-
حائضہ عورت کا عیدین میں شرکت کا حکم عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ:’’أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَيَشْھَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَھُمْ، وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ عَنْ مُصَلَّاهُنَّ، قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِحْدَانَا لَيْسَ لَھَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: لِتُلْبِسْھَا صَاحِبَتُھَا مِنْ جِلْبَابِھَا.
ترجمہ:
ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو بھی باہر لے جائیں تاکہ وہ مسلمانوں کے اجتماع اور ان کی دعاؤں میں شریک ہو سکیں۔ البتہ حائضہ عورتوں کو نماز پڑھنے کی جگہ سے دور رکھیں۔ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ! ہم میں بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پاس (پردہ کرنے کے لیے) چادر نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی ساتھی عورت اپنی چادر کا ایک حصہ اسے اڑھا دے۔
[صحيح البخاري :حدیث:۳۵۱]
ام عطیہ کاتعارف:
ان کا نام نسیبہ بنت کعب یا حارث ہے ،یہ ام عطیہ کے نام سے مشہور ہیں ، انصاری صحابیہ ہیں ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کیا تھا ، کبار صحابیا ت میں ان کا شمار ہوتا ہے،رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی غزوہ انہوں نے کیا ہے ۔ زخمیوں کا مرہم پٹی کیا کرتی تھیں ،بہت سے صحابہ اور بصرہ کے کئی تابعین علماء ان سے میت کو غسل دینے کا طریقہ سیکھتے تھے ۔کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو غسل دینے میں شامل تھیں،اس وجہ سے انہیں میت کو غسل دینے کا طریقہ بیان کرتے کرتے بہت اچھے سے یاد ہوگیاتھا ۔میت کو غسل دینے سے متعلق ان کی حدیث اصل کا درجہ رکھتی ہے۔
[تھذيب الكمال في أسماء الرجال للمزی:۳۵؍۳۱۶]
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اغْسِلْنَھَا بِالسِّدْرِ وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَھَا۔
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو ۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو اور آخر میں کافور یا ( آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ ) تھوڑی سی کافور استعمال کرو پھر جب غسل دے چکو تو مجھے خبر دو ۔ چنانچہ فارغ ہو کر ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے ( ان کے کفن کے لیے ) اپنا ازار عنایت کیا۔ ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں کر کے انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا ۔
[صحیح بخاری:۱۲۶۳]
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ. قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ. فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأُدَاوِي الْجَرْحَى، وَأَقُومُ عَلَى المرضى.
میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی، میں مجاہدین کے پیچھے رہتی، ان کے لیے کھانا تیار کرتی، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی اور مریضوں کی خدمت کرتی۔
[صحیح مسلم، حدیث:۱۸۱۲]
فوائد حدیث :
(۱) عید گاہ میں نمازعیدکے لیے مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شرکت کریں گی ۔ یہاں تک کہ حائضہ عورتیں بھی عید گا جائیں گی۔ ہاں وہ نماز نہیں ادا کریں گی۔
(۲) انصار خواتین کےشرعی احکامات پر عمل کو کیا گیا ہے،کہ وہ پردہ کاکس قدر اہمتام کیا کرتی تھیں ، بغیر مکمل پر دہ کے وہ باہر نہیں نکلتی تھیں ۔
(۳) دعوۃ المسلمين کا مطلب ہے کہ وہ حائضہ عورت وعظ و ارشاد اور تکبیر ودعا و غیرہ میں شرکت کرے گی ۔
(۴) نماز میں سترہ پوشی مکمل ضروری ہے ، گرچہ اس کے لیے کسی سے عاریتا کپڑا لینا پڑے ۔
(۵) ’’لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُھَا مِنْ جِلْبَابِھَا‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺنے اجتماعی طور پر ایک دوسرے کا، کارخیر میں مدد کی تعلیم دی ہے۔
(۶)مصلیٰ سے حائضہ عورتیں الگ رہیں گی ۔
(۷)حائضہ عورت کاذکر و اذکار اور دعا وغیرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