Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • محرم کے لئے کون سے کپڑے پہننا درست نہیں

    عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما:أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:’’ لَا يَلْبَسُ الْقُمُصَ، وَلَا ‌الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، أَوْ وَرْسٌ‘‘۔
    ترجمہ :
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! محرم کو کس طرح کا کپڑا پہننا چاہئے؟ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’ نہ کُرتا پہنے، نہ عمامہ باندھے، نہ پاجامہ پہنے، نہ باران کوٹ، نہ موزے۔ لیکن اگر اس کے پاس جوتی نہ ہو تو وہ موزے اس وقت پہن سکتا ہے جب ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ لیا ہو۔ اور احرام میںکوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہوا ہو‘‘۔
    [ متفق علیہ :صحيح البخاري:۱۵۴۲]
    فوائدحدیث :
    (۱) احرام دو سفید (اَن سلی) چادروں کو کہتے ہیں جن میں سے ایک کو حج یا عمرہ کرنے والا بطورِ ازار باندھتا ہے اور دوسری چادر کو اوڑھ لیتا ہے، یہ حکم مردوں کے لیے ہے۔ عورتوں کا عام لباس ہی ان کا احرام ہے۔
    (۲) قمیص اور شلوار سے مراد ہر وہ کپڑا ہے جو بدن کی قد وقامت کے مطابق سلا ہوا ہو، نیز ٹوپی اور پگڑی سے مراد ہر وہ کپڑا ہے جس سے سر ڈھانپا جائے اور موزوں سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے پاؤں چھپائے جائیں۔
    (۳) (ما يلبس المحرم) حدیث کے اس لفظ سےمعلوم ہوتاہے کہ جو آدمی حج یا عمرہ کا ارادہ کرے اسے ذکر کی گئی چیزوں سے دو ر رہنا ہے، حدیث میں مراد آدمی ہے نہ کہ عورت جیسا کہ بعض روایا ت میں ہے : ’’إلا أن يكون رجل ليس له نعلان‘‘۔[منحة العلام في شرح بلوغ المرام:۵؍۲۱۶]
    (۴) حالت احرام میں جن چیزوں سےبچناہے وہ بہت کم ہیں یا بہت محدود ہیں ، ہاں جو چیزیں جائز ہیں وہ بہت ہے یعنی شمار کے قابل نہیں ہیں ۔
    (۵)حالت احرام میں ایک مرد کو پانچ چیزوں سے بچنا ہے ۔ قمیص، پاجامہ، شلوار، ٹوپی، برانڈی اور موزے پہننا درست نہیں۔
    (۶)زعفران اور ورس سے رنگا ہوا لباس بھی احرام میں جائز نہیں۔ یہ ممانعت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ خوشبو کی وجہ سے ہے کیونکہ احرام کے بعد خوشبو لگانا بالاتفاق حرام ہے، البتہ اگر اسے دھو کر اس کی خوشبو زائل کر دی جائے تب جائز ہے۔
    (۷)حالت احرام میں ایک عورت بغیر کسی رنگ کے تعیین کے جو لباس چاہے پہن سکتی ہے، ہاں بہت زیادہ بھڑکا ؤ اور جاذب نظر لباس سے بچے گی تاکہ فتنہ کا اندیشہ نہ رہے۔دیگر روایات کی روشنی میں عورت دو چیزوں سے اجتناب کرے گی ۔
    (۱): النقاب: ”نقاب نہ باندھے“ ۔ یہ ایک مخصوص قسم کا نقاب تھا جو اس زمانے میں رائج تھا، اس سے فوری طور پر چہرے کا پردہ کرنا مشکل ہوتا تھا، اس لیے مخصوص نقاب سے روک دیا گیا تاکہ مردوں کے سامنے آتے ہی فوراً پردہ کرنا آسان رہے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ مرد سامنے آتے تو ہم فوراً چہرہ ڈھانپ لیتیں۔ اب اس نقاب کا رواج بھی ختم ہوگیا ہے۔ علاوہ ازیں اب مردوں کا ہجوم ہر وقت اور ہر جگہ رہتا ہے، اس لیے اب حجاب کا اہتمام ہر وقت ہی کرنا چاہیے، سوائے ان جگہوں کے جہاں مرد نہ ہوں۔
    (۲): القفاز: ”دستانے نہ پہنے“ مقصد یہ ہے کہ وہ ہاتھ ننگے رکھے تاکہ دوران حج و عمرہ میں کوئی تنگی نہ ہو۔ معلوم ہوا اس دور میں خواتین پردے کے لیے دستانے بھی استعمال کرتی تھیں۔ مشہور تو یہی ہے کہ دستانے ہاتھوں کو سردی، گرمی یا پانی سے بچانے کے لیے ہوتے ہیں مگر بعض اہل لغت نے اس سے زیور بھی مراد لیا ہے جس کے ساتھ ہاتھ چھپ جاتے ہیں۔ خیر! احرام میں ہاتھ ننگے رہنے چاہئیں۔
    (۸)سوال تھا کیا پہنے؟ جواب ملا، فلاں فلاں چیز نہ پہنے۔ کیونکہ نہ پہنی جانے والی چیزیں کم ہیں اور پہنی جانے والی زیادہ، لہٰذا اختصار کی خاطر آپ ﷺ نے ایسا جواب دیا ۔ یہ بھی بلاغت کی ایک بہترین صورت ہے کہ جواب کے ساتھ ساتھ سوال کی تصحیح کر دی جائے۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings