الكبير المتعال عن شـر عين الكمال، وأبقاه مدي الزمان سالمًا عن مطاعن أهل البدعة والطغيان بحرمة سيد الثقلين، جد الحسن والحسين. آمين.
(معیار الحق = نسخہ قدیمہ :ص:۲۴۸)
شیخ ابو عبداللہ غلام علی قصوری:
فصاحب المعيار أثبت عدم وجوبه (التقليد) بالبراهين الساطعة والحجج القاطعة، وما أورها مسألة إلا وأسندها إلى الكتاب والسنة السنية، وما أتي بدعوي إلا واستشهد عليها بروايات الثقات والنقول المعتبرات من كتب سادات الحنفية، ولعمري إن الكتاب والسنة وأقوال المجتهدين وإجماع المسلمين يؤيد قوله، ولا يحوم الباطل بوجه من الوجوه حوله، وليس قولي هذا بالتقليد واقتفاء الأقاويل، قلته بعد التحقيق وصـرف الأنظار، وإني قد صرفت برهة من الزمان وبضعة من الأيام من قبل ذلك فى تحقيق تلك المسألة، فصفحت لذلك كثيرا من الكتب والرسائل القديمة والجديدة، وتتبعت أقوال المتقدمين والمتأخرين، حتي صـرت منها على اليقين، فللّٰه درُّه وعلي الله أجره؛ حيث أوقد شموع الهداية فى زمان شيوع الظلمة، ونطق بالحق وقت خمول السنة، ونموِّ فروع البدعة…
(ص:۲۴۸)
شیخ أحمد اللہ تلمیذ شیخ ابو عبد اللہ:
إني طالعت معيار الحق للأوحد الكامل، محط رحال الأفاضل، محي السنة، ماحي البدعة، وحيد زمانه، فريد أوانه، مولانا وبالفضل أولانا، المشتهر فى الخافقين السيد محمد نذير حسين،جزاه الله عنا خير الجزاء فى الدارين، وطالعت ذلك الكتاب من أوله إلى آخره، واطلعت على باطنه وظاهره فوجدته محلي بيواقيت التحقيق وجواهره، ودرر فريد التدقيق وزواهره، جامع للمواهب اللطيفة والمطالب الشـريفة، مرقاة للصعود على منازل الحق إلى الدرجات العلي، وملجاة للنجاة فى طريق الصدق من الظلمات الدجي، فإنه خلاصة توضيح المحققين، وتنقيح المدققين، كل مطالبه مبين، وجل مقاصده مبرهن، غاية تقريب، نهاية تهذيب، بادره يا طالب الحق! إنه مغتنم، وعند فحول العلماء مسلَّم، واجعله عقد جيدك، والفوز به عيدك، فإنه أورد فيه النصوص القطعية من الآيات والأحاديث والنقول المعتبرة من فقهاء المذاهب الأربعة، مؤيدة لمدعاه، مؤكدة لما ادعاه، بحيث لم يبق لمخالفه دليل، ولا لفارّ من الحق سبيل، ولا تغتر بهذيانات صاحب التنوير، فإنه لا دليل له من صحاح الحديث، ولا الكتاب المنيز، والحق ما أفاده مولانا فى المعيار، كما لا يخفي على الأخيار، فجعل الله حجته بالغة وكلمته عالية.
(ص:۲۴۹)
شیخ محمد پنجابی خلف الصدق شیخ بارک اللہ:
أما بعد! فهذا الكتاب المطابق بالمسمي معيار الحق بل عين الحق، حقيق بالقبول، لا مجال للعدول عنه لأهل الحق والإنصاف، وإن أنكره أهل التعصب والاعتساف، ألفه أستاذنا ومولانا المحقق المدقق الكامل فى فن الفقه من الأصول والفروع والتفسير والحديث: السيد محمد نذير حسين،أدام الله فيوضه، ولقد كنا مترددين فى هذه المسألة المعضلة، فكشف عنها حجابها، فاستنارت كالقمر ليلة البدر، جزاه الله عنا وعن سائر المسلمين خير الجزاء فى الدارين، قال الله تعالٰي: والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا، وإن الله لمع المحسنين.
(ص:۲۵۰)
استاد جناب میر حسن شاہ قادری فاضلی بٹالوی:
أما بعد! فلما كان علم الفقه أعظم العلوم قدرًا وأعلاها منزلةً، وأرفعها شأنا وأسناها برهانا، وكانت مسألة وجوب تقليد إمام واحد وعدم وجوبه من أدقّ مسائله وأغمضها، قد تحيرت فيها أفهام الأذكياء، وتقعس عن تحقيقها أذهان الفضلاء، فصنَّف فيها الفاضل النحرير العلامة، والفاضل الجليل الفهامة، متصدر الفضلاء المدرسين، فخر العلماء الراسخين، الفقيه الذى تزينت بدرسه المساجد والمدارس، واحتاج إلى تفريع منطوقه ومفهومه كل الذاكر والمدرس، أحيي دروس المدارس وزان دروسها، وجمَّل صدور المجالس، وأطلع شموسها، عمدة المفتين المحققين، قدوة المحدثين المدققين، المبرأ عن الشين، مولانا السيد محمد نذير حسين؍ لازالت شموس فضائله لامعة، وأنوار جلائله ساطعة كتابًا سمَّاه: معيار الحق، بإلهام الله الملهم للصواب، ولعمري إن ذلك الكتاب لا ريب فى أنه فى المسألة فصل الخطاب، يسلك بمن يتأمل فيه سبيل الرشاد، ويخلع ربقة وجوب تقليد الإمام الواحد أعناق العباد، فإنه برهن فيه على ما هو الحق الحقيق: مِن أن التقليد لإمام من أئمة الهدي واجب، وتقليد الإمام الواحد المعين غير لازب، كيف وهو هوس من هوساتهم، لم يأتوا عليه بسلطان مبين، وما أيدوه إلا بأقوال المقلدين لا المجتهدين، فضلا عن النص الصـريح أو الحديث المأثور من سيد المرسلين، جزاه الله خير الجزاء ، وجعل سعيه مشكورًا، وكلامه بين أهل الحق مقبولًا ومشهورًا.
شیخ حافظ عمر الدین ہوشیار پوری:
كتاب المعيار الذى صنفه مولانا المحقق المدقق، قدوة العلماء المتبحرين، أسوة الفضلاء والمحدثين: السيد محمد نذير حسين؍ أدام الله فيوضه فى الملوين (؟)، كتاب يشتمل على الحق، والحق لا ينفك عنه، والباطل لا يحوم حوله، والحق إنّ هكذا كان طريق السلف والخلف، وما كان أحد يرى تقليد أحد واجبًا على أحد، ولقد رأيت فى الطحطاوي موافقًا لما فى هذا الكتاب…
(ص:۲۵۱)
شیخ برہان الدین:
أما بعد! فما حققه العلامة المدقق الفهامة المحقق، سند المحدثين، حجة المفسـرين، مروِّج التوحيد والسنة، ماحي الشـرك والبدعة، طالب الحسنيين: السيد المولوي محمد نذير حسين؍ رزقه الله خدمة سنته سيد الثقلين = فى معيار الحق فهو عندي الحق المأمور به المطاع، ولعمري هو الحقيق الحق بالاتباع.
(ص:۱۵۲)
اس کے علاوہ متعدد اہل علم کے عربی؍فارسی اور اردو میں کلماتِ اعتراف درج ہیں۔ جنہیں ہم بخوفِ طوالت قلم انداز کرتے ہیں۔
تنقیدات وجوابات: کتاب (انتصار الحق از: ارشاد حسین رامپوری)کا شیخ الکل محدث دہلوی مرحوم کے متعدد تلامذہ واہل علم نے علمی جواب دیا، یہ کل چار جوابات تھے۔
براھین اثنا عشریہ: مؤلف: مولانا امیر حسن سہسوانی ، انتصار کے چھپنے کے بعد محض ایک دن میں یہ مکمل جواب لکھا، لوگ انگشت بدنداں تھے کہ آخر ایک رات میں کیسے کوئی کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
تلخیص الأنظار فیما بنی علیہ الانتصار: یہ کتاب مطبع فاروقی دہلی سے تقریبا ًبیس صفحات پر بڑے سائز پر طبع ہوئی۔ سن تالیف ۱۲۹۰ھ ہے۔
اختیار الحق: مؤلف: مولانا قاضی محمد احتشام الدین مرادآبادی،یہ کتاب صفحات پر بڑے سائز پر مطبع فاروقی دہلی سے شائع ہوئی۔
البحر الزخار لإزھاق صاحب الانتصار: مؤلف: مولانا شہود الحق عظیم آبادی، مطبع فاروقی دہلی سے صفحات پر بڑے سائز پر شائع ہوئی۔
طباعتیں: کتاب متعدد بار شائع ہوچکی ہے،کچھ اہم طباعتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
پہلی بار مطبع فاروقی۔ دہلی سے ۱۲۸۳ھ میں ۲۶۸صفحات پر شائع ہوئی۔
ایک اشاعت مطبع رحمانی۔ دہلی سے ۱۳۳۷ھ =۱۹۱۹ء کو ہوئی۔
پھر ایک طویل عرصہ بعد مولانا حنیف یزدانی رحمہ اللہ نے اپنے اشاعتی ادارہ مکتبہ نذیریہ لاہور پاکستان سے شائع کی۔ تحقیق وتخریج کے فرائض مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ نے انجام دئیے، مراجع کی کمی کے باعث یہ تخریج ناقص رہ گئی تھی۔
پھر مولانا ابو انس گوندلوی حفظہ اللہ نے مزید تحقیق وجستجو کرکے مولانا عبدہ والے نسخے کو سنوارا، اور جو کمیاں رہ گئیں تھیں ان کی اصلاح وتکمیل کی اور اپنے اشاعتی ادارہ مکتبہ تعلیم القرآن والحدیث سیالکوٹ۔ پاکستان سے مئی؍۲۰۰۷ء میں شائع کیا۔ اس پر مقدمہ شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی گجرانوالہ مرحوم کا ہے، اسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ عمدہ ترین نسخہ ہے۔ کل ۳۹۴صفحات پر مکمل ہوتی ہے۔
اسی نسخہ کو بنیاد بناکر محترم حافظ شکیل احمد میرٹھی؍حفظہ اللہ نے اپنے اشاعتی ادارہ دارالکتب الاسلامیہ، دہلی سے شیخ الکل پر ہوئے سیمینار کی مناسبت سے ۲۰۱۷ء میں عمدگی سے شائع کیا، لیکن کہیں کہیں غلطیاں نظر آرہی ہیں، پھر بھی جو ہے وہ بہت غنیمت ہے، عمدہ طباعت اور دیدہ زیب پیرہن میں۔
عربی ترجمہ: ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کتاب کی تعریب؍ عربی ترجمہ حضرت العلام شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ وغفرلہ نے مکمل کرلیا تھا، خاکسار کو مکمل عربی نسخہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہے، اس میں مولانا سلام اللہ دہلوی مرحوم کی شرح موطا کے کچھ حوالے رہ گئے تھے، وجہ یہ تھی کہ یہ شرح اب تک مخطوط تھی، لیکن ادھر کچھ عرصہ ہوا مکمل شائع ہوچکی ہے، لہٰذا ان حوالوں کی تکمیل کے بعد اسے جلد از جلد شائع کیا جانا چاہیے، کہ ہمارے اس عہد کی اہم ترین علمی پیش رفت ہے۔ اللہم وفق۔
موارد ومراجع : ذیل میں ہم شیخ الکل محدث دہلوی کی اس اہم کتاب معیار الحق بجواب تنویر الحق کے اہم علمی مواردومراجع یہاں نقل کرتے ہیں، جن سے آپ نے خصوصی استفادہ کیا، یا جن کے حوالے زیادہ آئے ہیں، کہ جس کی علمی دنیا میں اہمیت ہے، کچھ کتابیں اس دور میں شائع نہیں تھیں، یا دستیاب نہیں تھیں، تو شیخ کے پاس ان کے مسودات تھے، جن سے گاہے بگاہے استفادہ جاری رہتا تھا، خاکسار نے آپ کی لائبریری کے متعدد قدیمی نسخے دیکھے ہیں، جو ہمدرد لائبریری – دہلی میں موجود تھے، بلکہ آپ کی جملہ کتابوں کا باقی ماندہ ذخیرہ بنام نذیریہ کلیکشن عرصہ تک موجود تھا، لیکن کچھ عرصہ قبل یہ قیمتی ذخیرہ نہ جانے کس مصلحت کے پیش نظر دیگر کتابوں کے ساتھ ضم کردیا گیا، ذمہ داروں سے پتہ کیا تو بتایا گیا کہ جگہ کی قلت ہے، چار پانچ منزلہ عظیم الشان لائبریری میں جگہ کی قلت کا شکوہ شاید کسی کے لیے بھی ناقابل فہم ہو۔ بہر حال ممکن ہے کوئی قابل قبول سبب ہو، اب یہاں کتاب سے متعلقہ اہم موارد ومراجع ملاحظہ فرمائیں۔ اس وضاحت کے ساتھ کہ مشاہیر کتب حدیث ودیگر کتب ستہ وسنن وغیرہ کا ہم نے یہاں ذکر نہیں کیا۔
(۱) اختلاف الحدیث امام محمد بن ادریس شافعی
(۲) الاستیعاب امام ابن عبد البر اندلسی
(۳) الاشباہ والنظائر علامہ ابن نجیم حنفی
(۴) إمعان النظر علامہ محمد اکرم حنفی
(۵)إیضاح الحق الصریح فی أحکام المیت والضریح علامہ شاہ محمد إسماعیل دہلوی شہید
(۶) البحر الرائق شرح کنز الدقائق علامہ ابن نجیم حنفی
(۷)بستان المحدثین علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
(۸) بلوغ المرام من أدلۃ الاحکام امام ابن حجر عسقلانی
(۹) تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق علامہ عثمان بن علی زیلعی
(۱۰)التحریر مع التقریر والتحبیر علامہ ابن الحاج حنفی
(۱۱)تدریب الراوی شرح تقریب النواوی امام حافظ جلال الدین سیوطی
(۱۲) تذکرۃ الموضوعات علامہ محمد طاہر پٹنی
(۱۳)الترغیب والترہیب امام حافظ عبد العظیم المنذری
(۱۴)تفسیر احمدی علامہ احمد ملا جیون
(۱۵)تفسیر بیضاوی علامہ قاضی ناصرالدین بیضاوی
(۱۶)تفسیر عزیزی علامہ شاہ عبد العزیز دہلوی
(۱۷)تفسیر مظہری علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی
(۱۸)تفسیر نیساپوری علامہ نظام الدین نیساپوری
(۱۹)تقریب التہذیب امام حافظ ابن حجر
(۲۰)تقویۃ الایمان علامہ شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی
(۲۱)التلویح علی التوضیح (لمتن التنقیح فی اصول الفقہ) علامہ سعد الدین تفتازانی
(۲۲)تنویر العینین فی إثبات رفع الیدین علامہ شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی
(۲۳)التوضیح علامہ صدر الشریعہ عبید اللہ المحبوبی
(۲۴)تہذیب التہذیب امام ابن حجر
(۲۵)تہذیب الاسماء امام یحییٰ بن شرف النووی
(۲۶)جامع بیان العلم امام ابن عبد البر اندلسی
(۲۷)حجۃ اللہ البالغۃ علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
(۲۸)در المختار مع رد المحتار علامہ محمد علاء الدین حصفکی
(۲۹)رد المحتار علامہ ابن عابدین شامی
(۳۰)رسالہ وصیہ وآخر تفہیمات علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
(۳۱)سفر السعادت علامہ فیروز آبادی
(۳۲)سیر اعلام النبلاء امام شمس الدین ذہبی
(۳۳)شرح السنہ امام بغوی
(۳۴)شرح مسلم (المنہاج فی شرح مسلم بن الحجاج) امام نووی
(۳۵)شرح معانی الآثار امام طحاوی
(۳۶)شرح نخبۃ الفکر امام حافظ ابن حجر
(۳۷)معجم طبرانی کبیر واوسط وصغیر امام ابوالقاسم سلیمان طبرانی
(۳۸)طبقات الشافعیہ علامہ تاج الدین سبکی
(۳۹)طحطاوی (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار) علامہ احمد بن محمد طحطاوی
(۴۰)عقد الجید علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
(۴۱)علل الترمذی امام ابو عیسیٰ ترمذی
(۴۲)عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری علامہ بدر الدین عینی
(۴۳)عقائد نسفی علامہ عمر بن محمد نسفی
(۴۴)غمز عیون الابصار شرح الاشباہ والنظائر علامہ سید احمد مصری
(۴۵)غنیہ المتسملی شرح منیہ المصلی شیخ ابراہیم حلبی
(۴۶)فتاویٰ بزازیہ حاشیہ بر فتاویٰ عالمگیری شیخ محمد بن محمد بن شہاب ابن البزاز
(۴۷)فتاویٰ عالمگیری اورنگ زیب عالمگیر نے علماء کی ایک ٹیم سے فقہ حنفی پر یہ فتاوی تیار کرایا تھا۔
(۴۸)فتح الباری شرح صحیح البخاری امام حافظ ابن حجر
(۴۹)فتح القدیر شرح ہدایۃ علامہ کمال ابن الہمام حنفی
(۵۰)فتح المغیث امام شمس الدین سخاوی
(۵۱)فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت علامہ عبد العلی انصاری
(۵۲)قواعد الاحکام امام عز بن عبد السلام حنفی
(۵۳)الکامل فی ضعفاء الرجال امام ابن عدی الجرجانی
(۵۴)کتاب الموضوعات امام ابو الفرج الاصفہانی
(۵۵)کتاب الیواقیت والجواہر شیخ عبد الوہاب شعرانی
(۵۶)لسان المیزان امام حافظ ابن حجر
(۵۷)اللآلی المصنوعہ امام جلال الدین سیوطی
(۵۸) لمعات التنقیح شرح مشکاۃ المصابیح علامہ عبد الحق محدث دہلوی
(۵۹)مجمع البحار علامہ طاہر پٹنی
(۶۰)مجمع الزوائد امام نور الدین علی الہیثمی
(۶۱)المحلی امام ابن حزم اندلسی
(۶۲)المختصر المنتہی الاصولی ملحق مسلم الثبوت امام ابن حاجب مالکی
(۶۳)المدخل إلی السنن الکبریٰ امام ابوبکر البیہقی
(۶۴)مرقاۃ المصابیح شرح مشکاۃ المصابیح علامہ ملا علی قاری
(۶۵)المستدرک علی الصحیحین امام ابو عبد اللہ الحاکم
(۶۶)مسلم الثبوت علامہ سلامہ بہاری
(۶۷)المقاصد الحسنہ امام سخاوی
(۶۸)مقدمہ فی علوم الحدیث امام ابن الصلاح
(۶۹)المواہب اللطیفہ شرح مسند ابی حنیفہ علامہ عابد سندھی
(۷۰)میزان الاعتدال امام ابو عبد اللہ الذہبی
(۷۱)میزان الکبریٰ شیخ عبد الوہاب شعرانی
(۷۲)نور الانوار شیخ ملا جیون
(۷۳)وفیات الاعیان امام ابن خلکان
(۷۴)ہدایہ علامہ برہان الدین مرغینانی
(۷۵)ھدی الساری مقدمہ فتح الباری امام حافظ ابن حجر عسقلانی