-
خاندان میں شادی کرنے کے فوائد میاں بیوی کا رشتہ تار عنکبوت کے جیسا کمزور ہوتا ہے۔ اس رشتے کو بحسن و خوبی نبھانا غیر معمولی کمال ہے جو ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا ہے۔ اسی لیے طلاق و خلع کی شرح میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ میاں بیوی کے رشتے کے کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دونوں الگ الگ ماحول میں پلے بڑھے ہوتے ہیں، دونوں کے مکروہات، محبوبات، اصول حیات، نظریات و خیالات میں بعد المشرقین ہوتا ہے۔ اگر اس کمزوری کو ختم کردیا جائے تو بہت حد تک طلاق و خلع کے امکانات کم ہو جائیں۔ اور خاندان میں شادی کرنا اس وجہ کمزوری کو ختم کر دیتا ہے۔ دونوں میاں بیوی جب ایک ہی خاندان کے ہوں گے تو دونوں کے طرز زندگی، اور پسند نا پسند میں حد درجہ یکسانیت ہوگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ معاشی اور معاشرتی حیثیت بھی ایک ہو، جو دونوں کے رشتوں کے درمیان مضبوطی کی وجہ بن سکتی ہے۔
خاندان میں شادی کرنے کے بہت سارے فوائد ہیں چند فوائد درج ذیل ہیں۔
پہلا فائدہ :
خاندان میں شادی کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ رشتہ تلاش کرنے کی نوبت نہیں آتی ہے۔ موجودہ زمانے میں کہ جب یک زوجگی کا رواج ہے رشتے آسانی سے نہیں ملتے ہیں اس کے لیے دوڑ دھوپ کرنی پڑتی ہے۔ بے چاری مائیں پریشان ہو جاتی ہیں جہاں کہیں دو چار عورتوں کا اجتماع ہوتا ہے رشتے کی بات چلا دیتی ہیں۔ بسا اوقات رشتے تلاش کرنے میں ہی کئی مہینے صرف ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ رشتے تلاش کرکے شادی کرانا باقاعدہ ایک پیشہ بن گیا ہے۔ لیکن خاندان میں شادی کرنے کی صورت میں یہ مشکل مرحلہ آسان ہو جاتا ہے۔
دوسرا فائدہ :
خاندان میں شادی کرنے کی صورت میں شادی کے اخراجات میں کمی آ جاتی ہیں۔ صرف خاندان والوں کو کھانا کھلانا ہوتاہے جب کہ خاندان سے باہر شادی کرنے کی صورت میں خاندان والوں کے ساتھ بارات میں آنے والوں کو بھی کھانا کھلانا پڑتا ہے۔
تیسرا فائدہ :
بچوں کی پیدائش پر ان کے عقیقے کے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں۔ صرف خاندان والوں کو کھانا کھلانا ہوتا ہے۔
چوتھا فائدہ :
میاں بیوی کے درمیان بدگمانی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں کیوں کہ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کی خصلت و کردار سے واقف ہوتے ہیں۔
پانچواں فائدہ :
دوہرا رشتہ ہونے کی بنا پر خاندان کے آپسی تعلقات مضبوط اور خوشگوار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک لڑکا اپنی چچا زاد بہن سے شادی کرتا ہے تو اس کی چچا زاد بہن اس کی بیوی بن جاتی ہے اس کے چچا زاد بھائی اور بہن اس کے سالے اور سالیاں بن جاتی ہیں اور وہ ان کا بہنوئی بن جاتا ہے۔ اور اس لڑکے کا چچا اس کا سسر اور وہ اپنے چچا کا داماد بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے تعلقات اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔
خصوصاً خاندان میں شادی کرنا اس وقت بہت ضروری ہو جاتا ہے جب خاندان کا کوئی ایک شخص خاندان کے دوسرے شخص سے اپنا رشتہ جوڑنا چاہتا ہو۔ اور رشتہ نہ جوڑنے پر ناراض ہو جاتا ہو۔ ایسی صورت میں اس رشتے کو منع کرکے، ان سے رشتہ توڑ کر خاندان سے باہر رشتہ جوڑنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔
چھٹا فائدہ :
پیدا ہونے والے بچوں کو ڈھیر سارا پیار ملتا ہے مثال کے طور پر ایک لڑکا اپنی چچا زاد بہن سے شادی کرتا ہے تو ان سے پیدا ہونے والا بچہ اس لڑکے کے چچا کا نواسہ ہوگا اس کے چچا زاد بھائی بہنوں کا بھانجہ ہوگا اس کے بر خلاف ایک لڑکا اپنی چچا زاد بہن کے علاوہ کسی دوسری لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اس کے بچے کا اس لڑکے کے چچا سے یا اس کے چچا زاد بھائی بہنوں سے کوئی خاص رشتہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایک لڑکا اپنی پھوپھی زاد بہن سے شادی کرتا ہے تو ان سے پیدا ہونے والا بچہ اس لڑکے کی پھوپھی کا نواسہ ہوگا اور پھوپھی زاد بھائی بہنوں کا بھانجہ ہوگا اور پھوپھی زاد بہن سے شادی نہ کرنے کی صورت میں اس سے پیدا ہونے والا بچے کا اس کی پھوپھی سے کوئی خاص رشتہ نہیں ہوگا۔ دیگر دوسرے رشتوں کو اسی پر قیاس کر سکتے ہیں۔
ساتواں فائدہ :
خاندان میں شادی کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ شادی کے بعد بھی (عموماً) لڑکی کو اپنے والدین سے دور نہیں جانا پڑتا ہے اور شادی کے بعد بھی ماں باپ کی خدمت کا اس کے پاس موقع ہوتا ہے۔ اور اس کے بچوں کو نانا نانی اور ماموؤں کا پیار بھی ملتا ہے۔
آٹھواں فائدہ :
ایک ہی خاندان کے ہونے کی وجہ سے ان کی تہذیب و ثقافت، عادات و اطوار، پسند نا پسند، سونے جاگنے کے اوقات، پہننے اوڑھنے اور رہنے سہنے کے طریقے قدرے مشترک ہوتے ہیں اس لیے ان کی بنیاد پر ہونے والے آپسی نزاع اور ناچاقیوں کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
نواں فائدہ :
بہنوں کو وراثت میں حصہ ملتا ہے ۔بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کی ایک وجہ بھائیوں کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ ایسی صورت میں ہمارا مال خاندان کے باہر چلا جائے گا، خاندان میں شادی کرنے کی صورت میں یہ خدشہ ختم ہو جاتا ہے۔
دسواں فائدہ :
طلاق کے امکانات کم ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر ایک لڑکا اپنی چچا زاد بہن سے شادی کرتا ہے تو اس کا چچا اس کا سسر بن جاتا ہے اس طرح وہ طلاق دینے سے پہلے اپنے چچا کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوگا اور ممکن ہے چچا کے احترام میں اس کی بیٹی کو طلاق دینے سے باز آ جائے، جب کہ دوسری لڑکی سے شادی کرنے کی صورت میں یہ بات نہیں ہوگی۔ اسی طرح اس کی بیوی اس کے باپ کی بہو ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی بھتیجی بھی ہوگی جس کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کو اپنی بھتیجی کو طلاق دینے سے روکنے کی کوشش بنسبت اس صورت کے زیادہ کرے گا کہ جس صورت میں اس کی بہو صرف اس کی بہو ہوتی ۔دوسرے رشتوں کو اسی پر قیاس کرسکتے ہیں۔
گیارہواں فائدہ :
بہو اور ساس سسر کے درمیان کی ناچاقیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک لڑکا اپنی چچا زاد بہن سے شادی کرتا ہے تو اس لڑکے کی بیوی اس کے باپ کی بھتیجی ہوگی اور اس لڑکے کی ماں اس کے بیوی کی بڑی ماں ہوگی ایسی صورت میں وہ لڑکی ساس سسر کی خدمت کے حکم کا سہارا لے کر ان کی خدمت سے جی نہیں چرائے گی۔
بارہواں فائدہ :
خاندان میں پہلے سے بگڑے رشتے سنور جاتے ہیں مثال کے طور پر دو سگے بھائیوں کے درمیان قطع تعلقی اور ترک کلامی ہو اور دونوں کے بچے آپس میں شادی کرنے پر بضد ہو جائیں تو ان کی خوشی کے خاطر دونوں بھائیوں کو اپنے تعلقات کو خوش گوار بنانا پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں خصوصاً خاندان کے بڑے بزرگ کو سمجھ بوجھ دکھانی چاہیے اور اپنے پوتے پوتیوں کی شادی کرا دینی چاہیے تاکہ اس کے اپنے بیٹوں کے بگڑے تعلقات سنور سکیں۔