Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • ماہ شوال کے روزے : مختصر احکام و مسائل

    عربی مہینوں کی ترتیب کے اعتبار سے رمضان کے بعد شوال کا مہینہ آتا ہے ماہ شوال عربی کا دسواں مہینہ ہے جس کو شرعی و تاریخی اعتبار سے بڑی اہمیت حاصل ہے شرعی نقطہ نظر سے شوال کے چھ روزوں کے مختصر احکام و مسائل اس مضمون میں بیان کیے گئے ہیں :
    (۱) شوال کے چھ روزوں کی اہمیت و فضیلت : ماہ رمضان کے بعد شوال کے چھ روزوں کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے مشہور صحابیٔ رسول ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا:’’من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر‘‘۔’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے گویا کہ اس نے پورے سال کا روزہ رکھا‘‘ ۔[صحيح مسلم – ت عبد الباقي:۲؍۸۲۲،مسلم]
    اس حدیث کی شرح ایک دوسری حدیث سے ہوتی ہے جس کو روایت کرنے والے صحابی ثوبان رضی اللہ عنہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’صِيَامُ شَهْرٍ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَسِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَهُنَّ بِشَهْرَيْنِ فَذَلِكَ تَمَامُ سَنَةٍ‘‘ ’’ایک مہینے کا روزہ دس مہینے کے روزے کے برابر ہے اور اس کے بعد چھ دنوں کا روزہ دو مہینے کے برابر ہے اس طرح مکمل ایک سال ہوگیے ۔[مسند الدارمي-ت الزهراني: ١؍٥٧٠ ،الدارمي (ت ٢٥٥)صحيح الجامع (٣٠٩٤) صحيح]
    ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:جس نے رمضان کے مکمل روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کا روزہ رکھا اس کی صورت یوں ہوگی کہ رمضان کے روزے دس مہینے کے برابر ہیں اور شوال کے چھ روزے دو مہینے کے برابر۔ اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے۔
    [فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام ط المكتبة الإسلامية: ٣/‏٢٦٠،ابن عثيمين (ت ١٤٢١)]
    شوال کے چھ روزوں کا اہتمام اسلاف امت کے یہاں بھی تھا جیسا کہ یحییٰ ابن سعید انصاری کہتے ہیں کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ عید الفطر کے بعد لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اسی حدیث کے روشنی میں شوال کے روزوں کی جانب ترغیب دلاتے ہوئے لوگوں کو خطاب کیا۔
    [صيام ستة أيام من شوال-ضمن’’آثار المعلمي‘‘: ۱۸؍۲۶۱،عبد الرحمٰن المعلمي اليماني (ت ١٣٨٦)]
    اسی طرح امام حسن بصری رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب ان کے پاس شوال کے چھ روزوں کا تذکرہ کیا جاتا تو کہا کرتے تھے: وَاللَّهِ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ بِصِيَامِ هَذَا الشَّهْرِ عَنِ السَّنَةِ كُلِّهَا’’اللہ کی قسم اس مہینے کے روزوں کے سبب پورے سال سے اللہ تعالی راضی ہو گیا۔[سنن الترمذي – ت شاكر ٣/‏١٢٣ ،الترمذي (ت ٢٧٩) حسن صحیح ]
    (۲) شوال کے چھ روزوں کا حکم : شوال کے چھ روزوں کے تعلق سے اہل علم کے ہاں دو موقف پائے جاتے ہیں :
    (۱) مستحب : ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: وجُمْلَةُ ذلك أنَّ صَوْمَ سِتَّةِ أَيَّامٍ من شَوَّال مُسْتَحَبٌّ عند كَثِيرٍ من أهْلِ العِلْمِ. رُوِىَ ذلك عن كَعْبِ الأحْبارِ، والشَّعْبِىِّ، ومَيْمُونِ بن مِهْرانَ. وبه قال الشَّافِعِىُّ۔ منجملہ باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ شوال کے چھے روزے اکثر اہل علم کے نزدیک مستحب ہیں یہی موقف کعب الاحبار ، امام شعبی ، میمون ابن مہران اور امام شافعی کا بھی ہے ۔
    [المغني لابن قدامة – ت التركي: ٤/‏٤٣٨ ،ابن قدامة (ت ٦٢٠)]
    (۲) مکروہ : اس بات کے قائلین میں امام مالک رحمہ اللہ کا نام سر فہرست ذکر کیا جاتا ہے جیسا کہ یحییٰ بن یحییٰ الاندلسی کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک کو فرماتے ہوئے سنا رمضان کے بعد شوال کے چھ روزوں کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ میں نے اہل علم اور اہل فقہ میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ شوال کے روزے رکھتے ہیں اور نہ ہی یہ بات مجھے اسلاف امت میں سے کسی کے بارے میں ملی ، اہل علم اس چیز کو مکروہ سمجھتے ہیں حتیٰ کہ اس کے بدعت ہونے کے بارے میں خوف بھی کھاتے ہیں اس طور پر کہ ان روزوں کو رمضان کے ساتھ متصل کر دیا جائے حالانکہ رمضان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
    [المنتقى شرح الموطإ: ٢/‏٧٦،أبو الوليد الباجي (ت ٤٧٤)]
    امام مالک رحمہ اللہ کے مذکورہ قول کی روشنی میں بعض اہل علم نے امام مالک کی جانب شوال کے چھ روزوں کے مکروہ قرار دیے جانے کے بات منسوب کی ہے لیکن عبد الرحمٰن بن یحییٰ المعلمي اليمانی ، امام مالک رحمہ اللہ کے قول کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ شوال کے روزوں کو رمضان کے ساتھ متصل کر دیا جائے جیسا کہ ان کے قول سے واضح ہے۔ اکثر مالکی اہل علم نے امام مالک رحمہ اللہ کے اس قول کو اسی بات پر محمول کیا ہے جیسا کہ قاضی عیاض مالکی کہتے ہیں کہ :ويحتمل أنه إنما كره وصلَ صومها بيوم الفطر، وأما لو صامها في أثناء الشهر فلا، وهو ظاهر كلامه في قوله: صام ستة أيام بعد يوم الفطر۔احتمال یہ ہے کہ انہوں نے عید الفطر کے ساتھ ملانے کو مکروہ سمجھا ہے جہاں تک شوال کے مہینے کے درمیان میں روزہ رکھنے کی بات ہے تو یہ مکروہ نہیں ہے اور یہ بات امام مالک رحمہ اللہ کے قول سے ظاہر و باہر ہے ۔
    [صيام ستة أيام من شوال – ضمن ’’آثار المعلمي‘‘ ١٨/‏٢٦٤،عبد الرحمٰن المعلمي اليماني (ت ١٣٨٦)]
    ابو الوليد الباجی کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے شوال کے چھ روزوں کو مکروہ اس خوف سے قرار دیا کہ لوگ ان کو رمضان کے ساتھ متصل نہ کردیں اس طور پر کہ رمضان اور شوال کے روزوں کے درمیان تمیز نہ ہوسکے حتیٰ کہ فرض سمجھ بیٹھیں ۔
    [المنتقى شرح الموطإ: ٢/‏٧٦ ،أبو الوليد الباجي (ت ٤٧٤)]
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ شوال کے روزے مستحب ہیں اور یہی جمہور اہل علم کا موقف ہے ۔
    [الدرر البهية من الفتاوى الكويتية: ١٢/‏١٣]
    (۳)شوال کے چھ روزوں کی حکمت کیا ہے ؟ شریعت اسلامیہ کا دیا گیا کوئی بھی حکم ، حکمت سے خالی نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ انسانی عقل ان حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے شوال کے چھ روزوں کے اہتمام کی حکمت کیا ہے حقیقی علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے البتہ ابن عثیمین رحمہ اللہ شوال کے چھ روزوں کی حکمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تاکہ ان کے ذریعے فرائض کی تکمیل کی جا سکے کیونکہ شوال کے چھ روزے فرض نمازوں کے لیے سنت راتبہ کی طرح ہیں جن کے ذریعے فرض میں ہونے والے نقص کی تکمیل مقصود ہوتی ہے۔
    [فتاوىٰ نور على الدرب للعثيمين: ١١/‏٢،ابن عثيمين (ت ١٤٢١)]
    (۴)چند اور مسائل : (۱) پہلے شوال کے روزے رکھیں یا رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے ؟
    شوال کے روزوں کی مناسبت سے نبی ﷺ نے فرمایا : من صام رمضان ثم أتبعه ستا …..حدیث میں مذکور ’’ ثم ‘‘ ترتیب کا فائدہ دیتا ہے اسی سے اہل علم کی ایک جماعت اس بات کی طرف گئی ہے کہ پہلے رمضان کے روزوں کی قضا کی جائے گی اس کے بعد شوال کے روزے رکھے جائیں گے۔
    جیسا کہ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رمضان کے فرض روزوں سے پہلے نفلی روزوں کو رکھنا دو وجوہات کی بنیاد پر ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے۔
    (أ) نبی ﷺ نے فرمایا:’’ جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کا روزہ رکھا ‘‘اور جس کے اوپر رمضان کے روزوں کی قضا باقی ہو تو وہ شوال کے روزوں کی اتباع کرنے والا نہیں ہے ۔ لہٰذا اگر کوئی انسان سفر یا بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے چھوڑ دیا ہو تو شفا ملنے کے بعد وہ رمضان کے فرض روزوں کی قضا کرے گا اس کے بعد شوال کے روزے رکھے گا اسی طرح حیض ونفاس والی عورتیں بھی کریں گی ۔
    (ب) قضا کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا حق پورا کیا جانا زیادہ اہم ہے اور فرائض نوافل سے اہم ہیں اللہ تعالیٰ نے مرد و خواتین پر رمضان کے روزے واجب قرار دیے ہیں لہٰذا یہ مناسب نہیں ہے کہ فرض کو ادا کرنے سے پہلے نوافل کی ادائیگی کی جائے ۔
    ابن باز رحمہ اللہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کا رمضان کے فرض روزوں کو اگلے شعبان تک مؤخر کرنا اللہ کے نبی ﷺ کی مشغولیت کی وجہ سے ہوتا تھا لہٰذا اس حدیث میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ رمضان کے روزوں کو مؤخر کیا جائے۔
    (https://share.google/lWebM0UU9pECJER7o )
    جبکہ بعض اہل علم اس بات کی طرف گئے ہیں کہ رمضان کے روزوں کی قضا سے پہلے شوال کے روزے رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ رمضان کے روزوں کی قضا کے لیے وقت کشادہ ہے لیکن شوال کے لیے وقت محدود ہوتا ہے اور مضیق کو موسع پر مقدم کرنا جائز ہے ۔
    یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اگر کوئی شخص نفلی روزے رکھنے پر قادر ہے تو گویا فرائض کی تکمیل کرسکتا ہے لیکن انسان فرض کو مؤخر کرکے نفل کی ادائیگی کرنے میں لگ جائے تو یہ چیز قابل جرح ہے ۔
    (۲)شوال کے چھ روزوں کو لگاتار رکھنا ہے یا پورے مہینے میں جب چاہیں تب رکھ سکتے ہیں :
    نفلی روزہ رکھنے والوں کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ نَفْسِهِ،إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ۔
    [سنن الترمذي-ت بشار:٢/‏١٠٢،أبو عيسى الترمذي (ت ٢٧٩) صحيح الترمذي (٧٣٢) صحيح]
    نفلی روزے رکھنے والا انسان اپنے نفس کا امین ہوتا ہے چاہے تو روزہ رکھے چاہے تو افطار کر لے ۔
    شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں مومن پورے مہینے سے اختیار کرے گا چاہے تو شروع میں رکھے یا درمیان میں یا آخر میں اور اگر چاہے تو ان کے درمیان تفریق کر دے اور چاہے تو پے در پے رکھے۔
    [مجموع فتاوىٰ ومقالات متنوعة -ابن باز ١٥/‏٣٩٠،ابن باز (ت ١٤٢٠)]
    (۳) لگاتار روزے رکھتے ہوئے جمعہ کا دن آجائے تو کیا کریں؟
    شوال کے روزوں کو رکھتے ہوئے اگر جمعہ کا دن آ جائے تو کیا کیا جائے روزہ رکھیں یا جمعہ کا دن چھوڑ دیں ؟ جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنا منع کیا گیا لیکن روزے رکھتے ہوئے اگر جمعہ آجائے تو رکھنا جائز ہے جیسا کہ نبی ﷺنے فرمایا: وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ۔ [صحيح مسلم – ط التركية: ٣/‏١٥٤ ،مسلم (ت ٢٦١)]
    اور تم دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص نہ کرو ہاں اگر کوئی شخص روزے رکھتا ہو ( تو وہ رکھ لے )
    لہذا جمعہ کے دن خصوصی طور پہ روزہ رکھنے کا اہتمام کرنا درست نہیں ہے جو کہ حدیث سے بالکل واضح ہے البتہ اگر کوئی شخص جمعرات یاسنیچر کو ساتھ میں ملا کر رکھتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
    (۴) کیا شوال کے روزوں کی قضا کرسکتے ہیں ؟
    اس تعلق سے اہل علم کے یہاں بنیادی طور پر دو موقف پائے جاتے ہیں :
    (۱) بعض اہل علم اس بات کی طرف گئے ہیں کہ اگر شوال کے روزے چھوٹ جائیں تو بعد میں قضا کرنا جائز ہے لیکن جو فضیلت شوال میں رکھنے پر حاصل ہوتی ہے وہ فضیلت نہیں حاصل ہوگی۔
    جیسا کہ منصور بن يونس بن إدريس البہوتی کہتے ہیں کہ: ( وَلَا تَحْصُلُ الْفَضِيلَةُ بِصِيَامِهَا) أَيْ: السِّتَّةِ أَيَّامٍ (فِي غَيْرِ شَوَّالٍ) لِظَاهِرِ الْأَخْبَارِ ۔ غیر شوال میں شوال کے چھ روزوں کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی ۔ جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے ۔ [کشاف القناع عن متن الإقناع – ط وزارة العدل: ٥/‏٣١٦ البهوتي (ت ١٠٥١)]
    (۲) شوال کے روزوں کی قضا درست نہیں ہے ۔
    ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شوال کے مہینے کے گزر جانے کے بعد شوال کے روزوں کی قضا درست نہیں ہے کیونکہ یہ ایسی سنت ہے جس کا وقت فوت ہو چکا ہوتا ہے چاہے کسی عذر کی وجہ سے ہو یا نہ ہو۔ [مجموع فتاوى ومقالات متنوعة – ابن باز ١٥/‏٣٨٩،ابن باز ،ت ١٤٢٠]
    (۵) شوال کے روزوں سے متلعق مشہور چند ضعیف احادیث :
    ماہ شوال اور اس کے روزوں سے متعلق کچھ ایسی احادیث مشہور ہیں جو ضعیف اور منکر ہیں ان میں سے چند احادیث کا تذکرہ کیا جا رہا ہے :
    ۱۔عَنْ عَرِيفٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ مِنْ فِلْقِ فِيِّ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالًا وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ دَخَلَ الْجَنَّةَ۔
    [السنن الكبرى – النسائي – ط الرسالة: ٣/‏٢١٥،النسائي (ت ٣٠٣) مسند أحمد – ط الرسالة: ٢٤/‏١٦٦،أحمد بن حنبل (ت ٢٤١)]
    ترجمہ : عریف سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کیا جس کو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپﷺنے فرمایا جس نے رمضان ، شوال اور بدھ ، جمعرات کے روزے رکھے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
    حدیث کا حکم : (۱) شعيب الأرنؤوط نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے ۔[ تخريج المسند لشعيب :١٥٤٣٤]
    (۲)امام البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [ السلسلة الضعيفة (٤٦١٢) ضعيف ]
    ۲۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ-
    [المعجم الأوسط للطبراني: ٨/‏٢٧٥،الطبراني (ت ٣٦٠)]
    ترجمہ : عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ گناہوں سے اس دن کی طرح بری ہو جاتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا ۔
    حدیث کا حکم : (۱) عبد المؤمن بن خلف الدمياطي کہتے ہیں کہ:’’سنده سقيم‘‘۔[المتجر الرابح(١٣٨)]
    (۲) نور الدین الہيثمي کہتے ہیں کہ اس سند میں ایک ضعیف راوی ’’ مسلمة بن علي الخشني‘‘ ہے۔[مجمع الزوائد:(٣/١٨٧)]
    (۳) امام البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ [ ضعيف الترغيب والترهيب: ١/‏٣٠٩،ناصر الدين الألباني (ت ١٤٢٠)]
    ۳۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، كَانَ يَصُومُ أَشْهُرَ الْحُرُمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:صُمْ شَوَّالًا۔ فَتَرَكَ أَشْهُرَ الْحُرُمِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَصُومُ شَوَّالًا حَتَّى مَاتَ .
    [سنن ابن ماجه – ت عبد الباقي: ١/‏٥٥٥،ابن ماجه (ت ٢٧٣)]
    ترجمہ : محمد ابن ابراہیم کہتے ہیں کہ اسامہ ابن زید حرمت والے مہینوں کا روزہ رکھتے تھے اللہ کے نبی ﷺ نے ان سے کہا شوال کے روزے رکھو تو انہوں نے حرمت والے مہینوں کے روزوں کو ترک کر دیا پھر مرتے دم تک شوال کے روزے رکھتے رہے ۔
    حدیث کا حکم : (۱) ابن رجب الحنبلي رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:’’إسناده منقطع‘‘۔[لطائف المعارف (٣٩٢)]
    (۲)امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ،کیونکہ محمد بن ابراہیم بن الحارث التیمی اور اسامہ بن زيد رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔ محمد بن ابراہیم بن الحارث التیمی کا اسامہ ابن زید رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے ۔
    [ضعيف ابن ماجه (٣٤٠) اور ضعيف الجامع (٣٤٩٠)]
    اللہ ہم سب کو کتاب و سنت کو منہج سلف کی روشنی میں سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین ثم آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings