Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(۱۸)

    ’’التحفة العراقية في الأعمال القلبية‘‘ کا تعارف پیش خدمت ہے:
    کتاب کا نام ،نسبت اور سبب تالیف :
    یہ کتاب ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی جانب منسوب ہے ، اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے، ابن تیمیہ کے مشہور شاگرد ابن عبد الہادی نے صراحتاً اس ذکر فرمایا ہے۔[العقود الدرية في مناقب ابن تيمية:ص:۵۲ ط عطاءات العلم]
    ذكره ابن رشيّق (ص:۳۰۶). وطبع مختصره مرارًا، وهو في ’’مجموع الفتاوىٰ‘‘:(۲۸؍۲۴۴۔۳۹۷). وطبع كاملًا لأول مرة ضمن مشروع آثار شيخ الإسلام ابن تيمية في مجلد، بتحقيق الشيخ علي بن محمد العمران۔مجموعة الرسائل المنيرية(۲؍۴۔۶۵)
    اس کتاب کا نام جو انہوں نے رکھا ہے ، اس کا کوئی خاص سبب کہیں مذکو ر نہیں ہے ، البتہ ان کی دیگر کتابوں کو سامنے رکھنے سے ایک بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جیسے انہوں نے اپنی ایک کتاب کا نام واسطیہ رکھا ہے، سائل کے شہر واسط سے تعلق رکھنے کے سبب ، ایسے ایک دوسری کتاب جس کا نام حمویہ ہے ،اس کی بھی نسبت سائل کے شہر حماہ کی جانب ہے، اور بھی کئی ایک کتابیں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ہیں جن کی نسبت سائل کے شہر کی جانب ہے۔ممکن ہے اس کتاب کی نسبت جو عراق کی جانب ہے ، تو کوئی سائل عراق سے آیا ہواور اعمال قلوب سے متعلق کچھ دریافت کیا ہو تو شیخ نے یہی رسالہ تالیف کردیا ہو۔
    سبب تالیف : یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ دلوں کے اعمال سے متعلق ان کے لیے کچھ لکھ دیں تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ کتاب لکھی ۔
    اس کتاب کی اہمیت: اعمال القلوب کا تعلق اصول ایمان و قواعد دین سے ہے ،مثلاً اللہ اور اس کے رسول سے محبت ،توکل علی اللہ ، عبادات میں اخلاص ، اللہ کے حکم پر صبر کرنا ،رجا( امید ) وغیرہ ۔
    کتاب کاموضوع: اس کتاب کے اندر شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے دلوں کے اعمال سے متعلق گفتگو کیاہے ، سارے اعمال القلوب کا احصاء ابن تیمیہ کا مقصود نہیں ہے بلکہ بعض کا ذکر مقصود ہے، اعمال قلوب سے متعلق جو لوگوں کے مختلف درجات ہیں ،اسے انہوں نے بیا ن کیاہے ، قلبی اعمال کو بھی بیان کیا ہے،جیسے صدق ، اخلاص ، توکل ،رضا ، محبت وغیرہ۔
    اگر ہم ذرا تحقیقی نظر سے دیکھیں تو اعمال القلوب سے متعلق بھی ایسے گروہ اس کرہ ارضی میں مل جائیں گے جن کے یہاں ہوائے نفس کی بنیاد پر بدعقیدگی موجود ہے ۔ شیخ الاسلام نے ان کے اس عقیدہ پر بھی صراحت کے ساتھ کاری ضرب لگایا ہے ۔
    کتاب میں ابن تیمیہ کا منہج :
    (۱)قرآن کریم سے استدلال۔(۲)سنت نبویہ سے استدلال ۔(۳) صحابہ ،تابعین اور تبع تابعین کے آثار سے استدلال ۔(۴)کبھی کبھار مشائخ صوفیہ کے آثار کا سہارا لیتے ہیں ، لیکن یہ ان کی وہی باتیں ہوتی ہیں جو کتاب و سنت کے موافق ہوتی ہیں۔(۵)مخالفین پر رد کرنے کے لیے عقلی دلائل بھی ذکر کرتے ہیں ۔(۶)بسااوقات اشعار بھی بطور استشہاد پیش کرتے ہیں ،لیکن قائل کی طرف نسبت نہیں کرتے ہیں ۔
    فوائد علمیہ :
    (۱) اعمال القلوب میں لوگوں کے وہی تین درجات ہیں جیسے اعمال الابدان میں تین مراتب ہیں ۔
    (أ)ظَالِم لنَفسِهِ ۔یعنی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے لوگ ،وہ اس طریقے سے کہ حرام کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں اور جن کا موں کے کرنے کاحکم دیا گیا ہے انہیں ترک کرتے ہیں ۔
    (ب) مقتصد ۔ شریعت پر عمل کرنے والے وہ اس طریقے سے کہ وہ واجبات کی ادائیگی کرتے ہیں اور محرمات کو ترک کرتے ہیں۔
    (ج)سابق بالخيرات۔ خیر کے کاموں میں سبقت کرنے والے لوگ یعنی وہ لوگ جو واجبات اور مسنون اعمال میں ایک دوسرے سےآگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    (۲) ائمۃ المسلمین جیسے سفیا ن ثوری وغیرہم کا کہنا ہے بدعت ابلیس کو گناہ سے زیادہ محبوب ہے ، کیونکہ اصلاً بدعت سے کوئی توبہ نہیں کرتا جبکہ گناہ کا علم ہوجانے کے بعد اس سے توبہ کرلیاجاتا ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ ایک بدعتی بدعت کو نیک عمل سمجھ کرکے انجام دیتا ہے ،پھر وہ اس سے کیسے توبہ کرے گا جبکہ ایک گناہ کرنے والے شخص کو جب یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ فلاں کام گناہ ہے تو فوراً وہ اس سے توبہ کرلیتا ہے)۔
    (۳) جو حق کو جانتے ہوئے بھی محض اپنی خواہش کی وجہ سے اس کی پیروی سے اعراض کر ے، تو یہ عمل اسے جہالت اور گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے، حتیٰ کہ اس کا دل بالکل واضح حق سے بھی اندھا ہو جاتا ہے۔
    (۴)غمگین رہنے کا حکم نہ تو اللہ رب العزت نے دیا ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے ،بلکہ کئی مقامات پر اللہ نے اس سے منع کیا ہے۔ جیسے اللہ کافرمان ہے ۔(ولا تحزنوا) اور تم لوگ غمزدہ نہ ہو (ولا تحزن عليهم) اور آپ ان پر غم نہ کریں (لا تحزنْ إنَّ اللَّه معنا) غم نہ کرو یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔
    (۵) غم کا شکار ہوکرکے نہ تو کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی اپنے اوپر آنے والے نقصان کو ٹالا جاسکتا ہے ،تو جس کے اندر کوئی فائدہ نہ ہو اس کا حکم اللہ رب العزت کیونکر دے سکتا ہے۔
    (۶)توکل اور عبادت کا ذکر اللہ نے قرآ ن میں کئی مقامات پر ایک ہی ساتھ میں کیاہے ، کیونکہ یہ دونوں مل کر پورے دین کو جمع کر دیتے ہیں۔( کیونکہ پورا دین انہی دو چیزوں پر قائم ہے)۔اسی کی عبادت کیجئے اور اسی پر بھروسہ کیجئے۔
    (۷)’’یقیناً اللہ تعالیٰ نے منزل کردہ تمام کتابوں کا علم قرآن کریم میں جمع کر دیا ہے، پھر قرآن کے علم کو مفصل (سورۃ ق سے لے کر سورۃ الناس تک) میں سمویا دیا ہے ، اور مفصل کے علم کو فاتحۃ الکتاب (سورۃ الفاتحہ) میں اکٹھا کیا ہے ، اور فاتحہ کے علم کو اس جامع آیت میں محصور فرمایا: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} یعنی ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔
    ((({إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} اس آیت سے متعلق جملہ امور مسائل کی توضیح پر انہیں کے شاگر د ابن قیم رحمہ اللہ کی مستقل ایک تالیف ہے بنام ۔’’مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين‘‘.
    (أول المفصل من ق إلى آخر القرآن على الصحيح، وسمي مفصلا لكثرة الفصل بين سوره بالبسملة على الصحيح” انتهى ، باختصار يسير من”فتح الباري”(۲؍۲۵۹)،وينظر أيضا:’’فتح الباري‘‘(۹؍۴۳)
    سورہ ق سے سورہ ناس تک کی تمام سورتیں مفصل میں شمار کی جاتی ہیں ، بسم اللہ کے ذریعہ کثرت فصل کی وجہ سے انہیں مفصل کہاجاتا ہے ۔( آفاق احمد)))۔
    (۸)جو زہد شریعت کو مطلوب ہے وہ یہ کہ ان امور سے کنارہ کشی اختیار کرلیا جائے جن میں نہ تو دنیاوی اعتبار سے اور نہ ہی اخروی اعتبار سے کوئی فائدہ ہے ،یعنی یہ وہ چیزیں ہوتی ہیں جن سے اطاعت الہٰی میں کسی قسم کی مدد بھی نہیں ملتی ہے۔
    (۹)جس شخص نے بھی یہ بات کہی کہ توکل اور دعا سے نہ تو کوئی فائدہ حاصل کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی کسی نقصان کو ٹالا جا سکتا ہے ،یہ صرف ایک عبادت ہے اور توکل کی حقیقت محض تفویض (اللہ پر معاملہ سونپنے) کی مانند ہے۔ تو اس کی یہ بات غلط ہے۔(دراصل اس بات کے ذریعہ ابن تیمیہ صوفیہ پر رد کرنا چاہتے ہیں جو توکل کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔(آفاق احمد )۔
    (۱۰)ہدایت علم کے بغیر نہیں ملتی اورسیدھا راستہ صبر کے بغیر نہیں ملتا ہے ۔ بے شک صبر ایمان کے لیے سر کی مانند ہے جو جسم کا حصہ ہے، اور جس میں صبر نہ ہو اس کا ایمان نہیں بھی نہیں ایک طرح سے ۔(اس سے ہمیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایمان او رصبر کاآپس میں بڑا گہرا تعلق ہے )۔
    (۱۱) ﴿مَسَّتْھُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا۔۔۔﴾[البقرہ:۲۱۴] ۔ترجمہ : انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے۔
    ’’البَأْسَاءُ‘‘ سے مراد مالی پریشانیاں، غربت اور اموال کی تنگی ہے۔
    ’’الضَّرَّاءُ ‘‘سے مراد جسمانی بیماریاں، آلام اور بدنی تکالیف ہیں۔
    ’’وَزُلْزِلُوا ‘‘سے مراد دلوں کا شدید ہل جانا، خوف و ہراس اور گہرا اضطراب ہے جو ایمان والوں کے دلوں میں پیدا ہوا۔
    (۱۲)جنت کا مطلب ایک ایسی جگہ جہاں تمام طرح کی نعمتیں متوفر ہیں اور وہاں کی سب سے عظیم ترین نعمت دیدار الٰہی ہے ،جو اہل جنت کو جنت میں میسر ہوگی ۔
    (۱۳) قرآن میں تدبر و تفکر سے جو علم و ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ،اسے بیان نہیں کیا جاسکتاہے ۔
    تحقیقات و شروحات:
    (۱)التحفة العراقية فى الاعمال القلبية، المؤلف: تقي الدين احمد بن تيمية۔۷۲۸هــــ، تحقيق: د. يحيى بن محمد بن عبد الله الهنيدي، مكتبة الرشد، ط ١، ١٤٢١، وأصل الكتاب رسالة ماجستير.۔
    (۲)شرح التحفة العراقية – الشيخ د. عبد الله بن عايض القحطاني۔
    (۳) التحفة العراقية فى الاعمال القلبية ،تحقيق و دراسة ،محمد رفيق زين العابدين.
    (۴)التحفة العراقية فى الاعمال القلبية،تحقيق :عبد الجليل عبد السلام
    (۵)التحفة العراقية فى الاعمال القلبية تحقيق: سليمان بن مسلم الحرش، دار المعراج الدولية، ط ١، ١٤١٣، معتمداً على مخطوطة من المكتبة الظاهرية.
    (جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی لائبریری میں یہ تحقیقی نسخہ موجود ہے ،جسے پڑھنے کے لیے لائبریری کی اس تفصیل کو سامنے رکھنا ہوگا۔ الموضوعات التصوف الاسلامي،: رقم التصنيف: ۲۶۷ ت أ ت)۔
    جاری………

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings