-
علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ ۔محاضرہ نمبر(۵) معارف ابن تیمیہ کی عصری معنویت اور استفادے کے طریقے:(پہلی قسط)
نوٹ : علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ کی یہ پوری گفتگو شیخ ثناء اللہ صادق تیمی حفظہ اللہ کے ساتھ سلسلہ وار لائیو ہو نے والے پروگرام سے نقل کی گئی ہے ، اس پروگرام کی ترتیب یہ تھی کہ شیخ ثناء اللہ تیمی حفظہ اللہ شیخ سے سوال کرتے پھر شیخ اس کا مدلل جواب دیتے ، یہ پوری گفتگو تقریباً ایک گھنٹہ کی ہے جوآج بھی یوٹیو ب پر موجود ہے ، افادہ عامہ کے پیش نظر اسے تحریری شکل میں نشر کیا جارہا ہے۔
آج کے زمانہ کے تناظر میں ہم ابن تیمیہ کی اہمیت کس طریقہ سے سمجھ سکتے ہیں بطور خاص طلبہ کے لیے ؟
دیکھئے یہ ایک اہم سوال ہے اور سب سے پہلے یہی سوال ہونا بھی چاہیے، اور اس طریقہ کا سوال ہونا بھی چاہیے ، اس طرح کا ایک سوال ابن تیمیہ کے ایک بہت مشہور ماہر امریکہ کے اندر ہیں(Jon Hoover)(جون ہوفر)(۱) ان سے بھی کیا گیا تھا ،پانچ سات منٹ کی کلپ ہے جو یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔
Why Study Ibn-e-Taymiyya
’’کہ ابن تیمیہ کو کیوں پڑھیں‘‘؟ تو اس نے بہت اچھے جوابات دئے اور بہت سے نمایاں جوانب کی نشان دہی کی ہے ۔میں چند پوائنٹس کی طرف اشارہ کروں گا۔
ابن تیمیہ رسول اللہ ﷺکی بعثت سے لے کر کے اب تک اگر دیکھا جائے اور اسلامی تاریخ کو اگر دو حصوں میں تقسیم کیاجائے ،تو نصف اول میں جتنے رجحانات، فکر ی وعقائدی اختلافات پیدا ہوئے اور جو کچھ علمی ذخیرہ وجود میں آیا ،مختلف مذاہب کی تشکیل ہوئی ،عقائد کے باب میں ،فقہ کے باب میں ،تصوف کے باب میں ،تو ان سب کی تنقیح کرنے اور ان کا جائزہ لینے اور ان سے متعلق جو صحیح اسلامی تعلیمات ہیں ان کو پیش کرنے کے لیے ابن تیمیہ کو ایک طریقہ سے نمونہ کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے،بلکہ علامہ شبلی نے یہاں تک لکھا ہے کہ ابن تیمیہ کو پڑھ کرکے غزالی اور رازی سب ہیچ نظر آئے ،سید سلیمان ندوی نے حیات شبلی میں یہاں تک لکھا ہے کہ علامہ شبلی ابن تیمیہ سے آخر میں اس قدر متأثر تھے کہ وہ کہتے تھے کہ ابن تیمیہ مجھے انگلی پکڑ کر جس طرف لے جانا چاہیں میں جانے کے لیے تیار ہوں ۔ تو یہ ایک پہلو ان کی وسعت معلومات اور شمولیت اور سارے افکارات و خیالات کا تنقید ی جائزہ کا ہے ،اس لحاظ سے اگر ابن تیمیہ کو دیکھیں تو اس طریقہ سے سارے پہلوؤں پر کام کرنے والی کوئی اور شخصیت نہیں ملے گی ،ممکن ہے بعض پہلوؤں پر کام کرنے والے لوگ مل جائیں لیکن سارے پہلوؤں پر مشکل ہے ،مثلاً میں کہوں قرآن مجید کی تفسیر آپ کو پڑھنی ہے ،توجن مشکل آیتوں کے متعلق مفسرین نے اختلاف کیاہے ،تو ابن تیمیہ نے کہیں نہ کہیں ضرور ان پر گفتگو کی ہوگی،او روہ بہت سی جگہ ایک طرح سے مشکلات حل کردینے والے ہوتے ہیں ،بقیہ انہوں نے ایسی ہی آیتوں کی تفسیر ہی کی ہے ، ایک کتاب چھپی ہے’’تفسیر آیۃ اشکلت ‘‘ (۲)۔ ان سے لوگوں نے پوچھا ایک پوری تفسیر آپ کیوں نہیں لکھ دیتے ،تو انہوں نے کہا کہ قرآن کی بہت سی آیتیں بالکل واضح ہیں ،ان کی تفسیر کی ضرورت نہیں ہے ، جو مشکل آیتیں ہیں ان پر تفسیر لکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح حدیث سے متعلق دیکھ لیجئے ، جن حدیثوں سے متعلق معرکۃ الآراء بحثیں ہیں ، اور جن حدیثوں کو سمجھنے کے لیے سارے شراح حدیث کے شروحات کام نہیں دیتے ہیں ،ابن تیمیہ کے یہاں ان حدیثوں کو پڑھئے ۔’’انما الاعمال بالنیات‘‘(۳) والی حدیث کی شرح پر ابن تیمیہ کو پڑھئے ، ایسی چیزیں ان کے یہاں ملیں گی جو اور وں کے یہاں آپ کو نہیں ملیں گی ۔(۴)
تیسری چیز یہ کہ فقہی مسائل کے سلسلہ میں جو اختلافات ہیں ،اس سلسلہ میں انہوں نے یہ کیا بغیر کسی تعصب کے گرچہ ان کی نشو نما حنبلی فقہ پر ہوئی تھی ،بعد میں جب وہ مصر گئے اور وہاں فقہ حنبلی کے علاوہ دوسرے مکاتب فکر کے ماننے والے لوگوں کو انہوں نے پایا ،شافعی ہیں، مالکی ہیں، حنبلی ہیں ،تو اب انہوں نے دیکھا کہ شریعت اسلامیہ کے سلسلہ میں گفتگو کرنی ہے تو بجائے اس کے کہ کسی خاص مکتب فکر سے وابستہ ہوکرکے گفتگو کریں ، اسی لیے ان کا لقب ہے مفتی الفرق ،یعنی سارے فرقے کے لوگ بجائے اپنے اپنے علماء سے پوچھنے کے انہیں سے پوچھتے تھے ، ابن تیمیہ کا فقہی مسائل میں دلائل کی روشنی میں معا ملہ بالکل واضح ہوتا ہے ،(۵) تصوف اور سلوک کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کے حوالہ سے یہ غلط فہمی ہے کہ وہ تصوف کے بہت سخت مخالف تھے ،اسی طرح صوفیہ کے بھی ۔حالانکہ یہ بہت غلط تصور ہے ، وہ تصوف کا جو پرانا طریقہ تھا ،جن پر جنید بغدادی اور پرانے صوفیہ چوتھی پانچویں صدی ہجری تک کے تھے ،وہ تو ان کو سراہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے بغیر تو گزار ا نہیں ۔(۶)خود ابن تیمیہ کی زندگی کو تصوف اور سلوک کی روشنی میں اگر ناپا جائے تو معلو م ہوگا کہ وہ کتنا زیادہ عابد و زاہد آدمی تھے ،مدارج السالکین ابن قیم کی ایک کتاب ہے(۷) اس میں ابن تیمیہ کے ایسے اقوال و معمولات لکھے گئے ہیں کہ آپ تعجب کریں گے کہ کتنے بڑے صوفی تھے ۔لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ تصوف کے سلسلہ میں جو فلسفہ ،وحدۃالوجود اور اس طرح کے جو غلط نظریات اسلام میں داخل ہوگئے ہیں ،اس کی وہ شدت سے مخالفت کرتے ہیں اور اس کی تکفیر بھی کرتے ہیں ،بلکہ وہ یہ کہتے ہیں ابن عربی کامیں ایک زمانہ میں بہت بڑا معتقد تھا ،لیکن جب ان کی کتاب ’’فصول الحکم ‘‘پڑھی تویہ سمجھ میں آیا کہ یہ کیاہے ؟(۸) تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی فکر اور اسلامی علو م و فنون ،اسلامی تاریخ اور اسلامی ثقافت کے جتنے مظاہر ہیں ان سب کا جائزہ لینے کےبعد ابن تیمیہ نے اس انداز میں اسلام کی تعبیر کرنے کی کوشش کی ۔ظاہرہے وہ اس سلسلہ میں مجتہد ہیں ،ان کی رائے سے آپ اختلاف کرسکتے ہیں ،لیکن اخلاص میں کوئی گفتگو نہیں کی جاسکتی ہے ، بعض جگہوں پر انہوں نے اپنے آراء سے رجوع بھی کیا ۔ تو یہ ایک پہلو ہے ۔
موجودہ دو ر میں اس کی اہمیت یہ ہے اکثر دہشت گردی ،شدت پسندی اوریہ کہ اسلام بہت زیادہ غیر مسلموں کو برداشت نہیں کرتا ،کافروں کو ایک دم سے فنا کردینا چاہتا ہے وغیرہ وغیرہ ،تو ان سب کا منبع و ماخذ وہ ابن تیمیہ کو قرار دیتے ہیں، یہ لوگ ان کی اقتباسات لیتے ہیں اور کا نٹ چھانٹ کرکے لیتے ہیں یہاں تک کہ کتنی چیزوں پر انہوں نے رد کیا ہوتاہے اسے بھی یہ لوگ لیتے ہیں اور پیش کرتے ہیں کہ دیکھو ابن تیمیہ نے یہ کہا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ فتویٰ ماردین کے تعلق سے ،یہ فتویٰ غلط چھپ گیاتھا ،اور غلط چھپ جانے کی بنیاد پر وہ فتویٰ ابن تیمیہ کی جانب منسوب کردیا گیا ،ابھی وہ فتویٰ ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ میں غلط ہی چھپا ہوا ہے ۔وہ فتویٰ یہ ہے کہ ماردین ترکی کے اندر ایک علاقہ ہے،یہاں پر عیسائی ،غیر مسلم ،کردی او رمسلم سبھی رہتے تھے ۔ تو ابن تیمیہ سے پوچھا گیا کہ یہاں پر غیر مسلموں کے ساتھ کیسا معاملہ کیاجائے اور اسلامی شریعت کیا کہتی ہے تو انہوں نے اتنا حکیمانہ جواب دیا تھا کہ موجود ہ دور میں جو جمہوری ممالک ہیں وہاں یہی طریقہ اپنایا گیا ہے،’’يعامل المسلم فيها بما يستحقه ويقاتل الخارج عن شريعة الإسلام بما يستحقه‘‘.اب یعامل الکافر جو ہے وہ یقاتل الکافر چھپ گیا ۔آج بھی ویسا ہی چھپا ہے (۹)،ابن تیمیہ اس سے بری ہیں ۔ اب اس کا ترجمہ ہوا اور اس ترجمہ کی بنیاد پر وہاں کسی شخص نے کسی شخص کو قتل کردیا اور ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور جتنی دہشت گرد تنظیمیں تھیں سب کو اسی سے جوڑ دیا ،یہ دہشت گردی کی اصل اور اساس ہے ، حالانکہ ان کا ایک دوسرا رسالہ موجو دہے ’’قاعدہ فی قتال الکفار‘‘(۱۰)کفار سے قتال کب کیاجائے او رکیوں کیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ زیادتی کریں اور ہجو م کریں تو دفاع ہمارا حق ہے اسی طرح کفار سے جو قتال ہے کیا صرف ان کی کفر کی وجہ سے ہے کہ ان کو باقی نہ رہنے دیا جائے یا یہ کہ ا ن کی زیادتی اور ان کے ظلم کی بنیاد پر ،تو انہوں نے کہا کہ مجرد ان کے کفر کی وجہ سے نہیں ،کہ ان کا کافر رہنا اسے قتال کا داعی ہے ،ایسا کچھ بھی نہیں ہے ،اب مشکل یہ کہ وہ رسالہ ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ میں موجود نہیں ہے بلکہ وہ اس سے باہر چھپتا ہے ۔تو بالکل جس کے خلاف ابن تیمیہ نے لکھا ہے ،اس کے خلاف ابن تیمیہ کی جانب وہ چیزیں منسوب کی جارہی ہیں ،تو اس لیے بھی ابن تیمیہ کو پڑھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے صحیح افکا رو خیالات کیا ہیں۔تیسری بات یہ کہ عام طور پر کسی بھی مفکر کو پڑھنے کے لیے ان کے بارے میں جو لکھا گیا ہے وہ پڑھتے ہیں ،خود اصل مصنف کو نہیں پڑھتے ،ہمیں مولانا ابو الکلام آزاد علامہ اقبال وغیرہ کے بارے میں پڑھنا ہے تو خود ان کتابیں ہم نہیں پڑھیں گے ،دوسرے نے جو پڑھا ہے وہ اس کا اپنا تجزیہ ہے۔ابن تیمیہ کو لوگ پڑھنے سےاس وجہ سے بھی دو ر بھاگتے ہیں کہ وہ یہ سوچتے ہوں کہ ابن تیمیہ بڑے بھاری بھرکم اسلوب میں لکھتے ہوں گے ،او رنہ جانے کیا کیا حالانکہ اتنے آسان اور سہل ممتنع جس کو کہا جاسکتا ہے اس اسلوب میں وہ لکھتے ہیں کہ کو ئی بھی عربی کی تھوڑی سے شد بد رکھنے والا ان کی کتابیں پڑھ سکتا ہے ۔بلکہ ترجمہ سے زیادہ وہ ڈائکر ٹ ان کی کتابیں پڑھ کرکے سمجھ سکتے ہیں ،اس لیے ابن تیمیہ کی اصل تحریروں کو پڑھیں ، ایسے ہی ایک بات وہ ایک موضوع سے اتنی جگہوں پر لکھتے ہیں اور کہیں بھی تضا د نہیں ملے گا ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ابن تیمیہ کو خود پڑھیں اور دوسرے مفکرین مثلا غزالی ،رازی ،ابن سینا نے جو کچھ کہاہے ان کو دیکھیں کہ ان کے درمیان کیا کچھ ہے ۔ایک آخری بات یہ کہنا چاہتاہوں کہ اب تیمیہ کا جواسلوب ہے وہ اتنا علمی اور سنجیدہ ہے ،کہ مخالف کی جب کوئی عبارت نقل کرتے ہیں تو مکمل کا مکمل نوٹ کرتے ہیں چاہے دو صفحہ ہو چار صفحہ ہو یا دس صفحہ ہواس کے بعد اس پر تبصرہ کرتے ہیں ،ابن تیمیہ کے مخالفین کو میں نے دیکھا آج تک جتنی کتابیں میری نظر سے گزریں ہیں وہ ابن تیمیہ کی اصل عبارتوں کو مکمل نہیں نوٹ کرتے ہیں اور اس کابالمعنی ایک مفہو م نکال کرکے ابن تیمیہ کی جانب منسوب کردیتے ہیں ۔تو اصل کہنے کا مطلب ہے کہ طریقہ علمی اور سنجیدہ ہونا چاہیے ۔
حواشی : آفاق احمد
(۱) جون ہوفر ایک مستشرق ہے ،ان کی ایک کتاب ہے’’ابن تیمیہ حیاتہ و فکرہ‘‘۔ اس کا عربی میں ترجمہ ’’عمرو علی بسيونی‘‘۔نے کیاہے۔
(۲)تفسير آيات أشكلت على كثير من العلماء حتى لا يوجد في طائفة من كتب التفسير فيھا القول الصواب بل لا يوجد فيھا إلا ما هو خطأ لابن تیمیہ ۔ المحقق: عبد العزيز بن محمد الخليفة۔
أصل هذا الكتاب هو رسالة نال بها الباحث درجة الماجستير في القرآن وعلومه من كلية أصول الدين – جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية في الرياض۔- من ضمن مؤلفات ابن تيمية المطبوعة غير ما في مجموع الفتاوى
(۳) شرح حديث إنما الأعمال بالنيات. تأليف: شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله عليه. تحقيق: الشيخ محمد عزير شمس.علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ نے ابن تیمیہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر سے اسے ایڈٹ کرکے شائع کیاہے۔
(۴)حدیث کے باب میں ابن تیمیہ کا مقام کیا تھا ،اس سلسلہ میں امام ذہبی کا یہ قول قابل ذکر ہے۔
’’كل حديث لا يعرفه ابن تيمية فليس بحديث” (ذيل طبقات الحنابلة)(۴؍۵۰۰)،وابن عبد الهادي الدِّمشقيُّ في كلٍّ من (طبقات علماء الحديث)(۴؍۲۸۸)و(العقود الدُّريَّة)(ص:۴۱)،وابن يوسف الحنبلي في (الشَّهادة الزَّكيَّة)(ص:۴۱)
.مزید حدیث اور علوم حدیث میں ان کی خدمات جاننی ہو تو اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔
’’شيخ الإسلام ابن تيمية وجهوده في الحديث وعلومه‘‘المؤلف: عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي، عدد المجلدات:۴۔
(۵) شرح عمدة الفقه، الناشر: دار عطاءات العلم (الرياض) عدد الأجزاء:۵،ابن تيمية بين فقھين تأملات كاشفة في مضامين فقه شيخ الإسلام. تأليف: الدكتور خالد بن عبد العزيز السعيد، منھج ابن تيمية في الفقه
مؤلف: سعود بن صالح العطيشان الصفحات: ۵۹۸
کتاب الاختیارات الفقھیۃ لشیخ الاسلام ابن تیمیۃ لدی تلامیذہ، (سامی بن جاد اللہ)
(۶)قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله :’’الْجُنَيْد مِنْ شُيُوخِ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ الْمُتَّبِعِينَ لِلْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ‘‘ .’’مجموع الفتاوىٰ‘‘ (۵؍۱۲۶) ’’جنید اہلِ معرفت کے ان بزرگوں میں سے ہیں جو کتاب و سنت کی اتباع کرتے ہیں‘‘۔
وقال أيضا:’’ كَانَ الْجُنَيْد رحمه الله سَيِّدُ الطَّائِفَةِ، إمَامَ هُدًى‘‘ .(مجموع الفتاوى)(۵؍۴۹۱) جنید بغدادی صوفیہ کے سردار اور ہدایت کے پیشوا تھے۔
ابن تیمیہ کے علاوہ کئی ایک علما ء سلف نے بھی جنید بغدادی اور پرانے متقدمین صوفیہ کی تعریف کی ہے۔ جو وحدہ الوجود ، حلول جیسے باطل عقائد سے دور تھے۔
تصوف کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کے موقف کو جاننے کے لیے دیکھیں ۔’’موقف ابن تيمية من الصوفية‘‘ جمع و تحقیق و دراسہ محمد بن عد الرحمان العریفی‘‘۔اسی طرح مجموع الفتاویٰ کی گیارہویں جلد جو’’ کتاب التصوف ‘‘ کے نام سے خاص ہے اسے بھی پڑھ سکتےہیں۔
(۷)مدارج السالکین ابن قیم کی بڑی مشہور و معروف کتاب ہے جو سورہ فاتحہ کی ایک آیت ’’ایاک نعبد وایاک نستعین‘‘ کی تفسیر پر ہے ، ضمنی طور پر کئی ایک مفید مباحث بھی مل جائیں گے ۔ جہاں تک تصوف وغیرہ کے مسائل کی با ت ہے تو علامہ سید رشید رضامصری کہتے ہیں کہ:’’أفضل كتب التصوف وأنفعها‘‘ ـ”مدارج السالكين‘‘ (۱؍۹۱، ط عطاءات العلم)۔
(۸)صاحب فصول الحکم سے مراد ابن عربی ہیں ، ابن عربی خود گمراہ شخص تھے اور ان کی اس کتاب کےاندر بھی کئی قسم کی گمراہیاں اور شرکیہ باتیں موجود ہیں ، شیخ الاسلام نے اس کتاب پر رد لکھا ہے اس کا نام ہے ۔’’الردالأقوم على ما في فصوص الحكم‘‘۔
(۹) وسئل رحمه الله: عن بلد’’ماردين‘‘ هل هي بلد حرب أم بلد سلم؟ وهل يجب على المسلم المقيم بھا الھجرة إلى بلاد الإسلام أم لا؟ وإذا وجبت عليه الھجرة ولم يھاجر وساعد أعداء المسلمين بنفسه أو ماله هل يأثم في ذلك؟ وهل يأثم من رماه بالنفاق وسبه به أم لا؟
فأجاب:
الحمد لله، دماء المسلمين وأموالھم محرمة حيث كانوا في’’ماردين‘‘ أو غيرها. وإعانة الخارجين عن شريعة دين الإسلام محرمة سواء كانوا أهل ماردين أو غيرهم. والمقيم بھا إن كان عاجزا عن إقامة دينه وجبت الھجرة عليه. وإلا استحبت ولم تجب. ومساعدتھم لعدو المسلمين بالأنفس والأموال محرمة عليھم ويجب عليھم الامتناع من ذلك بأي طريق أمكنھم من تغيب أو تعريض أو مصانعة، فإذا لم يمكن إلا بالھجرة تعينت. ولا يحل سبھم عموما ورميھم بالنفاق، بل السب والرمي بالنفاق يقع على الصفات المذكورة في الكتاب والسنة فيدخل فيھا بعض أهل ماردين وغيرهم. وأما كونھا دار حرب أو سلم فهي مركبة: فيها المعنيان، ليست ’’بمنزلة دار السلم التي تجري عليها أحكام الإسلام، لكون جندها مسلمين، ولا بمنزلة دار الحرب التي أهلھا كفار، بل هي قسم ثالث يعامل المسلم فيھا بما يستحقه ويقاتل الخارج عن شريعة الإسلام بما يستحقه. (مجموع الفتاوىٰ:(۲۸؍۲۴۰۔۲۴۱)
(۱۰) كتاب قاعدة مختصرة في قتال الكفار ومھادنتھم وتحريم قتلھم لمجرد كفرهم لابن تيمية-حققھا ودرسھا دراسة مقارنة: د. عبد العزيز بن عبد الله بن إبراهِيم الزير آل حمدعدد الصفحات: ۲۲۱
جاری ……….