Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • دعائے شب قدر’’اللھم إنك عفو تحب العفو فاعف عني‘‘ کی تحقیق (قسط اول)

    یہ حدیث مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح مروی ہے ۔ہم سب سے پہلے مرفوع حدیث پر بات کریں گے اور اخیر میں موقوف روایت پربحث ہوگی ۔
    اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے معاصر اہل علم وباحثین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا“ سے ”عبداللہ بن بریدہ“ کے سماع کا انکار کیا ہے ۔ پھر طرفین کی بحث اس نکتے پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کا یہ فیصلہ درست اور معتبر ہے یا اسے غیر مقبول اور غیر معتبر سمجھا جائے۔
    لیکن اس بحث میں ہم قارئین کے سامنے اس حقیقت سے پردہ اٹھائیں گے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کا اصلاً ایسا کوئی موقف موجود ہی نہیں کہ ”عبداللہ بن بریدہ“ کا ”ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا“ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ درحقیقت، امام دارقطنی رحمہ اللہ کے اصل کلام اور ان کی کتابوں کی تمام متعلقہ عبارات کو براہ راست سامنے رکھنے کے بجائے، بعض متأخرین نے ثانوی مراجع پر زیادہ اعتبار کرلیا ، جس کی وجہ سے یہ غلط فہمی پھیل گئی۔ اس غلط فہمی سے متأثر ہو کر معاصر کئی باحثین بھی اسی نتیجے پر پہنچ گئے۔ورنہ متقدمین میں سے کوئی ایک بھی ناقد ومحدث اس موقف کا حامل نہیں ملے گا۔
    اور متأخرین کی بات کریں تو رجال کی سب سے بڑی کتاب ”تہذیب الکمال“ کی اصل ”الکمال“ میں امام عبدالغنی المقدسی نے یہ صراحت کر رکھی ہے کہ عبداللہ بن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے۔اس مسئلہ پر حوالوں کے ساتھ تفصیلی بحث قارئین آگے پڑھیں گے۔
    اب آئیے ہم سب سے پہلے مرفوع حدیث اور اس کے طرق کو دیکھتے ہیں۔
    مرفو ع حدیث کو اماں عائشہ سے نقل کرنے والے ”عبداللہ بن بریدہ“ ہیں ۔ اور پھر ان سے اس حدیث کو ان کے تین شاگردوں سے روایت کیا ہے۔تفصیل ملاحظہ ہو:
    پہلے شاگرد : ابومسعود الجریری
    روایت:
    الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ لَوَ عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا كُنْتُ أَدْعُو بِهِ؟ قَالَ:’’تَقُولِينَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي‘‘۔
    ”جریری نے عبداللہ بن بریدہ سے انہوں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ آپ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر معلوم ہو جائے تو میں اس میں کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم یوں کہو: ”اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“ (اے اللہ! بیشک تو معاف کرنے والا ہے، تو معافی کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے۔)“
    تخريج
    أخرجه أحمد في (25505) عن علي بن عاصم ۔
    وأخرجه المروزي في ”قيام الليل“ (ص259) واللفظ له من طريق خالد بن عبدالله الواسطي۔
    وأخرجه النسائي في ”السنن الكبري“ (10645) من طريق عبدالرحمٰن بن مرزوق۔
    وأخرجه النسائي في ”السنن الكبريٰ“ (10646) من طريق مخلد بن يزيد۔و ابن راهويه في ”مسنده“ (1362) من طريق العنقزي۔وابن منده في ”التوحيد“ (300) من طريق نعمان بن عبدالسلام۔والقضاعي في ”مسند الشهاب“ (1475) من طريق علي بن قادم ۔وقوام السنه في ”الترغيب“(1799) من طريق الفريابي ۔و إسحاق الأزرق كما في ”العلل“ (15/88) للدارقطني كلھم (مخلد والعنقزي ونعمان والفريابي و إسحاق الأزرق) من طريق سفيان الثوري ۔
    وخالفھم الأشجعي فرواه عن الثوري عن علقمة بن مرثد عن ابن بريدة عن عائشة به، أخرجه أحمد في ”مسنده“ (26215)۔ قال الدارقطني فی ”العلل“ (15/ 88) : ”وقول الأزرق أصح“ ۔
    جميعھم (علي بن عاصم وخالد بن عبدالله وعبدالرحمٰن بن مرزوق والثوري)عن الجريري به۔
    وخالفھم عبد الحميد بن واصل فرواہ عن الجريري، عن أبي عثمان النھدي، قال: قالت عائشة فذکر نحوہ، أخرجه الطبراني في ”الدعاء“ (915) ، قال الدارقطني في ”العلل“ 5/ 132: ”وهم فيه… والصحيح عن الجريري عن ابن بريدة“
    وخالفھم جمیعا يزيد بن هارون فرواه -فيما أخرجه أحمد في ”مسنده“ (25495)- عن الجريري من هذا الطريق فأوقفه علٰى عائشة، وهو وهم منه بلا ريب لمخالفته رواية ‌الجماعة۔
    دوسرے شاگرد : کہمس بن حسن
    روایت
    ’’كَھْمَسِ بْنِ الحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ القَدْرِ مَا أَقُولُ فِيھَا؟ قَالَ: قُولِي:”اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“۔
    ”کہمس بن حسن نے عبداللہ بن بریدہ سے انہوں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ آپ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو:”اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“ (اے اللہ! بیشک تو معاف کرنے والا ہے، تو معافی کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف فرما دے) ۔“
    تخریج
    أخرجه الترمزي (3513) واللفظ له والنسائي في ”السنن الكبريٰ“ (10642) من طريق جعفر بن سليمان الضبعي۔
    وأخرجه النسائي في ”السنن الكبريٰ“ ( 7665) و (11624) و (10643 )من طريق خالد بن الحارث۔
    وأخرجه ابن ماجه (3850 ) من طريق وكيع بن الجراح
    وأخرجه ابن راهويه في ”مسنده“ (1361) من طريق النظر بن شميل
    كلھم (جعفر بن سليمان و خالد بن الحارث و وكيع بن الجراح و النظر بن شميل) عن كھمس به.
    وخالفھم علي بن غراب فيما ذكره الدارقطني في ”العلل“ ( 15/ 89) فرواه عن كھمس، عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، عن عائشة، فزاد في الإسناد والد عبد الله بن بريدة ۔ قال الدارقطني ووهم في قوله عن ”أبيه“ . قلت : ولا يوجد رواية علي بن غراب مسندا۔
    وخالفھم غندر فيما أخرجه أحمد (25384 ) ويزيد بن هارون فيما أخرجه أحمد (25497 ) والمعتمر فيما أخرجه النسائي في ”الكبريٰ“ (10644) فقالوا عن كهمس عن ابن بريدة قالت عائشة … هكذا مرسلا، ولذلك قال النسائي بعد رواية المعتمر: ”مرسل“ ۔ والصواب رفعه كما رواه الجماعة و رواية الجريري المتقدمة في أول هذا التخريج تؤيدهم.
    وخالفهم جميعا يزيد بن هارون فرواه موقوفا علي عائشه۔ أخرجه ابن أبي شيبة في مصنفه رقم (31150) وهو خطأ بلارب لمخالفته للجماعة۔ نعم ! الرواية الموقوفة ثابتة من طرق أخري كما سياتي البحث في موضعه۔
    ایک غلط فہمی کاازالہ:
    ”کہمس بن حسن“ کے چار شاگردوں (جعفر بن سليمان ، خالد بن الحارث، وکيع بن الجراح اور النظر بن شميل) نے بالاتفاق اس حدیث کو”عن عائشة“ کہہ کربیان کیا یعنی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ لیکن بعض راویوں نے ”أن عائشة“ کہہ کر یعنی اس حدیث کو مرسلا ًبیان کیا ہے ۔
    مذکورہ تخریج میں واضح کیا گیا ہے کہ مرسلاً بیان کرنے والے راویوں سے غلطی ہوئی ہے اور درست سند وہی ہے جس میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے بیان کیا ہے کیونکہ اکثر راویوں کا یہی بیان ہے۔
    مرسل روایات میں ایک روایت کو جب امام نسائی نے نقل کیا تو آخر میں واضح کردیا کہ یہ بیان مرسل ہے چنانچہ امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا:
    ’’أخبرنا محمد بن عبد الأعلى، قال: حدثنا المعتمر، قال: سمعت كھمسا، عن ابن بريدة ”أن عائشة قالت: يا نبي الله“ . مرسل‘‘. [سنن النسائي الكبرىٰ، ط التأصيل: 12/ 457 رقم 10820]
    یہاں امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت کی کیفیت کو بتلایا ہے کہ یہ روایت مرسل بیان کی گئی ہے ۔
    مگر امام نسائی رحمہ اللہ نے یہاں نہ تو مرسل روایت کو اس سلسلے کی دیگر مسند روایات پر ترجیح دی ہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا ہے کہ ابن بریدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سرے سے سنا ہی نہیں ۔
    لیکن سخت حیرت کی بات ہے کہ عصر حاضر کے بعض لوگوں نے امام نسائی رحمہ اللہ کی اس وضاحت کی بناپر امام نسائی کی طرف یہ منسوب کردیا کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن بریدہ کے سماع کے قائل نہیں ۔
    ہم کہتے ہیں یہ بات سراسر غلط ہے اور عصر حاضر کے بعض لوگوں سے قبل پوری دنیا میں کسی نے بھی امام نسائی کے اس قول کا یہ مطلب نہیں سمجھا ہے۔
    بلکہ امام نسائی کے اس کلام میں سماع کے انکار کا وجود تو درکنار وہ راوی کے اس مرسل بیان کو بھی ترجیح نہیں دے رہے ہیں بلکہ انہوں نے اس سلسلے کی اکثر روایات مسند ہی ذکر کی ہیں۔
    تیسرے شاگرد : ابوہلال راسبی
    ابو بکر الشافعی البزَّاز ( المتوفی 354) نے کہا:
    حدثنا أبو محمد الحارث بن محمد بن أبي أسامة التميمي، ثنا أبو عبد الرحمٰن الأسود بن عامر ولقبه شاذان، ثنا أبو هلال يعني الراسبي، عن عبد الله بن بريدة قال: قالت أم المؤمنين: – قال أبو هلال أحسبه، قال عائشة – يا رسول الله إن وافقت ليلة القدر بما أدعو؟، قال: قولي: ”اللهم إني أسألك العفو والعافية“
    ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے لیلۃ القدر (شب قدر) مل جائے تو میں کیا دعا کروں؟ آپ ﷺنے فرمایا: یوں کہو:’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ‘‘ ’’(اے اللہ! میں تجھ سے معافی اور عافیت مانگتی ہوں۔)“ [الفوائد الشھير بالغيلانيات لأبي بكر الشافعي (رقم 610) وأخرجه الطبراني في الأوسط (رقم 2500) فقال: حدثنا أبو مسلم قال: نا أبو عمر الضرير قال: نا أبو هلال الراسبي به نحوه مختصرا، وأبو هلال الراسبي ضعيف كما فصلت الكلام عليه في كتابي”تحفة الزاهد في تكرار الجماعة في المسجد الواحد“]
    یہ روایت ابوہلال راسبی کے ضعیف ہونے کے سبب مردو وغیر مقبول ہے لیکن ما قبل میں مذکور ”ابومسعود الجریری“ اور ”کہمس بن حسن“ کی روایات صحیح ہیں ۔
    خلاصۂ تخریج:
    اس حدیث کی تمام اسانید وطرق کو مفصل دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اس کا مرفوع طریق ہی درست و محفوظ ہے اور عبداللہ بن بریدہ سے ”ابومسعود الجریری“ اور ”کہمس بن حسن“ کی روایات بالاتفاق ثابت وصحیح ہیں ۔
    لیکن اس کے اوپر کا طریق جو تمام سندوں کا اصل مدار ہے وہ یہ ہے :
    {عن عبد الله بن بريدة عن عائشة مرفوعا}
    اور اس کے متصل اور منقطع ہونے میں اختلاف ہے۔
    اتصال وانقطاع پر بحث:
    ہم سب سے پہلے قائلین انقطاع کے تمام دلائل کا جائزہ لیں گے اس کے بعد اتصال کے ثبوت میں متعدد دلائل پیش کریں گے ۔ ہماری یہ بحث درج ذیل حصوں پر مشتمل ہوگی :
    خامام دارقطنی کے کلام پر بحث
    خ واسطہ والی روایت پر بحث
    خ معاصرت وامکانِ سماع پر بحث
    خ اتصال وسماع کے دلائل کا ذکر
    اب ہر ایک کی تفصیل ملاحظہ ہو:
    خامام دارقطنی کے کلام پر بحث:
    اس سے پہلے کہ ہم امام دارقطنی کے کلام پر بحث کریں مناسب معلوم ہوتا کہ ارسال سے متعلق ایک اہم نکتہ کی وضاحت کردی جائے جس سے غفلت کی بنیاد پر بہت ساری غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں ۔
    ارسال کا ایک مطلب یہ ہے کہ راوی ایسے دور کا واقعہ بیان کرے جس دور میں وہ پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ مثلاً تابعی عہد رسالت کے واقعات کو بیان کرے ۔
    اسی طرح ارسال کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ راوی کا ایسے شخص کی کوئی بات نقل کرنا جس سے اس کی سرے سے ملاقات و سماع ممکن ہی نہیں ہے ، جیسے کوئی راوی ایسے شخص کی بات نقل کرے جس کی زندگی میں وہ پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ مثلاً کوئی تابعی ایسے صحابی کی بات نقل کرے جس کی وفات اس تابعی کی پیدائش سے پہلے ہی ہوچکی ہے۔
    لیکن غور کیجئے کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا ایک تابعی بلاواسطہ عہد رسالت میں کسی ایسے صحابی کے ساتھ اللہ کے نبی ﷺ کا مکالمہ بیان کرے ، جس صحابی سے اس تابعی کی ملاقات وسماع ثابت ہو ؟یعنی تابعی کے دور تک وہ صحابی زندہ رہے ہوں جس بناپر بعد میں وہ تابعی اپنے دور میں اس صحابی سے ملاقات کرلیے ہوں اور سماع بھی کرلیاہو۔کیا ایسا ممکن نہیں ہے ؟؟؟
    میرے خیال سے ہر عقل مند اور صاحب علم شخص کا جواب ہوگا کہ بالکل ایسا ممکن ہے ۔
    ہر ارسال مطلقاً عدم سماع کو مستلزم نہیں ۔
    ماقبل میں ارسال کی جو آخری صورت بیان کی گئی ہے ، اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ ہر ارسال مطلقاً عدم سماع کو مستلزم نہیں ہوتا ۔
    مطلب یہ کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک تابعی بلاواسطہ عہد رسالت کا ایک واقعہ بیان کرے جس میں ایک صحابی اور اللہ کے نبی ﷺ کے مابین مکالمہ ہوا ہو ۔ اور اس صحابی سے اس تابعی کی اپنے دور میں دوسرے مواقع پر ملاقات بھی ثابت ہو ۔
    ایسی صورت میں یہاں تابعی کی روایت مرسل تو ہوگی کیونکہ وہ بلاواسطہ جس مکالمہ کو بیان کررہا ہے اس وقت وہ موجود تھا ہی نہیں ، لیکن اس کے اس روایت کے مرسل ہونے سے یہ قطعاً لازم نہیں آئے گا کہ اس تابعی کی اس صحابی سے علی الاطلاق ملاقات وسماع ہی کا انکار کردیا جائے ۔کیونکہ دوسرے مواقع پر ان دونوں کی ملاقات وسماع ثابت ہے ۔
    ”مرسل“ کا ”مرسل عنہ“ سے سماع کی ایک مثال:
    اب آئیے کتب حدیث سے مرسل حدیث کی ایک مثال سامنے رکھ کردیکھتے ہیں تاکہ بات اور واضح ہوجائے ، چونکہ آگے امام دار قطنی رحمہ اللہ کے جس کلام پر ہم بحث کریں گے وہ ایسی مرسل حدیث پر ہے جس میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے ۔ اس لیے ہم یہاں مثال میں بھی ایسی ہی ایک مرسل حدیث لیتے ہیں جس میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کا ذکر ہے ، ملاحظہ ہو:
    امام ابوداؤد رحمہ الله (المتوفی275) نے کہا:
    حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا الأسود بن شيبان، حدثنا أبو نوفل يعني ابن أبي عقرب، قال: قالت عائشة: ’’يا رسول الله أين عبد الله بن جدعان، قال:’’في النار‘‘، قال: فاشتد عليھا، قال:’’يا عائشة، ما الذي اشتد عليك‘‘، فقالت: كان يطعم الطعام ويصل الرحم، قال: أما إنه يھون عليه بما تقولين‘‘۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ’’عبد اللہ بن جدعان کہاں ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:’’وہ جہنم میں ہے‘‘۔ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہت گراں گزری آپ ﷺنے فرمایا:’’اے عائشہ! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم پر یہ بات اتنی گراں گزری‘‘؟ انہوں نے عرض کیا: ’’وہ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا اور صلہ رحمی کرتا تھ‘‘ ۔آپ ﷺنے فرمایا: ’’بے شک، جو کچھ تم کہہ رہی ہو، اس کی وجہ سے اس پر (عذاب) ہلکا کر دیا جائے گا‘‘ ۔ [المراسيل لأبي داؤد ص: 143 ]
    اس روایت کی سند ”نوفل بن ابی عقرب“ تک صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے ۔ لیکن آگے مرسل ہے کیونکہ ”نوفل بن ابی عقرب“ نے بلاواسطہ یعنی ”عن عائشہ“ کے بجائے ”قالت عائشہ“ کہہ کر اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایسی بات نقل کی جو عہد رسالت میں کہی گی ہے ، اور ”نوفل بن ابی عقرب“ تابعی ہیں یعنی عہد رسالت میں موجود نہیں تھے اس لیے یہ روایت مرسل ہے ۔ جیساکہ امام ابوداؤد نے کہا ہے نیز امام ابن رجب رحمہ اللہ نے بھی اسی سبب اس روایت کر ”مرسل“ کہا ہے۔ دیکھیں:[ تفسير ابن رجب الحنبلي 2/ 535]
    دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”نوفل بن ابی عقرب“ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس روایت کا کوئی بھی حصہ نہیں سنا ہے۔ بلکہ اس حدیث کو مرسل کہنے والے محدثین کا یہی مقصود ہے۔
    لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوگا کہ ”نوفل بن ابی عقرب“ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے علی الاطلاق سماع ثابت ہی نہیں ہے ۔
    یہی وجہ ہے دیگر مقامات پر ”نوفل بن ابی عقرب“ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے یعنی ”عن عائشہ“ کہہ کر جو روایات بیان کرتے ہیں محدثین ان کو صحیح قرار دیتے ہیں اور وہاں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کے سماع کا انکار نہیں کرتے ۔ مثلاً دیکھیں :(سنن أبی داود 2/ 77 رقم الحدیث 1482) یہ حدیث بالاتفاق صحیح ہے۔
    جاری ہے……..

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings