Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شيخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ کے دروس سے مستفاد تقویٰ کے چند اہم فوائد (قسط اول)

    تقویٰ دین اسلام کا مغز، شریعت کی روح اور ایک مومن کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، یہی وہ صفت ہے جو ایمان میں جان ڈالتی ہے، عبادات کو روح عطا کرتی ہے، اخلاق کو نکھارتی ہے، اور بندے کو اپنے رب سے قریب کر دیتی ہے، تقویٰ وہ نورِ باطن ہے جو دلوں کو ظلمتِ غفلت سے نجات دیتا ہے اور بندے کو ہر لمحہ اللہ کی نگرانی کا احساس دلاتا ہے، یہی تقویٰ ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتا ہے، اطاعت الٰہی پر ابھارتا ہے، دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے، درحقیقت تقویٰ ایمان کا وہ معیار اور میزان ہے، جس پر بندے کا ہر قول و عمل پرکھا جاتا ہے۔
    تقویٰ کے لغوی معنیٰ بچنے اور پرہیز کرنے کے ہیں، جبکہ شرعی اصطلاح میں اس کی سب سے جامع اور بلیغ تعریف امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، آپ نے فرمایا: ’’الخوف من الجليل، والعمل بالتنزيل، والقناعة بالقليل، والاستعداد ليوم الرحيل‘‘۔ ’’تقویٰ سے مراد جلیل (اللہ) سے ڈرنا، قرآن کے مطابق عمل کرنا، تھوڑے پر راضی رہنا، اور رختِ سفر (موت) کے دن کے لیے تیاری کرنا‘‘۔
    [سبل الھدى والرشاد فی سیرۃ خیر العباد للصالحي:٤٢١/١]
    تقویٰ دل میں اللہ کے خوف اور احساسِ مراقبت کا نام ہے، جس کے باعث بندہ ہر اس قول و فعل سے بچتا ہے جو اللہ کو ناراض کرے، اور ہر اس عمل کی طرف لپکتا ہے جو اس کی رضا کا باعث ہو۔
    دنیوی زندگی میں تقویٰ رزق میں کشادگی، مشکلات سے نکلنے کی راہ، اور دل کے سکون و اطمینان کی ضمانت ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا. وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطلاق: ٢-٣] ’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔
    تقویٰ قیامت کے دن نجات کا ذریعہ اور جنت میں داخلے کا پروانہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ﴾ [القلم: ٣٤] ’’پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں‘‘۔
    قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسلام کے تمام ارکان درحقیقت تقویٰ کے عملی مظاہر ہیں:
    (۱) کلمۂ توحید اور تقویٰ: کلمۂ توحید’’لا إلٰه إلا الله‘‘ کو قرآن مجید میں کلمۃ التقویٰ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہی شرک سے بچنے اور عقیدہ کی درستگی کی بنیاد ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا﴾[الفتح: ٢٦] ’’اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوے کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے اہل اور زیادہ مستحق تھے‘‘۔
    (۲) نماز اور تقویٰ: نماز انسان کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے، جو تقویٰ کا عملی ثبوت ہے، اللہ تعالیٰ نے نماز کو تقویٰ سے یوں جوڑا ہے، فرمایا: ﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ. الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ [البقرة: ٢-٣] ’’اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے ۔ جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔
    (۳) روزہ اور تقویٰ: روزے کا اصل مقصد ہی تقویٰ کا حصول ہے: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ [البقرة: ١٨٣] ’’اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔
    (۴) زکوٰۃ اور تقویٰ: زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے اور تزکیۂ نفس کا ذریعہ ہے جو تقویٰ کا لازمی جزو ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى.الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ﴾[الليل: ١٧-١٨] ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا۔ جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے‘‘۔
    (۵) حج و قربانی اور تقویٰ: حج کے سفر میں بہترین توشہ تقویٰ قرار دیا گیا: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾﴿البقرة: ١٩٧﴾’’سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو‘‘۔
    نیز قربانی کے جانوروں کا گوشت یا خون نہیں، بلکہ دل کا تقویٰ اللہ کو پہنچتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ﴾[الحج : ٣٧]’’اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے‘‘۔
    سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۷ (جسے آیۃ البر کہا جاتا ہے) میں اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ، یوم آخرت، فرشتوں، کتابوں اور نبیوں پر کامل ایمان، اور انفاق فی سبیل اللہ، نماز، زکوٰۃ، ایفائے عہد اور صبر جیسی عظیم صفات بیان کرنے کے بعد فریایا:﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ﴾[البقرة: ١٧٧]’’یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں‘‘۔
    یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کمالِ ایمان اور اعمالِ صالحہ ہی درحقیقت تقویٰ کی بنیاد ہیں۔
    اسی طرح احسان جو کہ دین کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، تقویٰ کے ساتھ لازم و ملزوم ہے، تقویٰ محرمات سے بچنے کا نام ہے، اور احسان طاعات کو کامل ترین انداز میں بجا لانے کا، قرآن مجید نے ان دونوں کو اکٹھا ذکر کیا ہے:
    ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ﴾[النحل: ١٢٨] ’’یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے‘‘۔
    قرآن مجید میں تقریباً ستر چھوٹے بڑے اعمال کو تقویٰ سے جوڑا گیا ہے، جنہیں شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ نے اپنے ایک مختصر مگر نہایت مفید رسالے ’’فوائد التقوى من القرآن الكريم‘‘ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
    اسی کتاب کی شرح چند روز قبل شیخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ نے دروس کی شکل میں کی ہے، چنانچہ شیخ حفظہ اللہ کے انہی دروس سے مستفاد تقویٰ کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:
    (۱) تقویٰ قرآن سے ہدایت پانے کا ذریعہ ہے، اللہ نے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ﴾[البقرة: ٢]’’اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں، متقیوں و پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے‘‘۔جبکہ ایک دوسرے مقام پر اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ﴾[البقرة: ١٨٥]’’ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے‘‘۔
    پہلی آیت میں متقیوں کے لیے، جبکہ دوسری آیت میں لوگوں کے لیے کہا گیا، ان دونوں آیتوں میں آپس میں کوئی تعارض نہیں، کیونکہ اگرچہ قرآن مجید فی نفسہٖ تمام نوعِ انسانی کےلیے سرچشمۂ ہدایت ہے، لیکن ہر انسان اس سے ہدایت نہیں پاتا، بہت سے لوگ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں، اس سے فیض اٹھانے والے صرف اہلِ تقویٰ ہی ہیں، وہ اس کی ہدایات اور رہنمائی سے صحیح معنوں میں مستفید ہوتے ہیں اور انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔
    (۲) تقویٰ فلاح کے حصول کا سبب ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏﴾[البقرة: ٥] ’’یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں‘‘۔
    فلاح کیا ہے؟ اہلِ علم فرماتے ہیں کہ لفظِ فلاح دنیا اور آخرت کی تمام تر بھلائیوں کو سمیٹنے والا سب سے جامع لفظ ہے، یعنی اہلِ تقویٰ ہی دنیا اور آخرت کی تمام تر بھلائیوں کو سمیٹنے والے ہیں۔
    (۳) تقویٰ نصیحتوں کو قبول کرنے کی بنیاد ہے، کیونکہ تقویٰ سے سرشار دل ہی درحقیقت وہ دل ہیں جو نصیحتوں کو سن کر لرز اٹھتے ہیں، ان کا ان پر گہرا اثر ہوتا ہے، لہٰذا نصیحتوں اور مواعظ سے اصل فائدہ اہلِ تقویٰ ہی اٹھاتے ہیں، جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿فَجَعَلۡنٰهَا نَكٰلاً لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهَا وَمَا خَلۡفَهَا وَمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ‏﴾ [البقرة: ٦٦] ’’اسے ہم نے اگلوں پچھلوں کے لئے عبرت کا سبب بنادیا اور پرہیزگاروں کے لئے وعظ و نصیحت کا‘‘۔
    (۴) تقویٰ علم میں اضافے کا سبب ہے، شیخ رحمہ اللہ کی یہ عبارت نہایت دقیق ہے، انہوں نے کہا کہ یہ علم میں اضافہ کے اسباب میں سے ہے، یہ نہیں کہا کہ علم کے اسباب میں سے ہے، کیونکہ علم تقویٰ پر مقدم ہے، جیسا کہ قدیم مقولہ ہے:’’جو جانتا ہی نہ ہو کہ کن چیزوں سے بچنا ہے، وہ بھلا تقویٰ کیسے اختیار کرے گا‘‘؟
    یعنی جس کے پاس علم نہیں، وہ تقویٰ اختیار ہی نہیں کر سکتا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاعۡلَمۡ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِكَ﴾ [محمد: ١٩]’’سو (اے نبی !) آپ یقین کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں‘‘۔
    یعنی علم، قول و عمل سے پہلے ہے، انسان اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک اسے معلوم نہ ہو کہ کن باتوں سے بچنا ضروری ہے۔چنانچہ معلوم یہ ہوا کہ تقویٰ علم میں اضافہ کا سبب ہے، کیونکہ جو شخص موجودہ تقویٰ کے ذریعہ اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے علم کے دروازے کھول دیتا ہے، اس کا سینہ کشادہ کر دیتا ہے، اس کے دل میں اہلِ علم کی مجالس سے محبت اور حصولِ علم کے مواقع میں رغبت پیدا کر دیتا ہے، وہ اپنے وقت کو سیکھنے اور سکھانے میں بہتر استعمال کرتا ہے، گویا تقویٰ حصولِ علم میں اس کا بہترین مددگار بن جاتا ہے۔
    اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ محض تقویٰ سے علم انسان پر انڈیل دیا جاتا ہے، جیسا کہ بعض صوفی حضرات دعویٰ کرتے ہیں، وہ نہ تو علم سیکھتے ہیں، نہ دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، نہ علمی مجالس میں شرکت کرتے ہیں اور نہ ہی دین کا فہم حاصل کرتے ہیں، اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ متقی ہیں اور محض تقویٰ سے انہیں علمِ لدني (بلا واسطہ علم) حاصل ہوجائے گا، وہ اس آیتِ کریمہ: ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ﴾ [البقرة: ٢٨٢] ’’اللہ سے ڈرو اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے‘‘۔ سے غلط استدلال بھی کرتے ہیں، جبکہ اگر آیت کا مفہوم وہی ہوتا جو وہ سمجھتے ہیں، یعنی بغیر اسباب اپنائے محض تقویٰ اختیار کرنے سے علم خود بخود حاصل ہو جاتا ہے، تو فعل ’’يُعَلِّمُكُمُ‘‘ مجزوم آتا (جوابِ شرط کے طور پر)، لیکن یہاں پر مرفوع آیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ تقویٰ ہرگز علم کے حصول کے اسباب کو ترک کرنے کا نام نہیں۔
    اس آیت سے دراصل یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو نرم اور اسے علم کے لیے آمادہ و منشرح کر دیتا ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے:’’إنَّما العِلمُ بالتَّعَلُّمِ‘‘۔’’علم تو سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے‘‘۔[السلسلة الصحيحة:٣٤٢]
    لہٰذا علم کا حصول اسباب اپنانے سے مشروط ہے، اور اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ علم بغیر کسی سبب کے اپنائے محض تقویٰ سے ایک دم انسان پر انڈیل دیا جائے گا۔
    (۵) تقویٰ دشمن کے مکر و فریب سے حفاظت کا سبب ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡــئًا﴾ [آل عمران: ١٢٠] ’’تم اگر صبر کرو اور پرہیزگاری کرو تو ان کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہ دے گا‘‘۔
    اللہ تعالیٰ دشمنوں کی سازشوں کو باطل کر دیتا ہے بشرطیکہ بندہ سچے دل سے اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔
    (۶) صبر اور تقویٰ انسان کے عزم و ثابت قدمی کی علامت ہیں، یعنی تقویٰ جب صبر کے ساتھ مل جاتا ہے، تو یہ انسان کے اندر پختہ ارادہ، استقامت اور نیکیوں پر ہمیشگی کا جذبہ پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
    ﴿وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ﴾[آل عمران: ١٨٦] ’’اور اگر تم صبر کرلو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقیناً یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے‘‘۔
    عزم کی پختگی کا ہونا بندے کی زندگی میں بہت اہم ہے، جیسا کہ دعائے ماثورہ میں’’العزيمة على الرشد‘‘ (راہِ راست پر چلنے کا پختہ عزم) کا ذکر آیا ہے، شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’اللَّهمَّ إنِّي أسألُكَ الثَّباتَ في الأمرِ والعزيمةَ على الرُّشدِ‘‘۔’’اے اللہ! میں ہر طرح کے نیک معاملات میں تجھ سے ثابت قدمی اور راست روی میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں‘‘۔[هداية الرواة:٩١٥ صحيح لغيره]
    کتنے ہی معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان کی بھلائی ہوتی ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو ان پر عمل کرنے کی قوت نہیں پاتا، اسے پورا یقین ہوتا ہے کہ اگر اس نے وہ کام کر لیا تو اسے بہت بڑی بھلائی حاصل ہوگی، لیکن اس کا عزم کمزور پڑ جاتا ہے، بعض اوقات کچھ لوگ کوئی بات سنتے ہیں، اس سے متاثر ہوتے ہیں، وہ انہیں اچھی لگتی ہے، پھر دو چار دن اس پر عمل بھی کرتے ہیں، پھر رک جاتے ہیں اور نیکی کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ ارادہ اور ہمت کی کمزوری ہے، چنانچہ معلوم ہوا کہ بندہ اس دعا’’العزيمة على الرشد‘‘ کا کس قدر محتاج ہے، اور تقویٰ ہی وہ قوت ہے جو انسان کے عزم کو مضبوط کرتی ہے اور نیکیوں پر استقامت برتنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔
    جاری ………

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings