Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • قربانی سےمتعلق پھیلی ہوئی چند مشہور احادیث کی حقیقت

    ہمارے معاشرے میں قربانی سے متعلق بہت ساری حدیثیں مشہور ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ بعض روایات موضوع اور من گھڑت ہیں حتیٰ کہ ابو بکر ابن العربی نے اس سلسلے میں ایک دعویٰ کیا ہے کہ’’ليس في فَضلِ الأُضْحِيَّة حديثٌ صحيحٌ يُعَوَّلُ عليه، وقد رَوَى النّاسُ فيها عجائب لم يصحّ منها شيءٌ‘‘۔ ’’قربانی کی فضیلت کے سلسلے میں ایک بھی حدیث صحیح نہیں ہے کہ جس پر اعتماد کیا جائے حالانکہ لوگوں نے اس سلسلے میں بڑی عجیب عجیب احادیث روایت کر رکھی ہیں جن میں سے کچھ بھی صحیح نہیں ہے‘‘[ التلخيص الحبير لابن حجر – 6/‏3010 ]
    ابن العربی رحمہ اللہ کے اس دعوے کو مختلف اہل علم نے بھی نقل کیا مثلاً:
    1 ۔ ابن الملقن (ت 804) رحمہ اللہ نے ( البدر المنير 9/‏273 ) میں۔
    2- حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے( التلخيص الحبير 6/‏3010 ) میں ۔
    3- شمس الدين السخاوي (ت 902) رحمہ اللہ نے ( المقاصد الحسنة 1/‏114) میں ۔
    4- عبد الرؤوف المناوي (ت 1031) (فيض القدير1/‏496) میں
    5- عبد الرحمٰن المبارکفوري (ت 1353) (تحفۃ الأحوذي 5/‏63) اور(مرعاة المفاتيح5/‏104 ) میں ۔
    6- امام الصنعاني (ت 1182) (التنوير شرح الجامع الصغير2/‏333) میں ۔
    7- جلال الدین السيوطي (ت 911) (جمع الجوامع المعروف بـ الجامع الكبير1/‏618 میں ۔
    8- سليمان بن محمد اللھیمیدبھی ( شرح منهج السالكين 1/‏606 ) میں لکھتے ہیں کہ:’’ لا يصح حديث في فضل الأضحية ‘‘قربانی کی فضیلت میں ایک بھی حدیث صحیح نہیں ہے ۔
    ان میں سے چند احادیث کا ذکر کیا جارہا ہے :
    1-عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:أُمِرْتُ بِالْوِتْرِ وَالْأَضْحَى وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيَّ[سنن الدارقطني 2/‏337 ، الدارقطني (ت 385)
    ترجمہ : انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے وتر اور عید الاضحیٰ کا حکم دیا گیا ہے، لیکن مجھ پر لازمی قرار نہیں دیا گیا ۔
    حدیث کا حکم :
    اس حدیث کی سند میں ایک راوی عَبد اللهِ بْن مُحَرَّر ہے جس کے بارے میں امام بخاری رحمہ کہتے ہیں کہ عَبد اللهِ بْن مُحَرَّر ’’ منکر الحدیث‘‘ ہے [التاريخ الكبير للبخاري بحواشي محمود خليل 5/‏212، البخاري ت 256]
    یعقوب بن سفیان الفسوی کہتے ہیں کہ:’’عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَرِّرٍ الْعَامِرِيُّ جَزْرِيٌّ مَتْرُوكٌ ضَعِيفٌ‘‘۔ عبد اللہ بن محرر عامری جزری ، متروک ، ضعیف راوی ہے ۔[المعرفة والتاريخ – 3/‏141،يعقوب بن سفيان الفسوي ت 277]
    امام العقیلی رحمہ اللہ نے الضعفاء الکبیر میں ذکر کیا ہے ۔ [الضعفاء الكبير للعقيلي 2/‏309،العقيلي ت 322]
    عبد الحق الاشبيلي کہتے ہیں کہ اس روایت کی سند میں ایک متروک راوی عبد الله بن محرز ہے ۔[الأحكام الوسطى 2/45]
    ابن الملقن رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [ البدر المنير : 4/328]
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث عبد الله بن محرز کی مرویات میں سے ہے جو کہ سخت ضعیف ہیں ۔[ التلخيص الحبير : 2/504 ]
    امام ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کی سند میں ایک مجروح راوی عبد اللہ بن محرر الجزری ہے ۔ [ ميزان الاعتدال : 2/500]
    امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’’ ضعیف جدا ‘‘ کہا ہے ۔ [ضعيف الجامع: 1260 ]
    2-عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول اللَّه ﷺ:عجب ربنا عز وجل من ذَبحِكم الضأنَ في يوم عيدكم زهر الفردوس = الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس 5/‏751 ابن حجر العسقلاني (ت 852)
    ترجمہ : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ہمارا رب تمہارے عید کے دن کے دنبے کے ذبح سے خوش ہوتا ہے ۔
    حدیث کا حکم : اس حدیث کی سند میں دو متکلم فیہ راوی ہیں ، ابن ابی فدیک اور شبل بن العلاء ۔
    ابن ابی فدیک کے بارے میں ابن سعد کہتے ہیں کہ:’’ ليس بحجة‘‘ قابل حجت نہیں ہیں ۔
    اور شبل بن العلاء کے بارے میں ابن عدی کہتے ہیں کہ:’’ له مناكير‘‘ یہ منکر روایت کرتے ہیں ۔
    شبل بن العلاء کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے ضعفاء میں ذکر کیا ہے ۔[التنوير شرح الجامع الصغير 7/206 ، فيض القدير 4/ 303]
    امام سیوطی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔[الجامع الصغير5367]
    امام البانی رحمہ اللہ نے [ضعيف الجامع 3679 ] اور[ السلسلة الضعيفة 2261 ] میں موضوع قرار دیا ہے ۔
    3-عظموا ضحاياكم فإنھا على الصراط مطاياكم۔[رواہ الديلمي في مسند الفردوس268 ، التلخيص الحبير: 4/‏341 ،ابن حجر العسقلاني ت 852]
    ترجمہ : اپنی قربانیوں کو عظیم ( موٹا ،تگڑا ) بناؤ، کیونکہ وہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔
    بعض روایتوں میں’’استفرِهوا ضحاياكم۔۔۔۔‘‘ کے الفاظ ہیں ۔
    محمد زكريا الكاندهلوي (ت : 1402) کہتے ہیں کہ اس کا ایک معنیٰ تو یہ ہے کہ:’’أنھا تكون مراكب للمضحين، وقيل: إنها تسهل الجواز على الصراط‘‘۔ وہ جانور قربانی کرنے والوں کے لئے سواری کا کام کرے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جانور پل صراط کو پار کرنے میں آسانی کا ذریعہ ہوگا۔[الأبواب والتراجم لصحيح البخاري 6/‏81 ]
    اور ابو المعالی الجوینی کہتے ہیں کہ: ’’تُهيأ مراكب للمضحّين يوم القيامة، وقيل: المراد إن التضحية بها تسهل الجواز على الصراط، وقيل في قوله تعالٰى: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ﴾[الحج:32]، المراد به استحسان البُدْنِ، واستسمانها‘‘۔[نهاية المطلب في دراية المذهب 18/‏175،الجويني، أبو المعالي:ت 478]
    قربانی کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن سواریوں کا انتظام کیا جائے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد : قربانی کا عمل پل صراط پر گزرنے میں آسانی کا باعث ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: ’’وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ‘‘ [الحج: 32] کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد قربانی کے جانوروں کا خوبصورت اور فربہ ہونا ہے ۔
    حدیث کا حکم :
    ابن الصلاح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ :یہ حدیث غیر معروف ہے اور ہمارے علم کے مطابق ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم [شرح مشكل الوسيط 4/‏199،ابن الصلاح ت 642]
    ابن الملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:غريب [يعني لا يعلم من رواه] یہ روایت غریب ہے اسے روایت کرنے والا مجہول ہے ۔[خلاصة البدر المنير 2/377]
    امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:’’ لا أصل له بهذا اللفظ‘‘ ۔’’ان الفاظ کے ساتھ اس کی کوئی اصل نہیں ہے‘‘ ۔[السلسلة الضعيفة 74]
    اور ضعيف الجامع (824) میں کہتے ہیں:’’ ضعيف جداً ‘‘۔ یہ روایت سخت ضعیف ہے ۔
    4- عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَدِينُ وَأُضَحِّي؟، قَالَ: نَعَمْ فَإِنَّهُ دَيْنٌ مَقْضِيُّ. [سنن الدارقطني 5/‏510 الدارقطني (ت 385) ، السنن الكبرى-البيهقي-ط العلمية 9/440 ،أبو بكر البيهقي (ت 458)،معرفة السنن والآثار14/16 أبو بكر البيهقي (ت 458)]
    ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں قرض لے کر قربانی کر سکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں کیونکہ یہ قرض ادا ہو جائے گا۔
    حدیث کا حکم :
    امام بیہقی رحمہ اللہ معرفۃ السنن والآثار (18904) میں ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ:’’إسناده ضعيف‘‘۔ اس کی سند ضعیف ہے ۔
    ابن القطان نے’’منقطع ضعيف‘‘ کہا ہے ۔ مزید کہتے ہیں کہ اس کی سند میں ایک راوی ہے’’ھریر‘‘ جس کا سماع عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں ہے ۔ [الوهم والإيھام5/803]
    اور امام دارقطني کہتے ہیں کہ:’’فيه هرير لم يدرك عائشہ‘‘۔[الدراية تخريج أحاديث الھداية 2/213]
    امام البانی رحمہ اللہ نے ’’منكر‘‘ کہا ہے ۔[السلسلة الضعيفة 4145]
    5- عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ:’’خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ، وَخَيْرُ الْأُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ‘‘۔[سنن أبي داؤد – ت محيي الدين عبد الحميد 3/‏199 أبو داود ت 275]
    ترجمہ : عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سب سے بہترین کفن حلہ ( لنگی اور چادر ) ہے ، اور سب سے بہترین قربانی سینگ والا مینڈھا ہے ۔
    حدیث کا حکم :
    عبد الحق الاشبيلي کہتے ہیں کہ ابوداؤد کی سند میں ہشام بن سعد اور ترمذی میں مروی حدیث کی سند میں عفیر بن معدان ہیں سب ضعیف ہیں۔ [ الأحكام الوسطى : 2/127]
    امام ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس میں ایک مجہول راوی ہے ۔[المھذب في اختصار السنن 3/1336 ]
    امام البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔[ضعيف أبي داؤد 3156 ،هداية الرواة1585 و ضعيف الترغيب : 679]
    6- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ، يَقُولُ:’’ثَلاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ، وَهُنَّ لَكُمْ تَطَوُّعٌ: الْوَتْرُ، وَالنَّحْرُ، وَصَلاةُ الضُّحَى‘‘[مسند أحمد – ط الرسالة 3/‏485 أحمد بن حنبل ت 241]
    ترجمہ : عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تین چیزیں میرے اوپر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل : وتر ( کی نماز ) ، قربانی اور چاشت کی نماز ۔
    حدیث کا حکم :
    امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی سند میں ضعف ہے ۔[ تنقيح التحقيق : 2/401]
    شعيب الارنؤوط کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے ۔ [ تخريج المسند لشعيب : 2050]
    احمد شاکر نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ [تخريج المسند لشاكر : 3/334]
    7-عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:’’مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا‘‘۔[سنن الترمذي-ت شاكر 4/‏83 أبو عيسى الترمذي ت 279]
    حدیث کا ترجمہ : عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قربانی کے دن آدمی جو عمل کرتا ہے، اللہ کے نزدیک خون بہانے ( قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں ہے۔ وہ جانور قیامت کے دن اپنی سینگوں، بالوں اور کھُروں ( جانور کے پیر کا نچلا حصہ ) کے ساتھ آئے گا، اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں مقامِ قبولیت میں پہنچ جاتا ہے، پس تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔
    حدیث کا حکم:
    امام بخاري رحمہ اللہ نے مرسل قرار دیا ہے۔ [العلل الكبير244]
    ابن ملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’فیہ نظر‘‘۔[البدر المنير 9/273]
    امام مزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی ہے أبو المثنی الخزاعي ، أبو حاتم کہتے ہیں:’’منكر الحديث‘‘۔[تهذيب الكمال22/11]
    ابن الجوزي کہتے ہیں کہ:’’لا يصح‘‘۔[العلل المتناهية : 2/569]
    امام دار قطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:’’أبو المثنى ضعيف ‘‘۔ابو المثنی ضعیف ہے ۔ [ علل الدارقطني3823]
    صاحب تحفۃ الاحوذي (4/429) کہتے ہیں کہ:’’الظاهرأنه حسن وليس بصحيح‘‘۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ روایت حسن ہے لیکن صحیح نہیں ہے ۔ [ تحفة الأحوذي 4/429]
    امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ [ضعيف الترمذي 1493،ضعيف الترغيب 671،السلسلة الضعيفة 526 ، ضعيف الجامع 5112، ضعيف ابن ماجه 613]
    8- عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قُلْتُ: أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ. قَالُوا: مَا لَنَا مِنْهَا؟ قَالَ: بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَالصُّوفُ؟ قَالَ:بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ۔[مسند أحمد – ط الرسالة 32/34 أحمد بن حنبل ت241]
    حدیث کا ترجمہ : زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے یا صحابہ نے کہا کہ: ’’ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔” انہوں نے عرض کیا: ہمیں اس (قربانی) کے بدلے کیا ملے گا؟آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اون (والے جانور) کے بارے میں کیا حکم ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے‘‘۔
    حدیث کا حکم :
    شعيب الارنؤوط کہتے ہیں کہ:’’إسناده ضعيف جدا‘‘۔اس کی سند سخت ضعیف ہے ۔[تخريج المسند لشعيب) 19283 ]
    امام منذری کہتے ہیں کہ: إسناده واه۔[الترغيب والترهيب 2/159]
    امام عقیلی کہتے ہیں کہ:’’عائذ الله المجاشعي لا يعرف إلا به قال البخاري لا يصح حديثه‘‘ اس حدیث کی سند کو صرف عائذ اللہ مجاشعی سے جانی جاتی ہے جس کے بارے میں امام بخاری کہتے ہیں کہ:’’لا يصح حديثه‘‘ اس کی حدیث صحیح نہیں ہے ۔ [الضعفاء الكبير 3/419 ]
    امام البانی رحمہ اللہهداية الرواة (1421 ) میں’’إسناده واهٍ‘‘،[ضعيف ابن ماجۃ 614 ] میں’’ ضعيف جداً‘‘ اور[ ضعيف الترغيب (672) ] میں ’’موضوع‘‘ قرار دیا ہے۔
    9- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:’’مَنْ ضَحَّى طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ، مُحْتَسِبًا لِأُضْحِيَّتِهِ؛ كَانَتْ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ‘‘۔[المعجم الكبير للطبراني : 3/84 الطبراني، ت360]
    ترجمہ : عبداللہ بن حسن بن حسن اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’جس شخص نے خوش دلی کے ساتھ، ثواب کی نیت سے قربانی کی، تو وہ قربانی اس کے لیے دوزخ سے آڑ (یعنی حجاب) بن جائے گی‘‘۔
    حدیث کا حکم :
    ابن ملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی سند میں کذاب اور وضاع راوی ابوداؤد نخعی ہے ۔[خلاصة البدر المنير 2/386]
    ابن جوزی رحمہ اللہ ابوداؤد نخعی کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ:’’هُوَ كَذَّابٌ يَضَعُ الحديث‘‘۔[العلل المتناهية في الأحاديث الواهية:2/403]
    مزید ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:’’كان يضع الحديث بإجماع المحدثين‘‘۔ ابوداؤد نخعی کے حدیث گڑھنے پر محدثین کا اجماع ہے ۔[العلل المتناهية في الأحاديث الواهية:2/244]
    امام البانی رحمہ اللہ نے موضوع قرار دیا ہے ۔[ضعيف الترغيب:677،ضعيف الجامع:5679، السلسلة الضعيفة:529]
    10- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:’’الْأَضْحَى عَلَيَّ فَرِيضَةٌ، وَعَلَيْكُمْ سُنَّةٌ‘‘۔ [المعجم الكبير للطبراني11/‏260 الطبراني:ت360، المعجم الأوسط للطبراني:3/63 الطبراني ت:360، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:2/110 يحيى بن الحسين الشجري ت :499]
    ترجمہ : عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے اوپر قربانی فرض ہے اور تمہارے لیے سنت ہے ‘‘۔
    حدیث کا حکم :
    امام طبری رحمہ اللہ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ:’’لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عِكْرِمَةَ إِلَّا أَبُو جَنَابٍ‘‘۔اس حدیث کو عکرمہ سے روایت کرنے والے صرف ابو جناب ہیں ۔
    امام البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔[ضعيف الجامع : 2285 ]
    مذکورہ روایت کے معنیٰ و مفہوم کی کئی اور روایتیں ہیں مثلاً :
    1-عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كُتِبَ عَلِيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يكْتب عَلَيْكُم۔[مسند أحمد 5/‏85 أحمد بن حنبل ت241، المعجم الكبير للطبراني 11/‏301 الطبراني ت 360]
    ترجمہ : عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے اوپر قربانی فرض کی گئی ہے اور تمہارے اوپر فرض نہیں کی گئی ۔
    2-عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أُمِرْتُ بِالنَّحْرِ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ۔[سنن الدارقطني 5/‏507 الدارقطني ت 385]
    ترجمہ: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے قربانی کرنے کا حکم دیا گیا اور یہ واجب نہیں ہے ۔
    ابن جوزی رحمہ اللہ کا مذکورہ روایتوں کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں ان کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہیں جو کہ ضعیف ہیں ۔ [التحقيق في أحاديث الخلاف 2/‏160 ابن الجوزي:ت 597]
    خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قربانی ایک عظیم عبادت ہے جس کی بجا آوری دراصل اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ﷺ ہے لیکن قربانی کی فضیلت میں بیان کردہ روایات صحت کے درجے کو نہیں پہنچتی ہیں ۔
    اللھم أرنا الحق حقًّا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلًا وارزقنا اجتنابه. آمين يارب العالمين

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings