Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • صبر و استقامت: دین و دنیا کی کامیابی

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
    ﴿مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحسِنِينَ﴾[سورۃ یوسف : ۹۱]
    ’’جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔
    لغوی اعتبار سے صبر کہتے ہیں روکنے کو اور یہ جزع فزع کی ضد ہے۔
    اور اصطلاحی معنی ہے نفس کو جزع فزع کرنے، زبان کو شکوہ شکایت کرنے اور اعضاء و جوارح کو رخسار پیٹنے سے اور گریبان چاک کرنے اور ان جیسے دوسرے اعمال کرنے سے بچانا اور دور رکھنا۔[عدۃ الصابرین وذخیرۃ الشاکرین لإبن قيم الجوزيۃ رحمہ الله]
    صبر اہل ایمان کا وہ عظیم وصف ہے جو ان کی عمدہ صفات اور اخلاق حسنہ میں شامل ہے، جس کا کتاب وسنت میں جابجا تذکرہ آیا ہے، جس میں اہمیت و فضیلت، ترغیب اور انعام کے پہلو شامل ہیں، صبر ایک مومن کا ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ زندگی کے مشکل ترین حالات میں بھی فتحیاب ہوسکتا ہے، صبر کا دامن تھاما ہوا انسان دنیا و آخرت میں اجر عظیم اور بلند درجات تک رسائی پاتا ہے، صبر وتحمل اور استقامت کے ساتھ گزارا مشکل وقت میںنجات اور معافی کا ذریعہ قرار پاتا ہے، صبر کا اختتام ہمیشہ بہترین انعام کے ساتھ ہوتا ہے جو نہ صرف صابرین کے لیے باعث رحمت ہوتا ہے بلکہ اوروں کے لیے بھی ایک مثال بن کر مشکلات میں صبر کا حوصلہ فراہم کرتا ہے۔
    محترم قارئین! اللہ تعالیٰ نے اس عالم رنگ وبو کو پیدا کیا تو ساتھ ہی اس کے مقصد کو صراحتاً بیان کرتے ہوئے فرمایا :
    ﴿اَلَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً﴾ [سورۃ الملک:۲]
    ’’وہی ہے جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون بہتر عمل کرتا ہے‘‘۔
    آیت میں مذکور یہی وہ آزمائش ہے جو ہمیں صبر کی دعوت دیتی ہے، اور یہ آزمائش رہتی سانسوں تک ہر ہر ناحیے سے ہوتی رہے گی، کبھی دین کی راہ میں آزمایا جائے گا تو کبھی دنیاوی اعتبار سے آزمائشوں کا سامنا ہوگا، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
    ﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾[سورۃ العنکبوت :۲]
    ’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ وہ کہہ دیں گے کہ ہم ایمان لائے ہیں اور انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور آزمایا نہیں جائے گا‘‘۔
    مومن ان نازک حالات میں واویلا مچانے، اللہ تعالی کی تقدیر پر ناراض ہونے، شیطان کے ہاتھ کا کھلونا بن کر مایوسی کا اظہار کرنے، گلہ شکوہ کرنے یا راہ حق سے منہ موڑ لینے کے بجائے صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رہتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے بے شمار اجر کا وعدہ فرمایا ہے :
    ﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾[سورۃ الزمر:۱۰]
    ’’بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا‘‘۔
    صبر مومن کا وہ عظیم وصف ہے جو مصائب میں بھی اس کے لیے باعث خیر ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا :
    ’’مومن کا معاملہ عجیب ہے اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں، اسے خوشی اور خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے‘‘۔ [صحيح مسلم : ۷۵۰۰]
    عمر بن ذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’من أجمع على الصبر في الأمور فقد حوى الخير والتمس معاقل البر وكمال الأجو‘‘.
    ’’جو زندگی کے تمام معاملات میں صبر پر جم گیا وہ خیر کو پا گیا، اس نے نیکی کی پناہ گاہیں تلاش کر لی اور کمال درجے کے اجر کو پہنچ گیا‘‘۔[حلية الأولياء لأبی نعیم الأصفھانی:۵:۲، ص:۱۱۱]
    اور یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ طاقتِ صبر بندے کے لیے اللہ تعالی کا عطیہ اور توفیق ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے :
    ﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلا بِاللَّهِ﴾[سورۃ النحل : ۱۲۹]
    ’’اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ تعالی کی توفیق سے ہی ہے‘‘۔
    اور نبی ﷺ نے بھی اس جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرمایا :
    ’’وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ‘‘۔
    ’’اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں خیر نہیں ملی ( یعنی صبر تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے)‘‘۔ [صحیح بخاری : ۱۴۶۹]
    یعنی صبر اہلِ ایمان کی طاقت ہے، اگر بندے کا دل ایمان باللہ سے خالی یا ناقص ہو تو پھر صبر اس کی طاقت نہیں بنتا بلکہ ناممکن یا کم ازکم دشوار ضرور ہوتا ہے اور جو دل جس قدر ایمان سے مزین ہوگا اس دل میں اللہ تعالیٰ صبر کی روشنی بھی ویسی ہی انڈیل دے گا پھر اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرنا، استقامت کا مظاہرہ کرنا، مصائب میں صبر کرتے ہوئے اس سے خیر کی امید رکھنا، اور کشادگی اور آسانی کا انتظار کرنا یہ اس کے ایمان کا ایک لازم حصہ بن جاتا ہے، ایسے ہی اہل ایمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا :
    ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَراتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ۞اَلَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۞أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾[سورۃ البقرۃ : ۱۵۵-۱۵۷]
    ’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے (١٥٥) جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔
    قارئین گرامی! علمائے کرام نے صبر کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے :
    (۱) اللہ تعالی کی اطاعت پر صبر کرنا۔
    (۲) اللہ کی معصیت سے بچنے پر صبر کرنا۔
    (۳) دنیاوی مشکلات پر صبر کرنا۔
    آئیں اب ہم ان تینوں پر مختصراً روشنی ڈالتے ہیں:
    (۱) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنے میں دین اسلام پر ثبات، اللہ تعالی کی عبادت اور اس راہ کی مشکلات پر شیطان، نفس اور دنیا کے بہکاوے میں آئے بغیر جمے رہنا اور پوری ثابت قدمی کے ساتھ عمل کرتے رہنا شامل ہے، جیسے نمازوں کی پابندی، رمضان کے روزے، حصول علم، الله تعالی کی رضا کے لیے دشمنوں سے انتقام نہ لیتے ہوئے انہیں معاف کرنا، برائی کا بدلہ اچھائی سے دینا وغیرہ شامل ہے، جیسا کہ الله تعالی کا ارشاد ہے :
    ﴿فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ﴾[سورۃ مریم : ٦٥]
    ’’پس تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر جم جاؤ‘‘۔
    اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر میں یہ بھی شامل ہے کہ اس راہ میں کوئی چیزیں رکاوٹ نہ بنے جو دین میں خلل پیدا کرے، جیسا کہ فرمایا :﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَٰلُكُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ﴾[سورۃ المنافقون : ۹]
    ’’اے ایمان والو! تمہیں تمہارے مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردے‘‘۔
    جب بندہ اللہ تعالیٰ کے دین اور اسکی تعلیمات پر صبر کے ساتھ جمے رہتا ہے تو وہ صبر کا انعام موت کے ساتھ ہی جنت کی خوشخبری کی شکل میں پالیتا ہے:
    ﴿اِنَّ الَّـذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّـٰهُ ثُـمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْـهِـمُ الْمَلَآئِكَـةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُـوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّـةِ الَّتِىْ كُنْتُـمْ تُوْعَدُوْنَ﴾[سورۃ فصلت : ۳۰]
    ’’بے شک جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور جنت میں خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا‘‘۔
    (۲) اللہ تعالی کی معصیت سے بچنے پر صبر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ بندہ اپنے آپ کو گناہوں کی طرف جانے سے روکے رکھے، چاہے اس گناہ کو کرنا کتنا ہی آسان کیوں نہ ہو مگر وہ نفس کے جھانسے میں نہ پھنسے بلکہ اس کو مات دے کر صبر کا مظاہرہ کرے، جیسے یوسف علیہ السلام نے امراۃ عزیز کی دعوت گناہ پر اپنے آپ کو بچا کر صبر کا عملی ثبوت دیا، جس کی بدولت اللہ تعالی نے ان کا ذکر خیر یوں فرمایا :
    ﴿وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ وَهَـمَّ بِـھَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوٓءَ وَالْفَحْشَآءَ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ﴾ [سورۃ یوسف : ۲۴]
    ’’اور البتہ اس عورت نے تو اس پر ارادہ کر لیا تھا، اور اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا تو اس کا ارادہ کر لیتا، اسی طرح ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ٹال دیں، بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا‘‘۔
    آج کے اس پر فتن دور میں جہاں پر ہر طرف گناہوں کے جال بچھے ہوئے ہیں ایک مسلمان کا ان سے بچ پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے (إلا من رحم ربي)، ایسے موقع پر صبر ہی وہ طاقت ہے جس کو بروئے کار لا کر اپنا دامن گناہوں سے بچایا جا سکتا ہے۔
    (۳) دنیاوی مشکلات پر صبر کرنا یعنی اللہ تعالی کی مشیت سے پہنچنے والی ہر اذیت پر بندہ راضی رہے اور اللہ تعالیٰ سے گلہ شکوہ نہ کرے، ان مشکلات کو دور کرنے کا ہر جائز طریقہ اور وسیلہ اپنائے، اس کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے، اس کی طرف رجوع کرے اور اس مصیبت سے درجات کی بلندی کی امید رکھے، جیسا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا:
    ﴿يَا بُنَىَّ اَقِمِ الصَّلَاةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِـرْ عَلٰى مَآ اَصَابَكَ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ﴾ [سورۃ لقمان :۱۷] ’’بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کیا کر، بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں‘‘۔
    اس ضمن میں ایوب علیہ السلام ہمارے لیے عمدہ مثال ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی بیماری پر صابر بندے کا اعلیٰ کردار ادا کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس بیماری کو دور فرمایا اور انعامات کی برکھا برسائی :
    ﴿وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ اَنِّىْ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِـمِيْنَ۞فَاسْتَجَبْنَا لَـهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّاٰتَيْنَاهُ اَهْلَـهٗ وَمِثْلَـهُـمْ مَّعَهُـمْ رَحْـمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِكْرٰى لِلْعَابِدِيْنَ﴾ [سورۃ الأنبیاء : ۸۳۔۸۴]
    ’’اور جب کہ ایوب نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے روگ لگ گیا ہے حالانکہ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو اسے تکلیف تھی ہم نے دور کردی، اور اسے اس کے گھر والے دیے اور اتنا ہی ان کے ساتھ اپنی رحمت سے اور بھی دیا اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے‘‘۔
    حدیث قدسی میں دنیاوی مشکلات میں سے ایک، اپنے کسی عزیز فرد یا چیز سے بچھڑجانے پر صبر کرنے والوں کو بھی جنت کی بشارت دی گئی ہے :
    ’’مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ، إِلَّا الْجَنَّةُ‘‘
    ’’میرے اس مومن بندے کا جس کی میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں‘‘۔[صحيح بخاری : ۶۴۲۴]
    الغرض صبر ایک نہایت مؤثر اور مفید ہتھیار ہے جس کو تھام لینے سے انسان دنیا وآخرت میں ناکامی کے گڑھے میں گرنے سے بچ سکتا ہے اور حقوق الله وحقوق العباد کی ادائیگی بہترین انداز میں کرسکتا ہے۔
    یہ صبر ہی کی طاقت ہوتی ہے جو مسلمان بندے کو کئی طرح کے شرعی و قانونی جرائم سے روکے رکھتی ہے، اس کا اندرون اور بیرون مطمئن ہوتا ہے، اور صبر کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور معجزات کا انتظار ایمان کو قوت بخشتا ہے اس اعتبار سے صبر سراسر خیر کا منبع ہے۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings