Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • جاوید اختر کا سوال: جذبات عقل اور حقیقت

    ملحد جاوید اختر کا اللہ کے عدم وجود پر ایک شبہ سامنے آیا کہ’’ تم کہتے ہو کہ اللہ جو ساتویں آسمان کے اوپر ہے اس کے حکم کے بغیر ایک پتہ نہیں ہلتا ، تو پھر یہ بتاؤکہ اس کے ہوتے ہوئے دنیا میں غربت، فقیری، بدکاری، قتل و غارت اور لوٹ مار کیوں ہے؟
    اگر واقعی اللہ ہوگا اور وہ مجھ سے سوال کرے گا تو میں اس سے سوال کروں گا کہ تیرے ہوتے ہوئے یہ سب کیوں ہوا؟
    قارئین کرام! الفاظ کی گھن گرج اور لہجے کی تلخی کبھی دلیل نہیں بنتی، کیونکہ جب اس اعتراض کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ احتجاج نہیں بلکہ فکری لغزش ثابت ہوتا ہے، اصل مغالطہ یہ ہے کہ ملحد اللہ کی مشیت یعنی کائنات کا نظام قائم رکھنا، مہلت دینا اور آزمائش برپا کرنا اور انسان کے اختیار یعنی ارادہ، انتخاب اور عمل کی ذمہ داری کو ایک ہی خانے میں رکھ کر خلط ملط کر دیتا ہے، حالانکہ ظلم کا ظہور اللہ کے حکم جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ انسان کے غلط انتخاب کا ثمر ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے نظرانداز کر کے یہ اعتراض بظاہر گہرا مگر حقیقت میں کمزور دکھائی دیتا ہے۔
    قرآن یہاں نہایت واضح بات کرتا ہے:﴿وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ﴾[ البلد: ۱۰]
    ’’ اور ہم نے انسان کو دونوں راستے دکھا دیئے‘‘۔
    اور کہتا ہے :﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾ [ الدھر: ٣]
    ’’بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب چاہے تو وہ شکر کرنے والا بنے اور چاہے تو نا شکرا بنے ‘‘۔
    یعنی بندے کو اختیار دیا گیا ہے اس پر جبر نہیں کیا گیا، کیونکہ اگر انسان مجبور ہوتا تو ہدایت، انکار، جزا اور سزا سب لغو ہو جاتے۔
    یہی وجہ ہے کہ قرآن اللہ سے ظلم کی نفی کرتے ہوئے صاف کہتا ہے:﴿وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِينَ﴾ [آل عمران: ١٠٨]
    اور مزید واضح کرتا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَٰكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾[ یونس: ٤٤]
    یعنی دنیا میں جو قتل، فقر، بدکاری اور فساد ہے، وہ اللہ کے ہونے کے خلاف دلیل نہیں بلکہ انسان کے غلط اختیار کا نتیجہ ہے۔ اسی کو قرآن کچھ یوں بیان کرتا ہے: ﴿ ظَھَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾. [الروم: ٤١]
    ’’خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے‘‘۔
    قرآن یہاں ایک نہایت بنیادی مگر فیصلہ کن عقلی نکتہ سمجھاتا ہے کہ سبب اور نتیجے کو خلط ملط نہ کیا جائے، اللہ نے اس دنیا کو اسباب کے نظام پر قائم کیا ہے، جہاں آگ میں جلانے کی تاثیر رکھی گئی ہے، مگر جلنے کا الزام آگ پیدا کرنے والے پر نہیں بلکہ اس شخص پر آتا ہے جو جان بوجھ کر آگ میں ہاتھ ڈالے، اسی طرح اللہ نے انسان کو اختیار دیا، طاقت دی اور عمل کی آزادی بخشی، مگر ظلم، قتل اور فساد کا حکم نہیں دیا، لہٰذا جب انسان اپنے اختیار سے برائی کا راستہ چنتا ہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری اللہ پر ڈالنا عقل کے خلاف ہے، کیونکہ قصور نظام کا نہیں بلکہ غلط انتخاب کرنے والے کا ہوتا ہے۔
    اب یہ اعتراض کہ:’’ اگر اللہ ہے تو فوراً ظلم کیوں نہیں روکتا‘‘؟
    قرآن اس کا جواب نہایت گہری عقلی حکمت کے ساتھ دیتا ہے:﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِھِم مَّا تَرَكَ عَلَيْھَا مِن دَابَّةٍ﴾[النحل: ٦١]
    ’’اگر اللہ ہر ظلم پر فورا پکڑ لے تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچے‘‘۔
    یہ تاخیر کمزوری نہیں بلکہ مہلت امتحان ہے۔
    اسی لیے قرآن دنیا کی نوعیت ہی واضح کر دیتا ہے:﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ﴾ [الملک: ٢]
    ’’اس نے زندگی اور موت کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہاری آزمائش کرے‘‘۔
    یہ دنیا عدل گاہ نہیں، امتحان گاہ ہے ، عدل کامل کے لیے ایک اور دن مقرر ہے۔اگر دنیا میں ظلم نہ ہو، فقر نہ ہو، آزمائش نہ ہو تو امتحان کیسا؟
    اسی طرح جو شخص کہتا ہے:’’ میں اللہ سے سوال کروں گا تو قرآن اس ذہنیت کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے‘‘۔:﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ [الأنبیاء: ٢٣]
    خالق سے باز پرس نہیں، بلکہ مخلوق سے ہوتی ہے۔
    یہ عقلی اصول ہے: اختیار لینے والا جواب دہ ہوتا ہے، اختیار دینے والا نہیں۔
    اگر واقعی کوئی خدا نہ ہو، جیسا کہ ملحد دعویٰ کرتا ہے، تو پھر قرآن ایک اور عقلی سوال اٹھاتا ہے:﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ﴾ [الطور: ٣٥]
    ’’ کیا وہ بغیر کسی خالق کے پیدا ہو گئے؟ یا خود اپنے خالق ہیں‘‘؟
    یہ آیت آج بھی الحاد کے سینے میں ایسے پیوست ہے جیسے منطق کا تیر ، خاموش مگر مہلک۔
    اس لیے کہ یہ کسی عقیدے کو مسلط نہیں کرتی، بلکہ انسان کے وجود کو خود انسان کے سامنے رکھ کر عقل سے فیصلہ کرواتی ہے۔ وجود انسانی کے بارے میں عقل کے پاس صرف تین ہی ممکنہ راستے ہیں، نہ اس سے کم، نہ اس سے زیادہ۔ کوئی چوتھا دروازہ سرے سے موجود ہی نہیں۔
    پہلا امکان:
    کیا انسان کسی خالق کے بغیر، محض خود کے سہارے وجود میں آ گیا؟
    یہ بات مان لینا دراصل عقل کے گلے پر چھری پھیرنے کے مترادف ہے۔ عدم سے وجود کا پھوٹ پڑنا نہ سائنس تسلیم کرتی ہے، نہ فلسفہ، نہ ہی سادہ انسانی فہم۔ اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ’’ کچھ بھی بغیر سبب کے ہو سکتا ہے‘‘ تو پھر کائنات کے تمام قوانین، علت و معلول کی پوری عمارت اور علم کی ساری بنیادیں ایک لمحے میں زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ ایسی عقل نہ سوال اٹھانے کے قابل رہتی ہے، نہ کسی جواب پر یقین رکھنے کے لائق۔
    دوسرا امکان:
    کیا انسان نے خود کو خود پیدا کیا؟
    یہ دعویٰ محض غلط نہیں، بلکہ منطقی طور پر مضحکہ خیز ہے۔ جو ابھی تھا ہی نہیں، وہ خالق کیسے بن سکتا ہے؟ عدم نہ ارادہ رکھتا ہے، نہ قدرت، نہ شعور۔ خود کو پیدا کرنے کے لیے پہلے موجود ہونا لازم ہے اور ایک ہی وقت میں موجود بھی ہونا اور غیر موجود بھی۔ یہ صریح تضاد ہے۔ اسی تضاد کی وجہ سے یہ امکان اپنے ہی بوجھ تلے دب کر فنا ہو جاتا ہے۔
    تیسرا اور واحد معقول امکان:
    جب یہ بات ثابت ہو گی کہ انسان نہ خودبخود وجود میں آیا، نہ اس نے خود کو پیدا کیا، تو عقل خود بخود اس نتیجے تک پہنچتی ہے کہ انسان کو کسی نے پیدا کیا ہے، ایسی ہستی نے جو خود مخلوق نہیں، جو قدرت رکھتی ہے، جو جانتی ہے، اور جو ارادہ کرتی ہے۔
    یہی وہ مقام ہے جہاں ملحد کی زبان خاموش ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں اس سے کسی مذہبی کتاب پر ایمان لانے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا، بلکہ اس کی اپنی عقل سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اپنے وجود کی کیا توجیہ پیش کرتی ہے۔ اور جب عقل دیانت دار ہو تو اس آیت کے سامنے اس کے پاس خاموشی کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔
    آخر میں قرآن فیصلہ کن بات کہتا ہے، جو اس پورے اعتراض کو سمیٹ دیتی ہے:﴿أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا﴾[المؤمنون: ١١٥]
    ’’کیا تم نے گمان کر لیا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا‘‘؟
    دنیا میں ظلم کا ہونا اللہ کے نہ ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ اس بات کی سب سے مضبوط دلیل ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جہاں ہر مظلوم کو اس کا حق اور ہر ظالم کو اس کا انجام ملے گا۔
    اسی لیے قرآن نے کہا :﴿إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ﴾[الفجر: ١٤]
    ’’تمہارا رب گھات میں ہے ‘‘۔
    چنانچہ جاوید جیسے لوگوں کا یہ باطل شبہ کہ اس کے حکم کے بغیر پتہ نہیں ہلتاکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قاتل کو قتل کا، ڈاکو کو ڈاکہ ڈالنے کا اور زانی کو زنا کا حکم دیا گیا ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ:
    اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے۔
    وہ اختیار اللہ کی مشیت کے دائرے میں ہے لیکن فعل کا انتخاب انسان خود کرتا ہے، کیونکہ اگر اختیار نہ ہوتا تو سزا بے معنیٰ ، جزا ظلم اور جنت و جہنم مذاق بن کر رہ جاتا ۔
    اگر ہر حرکت کا مطلب یہ ہو کہ اللہ نے انسان کو مجبور کیا ہے تو پھر اختیار، ذمہ داری، قانون، جرم، سزا سب بے معنیٰ ہو جاتے ہیں۔ اگر قاتل قتل پر مجبور تھا تو جیلیں ظلم ہیں، عدالتیں دھوکہ ہیں اور جاوید اختر جیسوں کا خود’’ ظلم‘‘ پر غصہ کرنا بھی فضول ہے، کیونکہ مجبور مخلوق پر اخلاقی اعتراض عقل کے خلاف ہے۔
    اس بات کو یوں سمجھیں کہ اختیار کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس چننے کی آزادی ہو۔ جب چننے کی آزادی ہوتی ہے تو اس میں یہ امکان لازما شامل ہوتا ہے کہ انسان صحیح بھی چن سکتا ہے اور غلط بھی۔ اگر غلطی کا امکان ہی ختم کر دیا جائے تو درحقیقت اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے جہاں اختیار ہوگا وہاں برائی کا امکان بھی ہوگا، اور یہ کوئی نقص نہیں بلکہ اختیار کی فطری قیمت ہے۔
    لہٰذا سوال یہ ہے کہ آزاد مخلوق کو آزاد کیوں بنایا گیا؟ اور اس کا جواب صرف یہی ہے: کیونکہ اخلاق، امتحان اور معنیٰ صرف آزادی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔
    اگر دنیا میں ظلم کا ہونا اللہ کے نہ ہونے کی دلیل ہے تو پھر یہی منطق یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ جرائم کا پایا جانا قانون کے وجود کی نفی ہو اور ہسپتالوں میں مریضوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہو کہ صحت اور طب محض ایک فریب ہیں ۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے،جرم قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس کی خلاف ورزی کا اعلان ہوتا ہے اور بیماری صحت کے تصور کو جھٹلاتی نہیں بلکہ اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے، پھر اس سے بھی گہرا اور فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ ملحد آخر کس بنیاد پر ظلم کو ظلم کہتا ہے؟ اگر کوئی خدا نہیں، کوئی آخرت نہیں، کوئی جواب دہی نہیں، تو پھر طاقتور کا کمزور کو کچلنا محض ایک حیاتیاتی حقیقت رہ جاتی ہے، جنگ بقا اصول بن جاتی ہے اور قتل ایک فطری حکمت عملی۔ ایسی دنیا میں ’’ یہ غلط ہے‘‘ کہنے کا کوئی عقلی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملحد زبان سے اللہ کا انکار کرتا ہے لیکن اخلاقی غصے کے ذریعے لاشعوری طور پر ایک آفاقی اخلاقی قانون کو مان لیتا ہے اور اخلاقی قانون ہمیشہ کسی قانون دینے والے کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے اگر واقعی کوئی رب نہ ہو اور کوئی آخرت نہ ہو تو نہ ہٹلر غلط ٹھہرتا ہے، نہ فرعون ظالم، نہ اسرائیل مجرم، بلکہ طاقت ہی حق بن جاتی ہے ۔ لیکن جب جاوید اختر خود ان سب کو غلط کہتا ہے تو دراصل وہ اپنے انکار کے باوجود ایک ایسے اخلاقی خدا کو مان چکا ہوتا ہے جس کے بغیر اس کا احتجاج، اس کا غصہ اور اس کی ’’ یہ غلط ہے‘‘ محض ایک بے معنیٰ چیخ بن کر رہ جاتی ہے۔
    چونکہ جاوید اختر سنیما کی زبان بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے بات بھی اسی اسلوب میں پوری طرح واضح ہے: فرض کیجیے ایک فلم چل رہی ہے جس کا اسکرپٹ مکمل ہے، ہیرو بھی موجود ہے اور ولن بھی، مظلوم کے آنسو بھی ہیں اور ظالم کی وقتی کامیابی بھی، اب اگر کوئی اداکار شوٹنگ کے بیچ کھڑا ہو کر اعتراض کرے کہ’’ اگر ڈائریکٹر ہے تو فلم میں ظلم کیوں ہے اور اگر وہ طاقتور ہے تو ولن کو ابھی کیوں نہیں روکتا‘‘؟ تو ہر صاحبِ فہم یہی کہے گا کہ فلم ابھی اپنے انجام تک نہیں پہنچی، انصاف آخری سین میں ہوتا ہے، درمیان میں نہیں، بالکل یہی حقیقت دنیا کا معاملہ ہے ۔ دنیا فلم نہیں مگر ایک بامقصد اسکرپٹ ضرور ہے، جہاں کرداروں کو اختیار دیا گیا تاکہ وہ خود فیصلہ کریں کہ ہیرو بننا ہے یا ولن، کیونکہ اگر ہر ظالم کو پہلے ہی منظر میں پکڑ لیا جائے تو نہ آزمائش باقی رہے نہ کہانی، اسی لیے یہ کہنا ایک واضح تضاد ہے کہ فلم میں تاخیر فن ہے اور زندگی میں تاخیر خدا کے انکار کی دلیل،قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:﴿أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا ﴾[المؤمنون: ١١٥]
    ’’کیا تم نے یہ گمان کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں محض بے مقصد پیدا کیا ہے‘‘؟
    اور یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ مہلت غفلت نہیں بلکہ امتحان ہے:﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ﴾[ابراھیم: ۴۲]
    ’’اور ہرگز یہ نہ سمجھو کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں‘‘۔
    پھر انجام کا اعلان نہایت قطعی الفاظ میں کر دیتا ہے:﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا﴾[الانبیاء: ۴۷]
    ’’اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو قائم کریں گے پھر کسی جان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘۔
    یعنی دنیا ابھی چلتی ہوئی کہانی ہے اور وہ آخری سین، جہاں ہر کردار اپنی اداکاری کا حساب دے گا، لازما آ کر رہے گا۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings