Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • نماز جنازہ میں اعلان کی شرعی حیثیت قسط:اول

    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف المرسلين محمد وعلى آله وصحبه اجمعین۔
    موت سے کسی کو مفر نہیں اور یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جو کسی لمحہ بھی انسان کو دامن گیر ہو سکتی ہے لہٰذا عقل مند ودانش کا مالک وہی شخص ہے جو ہر وقت نیک عمل کرتا رہتا ہے اور بدعات ومحرمات سے کنارہ کش ہوکر موت کے لیے مستعد رہے ۔
    اور میت کے اقرباء پر لازم ہے کہ موت پر صبر کریں اور انا للہ وإنا إلیہ راجعون پڑھیں۔[البقرہ:155،156، 157 صحیح البخاری:1283]
    عربی زبان میں موت کی اطلاع دینے یا اعلان کرنے کے لیے لفظ ’’نعی‘‘ کا استعمال ہوتا ہے ۔ [القاموس المحیط : ص: 1726، والنہایۃ لابن الکثیر:5/85-86]
    ’’نعی‘‘ کی تعريف: نعی جس کا معنیٰ موت کی خبر دینا ہوتا ہے اور نعی کی متعدد اقسام ہیں ان میں سے بعض نعی منع ہے اور بعض نعی جائز ہے ۔
    امام ابو عيسیٰ محمد الترمذي(المتوفی:۲۷۹ ـ) فرماتے ہیں کہ :’’والنعي عندهم أن ينادى في الناس أن فلاناً مات ليشھدوا جنازته‘‘. ”ان کے ہاں نعی ( فوتگی کا اعلان ) یہ تھاکہ لوگوں میں اسی شخص کی فوتگی کا اعلان کرنا تاکہ لوگ اس کے جنازے ميں شرکت کرسکيں“۔ [سنن ترمذی:985]
    ’’نعی‘‘ کے اقسام: علماء کرانے نے نعی کو بنیادی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا ہے ۔
    (۱) حرام نعی (۲)مکروہ نعی (۳)جائز نعی
    حرام نعی کی تعریف: زکریا الانصاری فرماتے ہیں کہ :’’وهو الذي يكون كنعي أهل الجاهلية، القائم على النداء بذلك في المحافل العامة مع ذكر مفاخر الميت ومآثره ، أو أن يصاحبه نحيب أو عويل أو جزع”. ” اہل جاہلیت کی طرح عوامی محفلوں میں میت کی خوبیاں اور حسب نسب ذکر کیا جائے، اور اس کے ساتھ جزع فزع اور بین بھی شامل ہو“۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حاشيہ: [الجمل على المنھج لزكريا الأنصاري:3/687]
    اسی طرح سے شیخ مقبول احمد سلفی داعی اسلامک دعوۃ سنٹرشمالی طائف مسرہ سعودی عرب فرماتے ہیں کہ : ” ممنوع نعی وہ ہے جو جاہلیت کا طریقہ تھاکہ زمانۂ جاہلیت میں جب کوئی مرجاتا تو ایک آدمی کسی جانور پر سوار ہوکرگلی کوچوں میں گھوم گھوم کر اور چیخ چیخ کر اس کی موت کا اعلان اور تشہیر کرتا، نوحہ خوانی کرتا،میت کی خوبیاں اور اس کے فضائل ومناقب ذکرکرتا“۔(حوالہ :مسجد کے لاؤڈ اسپیکرسےمیت کا اعلان کرنا ،اسی مضمون سے منقول ہے)
    مکروہ نعی کی تعریف: مکروہ نعی یہ ہے کہ فوتگی کی خبر بلند آوازیں لگا کر دیں تا ہم اس میں میت کی خوبیوں اور حسب نسب کا ذکر نہ ہو۔
    جائز نعی کی تعریف: وفات پانے والے مسلمان شخص کا اعلان کرنا تاکہ لوگ جنازہ اور اس کی تجہیز وتکفین میں شریک ہوسکیں۔
    اسی طرح سے اگر کوئی مسلمان شخص وفات پاجائے تو مسجد کے لاؤڈاسپیکر سے اعلان کرنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔ کیونکہ مسجد کے لاؤڈاسپیکر سے اعلان کرنے کا مقصد میت کے جنازہ اور اس کی تجہیز وتکفین کی خبر دینا ہوتا ہے اور یہ درست ہے ۔ کیونکہ نعی کی یہ آخری قسم صحیح احادیث نبویہ سے ثابت اور جائز ہے، جیسے کہ نبی ﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر دی، اور اسی طرح جنگ موتہ کے شہدا اور دیگر لوگوں کی وفات کی اطلاع دی۔
    وفات کی اطلاع دینا (یا اعلان کرنا) سنت ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
    ” ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کريمﷺ نے نجاشی کی موت کا اعلان اسی دن کيا جس دن اس کی موت ہوئی تھی، اور وہ انہیں لے کر جنازگاہ میں گئے اور صفيں بنا کر اس کے جنازہ پر چار تکبیریں کہیں“۔
    [صحيح البخاري:1295]
    وفي رواية للبخاري :’’نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ يَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ‘‘۔
    ’’اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ : ”ہمیں رسول کریم ﷺ نے حبشہ والے نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ فوت ہوا، اور فرمایا : ”اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو“۔
    [صحيح البخاري:3880]
    فائدہ: امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ مسلم کی شرح ميں فرماتے ہیں کہ :
    “فِيهِ: اِسْتِحْبَاب الإِعْلام بِالْمَيِّتِ لا عَلَى صُورَة نَعْي الْجَاهِلِيَّة، بَلْ مُجَرَّد إِعْلَام للصَّلَاة عَلَيْهِ وَتَشْيِيعه وَقَضَاء حَقّه فِي ذَلِكَ، وَاَلَّذِي جَاءَ مِنْ النَّهْي عَنْ النَّعْي لَيْسَ الْمُرَاد بِهِ هَذَا، وَإِنَّمَا الْمُرَاد نَعْي الْجَاهِلِيَّة الْمُشْتَمِل عَلَى ذِكْر الْمَفَاخِر وَغَيْرهَا ” .
    ”اس حديث ميں فوتگی کی خبر دينےکا استحباب ہے، ليکن یہ اس طریقہ پر نہیں جو جاہلیت میں تھا، بلکہ صرف اس کی نماز جنازہ کی ادائیگی اور اس کا حق اد اکرنےکے لیے، اور جس نعی کی نہیوارد ہوئی ہے اس سے یہ مراد نہیں ، بلکہ اس سے دور جاہلیت میں فوتگی کے اعلان کا طريقہ ہے، جو مفاخرہ وغیرہ پر مشتمل تھا“۔
    [شرح مسلم للإمام النووي : 7 / 21]
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَجُلًا أَسْوَدَ أَوْ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ ، فَمَاتَ ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَقَالُوا : مَاتَ . قَالَ : أَفَلا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ؟! دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ أَوْ قَالَ قَبْرِهَا ، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا.
    ابو ہريرہ رضی اللہ تعالی عنہ بيان کرتے ہيں کہ ایک سياہ مرد يا عورت مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا تو وہ فوت ہوگيا، نبی کریم ﷺ نے ا س کے متعلق دريافت کیا تو صحابہ کہنے لگے: وہ فوت ہو گيا ہے، تو رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”تم نے اس کے متعلق مجھے کیوں نہ بتايا؟! مجھے اس کی قبر بتاؤ یا فرمايا: اس عورت کی قبر بتاؤ، تو رسول كريم ﷺکواس کی قبر بتايا گيا تو آپ ﷺ نے قبر پر نماز جنازہ پڑھی“۔
    [صحيح البخاري: 458]
    فائدہ(1): شیخ محمد صالح المنجد فرماتے ہیں کہ :
    “وهذان الحديثان ظاهران في إباحة الإعلام بالموت لأجل الصلاة ، والدعاء له ، بل هما دالان على الاستحباب ، ولأن ذلك وسيلة لأداء حقه من الصلاة عليه واتباع جنازته”.
    ”مندرجہ بالا دونوں حديثیں نماز جنازہ اور اس کے دعائے استغفارکے لیے وفات کا اعلان کرنے کے استحباب پر ظاہری دلالت کر رہی ہیں، بلکہ یہ استحباب پر دلالت کرتی ہیں، اوراس لیے بھی کہ یہ اس کا حق نماز جنازہ کی ادائيگی اور جنازہ کے ساتھ جانے کے لیے وسيلہ ہے“۔
    (اسلام سوال وجواب نمبر : 6008)
    فائدہ(2): شیخ عبدالولی عبدالقوی حفظہ اللہ داعی مکتب دعوۃ توعیۃ جالیات الحائط سعودی عرب فرماتے ہیں کہ : ”مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شرعی طریقہ سے کسی کے وفات کی خبر دینا جائز، بلکہ مستحب ہے، تاکہ نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوسکیں اور میت کے لیے دعائے رحمت و مغفرت کر سکیں “۔
    چنانچہ ایک ساتھی دوسرے ساتھی کو خبر دے، یا جدید وسائل موبائل فون فیس بُک، یا واٹس اپ گروپس کے ذریعہ اطلاع دے دی جائے یا مسجد کے لاؤڈسپیکر سے اعلان کر دیا جائے، ان سبھی شکلوں میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(مسائل جنازہ پر ایک تحقیقی جائزہ : ص 108)
    عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ.
    انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیںکہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو زید، جعفر، اور ابن رواحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی موت خبر اس وقت دی جبکہ ان کی موت کی خبر پہنچی نہ تھی، رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ” جھنڈا زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکڑا تو وہ شہید ہوگئے، اور پھر جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکڑا تو وہ بھی شہيد ہو گئے، اور پھر ابن رواحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکڑا تو وہ بھی شہيد ہو گئے، اور نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں ميں سے ايک تلوار نے پکڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر فتح نصيب فرمائی“۔
    [صحیح البخاري: 4262]
    فائدہ: معلوم ہوا کہ لوگوں کو موت کی خبر دینا سنت ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے لوگوںکو زید، جعفر، اور ابن رواحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی موت کی خبر اس وقت دی جبکہ ان کی موت کی خبر پہنچی نہ تھی جیساکہ حدیث موجود ہے ۔ اور اسی طرح سے نماز جنازہ کے علاوہ کسی اور مصلحت کے لیے فوتگی شخص کے لیے اعلان کرنا جائز ہے ۔
    وفات کی اطلاع دینے والے کو چاہیے کہ لوگوں کو میت کے لیے استغفار کرنے کی تلقین کرے:
    عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ :’’أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ،حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ‘‘.
    انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہيںکہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو زید، جعفر، اور ابن رواحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو موت کی خبر اس وقت دی جبکہ ان کی موت کی خبر پہنچی نہ تھی، رسول کریم ﷺ نے فرمايا: ” جھنڈا زيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکڑا تو وہ شہيد ہوگئے، اور پھر جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکڑا تو وہ بھی شہيد ہو گئے، اور پھر ابن رواحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکڑا تو وہ بھی شہيد ہو گئے، اورنبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں ميں سے ايک تلوار نے پکڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر فتح نصيب فرمائی“۔
    [صحیح البخاري 4262]
    فائدہ: مذکورہ بالا حدیث میںنبی کریم ﷺنے ان تین صحابہ کی شہادت کا اعلان کيا، اور یہ اعلان ان کی نماز جنازہ کے لیے نہ تھا، بلکہ مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کی خبر دينا اور جوکچھ ان کے ساتھ ميدان جہاد میں بیت رہا تھا وہ بتانا مقصود تھا۔ تو اس بنا پر ہر صحيح مقصد اور غرض کے لیے فوتگی شخص کا اعلان کرنا جائز ہے، مثلاً اس کے لیے دعائے استغفار، يا تحليل وغيرہ کے لیے۔
    [نھايۃ المحتاج : 3 / 20 ]
    جاہلیت کے طریقہ پر موت کا اعلان کرنا جائز نہیں ہے:
    حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
    ’’إِذَا مِتُّ فَلَا تُؤْذِنُوا بِي إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ‘‘.
    ”جب میرا انتقال ہو جائے، تو میری موت کا اعلان نہ کرنا، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ نعی میں داخل نہ ہوجائے، کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نعی سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے “۔
    [إسناده حسن، سنن الترمذي : 986]
    حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    ’’إِيَّاكُمْ وَالنَّعْيَ ؛ فَإِنَّ النَّعْيَ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ “. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ‘‘.
    [حسن أنظر السابق: رواه الترمذي في سننه : 984 و 985]
    فائدہ(1): حافظ ابن حجر العسقلانی( المتوفی: 852) فرماتے ہیں کہ :
    ’’النَّعْي لَيْسَ مَمْنُوعًا كُلّه , وَإِنَّمَا نُهِيَ عَمَّا كَانَ أَهْل الْجَاهِلِيَّة يَصْنَعُونَهُ فَكَانُوا يُرْسِلُونَ مَنْ يُعْلِن بِخَبَرِ مَوْت الْمَيِّت عَلَى أَبْوَاب الدُّور وَالأَسْوَاق‘‘.
    ”ہر قسم کی نعی اور فوتگی کا اعلان ممنوع نہیں ہے، بلکہ وہ نعی اور اعلان ممنوع ہے جو اہل جاہليت کرتے تھے، کہ لوگوںکے گھروں کے دروازوں اور بازاروں میں جاکر فوتگی کا اعلان کرتا“ ۔
    [فتح الباری : 3 / 116]
    فائدہ :(2) امام یحییٰ بن شرف النووی(المتوفی : 676 ھـ) فرماتے ہیں کہ : ” وہ گھوم گھوم کر میت کے محاسن ومفاخر کو بیان کرتے اور پھر اس کے موت کی خبر دیتے، یہ طریقہ حرام، دور جاہلیت کا طریقہ ہے، جس سے اسلام نے منع کیا ہے “۔[المجموع للنووی : 5 / 216]
    فائدہ (3) شیخ محمد عبد الرحمن مبارکپوری (1353ھـ) فرماتے ہیں کہ :
    ’’الظَّاهِرُ أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ بِالنَّعْيِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَعْنَاهُ اللُّغَوِيَّ وَحَمَلَ النَّهْيَ عَلَى مُطْلَقِ النَّعْيِ. وَقَالَ غَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنَّ الْمُرَادَ بِالنَّعْيِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ النَّعْيُ الْمَعْرُوفُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ‘‘.
    ” ظاہر یہی ہوتا ہےکہ حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث میں نعی سے مراد لغوی معنیٰ ليا ہے، اور اسے مطلقاً نعی پر محمول کیا ہے ۔ اوران کے علاوہ دوسرے اہل علم کا کہنا ہے کہ: اس حديث میں نعی اور فوتگی کے اعلان سے مراد جاہليت والی نعی ہے “۔
    [تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي : 4 / 51]
    فائدہ(4): شیخ عبدالولی عبدالقوی حفظہ اللہ داعی مکتب دعوۃ توعیۃ جالیات الحائط سعودی عرب فرماتے ہیں کہ : ” میت کے محاسن ومفاخر کو بیان کرکے یا نوحہ وماتم اور شورو واویلا کے ساتھ موت کا اعلان کرنا حرام ہے، یہ دور جاہلیت کا طریقہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے“۔(مسائل جنازہ پر ایک تحقیقی جائزہ: ص:111)
    جاری…….

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings