-
نماز جنازہ میں اعلان کی شرعی حیثیت: قسط:(دوم) میت پر نوحہ کرنا ، رخساروں کو پیٹنا، گریبان پھاڑنا اور رونا حرام ہے:
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :’’أخَذَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ غَيْرَ خَمْسِ نِسْوَةٍ ‘‘۔
ترجمہ: ”نبی کریم ﷺ نے بیعت کے موقع پر ہم سےعہد لیا تھا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی ۔ لیکن اس اقرار میں پانچ عورتوں کےسوا کسی نے پورانہیں کیا“ ۔
[صحیح : رواہ البخاری : 1306 ، ومسلم : 936 ، وابوداؤد : 3127 ، والنسائی :4191 ، ومسند احمد : 20817]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :’
’أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ‘‘۔
ترجمہ: ” میں اس سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ بری ہیں اور بے شک رسول اللہ ﷺمصیبت کے وقت اونچی آواز نکالنے والی،پریشانی کے وقت اپنے سر کے بال منڈوانے والی اور آفت کے وقت اپنے کپڑے پھاڑنے والی عورت سے بَری ہیں “۔
[صحیح : رواہ البخاری : 1296، ومسلم : 104]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
’’ لمّا مات إبراهيمُ ابنُ رَسولِ اللهِ ﷺ صاح أُسامةُ بنُ زَيدٍ، فقالَ رَسولُ اللهِ ﷺ: ليس هذا مِنِّي، وليس بصائحٍ، حَقُّ القَلبِ يَحزَنُ، والعَينُ تَدمَعُ، ولا نُغضِبُ الرَّبَّ ‘‘۔
ترجمہ: ” جب رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ (شدتِ غم سے) چیخ پڑے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور چیخنے والے کا کوئی حق نہیں ۔ دل غمگین ہوتا ہے اور آنکھ آنسو بہاتی ہے لیکن پروردگار کو غضبناک نہیں کرنا چاہئے “۔
[حسن : رواه ابن حبان في صحيحه : 3170 ، والحاكم في المستدرك علي الصحيحين : 1428 ، وأحكام الجنائز للألباني : 39]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ‘‘۔
ترجمہ: ” جس نے (کسی کی موت پر) رخساروں کو پیٹا، گریبان پھاڑا اور جاہلیت کی باتیں بکیں وہ ہم میں سے نہیں“۔
[صحيح : رواه البخاري : 1294 و 1297، ومسلم : 103، والترمذي في سننه 999]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ :
’’ لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ : غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ، فَكُنْتُ قَدْ تَھَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَاسْتَقْبَلَھَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ : ’’أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ ؟ مَرَّتَيْنِ. فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ فَلَمْ أَبْكِ‘‘.
ترجمہ: ” جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئے تو میں نے کہا : غریب الوطن تھے اور غریب الوطنی میں ہی فوت ہوئے۔ میں ان پر اتنا روؤں گی کہ میرے رونے کی باتیں کی جائیں گی ۔ چنانچہ ان پر رونے کے لیے میں نے خود کو تیار کر لیا۔ اس دوران ایک عورت آئی ،وہ رونے پیٹنے میں میرا تعاون کرنا چاہتی تھی ۔ رسول اللہ ﷺنے اس عورت سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : کیا تیرا یہ ارادہ ہے کہ تو گھر میں شیطان کو داخل کر دے ؟ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس گھر سے نکال دیا ہے ۔ آپ ﷺنے دو مرتبہ اس جملے کو دہرایا ۔ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہ سن کر) میں بھی رونے سے رک گئی “۔
[صحیح : رواہ مسلم : 922 ، والإمام أحمد في مسنده : 26534 ، وابن حبان في صحيحه : 3144 ، ومسند الحميدي : 291 ، وابن أبي شيبة : 3 / 391 ، والطيراني في المعجم الكبير : 23 / 601]
حضرت ابو مالک اشعری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : ”میری امت میں چار کام جاہلیت کے ہیں جنہیں یہ نہیں چھوڑیں گے : حسب میں فخر کرنا، نسب میں طعن کرنا، ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا“۔ مزید آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ‘‘۔
ترجمہ: ” نوحہ کرنے والی عورت اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہیں کرے گی تو تو روز قیامت اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ اس پر گندھک کا کرتا اور خارش کی قمیص ہوگی “۔
[صحیح : رواہ مسلم : 934 ، والطيراني في المعجم الكبير : 3420، وابن حبان في صحيحه: 3143، والحاكم في المستدرك علي الصحيحين: 1 / 1413، وشرح السنة للبغوي: 1533، والإمام أحمد في مسنده : 22912]
گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے:
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :’’مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ‘‘۔
ترجمہ: ” جس پر نوحہ کیا گیا اسے نوحہ کرنے والوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا “۔
[صحیح : رواہ البخاری : 1291 ، ومسلم : 933]
حضرت عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملکیہ نے خبر دی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک صاحب زادی (ام ابان) کا مکہ میں انتقال ہو گیا تھا ۔ ہم بھی ان کے جنازے میں حاضر ہوئے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے ۔ میں نے ان دونوں حضرات کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا یا یہ کہا کہ میں ایک بزرگ کے قریب بیٹھ گیا اور دوسرے بزرگ بعد میں آئے اور میرے بازو میں بیٹھ گئے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان سے کہا کہ (جو ام ابان کے بھائی تھے) رونے سے کیوں نہیں روکتے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :
’’إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ‘‘۔
ترجمہ: ” بے شک میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “۔
[صحیح : رواہ البخاری : 1286، ومسلم : 928]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی کئے گئے تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے اندر داخل ہوئے ۔ وہ کہہ رہے تھے ہائے میرے بھائی! ہائے میرے بھائی! اس پرحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ تم مجھ پر روتے ہو، تم نہیں جانتے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا :
’’إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ‘‘۔
ترجمہ: ” بے شک میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے “۔
[صحیح : رواہ البخاری : 1287 ،ومسلم : 927]
فائدہ: ان احادیث پر یہ اشکال واعتراض کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى‘‘. ” کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ اٹھانے والا نہیں “۔[سورہ الفاطر : 17] جبکہ ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کے رونے سے میت عذاب میں مبتلا ہوجاتی ہے ۔ علماء کرام نے اس اشکال کو مختلف طریقوں سے حل کیا ہے مثلاً اگر مرنے والا خود نوحہ کرتا ہو اور گھر والوں کو اس سے نہ روکتا ہو بلکہ اسے برقرار رکھتا ہو یا اپنی میت پر نوحہ کرنے کی وصیت کرکے گیا ہو(جیساکہ یہ عام اہل عرب کی عادت تھی) تب اسے عذاب ہوگا ورنہ نہیں ۔
(جنازہ کی کتاب حافظ عمران ایوب لاہوری : ص 137)
جاری……..