Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ ۔محاضرہ نمبر(۳)

    بر صغیر میں علماء اہل حدیث کی خدمات
    (قسط:۴)
    مدارس اور مطابع کے بعد اب پرچوں یعنی جرائد پر بات کرلیتے ہیں ،ان کی اشاعت کا بھی بند وبست انیسویں صدی سے لوگوں نے کیا،سب سے پہلا اور باقاعدہ پورے بر صغیر کے پیمانہ پر پڑھا جانے والا جو رسالہ تھا وہ ’’اشاعۃ السنۃ‘‘ کے نام سے تھا ،۱۸۷۸؁ء میں مولانا حسین بٹالوی نے اسے شائع کرنا شروع کیا تھا (۱ )،اور اس زمانہ میں مذہبی اعتبار سے انتہاء پر پہنچے ہوئے دو طرح کے لوگ تھے ،یا تو شرک و بدعات میں مبتلا ہیں یا تو بالکل تجدد پسند حضرات ، جن کو نیچری کہا جاتاتھا ،جو سر سید احمد خاں او ران کے ماننے والے تھے جو ہر چیز کو عقل پرپرکھتے تھے (۲)سب سے پہلے جس فتنہ کا انہوں نے انسداد کیا ،وہ فتنہ تھا قادیانیت کا ،مرزا غلا م احمد قادیانی (۳)،جس نے نبو ت کا دعویٰ کیا تھا ، شروع شروع میں اس نے کہا کہ میں اسلام کی تائید کررہاہوں ،اس کے لیے دلائل مہیا کررہا ہوں او ر’’براہین احمدیہ‘‘ لکھ رہا ہوں ،لیکن جب بعد میں لوگوں پر کھلا کہ اس نے تو مہدی ہونے کا دعویٰ کردیا،مجدد ہونے کا دعویٰ کردیا،مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ،بعد میں پھر نبی ہونے کا ،تو لوگوں کے کان کھڑے ہوئے اور یہ انہیں کے علاقہ کے تھے ، انہوں نے پہلے دن سے اس کو پکڑا ، اپنے پرچہ اشا عۃالسنۃ میں اس پر کھل کررد کیا اور ہر ہر شمارہ میں اس پر رد کیا ، شاید معاصرین میں کسی نے بھی اتنا اس پر رد نہ کیا ہو ،خاص طورپر ۱۸۹۱؁ء کے اندر جس میں اس نے نبو ت کا دعویٰ کیاتھا ،پھر اسی پر اکتفاء نہیں کیا ،قادیانیوں کے خلاف سب سے پہلا غیر مسلم ہونے کا فتویٰ جس نے دیا وہ فتویٰ مولانا محمد حسین بٹالوی کے ذریعہ عمل میں آیا ،انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ صرف علماء اہل حدیث سے فتویٰ لیا ہو بلکہ پورے بر صغیر کے سارے مسالک کے علماء سے فتویٰ لیا ،کیونکہ اس مسئلہ میں(ختم نبوت) سب متفق ہیں ،پہلی بار قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے لیے انہوں نے فتویٰ جمع کیا ،مرزا غلام احمد قادیانی پریشان تھا اورسب کو لکھتا تھا کہ بٹالوی سب کو گمراہ کررہا ہے ،یہ مرزااپنے متبعین کو کہتا تھا کہ وہ صحابی ہیں ، اپنی بیوی کوکہتاتھا کہ امہات المؤمنین ہیں ،قادیان سے اس کاایک پرچہ نکلتا تھا ،اس میں جو بھی شائع ہوتا تھا فورا ًاس پر نوٹس لیتے تھے ، دوسرے نمبر پر جس نے قادنیت پر کھل کرکے لکھا اور مناظرے کئے،تیس سے زیادہ کتابیں لکھیں ،بلکہ مستقل ایک پرچہ’’مسلمان ‘‘کے نام سے نکالا اور’’مرقع قادیان‘‘ (۴)وہ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ(۱۹۴۸؁ء) تھے ،لیکن انہوں نے پرچہ اہل حدیث کے نام سے ۱۹۰۳؁ءمیں شروع کیاتھا ،۱۹۰۳؁ءسےلےکر کے ۱۹۰۸؁ءتک یعنی مرزا کے مرنے تک اس کاتعاقب کیا، ’’ثناء اللہ امرتسری نے خوب اچھے سے اس کاتعاقب کیا ،مرزا نے ایک بار کہا کہ ’’ ہم میں سےجو جھوٹا ہے سچے کی زندگی میں وہ مرجائے‘‘ ،اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ مرگیا ،مولانا ثناء اللہ اس کے بعدچالیس سال تک زندہ رہے ،دراصل قادیانیوں کو انگریزوں نے کھڑا کیاتھا تاکہ مزید تفرقہ ان کے مابین پیدا ہو،اس کے علاوہ انگریزوں نے عیسائی اور دیگر لوگوں کے ذریعہ طرح طرح کے فتنہ پھیلائے تھے ،اس زمانہ میں جو پادری ہوتے تھے ،نام ان کا مسلمانوں جیسا ہوتاتھا ،پادری عبد الحق ،پادری برکت اللہ ،مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے ان کی بھی نوٹس لیا،اور اس بات کی شہادت مولانا سید سلیمان ندوی نے معارف کے اندر دی ہے ،جب مولانا ثناء اللہ امرتسری کا۱۹۴۸؁ءمیں انتقال ہوا(۵)تو ان کی وفات پر جولکھا ہے ،کہ زندگی میں جہاں جس جگہ کسی فتنہ کے ابھرنے کی اطلاع ملتی تھی ، مولانا اس کا جواب دینے کے لیے تیار رہتے تھے ،بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اگر ابھی شام میں کوئی فتنہ پیدا ہوا تو صبح تک مولانا اس کاجواب دینے کے لیے تیار ہیں ،(۶)یہ تو ایک پہلو ہے اس کے علاوہ بھی اور میدان ہیں دفاع اسلام کے تعلق سے جس میں علماء اہل حدیث نے بڑ ے بڑ ے کارنامے انجا م دئے ، ایک میدا ن اور ہے عربی ادب اور اسلامی صحافت کا ،اس میں جو چند بڑے بڑے اور چوٹی کے علماء تھے جن کی حیثیت عرب دنیا میں اور عربی ادب کے محققین کے نزدیک اتھارٹی کی تھی اس میں تین آدمی او راس کی بھی شہادت ایک دیوبندی عالم نے دی ہے ، مولانا انو ر شاہ کشمیری ،مولانا سعید احمد اکبرآبادی،مولانا شمس الحق صاحب نے مجھے بتایاہے،پورے بر صغیر کے پیمانہ پر تین عربی کے ادیب اور محقق ہیں ، اور تینوں ہی وہابی ہیں ،علامہ عبد العزیز میمن،مولانا محمد یوسف سورتی ،ازہار العرب انہیں کا تیار کیاہواہے ،تیسرے مولانا عبد المجید حریری(۷)یہ عربوں کے لہجوں میں گفتگو کیا کرتے تھے ۔
    یاد رکھیں جوکتابیں ہیں ان کا مطالعہ ضرور کیجئے مثلا ًایک کتاب علامہ احسان الٰہی ظہیر نے’’ البریلویہ ‘‘کے نام سے لکھی ہے ،میری ان سے ملاقات ہے ،وہ کہتے تھے کہ میں نے بہت سے فرقوں تقریباً بارہ فرقوں پر کتابیں لکھیں ہیں ، انہوں نے شیعوں کے رد پر چھ کتابیں لکھیں(۸) ،ان کا طریقہ یہ تھا وہ بتاتے تھے کہ جب جس فرقہ پر کتاب لکھنی ہوتی اس فرقہ کی اصل کتابیں حاصل کرلیتا ،اس سے اقتباسات جمع کرتا جیسے:’’البریلویہ‘‘ میں انہوں نے ان کی ساری چیزیں ان کی کتابوں سے جمع کرکے رکھ دیا ہے اور ایک طرح سے انہیں آئینہ دکھا دیا ہے ، اب وہ پریشان ہیں ۔
    حواشی :آفاق احمد السنابلی المدنی
    (۱)مولانا ابو سعید محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ میاں صاحب کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں ،ان سے انہوں نے کتب ستہ، مؤطا اور مشکاۃ وغیرہ پڑھی ، اکابر علماء اہل حدیث میں ان کا شمار ہوتا ہے ،یہ وہ شخصیت ہے جنہوں نے سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا براہِ راست مقابلہ کیا، اس کے ساتھ مناظرہ کیا اور انہوں نے ’’اشاعۃ السنۃ‘‘کے نام سے ایک مستقل رسالہ نکالا تھا جس کا موضوع ہی ’’مرزا قادیانی کی تردید اور عیسائیوں کے الزامات کا جواب ہوا کرتا تھا، ایک طریقہ سے جماعت اہلحدیث کا سب سے پہلا رسالہ یہی ہے ،سب سے پہلے میاں صاحب سے قادیانیت کے خلاف انہوں نے ہی فتویٰ لکھوایاتھا ، زندگی کی آخری سانس تک یعنی تقریباً ۲۸سال تک قادیانیت سے برسرپیکار رہے ۔ ایک درجن سے زائد انہوں نے کتابیں لکھی ہیں ،اہلحدیث جماعت کو لفظ ” وہابی “ سے موسوم کیا جاتا تھا ۔ مولانا بٹالوی نے سرکاری کاغذات سے لفظ وہابی ختم کرا کر اہلحدیث کا لفظ لکھوایا ۔
    (۲) برصغیر میں عقلانیت یا فتنہ نیچریت کی داغ بیل ڈالنے اور اسے ہوا دینے میں کلیدی رول جن کا رہا ہے یا یوں کہہ لیں کہ جو سرفہرست رہے ہیں ،ان میں سے سرسید احمد خاں بھی تھے ۔ علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی کے یہ بانی ہیں ،عقیدہ سےمتعلق کئی ایک خرابیاں ان کے یہاں موجود تھیں ۔فرصت میں کبھی ان کے عقائد و نظریا ت اور دیگر پہلوؤں پر کچھ قلم بند کرنے کی کوشش کروں گا ۔
    (۳) قادیانیت ایک گمراہ فرقہ ہے ، انگریزوں کے دور میں انہیں کی کوششوں سے یہ فرقہ وجود میں آیا ،اس فرقہ کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہے ، اس نے کئی ایک جھوٹے دعوے کئے جیسے نبوت ،مسیح موعودکا،یہ فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپن نبی مانتا ہے،فتنہ قادیانیت کو ختم کرنے میں دیگر جماعتوں کے علاوہ جماعت اہل حدیث کے کارنامے بڑے مثالی اور تاریخی رہے ہیں، قادیانیت سے مقابلہ کرنے میں دیکھیں گے تو اکثر میاں نذیر حسین محدث دہلوی کے ہی شاگرد رہے ہیں، تن تنہا علامہ ثناء اللہ امرتسری نے ۲۰سے زائد کتابیں قادیانیت کے رد میں لکھی ہیں۔ پوری جماعت اہل حدیث کی طرف سے تقریباًدوسوکتابیں لکھی گئیں ۔بعد کے ادوار میں ایک کتاب اور لکھی گئی اس کا نام ہے’’القاديانية دراسات وتحليل‘‘ المؤلف: احسان الٰهي ظهير۔یہ کتاب بھی قادیانیت کے باطل عقائد پر کاری ضرب ہے۔
    (۴) ماہنامہ مرقع قادیانی :اپریل ۱۹۰۷؁ء کو مرزا صاحب قادیانی نے جب اپنے اور مولانا امرتسری کے درمیان آخری فیصلہ والا اشتہار شائع کیا جس کاخلاصہ یہ تھا کہ کاذب صادق کی زندگی ہی میں مرجائے گا۔ تو مولانا امرتسری کاجوش جہاد اور بڑھ کیا ۔ او ر آپ نے خاص قادیانیت کی تردید کے لیے جو ن۱۹۰۷؁ء سے ’’مرقع قادیانی‘‘ نام کا ایک مستقل ماہنامہ رسالہ شائع کرنا کردیا ۔ خدائی فیصلے کے مطابق سال بھر بعد ۲۶؍مئی ۱۹۰۸؁ ء کو جب مرزا صاحب (کاذب) مولانا امرتسری کے (صادق) کے جیتے جی وفات پاگئے تو اس رسالے کی چنداں حاجت نہ رہی ۔اس لیے اکتوبر ۱۹۰۸؁ء تک کے شمارے شائع کرنے کےبعد اس کی اشاعت بند کردی گئی ۔۲۲۔۲۳ برس بعد جب قادیانیوں میں پھر تیزی آئی تو مولانا امرتسری نے اپریل ۱۹۳۱؁ء سے مرقع قادیانی کی اشاعت دوبارہ شروع کردی ۔ لیکن اپریل۱۹۳۳؁ء کا شمارہ شائع کرکے اس ماہانہ کی اشاعت پھر بند کردی ۔ کیونکہ قادیان سے شائع ہونے والے کی تردید کے لیے اہلحد یث کے صفحات کافی تھے ۔(فتنۂ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری:مؤلف :مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ :۷۰۔۷۱)
    (۵) علامہ ثنا ء اللہ رحمہ اللہ کی خدمات کا دائرہ کئی سمتوں میں پھیلا ہوا ہے ، ان کی زندگی کے کئی پہلو جو اس مقالہ’’حیات ثنائی کے چند اہم گوشے اور تاریخ اسلامیان ہند سے متعلق چند’’داغ ہائے سینہ‘ ‘(مجموعہ مقالا ت: ج:۲،ص:۲۵۷) میں بڑے واضح انداز میں بیاں کئے گئے ہیں ۔علامہ ثنا ء اللہ امرتسری کی خدمات پرکئی مقالات اور کتابیں بھی لکھی گئیں ہیں ۔
    ان کی تفسیری خدمات پر ایک مفصل مضمون علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ کابھی ہے جو ان کے مجموعہ مقالات میں درج ہے ۔ جہاں تک کتابوں کا مسئلہ ہے تو کچھ کتابوں کے نام جو عربی اور اردو میں لکھی گئی ہیں ، یہاں درج کررہاہوں تاکہ ان کی سیرت پر لکھنے او ر پڑھنے والوں کے لیے آسانی ہو ۔ رئیس المناظرین شیخ الاسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امر تسری۔مصنف : فضل الرحمٰن بن محمد۔ مولانا ثناء اللہ امر تسری حیات خدمات آثار، مصنف : محمد رمضان یوسف سلفی۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مؤلف: فضل رحمان میاں محمد ۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری علمی و تصنیفی خدمات، مؤلف: عبد الرشید عراقی ۔ فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری، مصنف : صفی الرحمٰن مبارکپوری۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ علیہ کے ساتھ مرزا جی کا آخری فیصلہ، مصنف : محمد داؤد ارشد۔
    عربی میں کچھ کتابیں : الشيخ أبو الوفاء الأمرتسري وجھوده في مقاومة الأديان والفرق الضالة، عبد اللطيف شيخ عبد الرشيد شيخ، رسالة ماجستير من الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة 1415هـ،. الشيخ ثناء الله الأمرتسري وجھوده الدعوية، محمد مرتضى بن عائش محمد، رسالة ماجستير من جامعة الإمام محمد بن سعود 1417هـ. الشيخ العلامة أبو الوفاء ثناء الله الأمرتسري: جھوده الدعوية وآثاره العلمية،عبد المبين عبد الخالق الندوي، إدارة البحوث الإسلامية بالجامعة السلفية بنارس،1437هـ۔ العلامة الشيخ أبو الوفاء ثناء الله الأمرتسري وجھوده في الرد على الفرق الضالة وإنھاض ثقافة الحوار الحضاري، د. مقتدى الأزهري، تقديم وترتيب راشد حسن المباركفوري، دار المقتبس۔
    (۶)دیکھیں: مرزائے قادیان اور علماء اہل حدیث ۔مجموعہ مقالا ت مولانا عبد الحمید رحمانی :ج ،۳ص۳۸)۔
    (۷) ہندوستان کے دیوبندی مسلک کے معروف عالم و مصنف مولانا سعید احمد اکبر آبادی کہا کرتے تھے کہ ہندوستان میں ایک ہی زمانے میں عربی کے تین ادیب ہوئے ہیں اور تینوں وہابی۔ وہ تھے مولانا عبد العزیز میمنی، مولانا محمد سورتی اور مولانا عبد المجید حریری۔(تاریخ و تعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی،مؤلف اسعد اعظمی حفظہ اللہ ، ص:۱۸)۔
    اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’ان تینوں عظیم المنزلت حضرات کے تراجم میں نے اپنی ایک کتاب ’’برصغیر میں اہلِ حدیث کی اوّلیات‘‘ میں بیان کیے ہیں‘‘۔
    عبد المجید حریر پر رحمہ اللہ پر ایک مضمون علامہ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے ، جو : مجموعہ مقالات عبد الحمید رحمانی ج:۲،ص:۶۳)۔میں موجود ہے۔
    ان تینوں نامور ادباء پر مستقل کتابیں اور تحقیقی مقالات بھی موجود ہیں ۔
    (۸)1-الشيعة و القرآن۔2- الشيعة وأهل البيت۔3- كتاب الإسماعيلية تاريخ وعقائد۔4۔ الشيعة والتشيع فرق وتاريخ۔5 الشيعة والسنة۔6- كتاب الرد الكافي على مغالطات الدكتور وافي في كتابه بين الشيعة وأهل السنة۔
    جاری………

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings