Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • ماں کی ممتا
    تیری خوشبو نہیں ملتی تیرا لہجہ نہیں ملتا
    ہمیں تو شہر میں کوئی ترے جیسا نہیں ملتا               (نوشی گیلانی)

    اللہ رب العزت کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم الشان نعمت ماں ہے، ماں اللہ رب العزت کا ایک ایسا قیمتی تحفہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، کائنات کا سب سے انمول اور پر خلوص رشتہ ماں کا ہے، ماں کا لفظ بہت وسیع معنیٰ رکھتا ہے جس میں ممتا، پیار ومحبت، ایثارو قربانی، ہمت وحوصلہ، بےغرضی، دعا، وفا، ایمان، سچائی، جذبہ، لگن، خدمت، محنت، عبادت، عظمت جیسی خوبیاں موجود ہیں، اِنہیں خوبیوں کی وجہ سے ماں کا مقام باپ سے اونچا ہے، ماں کی عظمت ومقام کو بیان کرنا ایسے ہی ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کرنا ہے۔

    اللہ رب العزت نے اس کے دل کے خانے میں پیار ومحبت، شفقت ورحمت کا سمندر پیوست کردیا ہے جو ہمیشہ سمندر کی لہروں کی طرح بہتا رہتا ہے، اس کی محبت و شفقت، خلوص و وفا کسی تعریف کی محتاج نہیں۔
    ماں ہی وہ واحد ہستی ہے جو اپنی اولاد سے اس قدر محبت کرتی ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد اپنے بچوں کی تربیت، اُن کا مستقبل روشن کرنا اور دنیا جہاں کی خوشیاں فراہم کرنا ہوتاہے، ماں کی گود ہی وہ واحد ٹھکانہ ہے جہاں اولاد اپنا سر رکھ کر اپنی پریشانیوں سے سکون وآرام، ہر طرح کے درد والم کی دوا حاصل کرتی ہے اور اپنے دل کا سارا بوجھ ہلکا کرلیتی ہے، دنیاوی رشتوں میں سب سے پرخلوص رشتہ صرف ایک ماں کا اپنی اولاد سے ہوتاہے، ماں کے اندر ممتا کا وہ جذبہ ہے جو کسی کے اندر نہیں ہوتا، اگر بچہ بھوک سے رو پڑے تو ماں بے چین ہوتی ہے، ناجانے کتنے طریقہ اپناتی ہے کہ بچہ کو آرام ملے اور آرام ملنے تک وہ بے چین ہی رہتی ہے، اس کی یہ بےچینی، بے قراری تب تک رہتی ہے جب تک بچہ خاموش اور مسکرا نہ دے، بچے کو سیر وسیراب کرنے میں اپنی بھوک پیاس بھول جاتی ہے، بچے کو سلانے میں اپنی نیند قربان کردیتی ہے، ماں اپنی اولاد کے لیے جو قربانیاں دیتی ہے اولاد زندگی بھر اس کا حق ادا نہیں کرسکتی۔
    اولاد زندگی بھر اس کے احسانات واحساسات کی مقروض ہوتی ہے، کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے سہارے کے بعد سب سے ضروری سہارا ایک ماں کا ہوتا ہے، جو ہر وقت اللہ رب العزت کے سامنے اپنا دامن پھیلائے رکھتی ہے، کبھی سجدے میں تو کبھی ہاتھ پھیلائے ہوئے، اولاد سے اتنی محبت اور فکرمند ہوتی ہے کے چلتے پھرتے بھی اپنے اولاد کے حق میں دعا کرتی رہتی ہے اور ماں کی دعاؤں سے ہر چھوٹی بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے۔
    یہ کائنات کی وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لئے اپنی پوری زندگی قربان کر دیتی ہے، اپنی جوانی، اپنا چین وآرام، خوشی، نیند، سکون، اپنا سب کچھ اولاد کے نام کر دیتی ہے. ماں ایک سایہ دار درخت ہے، جو سایہ بن کر اپنی اولاد کی حفاظت کرتی ہے، اولاد چاہے کتنی بھی بڑی ہوجائے لیکن وہ اپنی ماں کی نگاہ میں اپنا معصوم لخت جگر ہی رہتی ہے. غرض دنیا میں ایسا کوئ نہیں ہے جو ماں کی محبت اور اس کی اہمیت کا اعتراف نہ کرتا ہو۔
    آئیے قرآن وسنت کی سیر کرتے ہوئے ماں کے مقام ومرتبہ کو جانتے ہیں، سورہ لقمان میں رب العالمین کا فرمان ہے :
    ﴿وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِـدَيْهِۚ حَـمَلَتْهُ اُمُّهٝ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّفِصَالُـهٝ فِىْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُـرْ لِـىْ وَلِوَالِـدَيْكَۚ اِلَـىَّ الْمَصِيْـرُ﴾[سورة لقمان:١٤]
    ’’اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے، اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو (انسان) میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے‘‘۔
    اس آیت کریمہ میں اللہ رب العالمین نے والدین کے مقام ومرتبہ کو واضح کرتے ہوئے ماں کی شان کو ایک الگ انداز میں بیان فرمایا ہے، تاکہ انسان کو معلوم ہو کہ ماں کن کن عظمتوں کے حامل ہے، ماں کے بارے میں فرمایا کہ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا، یعنی اس کی ماں کی کمزوری میں ہر وقت اضافہ ہوتا رہتا ہے، جتنا حمل بڑھتا جاتا ہے اور بوجھ زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی کمزوری میں اضافہ ہوتا ہے، حمل کے بعدعورت کوکمزوری، تھکن اور مشقّتیں پہنچتی رہتی ہیں، حمل خود کمزور کرنے والاہے، دردِ زِہ کمزوری پر کمزوری ہے اور وضعِ حمل اس پر اور مزید شدت ہے اور دودھ پلانا بھی مستقل مشقت کا ذریعہ ہے، ماں کو باپ پر تین درجے فضیلت حاصل ہے۔
    یہاں ماں کے تین درجے بیان فرمائے گئے ایک یہ کہ اس نے کمزوری پر کمزوری برداشت کی، دوسرا یہ کہ اس نے بچے کو پیٹ میں رکھا، تیسرا یہ کہ اسے دودھ پلایا، اس سے معلوم ہوا کہ ماں کو باپ پر تین درجے فضیلت حاصل ہے۔
    نبی کریم ﷺ نے بھی ماں کی باپ سے تین درجے زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ:’’جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ ‌صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ‘‘۔
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :’’ایک شخص نے آپﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا : میری اچھی خدمت کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہاری ماں، اس نے عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا، ’’تمہاری ماں‘‘، اس نے دوبارہ عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا ’’تمہاری ماں‘‘، عرض کی: پھر کون ہے؟ ارشاد فرمایا: تمہارا باپ۔[صحیح بخاری:۵۹۷۱]
    قرآن پاک نے ایک اور جگہ ماں کے وضع حمل کے درد یعنی دردزہ کو بیان کیا، ایک جگہ وھنا علی وھن کہا تو دوسری جگہ کرھا علی کرھ کہا تاکہ انسان کو یہ احساس ہو کہ اس کی ماں نے اسے ایسے ہی جنم نہیں دیا، تکلیف پر تکلیف، درد پر درد، برادشت کرکے کمزوریوں کا سامنا کرتے ہوئے اسے اس دنیا میں لائی، یاد رکھیں اس احسان عظیم کا ہم کبھی بدلہ  چکا نہیں سکتے۔
    اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین کے احسان مند اور ہمیشہ شکرگزار رہیں، ان کی فرمانبرداری کریں۔
    ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں، اور ان کے لیے دعا کرتے رہیں۔
    قرآن میں ارشاد ہے :
    ﴿وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾[سورۃ الاسراء: ۲۴]
    ’’اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے‘‘۔
    حقوقِ والدین کے بیان کے آخر میں فرمایا کہ ان کے لیے دعا کرو، گویا یہ فرمایا گیا کہ دنیا میں بہتر سے بہترین سلوک اور خدمت میں کتنا بھی مبالغہ کرلیا جائے لیکن والدین کے احسان کا حق ادا نہیں ہوتا، اس لیے بندے کو چاہیے کہ بارگاہِ الٰہی میں اُن پر فضل و رحمت فرمانے کی دعا کرے اور عرض کرے کہ یارب! میری خدمتیں اُن کے احسان کی جزا نہیں ہوسکتیں تو اُن پر رحم کر۔
    یاد رہے کہ اگر والدین کافر ہوں تو اُن کے لیے ہدایت و ایمان کی دعا کرنی چاہیے کہ یہی اُن کے حق میں رحمت ہے، اور دنیاوی اعتبار سے اچھا سلوک ان کے ساتھ بھی لازم ہے۔
    ایک اور حدیث میں آتا ہے :
    ’’جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِھَادِ فَقَالَ: أَحَيٌّ ‌وَالِدَاكَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ‘‘.[صحيح البخاری:۳۰۰۴]
    ’’کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو‘‘۔
    کتاب وسنت میں کئی آیات و احادیث موجود ہیں جو ماں کے مقام ومرتبہ، اس کی عظمت وشوکت، اس کے پیار وممتا پر دلالت کرتی ہیں۔
    اسلام نے باپ کے مقام ومرتبہ کو بھی بیان فرمایا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین کی قدر کریں، ان کی موجودگی کو غنیمت جان کر ان کی قدمت کریں، ان سے خوب دعائیں حاصل کریں، ان کی خدمت کو اپنی قسمت سمجھ کر ان کے ساتھ حسن سلوک کریں، یاد رکھیں کہ والدین کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں بالخصوص ماں کی موجودگی، کیونکہ یہ وہ سہارا ہے جس کے چلے جانے سے دنیا ویران لگتی ہے۔
    کسی نے کیا خوب کہا ہے:
    لبوں پہ اس کے کبھی بد  د عا نہیں ہوتی
    بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی  (منور رانا)
    رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کی ماؤں کا سایہ تادیر قائم رکھے، ہم میں سے جن کی مائیں رخصت ہو گئی ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت نصیب فرمائے۔ آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings