-
معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان : اسباب و علاج نماز اسلام کی وہ عظیم عبادت ہے جو بندے کو اس کے رب سے جوڑتی ہے، یہ محض چند حرکات و سکنات کا نام نہیں، بلکہ یہ بندگی، اطاعت، محبت اور خوفِ الٰہی کا عملی اظہار ہے، قرآنِ کریم کے مطابق نماز ذکرِ الٰہی ہے، اور نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق یہ دین اسلام کا ستون ہے۔
نماز میں بندہ قیام کے ذریعے اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، رکوع میں اس کی عظمت تسلیم کرتا ہے، اور سجدے میں اپنی عاجزی و بندگی کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے، نماز انسان کے دل کو زندہ کرتی ہے، اس کے اخلاق کو سنوارتی ہے، اور اسے بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔
نماز کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں:
اسلام میں نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سفر ہو یا حضر، امن ہو یا جنگ، تندرستی ہو یا بیماری کسی بھی حال میں نماز معاف نہیں کی گئی۔
قرآن مجید میں نماز کا حکم متعدد مقامات پر مختلف اسلوب میں آیا ہے، کبھی وقت کی پابندی کے ساتھ : ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾ [النساء: ١٠٣] ’’یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے‘‘۔
تو کبھی کامیابی کا معیار بتاتے ہوئے: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾ [المؤمنون: ١-٢] ’’یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی ۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں‘‘۔
نیز حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ‘‘’’دین کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون (عمود) نماز ہے‘‘۔[سنن ترمذی: ٢٦١٦، صحيح]
نماز کو مومن کی پہچان قرار دیا گیا ہے، نماز ہی کفر و اسلام میں فرق کرتی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’إِنّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ‘‘۔’’بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک ہے‘‘۔[صحيح مسلم: ٨٢]
قیامت کے دن حقوق اللہ میں سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا:’’إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ‘‘’’قیامت کے دن لوگوں سے ان کے اعمال میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے پوچھ تاچھ کی جائے گی وہ نماز ہو گی‘‘۔[سنن ابی داود: ٨٦٤،صحيح]
غرض یہ کہ نماز وہ عبادت ہے جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے، جو مومن کو کافر سے جدا کرتی ہے، جو قبر میں روشنی، دل کو سکون اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
لیکن افسوس! آج اگر ہم دنیا بھر کے مسلمانوں پر نگاہ ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ مسلمان کے دن کی ابتدا اور انتہا ہر کام سے ہوتی ہے، سوائے نماز کے، موبائل فون کی اسکرین پر گھنٹوں انگلیاں چلتی رہتی ہیں، سوشل میڈیا کی دنیا میں وقت یوں بہہ جاتا ہے جیسے وقت کی کوئی قیمت ہی نہ ہو، کاروبار، ملازمت، دوستیاں، تقریبات اور تفریح ہر چیز کے لیے وقت ہے، مگر جب اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو یہی مسلمان وقت کی تنگی کا رونا رونے لگتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ نماز اب زندگی کا حصہ نہیں رہی، بلکہ ایک بوجھ بن چکی ہے، جسے دل چاہے تو اٹھا لیا، ورنہ چھوڑ دیا۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ جو نماز ہمیں اللہ سے جوڑتی ہے، جو ہمیں گناہوں سے روکتی ہے، جو ہمیں سکون اور وقار عطا کرتی ہے، اسی نماز کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں!، ہم فجر کے وقت نیند کے غلام بن جاتے ہیں، ظہر و عصر میں مصروفیت کا بہانہ، مغرب میں تھکن کا عذر، اور عشاء میں سستی کا سہارا لے لیتے ہیں۔
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں مسلمانوں کے معاشرے میں بے نمازی کا رجحان خطرناک حد تک فروغ پا چکا ہے، یہ محض چند افراد کی ذاتی غفلت کا نام نہیں رہا، بلکہ ایمان کی کمزوری اور فکری زوال کا ایک ہمہ گیر اجتماعی المیہ بن چکا ہے۔
بے نمازی کے اسباب:
(۱) دینی تعلیم اور علمِ دین کا فقدان : بے نمازی کا سب سے پہلا اور بنیادی سبب دینی تعلیم اور علمِ دین کی کمی ہے، جو انسان یہ نہیں جانتا کہ نماز کیوں فرض کی گئی، اس کی حقیقت کیا ہے، اور اللہ کے نزدیک اس کا مقام کیا ہے، وہ نماز کو زندگی کی ترجیح نہیں بنا سکتا، علم کے بغیر عبادت محض ایک رسم بن جاتی ہے، اور رسمیں وقتی مشاغل اور دنیاوی مصروفیات کے دباؤ میں سب سے پہلے ترک ہو جاتی ہیں۔
علمِ دین کی کمی کے نتیجے میں انسان کے دل میں خشیتِ الٰہی ماند پڑ جاتی ہے، آخرت کے حساب کا خوف ختم ہو جاتا ہے، اور فرائض کی قدر و قیمت ذہن میں قائم نہیں رہتی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [الزمر: ٩]’’کہہ دو! کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘۔
اور فرمایا: ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾ [فاطر: ٢٨] ’’اللہ سے ڈرنے والے صرف وہی ہیں جو علم رکھتے ہیں‘‘۔
یہ واضح پیغام ہے کہ علم کے بغیر خشیت اور عبادت کی حقیقت ممکن نہیں۔
نیزرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من يرد الله به خيرًا يفقھه في الدين‘‘۔ ’’اللہ جس کے لیے بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے‘‘۔ (متفق علیہ)
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ انسان کو صحیح ایمان اور عمل کی طرف لے جاتی ہے۔
(۲) ایمان کی کمزوری: بے نمازی کا دوسرا بنیادی سبب ایمان کی کمزوری اور کلمۂ ایمان کی بے حرارتی ہے، بہت سے لوگ یہ جانتے ہیں کہ نماز فرض ہے، لیکن ان کے دل میں وہ حرارت اور یقین موجود نہیں جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کی خصوصیت تھی۔
ایسا انسان نماز کو محض ایک رسمی فریضہ سمجھتا ہے، اور اسے بوجھ کے طور پر ادا کرتا ہے، ایمان کی کمزوری کے نتیجے میں اللہ کی عظمت دل سے اوجھل ہو جاتی ہے، خشیتِ الٰہی مدھم پڑ جاتی ہے، اور آخرت پر یقین دھندلا جاتا ہے۔
(۳) مادہ پرستی: آج کا انسان معاشی دوڑ میں اتنا مگن ہے کہ اسے’’حی علی الفلاح‘‘ (آؤ کامیابی کی طرف) کی صدا سنائی نہیں دیتی،اس نے کامیابی کا معیار صرف دولت کو بنا لیا ہے، جبکہ حقیقی فلاح نماز میں تھی۔
(۴) جدید ٹیکنالوجی اور وقت کا ضیاع: سوشل میڈیا اور موبائل ایپس نے انسان کے اعصاب کو اتنا تھکا دیا ہے کہ وہ جسمانی طور پر عبادت کے لیے خود کو تیار نہیں پاتا، راتوں کو دیر تک جاگنا نمازِ فجر کے ضیاع کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے۔
(۵) تربیت کا فقدان اور لبرل طرزِ فکر: جدید تعلیمی اداروں میں دین کو ایک ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے، والدین بچوں کے گریڈز (Grades) کے لیے تو فکر مند ہوتے ہیں، لیکن ان کے سجدوں کے لیے ان کی آنکھیں نم نہیں ہوتیں۔
(۶) صحبت ِبد : انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اسی لیے جب دوستی کے حلقوں میں نماز کا ذکر نہیں ہوتا، تو تنہا انسان بھی سستی کا شکار ہو جاتا ہے۔
بے نمازی کا فرد و معاشرہ پر اثرات:
بے نمازی محض ایک عبادت کے ترک کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا خاموش زہر ہے جو آہستہ آہستہ فرد کے ایمان، کردار اور معاشرے کی روح کو کھوکھلا کر دیتا ہے، نماز چونکہ بندۂ مومن اور اس کے رب کے درمیان زندہ تعلق کی علامت ہے، اس لیے جب یہ تعلق کمزور پڑ جاتا ہے تو زندگی کا پورا نظام بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے:
(۱) دینی و روحانی اثرات: نماز دلوں کی زندگی اور روح کی غذا ہے، جب انسان اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہو جاتا ہے تو اس کا دل غفلت کی تاریکیوں میں ڈوبنے لگتا ہے، اللہ تعالیٰ کی یاد جو دلوں کے اطمینان کا واحد ذریعہ ہے، کمزور پڑ جاتی ہے اور روحانی سکون رخصت ہو جاتا ہے۔﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ [الرعد: ٢٨] ’’یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے‘‘۔
قرآنِ مجید نے واضح کیا ہے کہ دلوں کا چین صرف اللہ کے ذکر میں ہے، مگر بے نمازی اس خزانے سے خود کو محروم کر لیتا ہے، رفتہ رفتہ دل کی نرمی سختی میں بدل جاتی ہے، آنکھوں سے ندامت کے آنسو خشک ہو جاتے ہیں اور ایمان کی حرارت سرد پڑنے لگتی ہے۔
(۲) اخلاقی اثرات: نماز انسان کے لیے ایک مضبوط اخلاقی حصار ہے جو اسے بے حیائی، برائی اور گناہ کے راستوں سے روکے رکھتی ہے، جب یہ حصار ٹوٹ جاتا ہے تو نفس کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے، پھر جھوٹ سچ بننے لگتا ہے، بددیانتی ہوشیاری سمجھی جاتی ہے اور ظلم معمول کا عمل بن جاتا ہے۔
بے نمازی کے قول و عمل میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے، اس کا کردار وزن کھو بیٹھتا ہے اور اس کی شخصیت اعتماد سے خالی ہو جاتی ہے، کیونکہ جس دل میں اللہ کا خوف نہ رہے وہاں اخلاق کی بنیاد بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
(۳) نفسیاتی اثرات: نماز سکونِ قلب کا چشمہ ہے، بے نمازی بظاہر ہنستا مسکراتا نظر آتا ہے، مگر اس کے اندر ایک خلا، ایک بے نام سی بے چینی اور اضطراب پل رہا ہوتا ہے، دنیا کی کامیابیاں، مال و دولت اور تفریحی مشاغل بھی اس خلاء کو پُر نہیں کر پاتے، کیونکہ روح کو جس سکون کی طلب ہوتی ہے وہ صرف سجدے میں ہی ملتا ہے۔
جب نماز چھوٹتی ہے تو ضمیر کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے، گناہ پر شرمندگی کم ہو جاتی ہے اور انسان رفتہ رفتہ بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔
(۴) معاشرتی اثرات: بے نمازی کا اثر فرد سے نکل کر معاشرے تک پھیل جاتا ہے۔ جب ایک بڑی تعداد نماز سے غافل ہو جائے تو معاشرتی اقدار بھی دم توڑنےلگتے ہیں۔ امانت، دیانت، انصاف اور باہمی احترام جیسے اوصاف کمزور پڑ جاتے ہیں۔
نماز وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور اجتماعیت کا درس دیتی ہے، اس کے فقدان سے معاشرے میں بے ترتیبی، انتشار اور اخلاقی زوال جنم لیتا ہے، اور یوں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جو ظاہری ترقی کے باوجود باطنی طور پر کھوکھلا ہوتا ہے۔
(۵) آخرت کے اثرات: بے نمازی کا سب سے ہولناک اثر آخرت میں ظاہر ہو گا، احادیثِ نبویہ ﷺ کے مطابق قیامت کے دن سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں کیا جائے گا، اگر یہ بنیاد کمزور نکلے تو باقی اعمال کا وزن بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
یوں بے نمازی نہ صرف اپنی دنیا کی برکتوں سے محروم ہوتا ہے بلکہ اپنی آخرت کو بھی شدید خسارے میں ڈال دیتا ہے، اور یہ خسارہ ایسا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔
علاج اور عملی تجاویز:
(۱) محبت ِالٰہی کا احیاء : اللہ سے محبت کا درس دیا جائے، لوگوں کو بتایا جائے کہ نماز بوجھ نہیں بلکہ اپنے محبوب خالق سے ملاقات کا نام ہے، اس جذبے کو بیدار رکھنے کے لیے روزانہ نماز کی فضیلت و اہمیت پر مشتمل کتب کا مطالعہ ضرور کریں۔
(۲) گھر کو مسجد بنانا : والدین اپنے بچوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کریں، مائیں بھی نمازوں کی پابندی کریں اور باپ بھی نوافل گھر میں پڑھنے کی عادت ڈالیں، ساتھ ہی بچوں کی ترغیب کے لیے گھر میں ایک ’’نماز ڈائری‘‘ بنائی جائے جہاں بچے اپنی نمازوں کا ریکارڈ رکھیں اور ہفتے کے آخر میں انہیں چھوٹا موٹا انعام دیا جائے۔
(۳) تعلیمی اداروں کے ذریعے نماز کی عملی تربیت : سکولوں اور کالجوں میں ظہر کی نماز کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اساتذہ خود طلبہ کی صف میں کھڑے ہوں تاکہ’’عزتِ نفس‘‘ کے بجائے ’’بندگی‘‘ کا احساس پیدا ہو۔
(۴) مساجد کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت : امامِ مسجد مصلیان سے گہرے تعلقات بنائے اور ان کو مساجد سے جوڑے رکھنی کی کوشش کریں، وعظ ونصیحت کی مجالس اور دیگر جائز سرگرمیوں کے ذریعے مسجد کو نوجوانوں کے لیے کشش کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔
(۵) ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال : موبائل فون میں ایسے Alarmsاور Apps انسٹال کیے جائیں جو نہ صرف وقت بتائیں بلکہ نماز کی فضیلت کے پیغامات بھی دیں۔
خلاصہ: نماز دین کا ستون اور ایمان کی علامت ہے، اس کا قیام فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا ضامن ہے،بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک خطرناک رجحان ہے جسے روکنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں، ہماری نسلوں کو، والدین، اساتذہ اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے، ہمارے دلوں میں محبت و خشیت بھر دے، اور ہمیں سیدھے راستے پر ثابت قدم رکھے۔ آمین یا رب العالمین