Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • دعائے شب قدر’’اللھم إنك عفو تحب العفو فاعف عني‘‘ کی تحقیق (قسط ثانی)

    امام دارقطنی کی پہلی عبارت: امام دارقطنی کا جو کلام ہے وہ بھی بالکل اسی نوعیت کا ہے ، چنانچہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ پر مشتمل ایک مرسل حدیث ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے :
    ((ایک لڑکی نے اماں ا عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے اللہ کے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ اس کے باپ نے اس کی شادی اپنے بھتیجے سے کر دی تاکہ اس کی ذلت یا کمتری کو اس کے ذریعے دور کرے ۔نبی ﷺ نے معاملہ اسی لڑکی کو اختیار دے دیا کہ چاہے تو قبول کرے یا رد کرے ۔اس لڑکی نے کہا: مجھے باپ کا فیصلہ منظور ہے، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو معلوم ہو جائے کہ کیا ان کا اپنے معاملے میں کوئی اختیار ہے یا نہیں۔ ))
    اس حدیث کو ”عبداللہ بن بریدہ“ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے یعنی ”عن عائشة“ کہہ کر نہیں بلکہ بلا واسطہ یعنی ”جاءت فتاة إلى عائشة“ کہہ کر مرسلا ًروایت کیا ہے ۔جیساکہ ان کے درج ذیل شاگردوں نے بالاتفاق ان سے مرسل ہی کی شکل میں نقل کیا ہے۔
    ۱ عبد الله بن إدريس ( ابن أبي شيبة 9/ 176 )
    ۲ يزيد بن هارون (العلل للدارقطني 15/ 89 )
    ۳ عون بن كهمس ( سنن الدارقطني 4/ 335 )
    ۴ نضر بن شمیل (إسحاق بن راهويه 3/ 748)
    ۵ عبدالوھاب بن عطاء (الصغري للبيهقي (3/ 27 )
    اول الذکر تین کی روایت کا حوالہ امام دارقطنی نے ”علل“ میں دیا ہے کما سیاتی ، جبکہ سنن میں صرف ”عون بن کہمس“ کی روایت پیش کی ہے ۔مذکورہ شاگردوں کے برخلاف درج ذیل شاگردوں نے اس حدیث کومتصل بناکر روایت کردیا :
    ۱ جعفر بن سليمان ( سنن الدارقطني: 3/ 233 )
    ۲ علي بن غراب (سنن النسائي 6/ 86 )
    ۳وكيع بن الجراح (مسند أحمد 41/ 492 )
    ظاہر ہے کہ ان تینوں کا اس مرسل حدیث کو متصل بناکر پیش کرنا غلط ہے ۔اسی غلطی کو بتانے کے لیے امام دارقطنی نے ان تینوں کی متصل بیان کردہ روایت کو اپنی سنن میں پیش کیا اور اسی ضمن میں ”عون بن كهمس“ کی مرسل روایت بھی پیش کی۔ یاد رہے کہ عون اس روایت کے مرکزی راوی کہمس کے بیٹے ہیں اور انہوں اس حدیث کو مرسل ہی روایت کیا ہے ۔
    اب امام دارقطني رحمہ الله (المتوفی385) کی روایات اور آخر میں ان کا کلام ملاحظہ ہو:
     نا أبو عمر القاضي محمد بن يوسف، نا محمد بن الحجاج الضبي، نا وكيع،عن كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن عائشة، قالت: جاءت فتاة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله إن أبي– ونعم الأب هو– زوجني ابن أخيه ليرفع من خسيسته، قال:’’فجعل الأمر إليها‘‘. فقالت: إني قد أجزت ما صنع أبي ولكن أردت أن تعلم النساء أن ليس إلى الأباء من الأمر شيء۔
     نا أحمد بن الحسين بن الجنيد،نا زياد بن أيوب،نا علي بن غراب،نا كهمس بن الحسن، حدثني أبي،عن عبد الله بن بريدة،عن عائشة،أن فتاة دخلت عليها ح.
     ونا أبو عمر القاضي،نا الفضل بن موسى،نا عون يعني ابن كهمس،نا أبي،عن عبد الله بن بريدة،قال: جاءت فتاة إلى عائشة،فقالت: إن أبي زوجني ابن أخيه ليرفع من خسيسته وإني كرهت ذلك،قالت: اقعدي حتى يجيء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذكري ذلك له، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فأرسل إلى أبيها فجاء أبوها،’’وجعل الأمر إليها‘‘. فلما رأت أن الأمر جعل إليها، قالت: إني قد أجزت ما صنع أبي إني إنما أردت أن أعلم هل للنساء من الأمر شيء أم لا؟ قال ابن الجنيد: فقالت: يا رسول الله قد أجزت ما صنع أبي ولكني أردت أن أعلم للنساء من الأمر شيء أم لا۔
    ثنا محمد بن مخلد،نا الرمادي،نا أبو ظفر عبد السلام بن مطهر،عن جعفر بن سليمان،عن كهمس،عن عبد الله بن بريدة،عن عائشة،قالت: جاءت امرأة تريد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم تلقه فجلست تنتظره حتى جاء،فقلت: يا رسول الله إن لھذه المرأة إليك حاجة، قال لها:’’وما حاجتك؟‘‘،قالت: إن أبي زوجني ابن أخ له ليرفع خسيسته بي ولم يستأمرني فهل لي في نفسي أمر؟، قال:’’نعم‘‘،قالت: ما كنت لأرد على أبي شيئا صنعه ولكني أحببت أن تعلم النساء ألھن في أنفسھن أمر أم لا؟ ثھذه كلھا مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا۔

    [ سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: ج 4 ص 334تا336]
    ملاحظہ فرمائیں امام دارقطنی کے اس کلام کا مقصود یہ ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ پر مشتمل مذکورہ حدیث مرسل ہے اور اسے ”عبداللہ بن بریدہ“ نے مرسلاً ہی روایت کیا ہے ۔
    یعنی اماں عائشہ رض اللہ عنہا کے اس واقعہ کا کوئی بھی حصہ ”عبداللہ بن بریدہ“ نے اماں عائشہ سے نہیں سنا ہے۔ لیکن ان کے نچلے طبقات کے بعض رواۃ نے غلطی کرتے ہوئے ”عن عائشہ“ کہ کر بیان کردیا ۔ یعنی مرسل کو متصل بنادیا۔
    امام دارقطنی نے رواۃ کی اس غلطی پر گرفت کرتے ہوئے اور حدیث کی اصل پوزیشن مرسل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
    ’’هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا‘‘۔
    ”اس حدیث کے یہ تمام طرق مرسل ہیں ، ابن بریدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ نہیں سنا ہے“۔
    [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 4/ 335]
    یعنی امام دارقطی رحمہ اللہ نے اپنے اس کلام سے پہلے اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ والی جس مرسل حدیث کے مختلف طرق پیش کئے ہیں خاص انہیں سے متعلق امام دارقطنی کا یہ کلام ہے کہ ان میں سے کسی بھی طریق میں ابن بریدہ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہ سے کچھ بھی سماع ثابت نہیں ہے ۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس حدیث کے علاوہ دوسری کسی حدیث میں بھی ابن بریدہ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے ۔
    امام دارقطنی کی دوسری عبارت:
    امام دارقطنی رحمہ اللہ کی ”علل“ والی عبارت ”سنن“ والی عبارت کی بنسبت زیادہ واضح ہے بلکہ ”سنن“ میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے مرسل والا صرف ایک ہی طریق پیش کیا لیکن ”علل“ میں مرسل کے تین طرق کا حوالہ دے کراسے راجح قرار دیا ۔ اور تعبیر ایسی استعمال کی جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ارسال یعنی عدم سماع کا معاملہ اسی حدیث کی روایت کے ساتھ خاص ہے نہ کہ علی الاطلاق عدم سماع کا حکم لگانا مقصود ہے۔
    چنانچہ علل میں امام دارقطنی کا کلام یہ ہے:
    ’’وسئل عن حديث عبد الله بن بريدة، عن عائشة قالت امرأة: يا رسول الله إن أبي زوجني من ابن أخيه ليرفع خسيسته ولم يستأمرني، فهل في نفسي من أمر؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم قالت: ما كنت أرد على أبي شيئا صنعه، ولكني أحببت أن يعلم النساء ألهن في أنفسهن أمر أم لا؟.
    فقال: يرويه كهمس بن الحسن، واختلف عنه، فرواه جعفر بن سليمان الضبعي، وعلي بن غراب، ووكيع، عن كهمس، عن ابن بريدة، عن عائشة.
    وخالفهم عبد الله بن إدريس، ويزيد بن هارون، وعون بن كهمس، رووه عن كهمس، عن ابن بريدة؛ أن فتاة أتت عائشة، فقالت: إن أبي زوجني، ولم يستأمرني، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم، فذكرت ذلك له … ، فيكون مرسلا في رواية هؤلاء الثلاثة، وهو أشبه بالصواب‘‘.
    ”امام داقطنی رحمہ اللہ سے عبد اللہ بن بریدہ کے حوالے سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کے بارے میں پوچھا گیا جس میں ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! میرے باپ نے مجھے اپنے بھائی کے بیٹے سے شادی کر دی تاکہ وہ میرے ذریعے اپنی کمتری یا ذلت کو دور کرے ، اور اس نے مجھ سے مشورہ نہیں کیا، تو کیا میرے معاملے میں میرا کوئی اختیار ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“ ۔ پھر اس عورت نے کہا: میں تو اپنے باپ کے فیصلہ کو رد نہیں کرتی، لیکن میں چاہتی تھی کہ عورتیں جان لیں کہ کیا ان کے اپنے معاملے میں کوئی اختیار ہے یا نہیں۔
    امام دارقطنی نے جواب دیا :
    یہ حدیث ”کہمس بن الحسن“ روایت کرتے ہیں، اوران سے روایت کرنے میں ان کے شاگردوں میں اختلاف ہوا ہے۔
    تو ”جعفر بن سلیمان الضبعی“ ، ”علی بن غراب“ ، اور ”وکیع“ نے کہمس سے،’’عن ابن بريدة، عن عائشة‘‘ . کہہ کر روایت کیا (یعنی اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے متصل بناکر)۔
    لیکن ”عبد اللہ بن ادریس“ ، ”یزید بن ہارون“ ، اور ”عون بن کہمس“ نے کہمس سے، انہوں نے عبد اللہ بن بریدہ سے اس طرح روایت کیا کہ:’’ ایک لڑکی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور کہا: میرے باپ نے مجھے شادی کر دی اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا، پھر نبی ﷺ آئے تو اس نے ان سے ذکر کیا…‘‘تو ان تینوں کی روایت کے اعتبار سے یہ روایت مرسل ہے اور اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ درست ہے‘‘۔
    [العلل للدارقطني، ت محفوظ السلفي: 15/ 89]
    امام دارقطنی رحمہ اللہ کی اس دوسری عبارت سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ نے ”سنن“ میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے عبداللہ بن بریدہ کے اصل سماع کا انکار نہیں کیا بلکہ حدیث تخییر جو مرسلاً مروی ہے جس میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک واقعہ کا ذکر ہے خاص اس حدیث اور اس کے طرق سے متعلق امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں عبداللہ بن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ نہیں سنا ہے۔
    یہی امام دارقطنی رحمہ اللہ کے کلام کا درست مفہوم ہے۔
    اس کی زبردست تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ سے زیر تحقیق روایت یعنی دعائے شب قدر سے متعلق بھی سوال ہوا ۔ اوردعائے شب قدر والی حدیث کو عبداللہ بن بریدہ ہی روایت کررہا ہے وہ بھی مرسلا ًنہیں بلکہ اماں عائشہ رضی اللہ کے واسطے سے۔
    تو اس کے جواب میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے دونوں مشہور طرق ”جریری“ اور ”کہمس“ کے شاگردوں کا اختلاف ذکرکیا اور دونوں جگہ ”عبدالله بن بريدة عن عائشة“ کے طریق ہی کو درست قرادیا ۔ لیکن یہاں ارسال کا حکم نہیں لگایا نہ عدم سماع کی بات کی ۔
    دیکھیں: [العلل للدارقطني ج 15 ص 88 تا 89]
    ماقبل میں ”جریری“ اور ”کہمس“ کی روایات کی تخریج کے ضمن میں امام دارقطی رحمہ اللہ کی ترجیحات پیش کی جاچکی ہیں ۔
    امام دارقطنی کی تعلیل میں امام نسائی کی موافقت:
    امام دارقطني رحمہ اللہ(المتوفی385) نے اپنی ”سنن“ میں جس حدیثِ تخییر پر ارسال کا حکم لگایاہے اس میں وہ منفرد بھی نہیں ہیں، بلکہ ٹھیک یہی حکم امام نسائی رحمہ اللہ(المتوفی303) نے بھی لگایا ہے ۔
    چنانچہ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أخبرني زياد بن أيوب، دلويه، قال: حدثنا علي بن غراب، قال: حدثنا كهمس بن الحسن، قال: حدثني عبد الله بن بريدة، عن عائشة، أن فتاة دخلت عليها، فقالت: إن أبي زوجني ابن أخيه ليرفع بي خسيسته، وأنا كارهة، قالت: اجلسي حتى يأتي النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأخبرته، فأرسل إلى أبيها فدعاه، فجعل الأمر إليها، فقالت: يا رسول الله، قد أجزت ما صنع أبي، ولكني أردت أن أعلم أللنساء من الأمر شيء؟. قال أبو عبد الرحمٰن: هذا الحديث يرسلونه۔
    ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک لڑکی آپ کے پاس آئی اور کہا: میرے والد نے اپنے بھتیجے سے میری شادی کر دی ہے تاکہ میرے ذریعے اپنی پست حیثیتی کو بلند کر سکے، اور میں اسے ناپسند کرتی ہوں ۔
    اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو یہ بات بتائی۔آپ ﷺ نے اس کے باپ کو بلایا اور معاملہ اس لڑکی کے اختیار میں کر دیا۔ تو اس لڑکی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے والد کے کیے ہوئے کام کو جائز قرار دے دیا ، لیکن میں چاہتی تھی کہ یہ معلوم ہو جائے کہ کیا عورتوں کو بھی اس معاملے میں کوئی حق ہے؟ ابو عبد الرحمٰن (یعنی امام نسائی) نے کہا: اس حدیث کو دوسرے رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں‘‘ ۔
    [سنن النسائي الكبرى، ط التأصيل: 7/ 422رقم 5580]
    ملاحظہ فرمائیں کہ نسائی کی یہ روایت ”علي بن غراب“ کے طریق سے ہے اور اس طریق کی روایت کو امام دارقطنی اپنی ”سنن“ اور ”علل“ دونوں میں مرسل قرار دے چکے ہیں ۔ کمامضی ۔
    یہاں پر یہی بات امام نسائی رحمہ اللہ بھی ارشاد فرمارہے ہیں اور امام نسائی رحمہ اللہ کے اس کلام کی بنیاد پرکسی نے نہیں کہا کہ امام نسائی رحمہ اللہ ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا“ سے ”عبد الله بن بریدہ“ کے سماع کے منکر ہیں ۔
    تو یہی مقصود امام دارقطنی رحمہ اللہ کے کلام کا بھی ہے اور امام دارقطنی کی ”سنن“ میں عدم سماع سے مراد فقط اس مرسل حدیث کے طرق میں عدم سماع ہے نہ کی علی الاطلاق جیساکہ امام دارقطنی ہی کی دوسری کتاب ”علل“ سے ان کا موقف واضح ہے کما مضی ۔
    (جاری ہے …..)

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings