Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • ڈر ہے چبا نہ جائیں کلیجہ نکال کر !

    بسا اوقات جھوٹ صداقت کا چولا اوڑھے ایسا رقص کرتا ہے کہ ناظرین جامِ فریبی میں ایسے مدہوش ہوتے ہیں کہ رقص کرتے زہر کو جامِ دلنواز سمجھ کر جام پہ جام پیتے جاتے ہیں۔ ایسی مدہوشی کے دلدل میں دھنستے ہیں کہ انہیں کیچڑ سے تسنیم و کوثر کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ جھوٹ کی ایسی منافقت جو دَرکِ اَسفل کی راہ ہموار کرے۔ ایسا فریب جو دلِ مومن کو داغ دار کرے۔ ایسا رقص جو عقل کو مَحوِ تماشائے لبِ بام کرے۔ جھوٹ کی ایسی دغا کہ روح بھی پرواز کر جائے۔ ایسا ستم کہ پھر مَشقِ ستم کوئی نہ ہو۔ ایسی اُلجھن جو اُلجھنوں کو بھی حیرت میں ڈال دیتی ہو۔ ہائے! جو جھوٹ کو جھوٹ میں بے انتہا کمال بخش دیتی ہو۔
    محترم قارئین! جب جھوٹ صداقت کا لبادہ اوڑھ لے تو اسے تسلیم کرنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو جاتا ہے۔ اہلِ دانش کی دانشمندی بھی صداقت کا لبادہ اوڑھے جھوٹ کو جھوٹ تسلیم کرنے سے بسا اوقات قاصر ہو جایا کرتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جھوٹ کو اوجِ کمال اس وقت حاصل ہو جایا کرتا ہے جب شہرت کا آسمان اسے حاصل ہو جائے۔ بسا اوقات افواہوں کے آسمان پر جب شہرت کی شفق پھوٹ جائے تو افواہیں، افواہ نہیں رہ جاتیں بلکہ ایک دلفریب اور حسین سچ بن جاتی ہیں، جن کا انکار کرنا اس منظر کے دیکھنے والے کے لیے مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو جاتا ہے۔ گویا افواہ پر لپٹی صداقت کی قمیص پر جب شہرت کی صَدری چڑھتی ہے تو اس کا انکار گویا اپنے وجود کا انکار بن جاتا ہے۔
    زیرِ مضمون ایک ایسے ہی واقعے کی جانب اشارہ ہے جسے روافض کے ہاتھوں اتنا اُچھالا گیا، اتنا اُچھالا گیا کہ اس جھوٹ نے سچائی کی زرہیں اوڑھ لیں اور میدانِ تاریخ میں عورت پر تلوار چلانے اور عورت سے جنگ کرنے کا بزدلانہ منصوبہ بنا لیا۔ خیر، عورتوں کے پیچھے چھپنے والوں سے اس سے زیادہ توقع کی بھی نہیں کی جا سکتی۔ محبتِ اہلِ بیت کے جھوٹے دعویداران کے تہمتوں کے نرغے میں جو ذات سب سے زیادہ گھیری گئی، وہ سیّدنا خالُ المؤمنین امیر معاویہ ؄اور آپ کے فرزند یزید بن معاویہ کی ہی رہی۔ لاکھ سبّ و شتم کا نشانہ بنایا گیا۔ زبانیں تلواروں سے زیادہ تیز چلائی گئیں، اور یہ اہلِ تقیہ اپنے باپ کے نہیں ہوتے تو معاویہ؄کے والد کو کہاں چھوڑ سکتے تھے؟ اپنی ماؤں کے سروں سے ماتم کے نام پر دوپٹا ہٹانے والے خالُ المؤمنین کی والدہ کو کہاں بخشتے؟ ہند بنت عتبہ ؅کے نام پر افواہوں اور جھوٹ کا ایسا ریلا برپا کیا کہ اگر کوئی چاہ بھی لے تو اسے سمیٹ نہیں سکتا تھا۔ اپنے تقیہ اور جھوٹ کا سہارا لے کر ایک ایسے واقعے کو تشکیل دیا جسے سن کر اہلِ ایمان کا ایمان بھی متزلزل ہو جائے۔ ’’محبِّ معاویہ‘‘ بھی’’ بغضِ معاویہ‘‘ کا نعرہ لگا کر خود کو جہنم کے ایندھن میں دھکیل دے۔ ایسے شبہات جو ایک بار دماغ میں گھس جائیں تو جذبات کی نَسوں سے گزر کر دل کو چھلنی کر دیں۔ مگر دستورِ الٰہی کہاں بدلا ہے؟ جھوٹ کے بادل کتنے ہی کالے کیوں نہ ہوں، یقین کا سورج انہیں ختم کر ہی دیتا ہے۔ ظلمت کی شعاعیں کتنی ہی مضر کیوں نہ ہوں، نور کی سحر ان آتشی شعاعوں کو زائل ضرور کرتی ہے۔ انہی ظلم کے افسانوں میں ایک افسانہ ہند بنتِ عتبہ ؅کا حمزہ بن عبدالمطلب ؄کا سینہ چاک کرنا، کلیجہ نکالنا اور اسے چبانا ہے۔ اہلِ تقیہ نے زور لگا کر اس سیاہی کو سفیدی میں بدلنے کی بھرپور کوشش کی اور ایک حد تک وہ اس میں کامیاب بھی رہے، مگر سیاہی سرِ وَرق کب تک سفیدی چھپا سکتی تھی؟ ایک نہ ایک دن آنا تھا، سفیدی کو پھر اُبھرنا تھا، سیاہی کو زائل ہونا تھا۔ لہٰذا اس سفیدی و سیاہی کی کشمکش میں بدر کے فرشتوں کی مانند ربّ العزت نے علماءِ ربّانیین کو وجود بخشا جنہوں نے ان ذاکروں کے ہر فریب کو ننگا کیا، ہر زہر آلود شبہ کا ازالہ کیا، اور ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ پھر یہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔
    ذکر اُس شہیدِ جلیل کا ہے، جس کے سرِ انور پر خود سیّدِ عالم ﷺ نے ’’سیّدُ الشہداء‘‘ کا تاج رکھا۔ وہ جن کی زبان کفّارِ مکّہ کے خلاف تلوار کی مانند برہنہ رہی، اور جن کے بازو رسول اللہ ﷺ کے لیے شمشیرِ حق بنے رہے۔ ان کی ہیبت ایسی کہ جب وہ معرکۂ کارزار میں قدم رکھتے تو آدھے دشمنوں کے چہرے خوف سے زرد پڑ جاتے اور پیشانیوں پر شکنیں ابھر آتیں۔ اس سیّد کو وحشی بن حرب(؄) کے ہاتھوں جبلِ اُحد کی کوہ میں شہید کیا گیا۔ شہادت کے بعد کئی متقدّم و مؤخّر مؤرخین (جن میں موجودہ دور کی کتاب’’الرحیق المختوم‘‘بھی شامل ہے) نے اس واقعے کو ذکر کیا کہ ہند بنتِ عتبہ جو ابو سفیان کی بیوی اور معاویہ کی ماں ہیں، انہوں نے حضرت حمزہ کی لاش پر جا کر ان کا سینہ چاک کیا اور سیّدُ الشہداء کا کلیجہ نکال کر اسے چبایا، اور کوشش کی کہ سیّد کا کلیجہ نگل لیں مگر نگل نہ سکیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ہند بنتِ عتبہ ؅نے جناب حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کی انگلیاں، کان اور ناک کاٹ کر ان سے پازیب اور ہار بنائے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ ابو سفیان ؄ اور ہند بنتِ عتبہ؅ اسلام لانے سے قبل مسلمان اور اہلِ اسلام کے گلے میں کانٹے کے مانند چبھتے رہے، ہر وہ تکلیف جو وہ مسلمانوں کو پہنچا سکتے تھے، پہنچائی، رسول سے دشمنی میں سرِ فہرست رہے۔ مگر اسلام لانے کے بعد اسلام اپنے سے پہلے گناہوں کو ایسے مَسخ کر دیتا ہے گویا وہ رہے ہی نہ ہوں۔ دلِ کافر میں جب ایمان کی روشنی داخل ہوتی ہے تو دل ہی کیا، جسم کے روئیں روئیں کو منوّر کر دیتی ہے، روح کو ایسے چمکا دیتی ہے گویا کبھی کوئی داغ رہا ہی نہ ہو۔ اسی نور نے ابو سفیان اور ہند ؆کے دل کو بھی چن لیا اور روشن کر دیا۔ اب کسی صحابی کو بھی جواز نہ رہا کہ ماضی کی جہالت کا طعنہ دے، اور جب صحابی کو حق نہیں تو صحابہ کے پیر کی دھول کے برابر بھی حیثیت نہ رکھنے والے انسانوں کو حق کیسے ہو سکتا ہے کہ ماضی کے صفحات الٹ پلٹ کر انہیں سامانِ طعنہ بنائیں؟
    البتہ انکار ہے اس شہرت یافتہ جھوٹے واقعے کا جسے بڑی دلیل بنا کر روافض کی جانب سے اُچھالا جاتا ہے، ’’تمہاری کتابوں میں لکھا ہوا ہے‘‘ کے افسانے گڑھے جاتے ہیں، مگرمچھ کے آنسو نکال کر جذبات کی بیڑیوں میں جکڑا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس خوبصورت ڈبیا میں بند زہر پر شعر کا حسین غلاف بھی چڑھایا جاتا ہے، مستزاد، عشق و معشوقی کی چادر کی آڑ میں عقیدہ کا بے رحم فساد کچھ یوں برپا کیا جاتا ہے کہ:
    ڈر ہے چبا نہ جائیں کلیجہ نکال کر! رہتے ہیں تیرے شہر میں ہندہ مِزاج لوگ!
    ان روایات کو صاحبِ المغازی ابنِ اسحاق رحمہ اللہ کی جانب منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ان واقعات کو اپنی کتاب میں ذکر کیا، ساتھ ہی ابنِ ہشام رحمہ اللہ کی کتاب میں بھی ان روایات کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ابنِ اسحاق و ابنِ ہشام رحمہما اللہ کی کتابوں کا مقصد محض سیرت النبی ﷺ سے متعلق روایات (بالخصوص کتاب المغازی) کو جمع کرنا تھا۔ لہٰذا اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے بغیر صحیح و ضعیف میں تمییز کیے انہوں نے امت کو تاریخی روایات کا بحرِ بیکراں عطا کر دیا۔ مگر اہلِ ہوا اور خواہشات کے پیروکاروں نے اپنے من کے مطابق روایات کو چنا جو ان کے موقف و عقیدہ کی راہ ہموار کرتی تھیں، ان کا سہارا لے کر زبان و ادب کا خوشنما رنگ لگا کر شہرت کے آسمان تک پرواز دلائی اور لوگوں میں ان روایات کا خوب پرچار کیا، بالخصوص روافض نے تو ان جیسی روایات کا سہارا لینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، لیکن یہ بھول گئے۔
    ﴿یُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ﴾[الصف: ۸]
    وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی باتوں) سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا، چاہے کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔
    اب آئیں ذرا ان روایات کا تذکرہ کر دیا جائے جو اس ضمن میں بیاں کی جاتی ہیں:
    ان ساری روایتوں کو محمد بن عبداللہ العوشن حفظہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تالیفما شاء ولم یثبت فی السیرۃ النبویۃ میں نقل کیا اور ان کا تجزیہ بھی کیا۔ مندرجہ ذیل کچھ روایات پیش کی جاتیں ہیں:
    ۱۔ قال ابنِ إسحاق: (ووقعت هند بنت عتبة، كما حدثني صالح بن كيسان، والنسوة اللاتي معها يُمثّلن بالقتلى من أصحاب رسول اللّٰه يُجدّعْن الآذان والأُنُف، حتى اتخذت هند من آذان الرجال وأَنفهم خَدمًا وقلائد، وأعطت خدمها وقلائدها وقرطها وحشيا، غلام جبير بنِ مطعم، وبقرت عن كبد حمزة، فلاكتها، فلم تستطع أن تسيغها، فلفظتها..)[الروض الأنف :۱۵/۶]
    ابنِ اسحاق کہتے ہیں: ہند بنتِ عتبہ نے ۔جیسا کہ مجھ سے صالح بنِ کیسان نے بیان کیا ۔اور اُن عورتوں نے جو اُس کے ساتھ تھیں، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے شہیدوں کے ساتھ مُثَلہ (لاشوں کا مثلہ کرنا) کیا۔
    وہ ان کے کان اور ناک کاٹتی تھیں، یہاں تک کہ ہند نے ان کانوں اور ناکوں سے کنگن اور ہار بنا لیے۔ پھر اس نے اپنے غلام وحشی بنِ حرب ، جو جُبیر بن مطعم کا غلام تھا ،کو وہ ہار، کنگن، اور اپنے بالیوں سمیت عنایت کیے۔ اور پھر حمزہؓ کا کلیجہ چاک کیا اور اسے چبایا، مگر نگل نہ سکی، لہٰذا تھوک دیا۔
    حکم: روایت میں صالحِ بنِ کیسان راوی ہیں، اور وہ ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیںرجالِ الجماعة میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ عمر بنِ عبدالعزیز کے بچوں کے مؤدّب بھی تھے۔
    لیکن: یہ روایت مرسل ہے ، یعنی صالح بنِ کیسان نے واقعہ براہِ راست نہیں دیکھا بلکہ بغیرَ واسطہ کے نبی ﷺ یا صحابہؓ کے زمانے کی خبر نقل کی ہے۔
    ۲۔ قال ابنِ إسحاق: ((وخرج رسولُ اللّٰه، فيما بلّغني، يتلمّسُ حمزة بنِ عبدِ المطلب، فوجده ببطنِ الوادي قد بُقِر بطنه عن كبده، ومُثِّل به، فجُدع أنفه وأُذناه. فحدّثني محمد بنُ جعفر بنِ الزبير أن رسولَ اللّٰه: قال حين رأى ما رأى: «لولا أن تحزن صفية، ويكون سُنّة من بعدي لتركته حتى يكون في بطون السباع، وحواصل الطير، ولئن أظهرني اللّٰه على قريش في موطن من المواطن لأُمثلنّ بثلاثين رجلاً منهم» فلما رأى المسلمون حزن رسولِ اللّٰه وغيظه على من فعل بعمّه ما فعل، قالوا: والله لئن أظفرنا اللّٰه بهم يوماً من الدهر لنمثلنّ بهم مثلة لم يمثلها أحد من العرب.[الروض الأنف :۲۰/۶]
    ابنِ اسحاق نے کہا: جو بات مجھے پہنچی وہ یہ ہے کہ رسولِ خدا ﷺ باہر نکلے اور حمزہ بنِ عبدِالمطلب کو ڈھونڈا تو انہیں وادی کے بطن میں پایا گیا، اُن کا پیٹ چاک کیا گیا تھا اور ان کے ساتھ مثلہ کیا گیا تھا، ان کی ناک اور کان کاٹ دئیے گئے تھے۔ محمد بن جعفر بنِ الزبیر نے مجھے بتایا کہ جب رسولِ خدا ﷺ نے وہ منظر دیکھا تو فرمایا:’’اگر صفیہ کے غم کا اندیشہ نہ ہوتا اور یہ کہ یہ عمل میرے بعد سُنّت نہ بن جائے، تو میں اسے یوں چھوڑ دیتا کہ جانور اسے کھا جائیں اور پرندے اس کے گوشت کو نوچ جائیں، اور اگر اللہ مجھے کسی مقام پر قریش پر غالب فرمائے تو میں ان میں سے تیس آدمیوں کے ساتھ اسی طرح کا مثلہ کروں گا‘‘۔ جب مسلمانوں نے رسولﷺ کے غم کو دیکھا تو انہوں نے کہا:’’اللہ کی قسم، اگر اللہ ہمیں کبھی ان پر غالب کرے تو ہم ان کے ساتھ ایسا مثلہ کریں گے جو کسی عرب نے کسی کے ساتھ نہ کیا ہوگا‘‘۔
    حکم: یہ خبر بھی مرسل ہے۔
    ۳۔ وروى الإمام أحمد قال: حدثنا عفّان قال: حدثنا حمّاد قال: حدثنا عطاء بن السائب عن الشعبي عن ابنِ مسعود قال: ((… فنظروا فإذا حمزة قد بُقِر بطنُه، وأخذتْ هند كبده فَلاَكتها فلم تستطع أن تمضغها، فقال رسولُ اللّٰه: (أكلتْ شيئًا؟) قالوا: لا، قال: (ما كان اللّٰه ليدخل شيئاً من حمزة في النار). وفيه صلاته على حمزة سبعون صلاة.))[المسند :۱۹۱/۶]
    امام احمد رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق جب ہند نے حمزہ ؄ کا کلیجہ چبایا مگر نگل نہ سکی تو نبیﷺ نے فرمایا:’’کیا اس نے کچھ کھایا؟صحابہ ؇نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ حمزہ ؄کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہ کرے گا، اور آپ ﷺ نے ان پر ستر نمازیں پڑھیں‘‘۔
    ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ میں فرمایا: اس روایت کو صرف امام احمد ہی نے روایت کیا ہے، اور اس کی سند میں کمزوری ہے، کیونکہ عطاء بنِ السائب کے حافظے میں اختلاط پیدا ہو گیا تھا، لہٰذا اللہ بہتر جانتا ہے۔[البداية والنهاية: ۴۱/۴]
    شیخ البانی نے کہا: یہی بات درست ہے، برخلاف اس کے جو شیخ احمد محمد شاکر نے کہا کہ یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ وہ عطاء بنِ السائب کے اختلاط کے زمانے کے سماع کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔ [فقہ السنۃ للغزالی: تخریج الاحادیث: محمد ناصر الدین الالبانی:الطبعۃ الاولیٰ:۱۴۴۷،ص:۲۶۵]
    اور اس روایت کے متن میں بھی نکارت (تنازعِ لفظ) ہے وہ یہ کہ:“ما كانَ الله ليدخل شيئًا من حمزة في النار”کیونکہ ہند بعد میں اسلام لے آئی تھی، اور اسلام ماضی کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ پھر یہ بھی واضح ہے کہ عامر بنِ شَراحیل الشَّعبي، جو اس روایت میں ابنِ مسعود ؄ سے روایت کر رہے ہیں، اس کا ابن مسعود ؄ سے سماع براہِ راست ثابت نہیں، جیسا کہ اس پر ائمہ نے تصریح کی ہے۔ (حاکم، دارقطنی، ابوحاتم، اور ابن باز رحمہم اللہ وغیرھم نے) [تھذیب التھذیب :۶۸/۵]
    ان ساری روایات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہند بنتِ عتبہ کا حمزہؓ کا کلیجہ چبانا کسی بھی اعتبار سے ثابت نہیں، البتہ شہداءِ اُحد کا مثلہ کیا جانا ثابت ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ابو سفیان کا قول منقول ہے کہ جب جنگ ختم ہوئی اور وہ اس دن مشرکین کے سردار تھے تو انہوں نے کہا:وتجدون مُثلة،لم آمر بها ولم تسؤني.[صحیح البخاری:۴۰۴۳]
    البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہند بنتِ عتبہ کا حمزہ رضی اللہ عنہ کے کلیجہ چبانے کا یہ واقعہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے، اہل حق کا ڈر ہمیشہ اہل باطل کے سینوں میں رہے اور چیخ چیخ کر للکارتا رہے کہ:
    ’’چبا نا جائیں کلیجہ نکال کر‘‘!!

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings