Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • سوال وجواب: دعائے شب قدر

    سوال:
    اس حدیث کی صحت کےبارےمیں بتادیں کہ صحیح ہے یا ضعیف؟
    اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
    [جامع الترمذی:۳۵۱۳]
    (سائل : محمد اسد حبیب)
    جواب:
    سنن ترمذی میں یہ حدیث درج ذیل سند ومتن کے ساتھ ہے ۔
    امام ترمذی رحمہ الله (المتوفی۲۷۹ھ)نے کہا:
    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ القَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔
    ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا پڑھو :
    ”اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔
    اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے“۔امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
    [سنن ترمذي،کتاب الدعوات عن رسول الله ﷺ حدیث :۳۵۱۳]
    ہمارے ناقص مطالعہ کی حد تک مذکورہ حدیث صحیح ہے ۔ اس کی مکمل وضاحت کافی تفصیل طلب ہے ہم ذیل میں اتنہائی اختصار کے ساتھ چند وضاحت پیش کررہے ہیں۔
    الف:
    امام دارقطنی رحمہ الله (المتوفی۳۸۵ھ)نے کہا:
    ۔۔۔هذه كلھا مراسيل بن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا۔
    یہ سب (روایات) عبد اللہ بن بریدہ کی مراسیل ہیں، اس نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی چیز (براہ راست) نہیں سنی۔
    [سنن الدارقطني:۲۳۳/۳]
    عرض ہے کہ:
    اول تو کلام خاص طریق سے متعلق ہے۔ جس کی وضاحت ہم کبھی اور کریں گے کیونکہ یہ کافی وقت طلب کام ہے۔
    دوسرے یہ کہ :
    یہ صرف امام دارقطنی رحمہ اللہ کا قول ہے ان کے علاوہ کسی ناقد امام نے یہ بات نہیں کہی ہے۔
    جہاں تک امام بیہقی کی بات ہے تو انہوں نے گرچہ سنن میں کہا:
    ’’وهذا مرسل بن بريدة لم يسمع من عائشة رضي الله عنها‘‘
    ”یہ (حدیث) مرسل ہے بن بریدہ کا، اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (براہ راست) سماع نہیں کیا۔“
    [السنن الكبرىٰ للبيھقي:۱۱۸/۷]
    لیکن یہ امام بیہقی رحمہ اللہ کی اپنی تحقیق نہیں ہے بلکہ موصوف نے یہ بات کہنے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ ہی پر اعتماد کیا ہے ،اس کی دلیل یہ ہے کہ خود امام بیہقی رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر وضاحت کردی ہے کہ انہوں نے یہ بات امام دارقطنی رحمہ اللہ سے اخذ کی ہے، چنانچہ:
    امام بیہقی رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پرکہا:
    ’’هَذَا مُنْقَطِعٌ،ابْنُ بُرَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ قَالَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ عَنْهُ‘‘
    ”یہ حدیث منقطع ہے، ابن بریدہ نے عائشہ سے (کوئی چیز) نہیں سنی۔ یہ بات دارقطنی نے کہی ہے، جیسا کہ مجھے ابو عبد الرحمٰن اور ان کے علاوہ دوسروں نے ان سے خبر دی“ ۔
    [معرفة السنن والآثار للبيھقي:۴۸/۱۰]
    ایک اورمقام پر کہا:
    فھو مرسل، ابن بريدة لم يسمع من عائشة، رضي الله عنها، قاله الدارقطني۔
    یہ (حدیث) مرسل ہے، عبد اللہ بن بریدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (براہ راست) سماع نہیں کیا، یہ بات دارقطنی نے کہی ہے۔
    [مختصر خلافيات البيھقي:۱۲۲/۴]
    معلوم ہوا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے امام دارقطنی رحمہ اللہ ہی پر اعتماد کرتے ہوئے مذکورہ بات کہی ہے اوریہ ان کی اپنی تحقیق نہیں ہے۔
    امام دارقطنی پر امام بیہقی کے علاہ کسی نے بھی اعتماد نہیں کیا ہے ، بلکہ امام بیہقی سے قبل امام ترمذی رحمہ اللہ نے ابن بریدہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند کو صحیح قراردیاہے ، جیساکہ شروع میں ذکر کیا گیا ۔
    حافظ ابن حجر رحمہ الله (المتوفی۸۵۲ھ) ایک مقام پر فرماتے ہیں:
    ’’وقال:( یعنی الدارقطی ) هذه كلھا مراسيل، ابن بريدة لم يسمع من عائشة. قلت: صحح له الترمذي حديثه عن عائشة في القول ليلة القدر، من رواية: جعفر بن سليمان، بھذا الإسناد، ومقتضى ذلك أن يكون سمع منھا، ولم أقف على قول أحد وصفه بالتدليس‘‘.
    ”انہوں(یعنی امام دارقطنی ) نے کہا: یہ سب (روایات) مراسیل ہیں، ابن بریدہ نے عائشہ سے کچھ بھی نہیں سنا۔ میں کہتا ہوں: ترمذی نے اس کے لیے (یعنی عبد اللہ بن بریدہ کے لیے) حدیث لیلۃ القدر میں عائشہ سے روایت کو صحیح قرار دیا ہے، جو جعفر بن سلیمان کی روایت سے اسی سند کے ساتھ ہے، اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ انہوں نے (اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے) سنا ہوگا۔ اور میں کسی کے قول پر واقف نہیں جس نے اسے (ابن بریدہ کو) تدلیس والا قرار دیا ہو‘‘۔
    [إتحاف المھرة لابن حجر:۵/۱۷]۔
    حافظ ابن حجررحمہ اللہ ہی کے کلام سے ملتی جلتی بات علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے کمایاتی ۔
    ب:
    بعض محدثین کا یہ موقف ہے کہ دو راویوں کے بیچ اتصال سند کے لیے سماع کا ثبوت لازم ہے جبکہ راجح بات یہی ہے کہ اتصال کے لیے صرف معاصرت اور لقاء کا امکان ہی کافی ہے۔
    اس راجح اصول کی روشنی میں ابن بریدہ کی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سماع پر محمول ہوگی کیونکہ ابن بریدہ کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی معاصرت حاصل ہے اوران دونوں کے سماع کا امکان بھی ہے۔
    بعض حضرات نے معاصرت کو تسلیم کرتے ہوئے امکان لقاء کا انکار کیا لیکن یہ عمارت جس بنیاد پر قائم ہے وہ بنیاد ہی کمزور ہے، چنانچہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ ابن بریدہ اوراماں عائشہ رضی اللہ عنہا جب ایک ہی مقام پر مقیم تھے تو اس وقت ابن بریدہ بچے تھے ۔
    عرض ہے کہ اولا ًیہ بات صحیح سند سے ثابت نہیں کہ ابن بریدہ اس وقت بچے تھے نیز بچے کی بھی روایت مطلقاً رد نہیں کیا جاتی ہے بلکہ بچہ جب سن تمیز کو پہنچ جائے اوراس کا ضبط صحیح ہو تو اس کی روایت معتبرہوتی ہے۔
    نیز ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کی لقاء ان صحابہ سے بھی ثابت مانی جاتی ہے جن کی وفات اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے قبل ہوئی ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن بریدہ کا سماع ثابت نہ ہو اوراماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پہلے جو صحابہ فوت ہوئے ان سے ابن بریدہ کا سماع ثابت ہو؟
    علامہ البانی رحمہ اللہ اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    وقد أعل بما لا يقدح، فقال الدارقطني في سننه (۲۳۳/۳)- وتبعه البيهقي (۱۱۸/۷) – في حديث آخر لعبد الله بن بريدة : لم يسمع من عائشة شيئاً ! كذا قالا! وقد كنت تبعتھما برهة من الدهر في إعلال الحديث المشار بالانقطاع، في رسالتي نقد نصوص حديثية (ص:۴۵ )، والآن؛ فقد رجعت عنه؛ لأني تبينت أن النفي المذكور لا يوجد ما يؤيده، بل هو مخالف لما استقر عليه الأمر في علم المصطلح أن المعاصرة كافية لإثبات الاتصال بشرط السلامة من التدليس، كما حققته مبسطاً في تخريج بعض الأحاديث، وعبد الله بن بريدة لم يرم بشيء من التدليس، وقد صح سماعه من أبيه كما حققته في الحديث المتقدم (۲۹۰۴) وغيره، وتوفي أبوه سنة (۶۳)، بل ثبت أنه دخل مع أبيه على معاوية في مسند أحمد (۳۴۷/۵)، ومعاوية مات سنة (۶۰)، وعائشة ماتت سنة (۵۷)، فقد عاصرها يقيناً، ولذلك أخرج له الشيخان روايته عن بعض الصحابة ممن شاركھا في سنة وفاتھا أو قاربھا، مثل عبد الله بن مغفل، وقريب منه سمرة بن جندب مات سنة (۵۸). بل وذكروه فيمن روى عن عبد الله بن مسعود المتوفى سنة (٣٢)، ولم يعلوها بالانقطاع، ولعله- لما ذكرت- لم يعرج الحافظ المزي على ذكر القول المذكور، إشارة إلى توهينه، وكذلك الحافظ الذهبي في تاريخه، ونحا نحوهما الحافظ العلائي في جامع التحصيل (۲۵۲/۳۳۸)، فلم يذكره بالإرسال إلا بروايته عن عمر، وهذا ظاهر جدّاً، لأنه ولد لثلاث خلون من خلافة عمر.
    انہوں نے ایسی علت بیان کی جو معتبر نہیں، چنانچہ دارقطنی نے اپنی سنن میں (۳؍۲۳۳) میں – اور ان کی پیروی کرتے ہوئے بیہقی نے ”سنن“ (۷؍۱۱۸) میں – عبد اللہ بن بریدہ کے ایک دوسرے حدیث کے بارے میں کہا: اس نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی چیز نہیں سنی! ان دونوں نے یہی کہا ہے!
    میں ایک عرصے تک ان دونوں کی پیروی کرتا رہا اور اس حدیث کو انقطاع کی وجہ سے معلول قرار دیتا رہا، جیسا کہ میں نے اپنی رسالہ نقد نصوص حدیثیہ (ص ۴۵) میں کیا تھا۔ لیکن اب میں اس سے رجوع کر چکا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ مذکورہ نفی (یعنی سماع کا انکار) کی کوئی تائید موجود نہیں ہے، بلکہ یہ اس اصول کے خلاف ہے جو علمِ مصطلح میں متفق علیہ ہے کہ معاصرت (ایک ہی دور میں زندہ ہونا) اتصال (سلسلہ کی براہِ راست وابستگی) کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ تدلیس سے سلامتی ہو۔ میں نے اسے تفصیل سے کچھ احادیث کے تخریج میں بیان کیا ہے۔
    عبد اللہ بن بریدہ پر تدلیس کا کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔ اور اس کا اپنے والد سے سماع صحیح ہے، جیسا کہ میں نے پچھلی حدیث (۲۹۰۴) اور دیگر مقامات پر کیا ہے۔ ان کے والد کی وفات سنہ ۶۳ ہجری میں ہوئی۔ بلکہ یہ بات ثابت ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تھے جیسا کہ مسند احمد (۵؍۳۴۷) میں ہے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات سنہ ۶۰ ہجری میں ہوئی، جبکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات سنہ ۵۷ ہجری میں ہوئی۔ پس وہ یقیناً اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاصر تھے۔
    اسی لیے شیخین (بخاری و مسلم) نے اس سے کچھ صحابہ کی روایات قبول کیں جو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے سال یا اس کے قریب وفات پانے والے تھے، جیسے عبد اللہ بن مغفل، اور اس کے قریب سمرہ بن جندب جن کی وفات سنہ ۵۸ ہجری میں ہوئی۔ بلکہ انہوں نے اسے عبد اللہ بن مسعود (وفات سنہ ۳۲ ہجری) سے روایت کرنے والوں میں شمار کیا اور اسے انقطاع کی وجہ سے معلول نہیں قرار دیا۔
    شاید اسی وجہ سے حافظ مزی نے اس قول (یعنی سماع کے انکار) کا ذکر نہیں کیا، جو اس کی تضعیف کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح حافظ ذہبی نے اپنی تاریخ میں، اور حافظ علائی نے جامع التحصیل (۲۵۲؍۳۳۸) میں بھی اسی راستے پر چلے اور اسے صرف عمر (رضی اللہ عنہ) سے مرسل قرار دیا، نہ کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔یہ بات بہت واضح ہے، کیونکہ عبد اللہ بن بریدہ عمر کی خلافت کے تین سال گزرنے پر پیدا ہوا تھا۔
    [سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقھھا وفوائدها:۱۰۱۰/۷]
    خلاصۂ کلام یہ کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسے ضعیف قرار دینا درست نہیں ہے ۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings