-
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :
’’كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ‘‘.
”عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ مجھے بدر میں شریک ہونے والے بزرگ صحابہ کے ساتھ بٹھاتے تھے“۔
[صحيح البخاري:۴۲۹۴]
اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی نقل کرتے ہیں کہ :
’’فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ ‘‘.
”عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ایسے لڑکے تو ہمارے پاس بھی ہیں“۔
[صحيح البخاري:۳۶۲۷]
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر ان بزرگ صحابیوں کو ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا اور مجھے بھی بلایا۔ میں سمجھ گیا کہ مجھے اس دن آپ نے اس لیے بلایا تھا تاکہ آپ میرا علم بتا سکیں۔
پھر آپ نے دریافت کیا : ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ…الخ﴾ کے متعلق تم لوگوں کا کیا خیال ہے“؟
کسی نے کہا کہ : ”ہمیں اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد بیان کریں اور اس سے استغفار کریں کہ اس نے ہماری مدد کی اور ہمیں فتح عنایت فرمائی“ ۔
بعض نے کہا کہ : ”ہمیں اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے“ ۔
اور بعض نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ پھر انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : ”ابن عباس! کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے“ ؟
میں نے جواب دیا کہ : ”نہیں“۔
پوچھا : ”پھر تم کیا کہتے ہو“ ؟
میں نے کہا کہ : ”اس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح حاصل ہو گئی۔ یعنی فتح مکہ تو یہ آپ ﷺکی وفات کی نشانی ہے۔ اس لیے آپ اپنے رب کی حمد اور تسبیح اور اس کی مغفرت طلب کریں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے“ ۔
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”جو کچھ تم نے کہا وہی میں بھی سمجھتا ہوں“ ۔ [صحيح البخاري:۴۲۹۴]
اس واقعہ کے بعد عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے قرآن سیکھنے لگے اور علم قرآن میں انہیں اپنا استاذ بنالیا ۔
چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’كُنْتُ أُقْرِئُ رِجَالًا مِنَ المُھَاجِرِينَ، مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ {فِي خِلَافَةِ عُمَرَ}‘‘.[صحيح البخاري:۶۸۳۰،مصنف عبد الرزاق:۴۳۹/۵ ،وإسناده صحيح مابين المعكوفتين عنده]
”میں عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کئی مہاجرین کو (قرآن مجید) پڑھایا کرتا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے“ ۔
ابن حبان کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ:
’’فَلَمْ أَرَ رَجُلاً يَجِدُ مِنَ الاقْشَعْرِيرَةِ مَا يَجِدُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عِنْدَ الْقِرَاءَةِ‘‘.
”میں نے کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا جو قرآن کی تلاوت کے وقت رونگٹے کھڑے ہونے (یعنی خشیت اور خشوع) کا اتنا احساس کرتا ہو جتنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کرتے تھے“ ۔
[صحيح ابن حبان:۴۶۶/۲، وإسناده صحيح]
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’أما إقراء ابْن عَبَّاس لمثل عبد الرَّحْمَن بن عَوْف فَفِيهِ تَنْبِيه على أَخذ الْعلم من أَهله وَإِن صغرت أسنانهم أَو قلت أقدارهم‘‘.
”رہی بات ابن عباس کا عبد الرحمٰن بن عوف جیسے بزرگ کو قرآن پڑھانے کی، تو اس میں یہ تنبیہ اور اشارہ ہے کہ علم اہلِ علم سے حاصل کرنا چاہیے، چاہے وہ عمر میں چھوٹے ہوں یا مرتبہ اور قدر میں کم ہوں“۔
[كشف المشكل من حديث الصحيحين:۶۳/۱ ]