-
صدیوں کے مجدد شیخ الاسلام ابن تيميہ(۶۶۱۔۷۲۸ھ) خطاب از : شیخ عبد الحسیب عمری مدنی حفظہ اللہ
تلخیص وپیشکش : ام محمد خوشنما مصلح الدین
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تاریخِ اسلام کی ایک عظیم علمی شخصیت اور سلفی دعوت کو ایک پہچان دینے والے علماء میں سے نمایاں ترین اور بڑے اونچے مقام کی حامل شخصیت ہیں۔
اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ سلفی حلقوں میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عبارتوں اور ان کے اقوال یا ان کی تحقیقات کا حوالہ دے کر مسائل کی وضاحت یا مسائل کے بیان کرنے میں ان کا نام اکثر و بیشتر لیا جاتا رہتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس دنیا میں یہ سنت رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء بھیجے تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بدنام کرنے والے، ان کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرنے والے لوگ ہر دور کے اندر موجود رہے ہیں، اللہ کے نبی ﷺ جہاں جہاں حق بیان کرتے، اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دیتے ہوئے آگے بڑھتے، دشمنانِ اسلام ان کے پیچھے پیچھے جا کر لوگوں کے اندر غلط فہمیاں پیدا کرتے۔
چنانچہ انبیاء کی یہ سنت انبیاء کے وارثین کے حق میں بھی آتی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ جب کبھی ان کے علم اور ان کی محنتیں، ان کی کتابیں، ان کی تحقیقات کو دنیا کے اندر عام کرتا ہے، تو ان کے پیچھے پیچھے ان کو بدنام کرنے والے لوگ لگ جاتے ہیں اور ان کی شخصیت کو نشانہ بناتے ہیں، اس سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر شخصیت کو بدنام کر لے جائیں گے تو ان کی دعوت بھی بدنام ہو جائے گی، ان کے حساب سے شخصیت اگر گر جائے گی تو ان کا پیغام بھی گر جائے گا۔
آج ایک طرف جہاں سب سے زیادہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا لٹریچر پڑھا جارہا ہے، ان کے معارف و علوم، ان کے بیان کردہ حقائق پر ریسرچ ہو رہی ہے، تو وہیں دوسری طرف ان کو بدنام کرنے، غلط باتیں ان کی طرف منسوب کرنے کی کوشش بھی سب سے زیادہ کی جارہی ہے۔
ایسی صورت میں یہ علمائے حق کا حق بنتا ہے کہ اگر ان کے پیٹھ پیچھے ان کے بارے میں غلط بیانی کی جا رہی ہے تو ان کا دفاع کیا جائے، ان کا دفاع صرف ان کا دفاع نہیں، بلکہ سلفیت کا دفاع ہے، کیونکہ لوگ شخصیت کی آڑ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا نام لے کر ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو نہیں بلکہ عصرِ حاضر میں سلفی دعوت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔
مگر وہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ شیخ الاسلام کا رشتہ اس پیغام سے ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمايا:
’’لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ”.
’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر (قائم رہتے ہوئے) غالب رہے گا، جو شخص بھی ان کی حمایت سے دستکش ہو گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتیٰ کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے گا اور وہ اسی طرح ہوں گے‘‘۔ [صحيح مسلم:۱۹۲۰]
شیخ الاسلام رحمہ اللہ جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ سات صدیوں کے مجدد ہیں، اور جن کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ساڑھے چودہ سو سال کا جو عرصہ ہے وہ ٹھیک اس کے درمیانی عرصہ میں آئے، ان سے پہلے تقریباً سات صدیاں اور ان کے بعد تقریباً سات صدیاں تاریخ اسلام نے دیکھیں ہیں، شیخ الاسلام نے ایسا تجدیدی کام کیا کہ ان سے پہلے کی سات صدیوں میں جو کچھ بگاڑ آیا تھا اس کی تصحیح کا کارنامہ انجام دیا، اور ان کے بعد کی اگلی سات صدیاں بھی ان سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
شیخ الاسلام جس صدی میں آئے وہ علم و معارف کے زوال اور انحطاط کا دور تھا، اس زمانے میں کئی مسائل اپنے حقیقی مقام سے ہٹ چکے تھے، ایک مجدد دین کے نام پر کوئی نئی چیز نہیں لاتا، بلکہ وہ دین کی پرانی باتیں جو اپنے مقام سے ہٹ چکی ہوں ان کو پھر سے بحال کرتا ہے، اور ان کو ان کے حقیقی مقام پر لے جانے کا کام کرتا ہے، اس ناحیہ سے شیخ الاسلام نے ہر باب میں مثالی کام انجام دیا۔
شیخ الاسلام کو مجدد القرون السبعہ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ کتاب و سنت کی دعوت جو کہیں نہ کہیں عقل کی برتری کی شکل میں، یا تقلید کی شکل میں، یا منطق اور فلسفہ کے نام پر پیچھے ہوگئی تھی، انہیں اپنی جگہ پر واپس لا کر بحال کر دیا۔
شیخ الاسلام کے دور میں اہل سنت کا مطلب اشاعرہ ہوا کرتی تھی، چنانچہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اہل السنۃ کا لقب حقیقی اہل سنت کو واپس لوٹایا، یہ شیخ الاسلام کا ایک اہم کارنامہ ہے۔
ابن ناصر الدمشقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کے اندر لکھا ہے:
’’تاریخ اسلام میں مختلف مسالک کے ایسے ۸۵بڑے علماء گزرے ہیں جن میں سے ہر ایک نے اس بات کی گواہی دی کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ واقعتاً شیخ الاسلام کے لقب کے حامل اور اس کے اہل ہیں‘‘۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابن ناصرالدین الدمشقی کی یہ بات نقل کرنے کے بعد فرمایا:
’’وشھرة إمامة تقي الدين أشھر من الشمس، وتلقيبه بشيخ الإسلام في عصره باقٍ إلى الآن على الألسنة الزكية، ويستمر غداً كما كان بالأمس”.
’’امام تقی الدین کی شہرت سورج سے زیادہ روشن و عیاں ہے، ان کے زمانے میں انہیں شیخ الاسلام کا جو لقب دیا گیا وہ زبانوں پر آج تک جاری ہے، اور آئندہ مستقبل میں بھی یہ اسی طرح برقرار رہے گا جیسے ماضی میں تھا‘‘۔ [تقریظ لابن حجر علی الرد الوافر:ص: ۱۲]
چنانچہ شیخ الاسلام نے سات صدیوں میں بگڑے مسائل کی تصحیح کی، اور اگلی سات صدیوں کے لئے تأصیل کا کام کیا۔
شیخ الاسلام نے اپنی کتاب عقیدہ واسطیہ جب لکھی اس زمانے میں شافعیت کا غلبہ تھا، یہ کتاب اشعریت کی کمر توڑنے والی کتاب تھی، اس کتاب کو باطل قرار دینے کے لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو اس وقت کے قاضی کے سامنے بلایا گیا چنانچہ قاضی نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ:
اے احمد بن عبد الحلیم! آپ نے یہ کتاب امام احمد کے مسلک کے مطابق لکھی ہے؟ یعنی آپ یہ مان لیں کہ آپ نے جو عقیدہ واسطیہ لکھا ہے امام احمد رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق لکھا ہے۔
وہ چاہتے تھے کہ ایک بار ابن تیمیہ اگر یہ کہہ دیں کہ امام احمد بن حنبل کے مسلک کے مطابق بیان کیا ہے تو پھر یہ لوگ کہہ دیں گے کہ ابن تیمیہ نے اقرار کیا ہے کہ یہ حنابلہ کے لیے لکھی گئی کتاب ہے، حنبلی مسلک کی کتاب ہے، آپ شوافع ہیں، آپ شافعی مذہب میں باب العقیدۃ میں اشعریت پر باقی رہئے۔
چنانچہ شیخ الاسلام نے اس پر جواب دیا:
“هذه عقيدة سلف الصالح، وأحمد إنما هو مبلغ عن النبي ﷺ، ولو قال أحمد من تلقاء نفسه ما لم يجئ به الرسول لم نقبله، وإنما هذه عقيدة محمد ﷺ”. [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ :ج: ۱۸۹/۳]
’’یہ سلف صالحین کا عقیدہ ہے، اور امام احمد تو صرف نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے دین کو ہم تک پہنچانے والے مبلغ ہیں، اگر امام احمد اپنی طرف سے کوئی ایسی بات کہتے جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں تو ہم اسے ہرگز قبول نہ کرتے، یہ تو درحقیقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی عقیدہ ہے‘‘۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جو مجددانہ کام انجام دئے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
(۱) براہ راست کتاب و سنت کو اپنی زندگی میں مقدم کرنے اور سلف صالحین کے منہج کے مطابق کام کرنے کی طرف لوگوں کو لوٹایا۔
(۲) عقل کے سلسلہ میں متوازن موقف رکھا، بنیادی طور پر عقل کا دین میں کردار کیا ہونا چاہیے یہ بتلایا، پھر انہوں نے اس سلسلے میں تین اہم ضابطے ذکر کئے :
پہلا ضابطہ : عقل اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کو یوں ہی چھوڑ دینا کوئی عقلمندی نہیں ہے، دین سمجھنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے، لیکن عقل صرف کافی نہیں، جیسے کہ آنکھ کی روشنی جتنی بھی اچھی ہو لیکن آنکھ کی بینائی کے ساتھ سورج کی روشنی نہ ہو، چاند کا اجالا نہ ہو یا چراغ کی روشنی نہ ہو تو آدمی چیزوں کو صحیح سے دیکھ نہیں پاتا، اسی طرح انسان کی عقل چاہے جتنی کامل ہو اگر نصوصِ شریعت اس کے ساتھ نہ ہو تو آدمی صحیح حقائق نہیں دیکھ سکتا، اس لیے انسان کو اپنی عقل سے کام لینا چاہیے، لیکن عقل کو سب سے اونچے درجے پر نہیں رکھنا چاہیے، یعنی کتاب وسنت پر فوقیت نہیں دینی چاہیے۔
دوسرا ضابطہ : یہ طے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو شریعت نازل کی ہے، اس کے مطابق ’’العقل السليم لا يعارض النقل الصحيح‘‘ یعنی قرآن و سنت سے اگر کوئی بات ثابت ہے تو وہ عقلِ سلیم سے ٹکرا نہیں سکتی، اگر کہیں ٹکراؤ نظر آتا ہے تو دو میں سے ایک بات ہوگی یا تو نقل غیر صحیح (ضعیف یا موضوع) ہوگی یعنی چھان بین کی ضرورت ہوگی کہ آیا وہ حدیث صحیح ہے یا نہیں، یا پھر دوسری صورت میں لازماً عقل سے غلطی ہو رہی ہوگی۔
تیسرا ضابطہ: ’’الشریعة ما أتت بما تحیله العقول ولکن أتت بما تحار فیها العقول‘‘۔ یعنی شریعت میں کوئی ایسی چیز مذکور نہیں جو عقلوں کو ناممکن لگے، ہاں البتہ ایسی چیزیں ضرور مذکور ہیں جس سے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں، جیسے کہ معجزات وغیرہ۔
منطق اور عقلانیت کا فتنہ جو پچھلی پانچ صدیوں میں پر زور ہو چکا تھا ان سارے فتنوں کا خاتمہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کیا اور اس سلسلہ میں ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘جیسی کتاب لکھی۔
(۳) ائمہ اربعہ جو مذاہب فقہیہ میں اصل شناخت بن گئے تھے، حتیٰ کہ عقائد میں بھی اس شناخت پر لوگ جینے لگے تھے، مثلاً اگر حنفی اور شافعی ہوتے تو ماتریدی اور اشعری سمجھے جاتے، گویا کہ جب وہ اپنے آپ کو حنفی کہتے تھے تو سمجھا جاتا تھا کہ عقیدہ میں وہ ماتریدی ہونگے، اور جب اپنا انتساب شافعیت کی طرف کرتے تو سمجھا جاتا کہ عقیدہ میں وہ لوگ اشعری ہیں، اور جب مالکی کہا جاتا تو وہ سمجھ جاتے کہ ان کا عقیدہ اشعریت زدہ ہوگا، اور امام احمد بن حنبل کا نام لیتے تھے (حنبلی کہتے) تو اہل سنت والجماعت کا عقیدہ سمجھا جاتا۔
چنانچہ فقہی مذاہب میں جو تقلید و مسلکی عصبیت کے نام پر اندھی تقلید کے محاذ کے مقابلے میں اتباع الدلیل جو کہ مذہب اہل حدیث ہے، فقہ کے باب میں جو اہل حدیث کا مذہب ہے، شیخ الاسلام نے اسے پھر سے ایک مرتبہ زندہ کرکے اسے لوگوں کے سامنے پیش کیا، لیکن اس وقت انہوں نے یہ بھی دھیان رکھا کہ کہیں ائمۂ اربعہ کے مقام میں کمی نہ ہو جائے، چنانچہ ان کے مقام کو بھی برقرار رکھنے کی تعلیم دی، دونوں میں متوازن موقف پیش کیا۔
اسی ضمن میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’رفع الملام عن الائمۃ الأعلام‘‘ جیسی کتاب لکھ کر ائمہ اربعہ کے مقام کو بھی برقرار رکھا، اور بتایا کہ دلیل کی پیروی کا مطلب ائمہ کی توہین نہیں ہوتی، بلکہ لوگوں کی صحیح رہنمائی مقصود ہوتی ہے اور اسی پیغام کو دنیا کے سامنے رکھا۔
شیخ الاسلام نے فقہی مسائل کے اندر جن میں اتباع الدلیل کو واضح کیا ان میں سے ایک مسئلہ ایک ہی مجلس اور ایک ہی وقت میں تین طلاق کو ایک ہی طلاق قرار دینا، مذاہب اربعہ میں یہی بات تھی کہ اگر تین طلاق دی تو تین مان لی جائے گی، شیخ الاسلام نے دلیل کی روشنی میں بتایا کہ راجح موقف یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی طلاق شمار ہوگی، اسی قول کی وجہ سے انہیں قید میں بھی رکھا گیا تھا۔
(۴) عقائد کے باب میں بھی آپ نے بہت زیادہ کام کئے، چنانچہ آپ نے یہ واضح کیا کہ صرف ربوبیت کے اقرار سے آدمی کی توحید مکمل نہیں ہوتی، اس کے لئے توحید الوہیت بھی ضروری ہے اور یہی کلمہ لا إله إلا الله کا مفہوم ہے، اس تقسیم سے تصوف اور رافضیت کی شرکیات کی جڑیں اکھڑ گئیں کہ آج تک وہ تلملاتے ہوئے کہتے پھرتے ہیں کہ توحید کی تقسیم ابن تیمیہ کی بدعت ہے۔
اسی طرح اسماء و صفات کے باب میں بھی لوگ یا تو تشبیہ میں مبتلا تھے، یا تعطیل کی طرف مائل تھے، شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے سلف صالحین کے مذہب کے مطابق اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کو ثابت کرنے کی ایسی دعوت دی کہ سارے کے سارے یعنی معتزلہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ اور ان کے علاوہ مشبہ و مجسمہ آج بھی اپنی غلطیوں کے ساتھ جی رہے ہیں۔
اسی طرح توسل اور استغاثہ کے سلسلہ میں بھی کافی کام کیا کہ اس وقت کی دنیا اتھل پتھل ہو کر رہ گئی، شیخ الاسلام کو ان کے آخری ایام میں ۷۲۶ھ میں انہی مسائل کی بناء پر انہیں دوبارہ قید خانہ میں بھیجا گیا۔
اسی سلسلہ کی کڑی پیارے نبی محمد ﷺ کی قبر تک سفر کرکے جانے کا مسئلہ بھی تھا، اسلام میں مدینہ کی زیارت کے لیے شد رحال یہ مشروع ہے، لیکن قبر نبوی ﷺ کی زیارت کے لیے شد رحال مشروع نہیں ہے، ہاں البتہ اگر کوئی مسجد نبوی کی زیارت کے لئے آئے تو وہ قبر نبوی ﷺ کی زیارت کرلے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
چنانچہ یہ مسئلہ آپ رحمہ اللہ کی زندگی میں اتنا طول پکڑا کہ اس کی وجہ سے کئی تکلیفیں انھیں جھیلنی پڑیں۔
(۵) ابن تیمیہ نے تصوف کے تین درجے ذکر کئے:
(۱) ایک تصوف وہ ہے جس کا معنیٰ زھد، ورع، قناعت اور انابت الی اللہ ہے، یہ تصوف کی اصل ہے، یہ سلف صالحین کا تصوف ہے، اسے غلط (یا محض) تصوف کا نام نہیں دیا جاسکتا لیکن اگر تصوف کی کوئی سچائی ہے تو یہ وہ ہے۔
(۲) صوفیہ میں سے وہ لوگ ہیں جن کے اندر عقائد کا کوئی بگاڑ نہیں تھا، لیکن وہ اعمال، اوراد و اذکار کے اندر بدعات میں مبتلا تھے، شیخ الاسلام نے کہا کہ یہ اہل سنت میں سے مانے جائیں گے سوائے ان بدعتی مسائل کے، نیز ان بدعتوں پر نکیر کی جاتی رہے گی۔
(۳) جو وحدۃ الوجود جیسے کفریہ عقیدہ کے حامل تھے، ایسے لوگوں کے بارے میں شیخ الاسلام نے کہا کہ یہ لوگ یہود و نصاریٰ کے کفر سے زیادہ کفر میں مبتلا ہیں۔
(۶) شیخ الاسلام کے دور میں رافضیت کا بول بولا تھا، آلِ بیتِ رسول ﷺ کے نام پر اکثر غلو کا شکار تھے، ابنِ مطہر الحلی نے ’’منہاج الکرامہ‘‘ کے نام پر ایک کتاب لکھی جس میں اس نے اپنی رافضیت کو ابھارا، نیز صحابہ کی شان میں گستاخی اور آلِ بیت سے محبت کے نام پر جو غلو کیا تھا اس میں بیان کیا، چنانچہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’منہاج السنۃ النبویۃ‘‘ لکھ کر ایسا تاریخی کارنامہ انجام دیا کہ یہ رافضیت کو آئینہ دکھانے والی تاریخ کی مثالی کتاب بن گئی۔
اسی طرح بعد کے ادوار میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی دعوت بھی ایک طرح سے شیخ الاسلام کی دعوت کی ہی تجدید تھی۔
ماضی قریب میں ایک انگریز نے اپنی رپورٹ میں دو بڑی باتیں لکھی ہیں:
پہلی بات: تو یہ لکھی کہ ابنِ تیمیہ کو ابنِ تیمیہ کے زمانے میں اتنا نہیں پڑھا جاتا تھا کہ جتنا آج پڑھا جا رہا ہے۔
دوسری بات: کہ مشرق سے زیادہ مغرب کے اندر آج کے دور میں ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کے علوم و معارف پر سب سے زیادہ ریسرچ ہو رہی ہے۔
چنانچہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کوئی انجانی شخصیت نہیں رہے، بلکہ اب وہ موافق اور مخالف سب کے ہاں معروف اور کثرت سے ان کا نام لیا جاتا ہے۔
آج اسلام پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے کیونکہ کچھ لوگ اس کے پھیلاؤ اور اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہیں، اسی طرح سلفی دعوت کو بھی دہشت گردی کا لیبل لگا کر بدنام کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دعوت دلائل پر مبنی ہے اور تیزی سے پھیل رہی ہے، چنانچہ کچھ لوگ اس الزام (دہشت گردی) کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، اور کچھ ایسا ہی معاملہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ساتھ بھی پیش آیا، کہ جب ان کے افکار جو کتاب و سنت اور فہمِ سلف پر مبنی تھے پھیلنے لگے، اور کچھ لوگوں کو اس پھیلاؤ کے مقابلے کی کوئی راہ نہ ملی، تو انہوں نے ان پر تہمتیں لگائیں اور انہیں انتہا پسندی سے جوڑ دیا۔
دورِ حاضر کی کچھ انتہا پسند جماعتیں ابن تیمیہ کی طرف نسبت کا دعویٰ تو کرتی ہیں اور بعض ابواب میں ان کے کلام سے فائدہ بھی اٹھاتی ہیں، لیکن ان جماعتوں میں جو انتہا پسندی پیدا ہوئی ہے وہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے منہج سے نہیں آئی، بلکہ وہ دیگر معاصر افکار اور شخصیات سے بھی متاثر ہوئے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے افکار ان بنیادی اصولوں میں سے ہیں جن کے ذریعے انحرافات اور غلو (انتہا پسندی) کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔
لہٰذا ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک مجدد تھے، انہوں نے ان بگاڑ کی اصلاح کی جو پچھلی صدیوں میں پیدا ہو گئے تھے، اور اپنے بعد صدیوں تک باقی رہنے والا علمی اثر چھوڑا، ان کی وفات کے بعد کا زمانہ سینکڑوں سالوں پر محیط ہے مگر ان کا اثر آج بھی موجود ہے۔ (رحمه الله رحمة واسعة)