Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ ۔محاضرہ نمبر(۵)

    معارف ابن تیمیہ کی عصری معنویت اور استفادے کے طریقے:(دوسری قسط)

    شیخ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تصانیف سے ڈائرکٹ استفادہ کریں ،تویہ بڑی اچھی بات ہے لیکن ایسی کچھ اچھی کتابوں اور علماء کی طرف رہنمائی کریں جنہوں نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی شخصیت کو اور ان کے افکار کو موضوع بحث بنایا ہو اور ان پر لکھا ہو؟۔
    اس سلسلہ میں چند کتابیں میں ذکر کرتاہوں ، سب سے پہلے اردو زبان میں دیکھ لیں ،اردو میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں سب سے بہتر کتاب یوسف کوکن عمری صاحب کی ہے ،1960کے قریباً چھپی تھی ، وہ در اصل سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کی ماتحتی میں دار المصنفین اعظم گڑ ھ میں کام کرتے تھے، یہ کتاب بہت علمی ہے ،اس میں تقریباً ان کی فکر کا خلاصہ ان کی اصل کتابوں کی روشنی میں دیاگیا ہے،اس لیے اگر کوئی شخص اجمالی طور پر ابن تیمیہ کی فکر کو مختلف موضوعات سے متعلق جاننا چاہتا ہے تو اس کے لیے بہترین کتاب ہے ،یہ کتاب دوبارہ مکتب البلاغ سے چھپ گئی ہے ۔دوسری ایک کتاب ہے حیات شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے نام سے ،یہ اصلاً محمد ابوزہرہ مصر کی عربی میں لکھی ہوئی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ،لیکن اس پر حواشی ،اضافات ،ملحقات وغیرہ ہیں وہ سب علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی صاحب کے ہیں جس کی وجہ سے اس کتاب پر چار چاند لگ گئے ۔ کتاب کے اخیر میں ابن تیمیہ کے تعلق سے بہت سی غلط فہمیوں کو بھی انہوں نے دور کیاہے ۔ ایک مکمل فہر ست بھی ابن تیمیہ کی ساری کتابوں کی انہوں نے تیار کرکے اخیر میں شامل کردیا ہے ۔ جس فہرست میں ان کی کون سی کتاب کہاں، کس جگہ چھپی ہو ئی ہے ان تمام کا ذکر کیا ہے ،یہ اس وقت کی بات ہے یعنی 1960؁ء سے پہلے جب مجموع الفتاویٰ کا مجموعہ نہیں چھپا تھا ،اب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ متفرق تحریریں کتنی تھیں ،لیکن ایک ایک تحریر کے بارے میں انہوں نے بتایا ہے کہ فلاں رسالہ جو ذکر کیا جاتا ہے وہ فلاں جگہ فلاں مجموعہ کے اندر ہے،اس سے ان کے وسعت علم کا بھی اندازہ ہوتا ہے،(1)تیسری ایک کتاب مولانا ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ کی ہے’’تاریخ وعوت و عزیمت‘‘ اس کی دوسری جلد جو 1956؁یا 57؁ میں دار المصنفین سے چھپی تھی، دوسری جلد پوری کی پوری ابن تیمیہ کے تعلق سے ہے ،اس میں انہوں نے خاص طور پر تزکیہ نفس وغیرہ پر زیادہ توجہ دی ہے۔ (2) ۔