-
شيخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ کے دروس سے مستفاد تقویٰ کے چند اہم فوائد (قسط ثانی) (۷) تقویٰ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے، اعمال کی قبولیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو بھی عمل کرتے ہیں مثلاً روزہ، نماز، صدقہ، حج اور عمرہ وغیرہ اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک قبول نہیں فرماتا جب تک کہ وہ تقویٰ کی بنیاد پر نہ کیا گیا ہو، چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾[المائدة: ٢٧] ’’اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے‘‘۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ’’اگر مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ نے میرا ایک بھی سجدہ قبول کر لیا ہے، تو یہ میرے لئے دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے‘‘۔
یہاں مومنوں کا ایک اہم ترین وصف بھی بیان ہوا ہے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہتے ہیں، وہ نیک اعمال بجا لاتے ہیں مگر یہ حتمی دعویٰ نہیں کرتے کہ ان کے اعمال یقیناً قبول ہو گئے ہیں، البتہ وہ اللہ سے قوی امید وابستہ رکھتے ہیں، خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر کر رہے تھے اور ساتھ ہی یہ دعا بھی کر رہے تھے: ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾[البقرة: ١٢٧]’’اے ہمارے رب! تو ہمارا یہ عمل قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے‘‘۔
سلف صالحین میں سے وہیب بن الورد نے جب یہ آیت پڑھی تو رو پڑے اور فرمایا:’’رحمٰن کے خلیل، رحمٰن کے حکم سے رحمٰن کا گھر بنا رہے ہیں اور پھر بھی اس بات سے ڈر رہے ہیں کہ کہیں ان کا عمل نامقبول نہ ہو جائے!‘‘۔
لہٰذا اس شخص کی حالت پر افسوس ہوتا ہے! جو تقوی سے خالی عمل کرکے دل میں پختہ یقین رکھتا ہے کہ وہ عمل ضرور مقبول ہے، حالانکہ اعمال صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہی بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پاتے ہیں۔
(۸) تقویٰ خوف اور غم سے نجات کا ذریعہ ہے، جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾[الأعراف: ٣٥] ’’جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور درستی کرے سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔
اس آیت میں تقویٰ اور اصلاح کو جمع کیا گیا ہے، جس کا نتیجہ خوف اور غم کا مکمل خاتمہ ہے، جب خوف اور غم اکٹھے ذکر کئے جائیں تو خوف کا تعلق مستقبل سے ہوتا ہے اور غم کا تعلق ماضی سے، تو معلوم یہ ہوا کہ تقویٰ انسان کو مستقبل کے خوف اور ماضی کے غم دونوں سے امان بخشتا ہے۔
(۹) تقویٰ ذکر الٰہی اور بصیرت کا سبب ہے جس کے ذریعہ شیطان کے وسوسے دور ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّهُمۡ طٰۤئِفٌ مِّنَ الشَّيۡطٰنِ تَذَكَّرُوۡا فَاِذَا هُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ﴾[الأعراف: ٢٠١]’’یقیناً جو لوگ متقی ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں اور یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں‘‘۔
اللہ عزوجل نے اس آیت میں متقیوں کی دو صفات بیان کی ہیں: تذکر (یاد دہانی) اور تبصر (بصیرت و فراست)، جو شخص متقی ہو وہ شیطان کے وسوسوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتا، بلکہ وہ بھی ان حملوں کی زد میں آ سکتا ہے، لیکن اس کی خصوصیت ہے کہ جب شیطان اسے کسی گناہ پر اکساتا ہے یا گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے، تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ اس کے غضب اور اس کے عذاب کو یاد کرتا ہے، اور یہ بھی یاد کرتا ہے کہ یہ گناہ ایمان اور تقویٰ کے منافی ہے، یہ یاد اس کے دل میں بصیرت پیدا کرتی ہے، جس سے اس کا نفس فوراً گناہ سے رک جاتا اور پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور اگر وہ گناہ میں مبتلا ہو بھی گیا ہو تو فوراً استغفار کی طرف لپکتا ہے۔
متقین کی یہی صفت ہے کہ جب ان سے کوئی فحش کام ہو جائے یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں، تو وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، یہ مؤمن کی صفت ہے، مؤمن معصوم نہیں ہوتا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ’’۔’’سارے بنی آدم خطاکار ہیں اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں‘‘۔[سنن ابن ماجة:٤٢٥١، حسن]
چنانچہ متقی مؤمن جب شیطان کے وسوسہ و نزغ کا شکار ہوتا ہے، تو یاد دہانی اور بصیرت اسے گناہ سے روک دیتی ہے اور فوراً توبہ و انابت کی راہ پر گامزن کر دیتی ہے۔
(۱۰) تقویٰ بصیرت اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت کا سبب ہے، نیز گناہوں کا کفارہ اور مغفرت کا ذریعہ ہے، اس کی دلیل سورہ انفال کی یہ آیت ہے:﴿يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّـكُمۡ فُرۡقَانًا وَّيُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡؕ وَ اللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾[الأنفال: ٢٩]’’اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے‘‘۔
یہ آیت تقویٰ کے چار عظیم فوائد کو بیان کرتی ہے:
(أ) فرقان: یعنی وہ علم و بصیرت جو حق و باطل، سنت و بدعت، ہدایت و گمراہی، اور نور و ظلمت کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، یہ فرقان دراصل علمِ شرعی ہے جو کتابِ اللہ اور سنتِ نبوی سے حاصل ہوتا ہے، جو شخص علم اور بصیرت سے خالی ہو، وہ حق و باطل میں ہرگز تمیز نہیں کر سکتا۔
(ب،ج) گناہوں کا کفارہ اور مغفرت: اللہ تعالیٰ تقویٰ کی برکت سے سیئات (چھوٹے گناہوں) کو مٹا دیتا ہے، اور ذنوب (بڑے گناہوں) کو بخش دیتا ہے، اہل علم کے نزدیک جب قرآن میں کسی ایک مقام پر ذنوب اور سیئات دونوں کا ذکر ایک ساتھ آئے، تو سیئات سے صغیرہ گناہ اور ذنوب سے کبیرہ گناہ مراد ہوتے ہیں۔
(د) فضلِ عظیم: متقی شخص کو اللہ کے عظیم فضل، اس کی رحمت، بخشش اور محبت کا پروانہ مل جاتا ہے۔
(۱۱) تقویٰ احسان کی ایک بلند ترین صورت ہے، اور اللہ تعالیٰ متقی کے عمل کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا، وہ اس کے عمل کی حفاظت کرتا ہے اور اسے دوسروں پر فضیلت عطا کرتا ہے، اس کی عظیم مثال اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ کس طرح اللہ نے انہیں ان کے تقویٰ کی وجہ سے نجات دی اور فضل و کرم سے نوازا، سورہ یوسف کے آخر میں ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی جب یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے تو کہنے لگے:
’’اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہم حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں، سو ہمارے لیے پورا پورا ماپ دیجئے اور ہم پر صدقہ کیجئے یقیناً اللہ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے ۔ تو یوسف علیہ السلام نے کہا: جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اپنی نادانی کی حالت میں کیا کیا؟
انہوں نے کہا کیا: واقعی آپ ہی یوسف ہیں؟ کہا: ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، یقیناً اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر برتری دی ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم خطا کار تھے، یوسف علیہ السلام نے جواب دیا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے اللہ تمہیں بخشے، وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے‘‘۔ [يوسف: ٨٨- ٩٢]
یہاں تقویٰ کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے فرمایا:’’جو کوئی تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔ نیز اس میں یہ بھی ہے کہ متقی کو اللہ دوسروں پر فضیلت دیتا ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اعتراف کیا: ’’اللہ نے آپ کو ہم پر برتری دی ہے‘‘، یہ تقویٰ کے ثمرات میں سے ہے کہ اللہ متقی کو دوسروں پر فضیلت دیتا ہے، اسے دنیا آخرت میں بلند مقام عطا کرتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کی توفیق میں اضافہ کرتا ہے اور اس کی مدد فرماتا ہے۔
(۱۲) متقیوں کے لیے وعدہ کردہ اجر جنت ہے جس میں بے شمار نعمتیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: ﴿اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍؕ۔ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِينَ﴾[الحجر: ٤٥-٤٦] ’’پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہونگے۔ (ان سے کہا جائے گا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ‘‘۔
یہاں سلامتی سے مراد ہر آفت سے سلامتی ہے، اور امن کے لفظ کو مطلق رکھا گیا ہے تاکہ اس میں ہر چیز سے امان شامل ہو جائے؛ یعنی موت سے امن، خوف سے امن، بیماری سے امن، مصیبتوں اور سختیوں سے امن، اور نعمتوں کے چھن جانے یا کم ہونے سے امن، الغرض کہ متقی جنت میں ہر قسم کی پریشانی اور دکھ سے محفوظ ہوں گے۔
(۱۳) تقویٰ کے ثمرات میں سے ایک یہہ بھی ہے کہ اللہ کے شعائر (مثلاً مناسکِ حج و قربانی وغیرہ) کی تعظیم کی جائے، ان کے ساتھ استہزاء نہ کیا جائے، اور یہ دراصل دل میں تقویٰ کی موجودگی کی سب سے بڑی دلیل اور علامت ہے، جیسا کہ فرمایا گیا:﴿وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَى الۡقُلُوۡبِ﴾[الحج: ٣٢] ’’اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے‘‘۔
(۱۴) تقویٰ دنیا وآخرت میں کامیابی کا سبب ہے، اور کامیابی سے مراد انسان کا اپنی مطلوبہ چیز کو حاصل کر لینا اور اس چیز سے نجات پا لینا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے، نیز متقیوں سے اللہ کے سچے وعدے کے مطابق دائمی جنت ہے، فرمایا: ﴿مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِی وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ﴾[محمد: ١٥]’’اس جنت کی صفت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے‘‘۔
یہاں آیت میں ’’وُعِدَ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، علمِ نحو کی اصطلاح میں یہ فعل ماضی کا صیغہ ہے جسے عام طور پر مبنی للمجہول (جس کا فاعل نامعلوم ہو) کہا جاتا ہے، لیکن قرآن مجید میں عموماً جہاں بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ فاعل ہوں اور فعل مجہول مستعمل ہو تو ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اسے مبنی للمجہول نہ کہا جائے، بلکہ اسے مبني لما لم يسم فاعله (ایسا فعل جس کے فاعل کا نام ذکر نہ کیا گیا ہو) کہا جائے، کیونکہ یہ وعدہ فرمانے والی ذات کوئی نامعلوم (مجہول) ذات نہیں ہے، بلکہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے، اور اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا، وہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، اور یہ سچا وعدہ متقین ہی کے لیے ہے۔
(۱۵) تقویٰ اعمال کی درستگی اور گناہوں کی بخشش کے اسباب میں سے ہے، اللہ عزوجل نے فرمایا:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا۔يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ﴾[الأحزاب: ٧٠-٧١] ’’اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے اور تمہارے گناہ معاف فرما دے‘‘۔
اس آیت میں ایک انتہائی عظیم اور اہم نکتہ پوشیدہ ہے کہ انسان کی اصلاح دراصل اس کے دل اور زبان کی اصلاح پر منحصر ہے، جیسا کہ عربی کا مشہور مقولہ ہے:’’المرء بأصغريه‘‘ یعنی انسان کی پہچان اس کے دو چھوٹے اعضاء سے ہوتی ہے : اور وہ دو اعضاء دل اور زبان ہیں، چنانچہ جب یہ دونوں درست ہو جائیں، تو انسان کا سب کچھ درست ہو جاتا ہے، لہٰذا انسان کو واقعی اپنے دل اور اپنی زبان کی بہت باریک بینی اور خاص احتیاط کے ساتھ دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔
(۱۶) تقویٰ کے عظیم ثمرات اور فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ بندے کو قول و عمل میں صدق و اخلاص کی توفیق عطا فرماتا ہے، اس کے اقوال سچے ہوتے ہیں اور اعمال اس کے اقوال کی تصدیق کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ﴾ [الزمر : ٣٣] ’’اور جنہوں نے (نبی ﷺ) سچا دین لایا اور جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی لوگ متقی وپارسا ہیں‘‘۔
(۱۷) دنیا کی ہر محبت اور دوستی قیامت کے دن دشمنی اور بغض میں بدل جائے گی، اس سے صرف متقین کی وہ محبت ودوستی مستثنیٰ ہے جو اللہ کے لیے ہو اور اللہ ہی کے لیے کی گئی ہو، کیونکہ وہی محبت ودوستی باقی اور قائم رہنے والی ہے، فرمایا:﴿اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾[الزخرف: ٦٧]’’اس دن دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے‘‘۔
(۱۸) متقیوں سے اس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے جس میں طرح طرح کی نہریں ہوں گی: ﴿مَثَلُ الۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَؕ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾[محمد: ١٥]’’اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے والا نہیں، اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلہ، اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے اور نہریں ہیں شہد کی جو بہت صاف ستھری ہیں‘‘۔
اس آیت میں جنت میں پائی جانے والی چار نہروں کا ذکر ہے: پانی کی نہریں، دودھ کی نہریں، شراب کی نہریں اور شہد کی نہریں۔
(۱۹) دل میں موجود تقویٰ ہی دراصل وہ اصل قوت ہے جو بندے کو رسول اللہ ﷺ کی تعظیم، ادب، اور توقیر پر آمادہ کرتی ہے، جس قدر دل میں تقویٰ زیادہ ہو گا، اسی قدر نبی کریم ﷺ کے حقوق کے متعلق خشوع، ادب، اور تعظیم زیادہ نمایاں ہوگی، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَغُضُّوۡنَ اَصۡوَاتَهُمۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ لِلتَّقۡوٰىؕ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ﴾[الحجرات: ٣] ’’بیشک جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لئے جانچ لیا ہے، ان کے لئے مغفرت اور بڑا ثواب ہے‘‘۔
(۲۰) تقویٰ ہر فتنہ، تنگی اور مصیبت سے نجات کا ذریعہ ہے، جو بندہ متقی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کےلیے ہر تنگی سے راہِ نجات پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے ایسے مقامات سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا. وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾[الطلاق: ٢-٣] ’’اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو‘‘۔
خاتمہ:
الحمد للہ! ان سطور میں تقویٰ کے ان چند عظیم فوائد کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے جنہیں شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ نے کتاب و سنت کی روشنی میں واضح فرمایا، اور جنہیں شیخ عبد الرزاق البدر حفظہ اللہ کی شرح سے استفادہ کرتے ہوئے نہایت اختصار کے ساتھ قلم بند کیا گیا ہے۔
غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ محض ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، یہی ہدایت کی کنجی، فلاح کا راستہ، علم میں برکت، عمل میں اخلاص، دل میں بصیرت اور زندگی میں استقامت کا سرچشمہ ہے۔
تقویٰ ہی وہ نور ہے جو انسان کو گناہوں کی تاریکیوں سے بچاتا ہے، وسوسوں کے ہجوم میں اسے راستہ دکھاتا ہے، آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتا ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے، اسی کی بنیاد پر اعمال قبول ہوتے ہیں، دعائیں اثر رکھتی ہیں، اور بندہ اللہ تعالیٰ کی خاص معیت و نصرت کا مستحق بنتا ہے۔
درحقیقت تقویٰ کا سفر دل کی اصلاح سے شروع ہو کر کردار کی پختگی پر مکمل ہوتا ہے، یہ خوف اور امید کے حسین توازن کا نام ہے، یہ علم کے ساتھ عمل اور اخلاص کے ساتھ اطاعت کا نام ہے، جو شخص تقویٰ کو اپنا زادِ راہ بنا لے، اس کے لئے قرآن مشعلِ ہدایت، مصائب سامانِ تربیت اور زندگی بندگی کا ایک خوبصورت سفر بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقی تقویٰ عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو اپنی خشیت سے زندہ رکھے، ہمارے اعمال کو خالص اور مقبول بنائے، اور ہمیں ان خوش نصیب متقین کی صف میں شامل فرمائے جن کے لیے دنیا میں ہدایت، عزت اور برکت ہے، اور آخرت میں جنت، سلامتی اور رضائے الٰہی۔ آمین یا رب العالمین