بہرحال یہ اچھی کتاب ہے،ایک کتاب اور ہے اگر وہ مل سکے تو پڑھنا چاہئے ،’’عقلیات ابن تیمیہ‘‘(3)،جن لوگوں کو علم کلام،منطق ،فلسفہ وغیرہ سے دلچسپی ہو کہ ابن تیمیہ کا ان تمام کے سلسلہ میں کیا موقف رہا ہے،اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے ،یہ مولانا حنیف ندوی کی ہے ،یہ چند اچھی کتابوں میں سے ہیں جو میں نے ذکر کیاہے۔انگلش اور فرنچ وغیرہ میں بھی لکھا گیا ہے ،یورپ کے اندر ابن تیمیہ کے تعلق سے دراسات کا بھی سلسلہ ہے ،ایک تھے ہنري لاوست(4) یہ فرنس تھے ،انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے ابن تیمیہ کے سیاسی اور اجتماعی نظریا ت پر جس کا عربی میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے، اس میں بہت ایمانداری کے ساتھ سب انہوں نے پیش کیاہے،یہ فرنچ میں لکھا گیا ہے اور عربی میں ترجمہ ہوا ہے۔دوسرے ایک تھے بنگلہ دیش کے سراج الحق صاحب انہوں نے لندن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ ابن تیمیہ کے تعلق سے تیار کیا تھا ، وہ بھی بنگلہ دیش سے چھپ چکاہے یہ انگلش میں ہے۔ان کتابوں سے تو استفادہ کرسکتے ہیں ۔ورنہ اصل یہ ہے کہ براہ راست ابن تیمیہ کی کتابوں سے ہی استفادہ کیاجائے۔اسی طرح مختلف انسائیکلو پیڈیا دیکھیں گے تو معلو م ہوگا کہ سبھو ں نے ابن تیمیہ کی ہمہ گیری اور وسعت معلومات اور خدمات کا اعتراف کیاہے۔میں سوچ رہاتھا کہ فارسی میں تھوڑا تعصب سے کام لیا ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے بڑا کھل کرکے اس میں لکھا گیا ہے۔اور ان کی نظریات کو بیان کیا گیا ہے۔
    اب عربی میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ،وہ بے شمار ہیں مشہور کتاب ابو زہرہ کی ہے،دوسری ایک کتاب دکتور محمد یوسف موسیٰ صاحب کی ہے یہ بھی مؤلف مصری ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب کے اندر بہت سے باحثین نے لکھا ہے ،لیکن اکثر جو چیزیں یہاں لکھی گئی ہیں وہ ایک دوسرے سےتکرار ،نقل شدہ ہی ہیں ،ان لکھنے والوں میں ایک ہیں ڈاکٹر عبد الرحمٰن المحمود ان کی ایک کتاب ہے’’موقف ابن تيمية من الأشاعرة‘‘۔یہ کتاب بہت اچھی ہے ،(5) ایسے ہی اشاعرہ پر جو تنقید اور تبصرہ کیا ہے وہ بھی بہت شاندار ہے۔ اور بھی بہت ساری کتابیں ہیں ،میرا کہنا ہے کہ اصل کتابیں پڑھیں، بجائے اس کے ان پر جو دراسات ہوئے ہیں ان کو پڑھا جائے ۔
    ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تصانیف کی تعداد کتنی ہے؟ اسی طرح کیا ہم ان کو موضوعاتی تقسیم کے دائرے میں لا سکتے ہیں۔پھر ان سے استفادے کے کیا بہتر طریقے ہوسکتے ہیں ؟
    ابن تیمیہ کے بارے میں تو یہ بات بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے سولہ سترہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کردیا تھا ،ان کی بہت ہی مشہور کتاب ہے جو شاتم ِرسول سے متعلق ہے اس کی تصنیف کے وقت ان کی عمر 32سال کے قریب رہی ہوگی۔یہ پہلی کتاب ہے جو اس موضوع سے متعلق سب سے مکمل او رجامع کتاب ہے،بعد میں جتنے لوگ آئے سبھوں نے اسی پر اعتماد کرکے لکھا ہے۔ابن تیمیہ کی تصانیف کے تعلق سے کسی نے کہا ہزارہے ،کسی نے کہا پانچ سو ہے ،کسی نے کہا سات سو ہے ،کسی نے کہا تین سو سے زیادہ ہے،لیکن مکمل فہرست جو بنائی ہے وہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی ہیں ،اس میں دیکھیں گے تقریباً پانچ سو سے کچھ زیادہ کتابوں کے اسماء موجود ہیں ۔ اس سے پہلے ابن تیمیہ کے ایک شاگر د تھے ابن رشیق جن کی وفات 749ھ میں ہے تو ان کی ایک کتاب ہے اسما ء مؤلفات ابن تیمیہ ،لیکن افسو س وہ ان کی طرف منسوب ہوکرکے نہیں چھپی تھی بلکہ ابن قیم کی طرف منسوب ہوکرکے چھپی تھی ۔بہت بڑے محقق تھے صالح المنجد انہوں نے بھی غلط منسوب کردیا ،اور آج تک لوگ یہی سمجھ رہے ہیں کہ ابن قیم نے وہ کتاب لکھی ہے ، پھر ہم لوگوں نے الجامع لسیرہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے اندر صحیح منسوب کرکے ڈالا اورچھاپا ۔
    سب سے پہلے انہوں نے ان کی تصانیف شمار کرنے کی کوشش کی اور تقریباً چارسو کے قریب انہوں نے شمار کیاہے۔اسی طرح موجود دور میں ایک مستشرق تھا بروق المان اس نے تاریخ الادب العربی میں جو جرمن زبان میں ہے ، اس میں اس نے کئی ساری مؤلفین کے ساتھ ابن تیمیہ کی مطبوع اور مخطوط تصانیف کا ذکر کیاہے ستر اسی کے قریب بتایا ہے ،اصلا ًاس کو اس زمانہ میں اتنے کا ہی پتہ چلاتھا ،حالانکہ 1902؁ میں اس کی یہ کتاب چھپی تھی ۔پھر اس کے بعد لوگوں نےتلاشنا شروع کیا ،پھر ان کی کتابیں ہندوستان میں ،مصر میں وغیرہ میں چھپنی شروع ہوئیں ،یہ تہریوں صدی ہجری کے ربع اخیر سے لے کر کے اب تک چھپ رہی ہیں ۔یہاں تک کہ بعد میں عبدالرحمٰن بن قاسم او ران کے لڑکے محمد بن قاسم ابن تیمیہ کی جتنی متفر ق چیزیں تھیں اور جتنے مخطوطات ان کو نظر آئے سیریا یاترکی کے اندر ،یورپ کے بعض ممالک میں ،ان سب کو انہوں نے جمع کیا اورایک مجموعہ 35 جلدوں میں شائع کیا ہے ،یہ سب سے بڑا مجموعہ ہے ، دوجلدیں اس کی فہرست ہیں ،یہ 1961؁ سےلے کرکے 1966؁ تک چھپا ہے،اس مجموعہ کی خصوصیت ہےکہ پچھلے جتنے مجموعہ ابن تیمیہ کی بنسکت چھپے تھے وہ سب اس میں آگئے ہیں ،چھوٹے چھوٹے رسائل بھی آگئے ہیں ۔لیکن ابھی بھی چھوٹی بڑی کتابیں ایسی ہیں جو اس میں نہیں شامل تھیں ،تو وہ الگ سے چھپی ہیں ، اسی لیے میں نے ایک فہرست جو تیا ر کی ہے ، اس میں ابن تیمیہ کی ساری تصانیف حروف تہجی کے لحاظ سے ،مجموع الفتاویٰ میں جتنی ہیں ، مثلا ًرفع الملا عن الائمہ اعلام ،مجموع الفتاویٰ میں کہاں ہے ،کس جلد اور کس صفحہ میں و ہ آپ کو اس فہر ست میں مل جائے گا ۔لیکن اس کے علاوہ جتنی کتابیں وہ تقریباً ایک صفحہ میں چالیس پیتالیس کتابیں او رہیں جو تقریباً ایک صفحہ میں میرے پا س ہیں ’’مؤلفات ابن تیمیہ المطبوعہ غیر مجموع الفتاویٰ‘‘ اس میں ایک سیریز ہم لوگوں کا ہے جو جامع المسائل کے نام سے نو جلدوں میں چھپا ہے، تو ابن تیمیہ کی جو موجود اور مطبوع تصانیف ہیں وہ میں نے بیا ن کیا ان کے علاوہ بہت سے غیر مطبوع ہیں ،ابھی جو چھپی نہیں ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے اولا دن بدن نئے نئے انکشافات ہوتے ہیں ،ثانیاً یہ کہ بہت سی چیزیں ابن تیمیہ کی ہاتھ کے لکھی ہوئی ہیں جو پڑھی ہی نہیں جاتیں، جس کی وجہ سے آج تک لوگوں نے اسے شائع نہیں کیا ،میں نے بیس سال پہلے ایک کتاب چھاپی تھی’’ قاعدہ فی الاستحسان ‘‘کے نام سے اس کتاب کو لوگ دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ کیسے تم نے اس کو پڑھا اور چھاپا ، ابھی بیس سال کے بعد ایک کتاب یہ چھاپی ہے’’شرح حدیث انما الاعمال بالنیات ‘‘اس طرح کے بہت سے مسودات اب بھی موجود ہیں ،اگر ان کو شائع کریں تو میرے اندازے کے مطابق دس بارہ جلدیں اس کی بنیں گی۔ اکثر ان مسودات کا ذخیرہ سیریا کے ، ظاہریہ لائبریر ی میں ، کچھ تر کی ، کچھ ہندوستان کے اندر ہیں۔ہر دن اس بات کی توقع رہتی ہے کہ کسی نئی کتاب کا انکشاف ہوجائے ۔ ابن تیمیہ کی زندگی کو اگر تقسیم کیاجائے تو ہر دن چالیس صفحات آتے ہیں ،لیکن اس با ت میں بہت مضبوطی نہیں ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ بسااوقات کوئی فتویٰ آتا ایک ہی نششت میں ساٹھ ساٹھ صفحات لکھ جاتے ۔
    حواشی و اضافات (آفاق احمد سنابلی مدنی)
    1-چند سطور میں علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی کی شخصیت کے تما م پہلوؤں کا احاطہ ناگزیر ہے۔ اس لیے جو ان کی شخصیت پر مفصل مطالعہ کرنا چاہتے ہوں اور ان کے کارناموں سے شغف رکھتے ہوںتو انہیں درج ذیل کتابوں اور مقالات سامنے رکھنا چاہیے ۔( 1)مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی کی جامع شخصیت :مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی ج 2 ص 172)(2) ا ستاد گرامی مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی مرتب اسحاق بھٹی۔(3) الاعتصام اشاعت خاص (بیاد مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی)ابھی جلد ہی علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ کی مسلسل تحریک پر ’’آثار حنیف‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں ان کے دروس ،فتاؤں اور تمام تحریروں کو یکجا کرکے دار ابی طیب نے چھاپا ہے۔ ماہنامہ مجلہ’’رحیق‘‘ لاہور سے علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ (م 1987؁ء) نے اکتوبر 1956؁ء میں جاری کیا۔ 31 شماروں اور 1708 صفحات پر مشتمل تین سالہ مکمل فائل تین جلدوں میں جلد ہی ابھی پاکستان سے شائع ہوا ہے۔
    علامہ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’علامہ حنیف بھوجیانوی رحمہ اللہ،صاحب دار الدعوہ السلفیہ اور مؤلف ’’التعلیقات السلفیہ علٰی سنن النسائ ‘‘کی طلب وخواہش پر مولانا رئیس احمد جعفری نے اسے اردو زبان میں منتقل کیا ہے اور علامہ غلام رسول مہر نے اس کتاب پر تقدیم لکھی ہے ۔
    علامہ بھوجیانوی رحمہ اللہ نے اصل و ترجمہ کے مابین مقارنہ کا کام خود اپنے ذمہ لیا ۔ ناقص کی تکمیل کی او رزائد کو حذف کرکے منقح کیا اور اس پر دقیق علمی تعلیقات لکھیں اور جن مقامات پر ابو زہرہ سے لغزشیں سرزدہوئی تھیں ،وہاں ان کا عمدہ جائزہ لیا ،جہاں بھی ابوزہرہ (جو کہ اشعری تھے )نے اشاعرہ پر ر د و انتقاد او راہل السنہ والجماعہ کے دلائل ذکرکرنے میں کوتاہی کی ہے ، علامہ بھوجیانوی رحمہ اللہ نے انہیں واضح کردیا ہے اور واضح دلائل سے ان پراو ربحث و تحقیق میں ان کے طریقۂ کا ر پر ناقدانہ نگاہ ڈالی ہے ۔
    اسی طرح مشہور سیاح ابن بطوطہ نے ،اللہ تعالیٰ کے سماء دنیا پر نزول کے تعلق سے شیخ الاسلام کی طرف غلط قول منسوب کیاتھا ۔ علامہ بھوجیانوی نے اس کی بھی تردید کی ہے ۔ اسی طرح شیخ الاسلام کی تجریح میں امام ذہبی رحمہ اللہ کی طرف غلط منسوب قول کی بھی تردید کی ہے۔
    اسی طرح مسلمان جاہل حلقوں میں پھیلی ہوئی ان تمام افواہوں اور غلطیوں کی جڑیں اکھیڑ دیں ہیں ، جنہیں شیخ ابو زہرہ مصری شیخ الاسلام امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی مبارک دعوت پر کیچڑ اچھالنے اور اسے داغدار کرنے کے لیے پیش کیا تھا ۔ اس کتاب کی اردو طباعت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ علامہ بھوجیانوی نے شیخ الاسلام کی تالیفات کے حوالہ سے درج ذیل چیزیں جمع کردیں ۔1- شیخ الاسلام کی تالیفات کی ایک مکمل فہرست ۔2- ان کے اردو تراجم کی ایک مکمل فہرست ۔3- سنہ طباعت ۔4- مطبوعہ مجموعات میں ان کا حوالہ ۔5-مخطوط مجموعات میں ان کاحوالہ ۔اس انداز پر میری نگاہ میں ان کا یہ بے نظیر کارنامہ ہے ۔’’غاية الأماني في الرد على النبھاني‘‘ کی فہرست بھی مفید ہے ۔ لیکن علامہ بھوجیانوی کی فہرست اس پر فائق ہے۔(مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی :ج 3 ص 196-197)۔
    2-یہ کتاب مولانا ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ کے سلسلۂ تاریخ دعوت و عزیمت کا دوسرا حصہ ہے، یہ کتاب اصلاً اردو میں ہے ،پھر انگریزی میں اس کاترجمہ ہوا او ر مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندوی(جو دارالعلوم ندوہ العلماء کے استاذ اور البعث الاسلامی لکھنؤ کے ایڈیٹر ہیں)نے مؤلف کی خواہش پر اس کتاب کو عربی جامہ پہنایا ہے ، مگر عربی طباعت ارود سے مختلف ہے۔
    مؤلف رحمہ اللہ لکھتے ہیں :’’مؤلف کتاب نے اس ترجمہ کو حرفاً حرفاً پڑھا ہے اور قدر ضرورت اس کی تنقیح و تہذیب اور حذف و اضافہ بھی کیا ہے اور کچھ جدید و مفید تعلیقات سے آراستہ کردیا ہے ۔لہٰذا کتاب مکمل عمدہ اور عربی ذوق سلیم کے بالکل موافق ہوگئی۔
    مولانا ندوی کی یہی عادت ہے کہ وہ اپنی عربی کتابوں میں سنی ذوق سلیم کا مظاہرہ کرتے ہیں اور عجمی زبان کی کتابوں میں صوفی ذوق کو پیش کرتے ہیں یہی اصول جماعت تبلیغ کے اکابر اور پیروان مولانا مودودی کا بھی ہے۔
    مولانا ندوی نے اپنی اردو طباعت میں ایک عنوان قائم کیا ہے ’’شیخ الاسلام ایک عارف باللہ اور محقق‘‘ اور اس باب کے تحت ایک فصل قائم کی ہے’’ابن تیمیہ کی شخصیت میں ایک نیا انکشاف‘‘
    اس جدید انکشاف سے مولانا ندوی کی مراد یہ ہے کہ محققین کی نگاہ میں شیخ الاسلام صرف ایک عالم، متکلم، فقیہ، جدلی ، محدث کبیر کی حیثیت سے معروف تھے، اور انہیں ان میں سوائے اس کے کچھ اور نظر نہیں آتا کہ وہ علوم ظاہری میں متبحر و با بصیرت تھے ۔صرف امام ابن القیم کی ایک تنہا عظیم شخصیت ہے جنہوں نے اپنی کتاب’’مدارج السالقین‘‘ میں اپنے استاد کے روحانی و باطنی کوائف پر گفتگو کی ہے۔
    مولانا ندوی نے یہ باور کرانے کی کوشش فرمائی ہے کہ شیخ الاسلام اور ان کے شاگرد رشید امام ابن القیم معرفت و روحانیت اور ذوق باطنی کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز تھے مولانا ندوی نے اس دور میں یہ انکشاف کیا ہے (جس طرح امریکیوں نے کرہ قمر کا انکشاف کیا اور کولمبس نے امریکہ کا سراغ لگایا ہے) کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اس بات کا پورا استحقاق رکھتے ہیں کہ ان کا شمار اس امت کے عارفین اور اہل اللہ میں کیا جائے ۔(ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا ندوی امام موصوف کو اس رتبہ بلند پہ پہنچانا چاہتے ہیں جہاں ان کے ممدوحین نقشبندیہ، مجددیہ ،سہروردیہ، قادریہ، چشتیہ، جیسے ابن الرومی، شیخ معین الدین چشتی ،شیخ نظام الدین اولیاء ،اور شیخ شرف الدین یحییٰ المنیری پہنچے ہوئے تھے جن کے تذکرہ کے لیے مولانا ندوی نے سلسلے دعوت و عزیمت کے تیسرے حصے کو مختص کیا ہے اور مولانا ندوی ان میں سے اکثر سلاسل سے بیعت ہیں اور بعض کے لیے بیعت لی بھی ہے)۔
    اب ہر سینہ اعتراف کے لیے کھل جاتا ہے کہ وہ ان منازل پر فائز اور ان مقاصد سے بہر مند تھے جن کہ حصول کے لیے سالہا سال ریاضت، مجاہدہ، ائمہ فن سلوک کی صحبت ،دوا میں ذکر و مراقبہ کا راستہ بالعموم اختیار کیا جاتا ہے اور جس کو متخرین صوفیا نسبت مع اللہ سے تعبیر کرتے ہیں۔( امام حافظ ابن تیمیہ صفحہ نمبر 129 )۔
    سمجھ میں نہیں آتا کہ ذکر ،مراقبہ ،نسبت، روحانیت اور باطنیت سے مولانا ندوی کی کیا مراد ہے کیا آپ کے لیے احسان کافی نہیں جسے نبی ﷺ نے ایمان کا کمال اور اعلیٰ درجہ بتایا ہے کیا ایک صاحب ایمان کے لیے نبی ﷺ کے اسوہ کے آگے محنت کش ورزشوں اور صوفیانہ تربیت و طریقہ کار کی ضرورت ہے ؟
    کیا صحابہ رسول اور تابعین عظام اس درجہ تک نہیں پہنچے تھے جس درجہ تک ابن رومی، سحروردی، سمنائی، بدوی اور تیجانی پہنچ گئے ؟
    کیا کوئی شخص کمال کے درجات تک جسے مولانا ندوی چاہتے ہیں اسی وقت پہنچ سکتا ہے ،جبکہ قبروں پہ جا کے حاضری دے حاضری دے، مراقبہ کرے، ان قبروں پر جہاں پر ان جیسے لوگ گوش عبادت اور خانقاہی نظام بنا لیتے ہیں نبی ﷺ نے سچ فرمایا تھا:’’بَدَأ الإسلامُ غَريبًا، وسَيَعودُ كما بَدَأ غَريبًا، فطوبٰى للغُرَباءِ‘‘ اسلام اجنبیت کی حالت میں ابھرا اور پھر اجنبیت کی حالت میں چلا جائے گا جس طرح شروع ہوا تھا ۔لہٰذا اجنبیوں کے لیے خوش بختی ہو۔(صحیح مسلم:154)
    اگر ہم اس پہلو سے چشم پوشی کریں اور بقیہ کتاب پر نگاہ ڈالیں تو بلا شبہ دیکھیں گے کہ یہ کتاب بے شمار فوائد و خوبیاں رکھتی ہے۔ یہ دراصل تین پہلوؤں کی کوشش کا ثمرہ ہے ۔
    1-مولانا علی میاں ندوی جو مرتب ہیں۔
    2- مکتبہ شاہ حلیم عطا اللہ رحمہ اللہ اور ابو زہرہ کی کتاب بطور مصدر و ماخذ۔
    3- شاہ حلیم عطا (مدرس دارالعلوم ندوہ العلماء )اور اس کتاب کی تالیف میں ان کا تعاون و حصہ جیسا کہ مؤلف نے اردوطباعت کے مقدمہ میں اس کا اعتراف کیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ اس کتاب کی ترتیب و تالیف میں ان کا اتنا بڑا حصہ ہے کہ شکر و اعتراف کے بلند سے بلند لفظ اس کے لیے کفایت نہیں کرتے ۔
    شیخ حلیم عطا صوفی خاندان سے تھے لیکن انہوں نے اپنے ابا و اجداد کے راستے کو خیراباد کہہ دیا اور سلف صالحین کے منہا ج و طریقے کار سے جڑ گئے وہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور امام ابن القیم کی کتابوں سے حد درجہ لگاؤ رکھتے تھے اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے علوم و معارف پر گہری نگاہ اور وسیع معلومات رکھتے تھے ۔(مجموعہ مقالات مولانا عبد الحمید رحمانی ج 3ص 193-194-195)۔
    3-عقلیات ابن تیمیہ 330 صفحات کی کتاب ہے۔ علامہ حنیف ندوی کی سیرت پر پڑھنے کے لیے رجوع کریں ۔1:مجموعہ مقالات مولانا عبدالحمید رحمانی ج 2 ص 154-171)۔2:ارمغان حنیف :اسحاق بھٹی ، ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور۔
    4-المستشرق الفرنسي(هنري لاووست) الذي خصه بعناية كبيرة، كتاب’’نظريات ابن تيمية في الاجتماع والسياسة‘‘ والذي جعل آرائه السياسية والاجتماعية موضوعًا لإحدى الرسالتين اللتين حصل بهما على الدكتوراه من باريس، كما ترجم بعض مؤلفاته إلى اللغة الفرنسية مع دراسة وتقديم لها۔النشأة العلمية عند ابن تيمية و تكوينه الفكري .صححه و علق عليه د/علي بن محمد العمران۔
    5-یہ کتاب تین جلدوں میں ہے ،تقریباً 1400 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ہے، دراصل یہ ان کے دکتورہ کا رسالہ ہے۔
    أصل هذا الكتاب رسالة دكتوراة تقدم بھا المؤلف إلى كلية أصول الدين بجامعة الإمام بن سعود الإسلامية –
    جاری………

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings