-
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(20) ’’رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘کا تعارف پیش خدمت ہے:
’’رفع الملام عن الائمۃ الاعلام‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک معروف رسالہ ہے۔انہوں نے اس میں اکابر علماء اور خصوصاً ائمہ اربعہ کی جانب منسوب اس غلط فہمی کا ازالہ کیا ہے کہ انہوں نے دانستہ احادیث نبویہ کو نظر انداز کر کے اپنے مقلدین کو اپنے اقوال و افکار کی پیروی کا حکم دیا۔ شیخ نے دلائل و براہین کی روشنی میں اس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ ایک عالم اور امام بھی ایسا نہیں جس نے شعوری طور پر حدیث نبوی سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے اقوال و اعمال کو دین میں حجت قرار دیا ہو۔ ایک امام تو کیا کوئی مسلم بھی اس فعلِ شنیع کی جسارت نہیں کر سکتا۔
شیخ نے پوری تفصیل کے ساتھ ان اعذار و اسباب کی نشان دہی کی ہے، جن کی بنا پر بعض احادیث کے مطابق بعض حلقوں میں عمل نہ کیا جا سکا،مثلاً ان اسباب میں سے ایک سبب یہ ہےکہ بعض اوقات ایک عالم علم وفضل کے باوصف کسی حدیث سے آگاہ نہیں ہوتا اور اس لیے وہ اس پر عمل کرنے سے قاصر رہتا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماا )کی مثالیں دی ہیں کہ تمام تر عظمت و فضیلت کے باوجو د بعض احادیث سے آگاہ نہ تھے ، حتیٰ کہ ان سے کمتر درجہ کے لوگوں نے ان کو ان احادیث سے آگاہ کیا اور انہوں نے بصد شکر ان احادیث کوتسلیم کیا اور ان کے مطابق عمل کیا۔
ایک امام بعض اوقات ایک حدیث کو اس لیے نظر انداز کردیتا ہے کہ وہ حدیث سندا ًاس کے نزدیک صحیح نہیں ہوتی ، بلکہ وہ اس کو ضعیف اور ناقابل اعتماد تصور کرتا ہے۔ کسی حدیث پر ترک عمل کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ایک امام کے مقرر کردہ شرائط پر پوری نہیں اترتی گرچہ دیگر محدثین اس کو صحیح اورقابل اعتماد قراردیتے ہوں ،علیٰ ھٰذا القیاس پورا رسالہ اسی قسم کے اعذار و اسباب مشتمل ہے ۔ (ائمہ سلف اور اتباع سنت:مترجم غلام احمد حریری ص 29-30)
کتاب کا نام:
اس کتاب کے اکثر مخطوطات میں یہی نام مذکو رہے، ہاں بعض کتابوں میں جیسے:’’المقفى الكبير‘‘ للمقريزي (1/468)،و في’’كشف الظنون‘‘ لحاجي خليفة (1/757)، وغیرہ میں ’’دفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘ملتا ہے۔ دیکھیں :[رفع الملام عن الأئمة الأعلام تحقيق :عبد الرحمٰن بن احمد الجميري: ص 17]
مؤلف کی طرف کتاب کی نسبت:
نسبت کتاب کے تعلق سے کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے، پھر بھی چند باتیں نسبتِ کتاب سے متعلق ذکر کردیتا ہوں ۔
(1) فی الحال دنیا کے جتنے بھی مکتبات میں اس کتاب کے مخطوطات موجود ہیں ،ان تمام نسخوں میں ابن تیمیہ کا ہی نام لکھا ہوا ہے۔
(2) مؤلف نے خود اپنی بعض کتابوں میں اپنی اس کتاب کا ذکر کیا ہے،مؤلف کے ہی بعض کتابوں سے بطور حوالہ پیش کرتا ہوں ۔
1- ’’فقد بينا فيما كتبناه في’’رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘ نحو عشرين عذرا للأئمة في ترك العمل ببعض الحديث وبينا أنهم يعذرون في الترك لتلك الأعذار‘‘۔
[مجموع الفتاوى20/ 214]
2-وقد بينا هذا في رسالة’’رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘۔
[مجموع الفتاوى:20/ 305]
3-كما قد بسطت الكلام فيه على ما كتبته في رفع الملام عن الأئمة الأعلام۔الإخنائية أو الرد على الإخنائي ت العنزي:ص215۔
3-جس نے بھی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی سیرت لکھی ہے ، توان کی مؤلفات کی ضمن میں اس کتاب کا بھی ذکر کیاہے۔
4-اس کتاب کی نسبت اہل علم میں سے نہ تو کسی نے اپنی طرف کی ہے اور ہی دوسرے کی طرف ،جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نسبتِ کتاب میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔
زمانۂ تالیف :
کس سن میں شیخ الاسلام نے یہ کتاب لکھی ہے ، اس کی کوئی صاف اور تحقیقی وضاحت نہ تو ان کی طرف سے اور نہ ہی کسی دوسرے کی طرف سے ہمیں ملتی ہے۔ البتہ چند قرائن سے معلوم ہوتا ہےکہ ان کی یہ کتاب اواخرِ کتب میں سے ہے ۔وہ قرائن یہ ہیں:
1-اس طرح کے موضوعات پر گفتگووہی عالم کرسکتا ہےجو مذاہب فقہیہ اور اجماع و اجتہاد کی ایک ایک باریکی سے واقف ہو، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ان تمام میادین میں بالکل منجھے ہوئے تھے اور اجتہاد وغیرہ پر مکمل انہیں دسترس حاصل تھا ۔
2- علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اس کتاب سے بہت کچھ اپنی کتا ب’’ الصواعق المرسله‘‘ میں نقل کیاہے، اور ابن القیم کی ملاقات ابن تیمیہ سے عمرکے اخیر اخیر حصہ میں ہوئی تھی ۔
کتاب کا اصل موضوع :
اس کتاب کا اصل موضوع ہے کہ فقہاء ( خصوصا ابو حنیفہ ،مالک ،شافعی ،احمد )کے درمیان مسائل میں اختلاف کے اسباب کیا کیا ہیں او ران مختلف فیہ مسائل میں اپنے اجتہادات کی بنیاد پر وہ عند اللہ معذور اور ماجور ہوں گے ان شاء اللہ ۔
فقہاء کے مابین ہونے والے ان اختلافات کو ہمیں جاننا بھی چاہئے ،تاکہ لوگوں کو جو حیرانی اور تعجب ہوتا ہے کہ فلاں امام یا فقیہ نے کیسے حدیثوں کے ہوتے ہوئے حدیث کے برخلاف مسئلہ بیان کردیا،جب سبب معلوم ہوجائے گا تو ان پر طعن اور غیر مناسب لکھنے والے یا بولنے سوچیں گے ۔ کہا جاتا ہے:’’متى عُرِف السبب بطل العجب‘‘ سبب معلوم ہوجانے کے بعد تعجب کا پہلو بھی ختم ہوجاتا ہے۔
فوائد علمیہ :
1-کتاب و سنت سےوابستہ علماء کرام میں سے کسی نے بھی نبی ﷺ کی پیروی کرنے کی مخالفت نہیں کی ہے، بلکہ وہ تمام اس بات پر متفق ہیں کہ نبی ﷺ کی اتباع واجب او رفرض ہے۔
2-کتاب و سنت سے وابستہ علماء و فقہاء میں سے اگرکسی کے یہاں کوئی ایسی بات ملتی ہے جو حدیث صحیح کے خلاف ہے ،تو ضروری ہے کہ ان تینوں میں سے کوئی نہ کوئی عذر ان کے یہاں موجود ہو:(1)ان کا یہ ماننا ہوگا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔(2)اس حدیث سے ان کا مستنبط کیا ہوا مسئلہ مراد نہیں ہے۔ (3)اس حدیث میں بیان کیا ہوا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔
3-بعض احادیث کے خلاف فقہاء کا موقف ہونے میں ایک بنیاد ی اور عمومی وجہ حدیث کا ان تک نہ پہنچنا بھی ہے۔
4-نبی کریم ﷺکی ساری احادیث کا احاطہ کسی بھی عالم کے لیے ممکن نہیں ہے ، خود صحابۂ کرام میں سے کسی ایک کو نبی ﷺکی ساری احادیث کااحاطہ نہیں تھا ،جبکہ نبی ﷺ ان کے سامنے موجود تھے ۔
5-اس امت میں نبی ﷺکی سنتوں کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے خلفاء راشدین تھے ، بطور خاص ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما،جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر وحضر میں رہا کرتے تھے ۔
6- خلفاء راشدین اوردیگر صحابۂ کرام دین کے سلسلہ سب سے زیادہ جانکار ،تقویٰ والے ،افضل اور فقیہ تھے ، ان کے بعد والے ان سے کمتر درجہ پر ہیں ۔
7- اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ہر صحیح حدیث ہر امام یا کسی خاص امام کے پاس پہنچ گئی تھی تو وہ بہت بڑی غلطی کاشکار ہے۔
8- کسی بھی مسئلہ میں اجماع سب سے قوی دلیل ہے۔
9-عورت کا قبرستان بغرض عبرت یا دعا جانا،اس میں بعض علماء نے رخصت دی ہے اور بعض نے مکروہ کہا ہے ، حرام کسی نے نہیں کہا ہے۔
10-انبیاء کے علاوہ ہر کسی سے گناہ صغیرہ و کبیرہ کاامکان ہے ، باوجودیہ کہ وہ ممکن ہے صالحین میں سے ہویا شہداء میں سے ہو یا صدیقین میں سے ہو ۔
اہل علم کے تعریفی کلمات:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی ہر کتاب بے انتہا اہم اور علمی ہے اور اس بات کا اعتراف ہردور کے علماء نے کیاہے ،یہاں تک کہ موجود ہ دور کے مستشرقین بھی تعریف کئے بنا نہ رہ سکے ۔ اس کتاب کے تعلق سے چند اہل علم کے اقوال پیش خدمت ہیں:
قال جمال الدين القاسمي رحمه الله في’’الجرح والتعديل‘‘ بعد الكلام عن الاجتهاد واختلاف النظر من مجتھد لآخر:’’ومن أنفع ما ألف في هذا الباب: كتاب رفع الملام عن الأئمة الأعلام لشيخ الإسلام تقي الدين ابن تيمية رحمه الله، فإنه جدير لو كان في الصين أن يرحل إليه، وأن يعض بالنواجذ عليه، فرحم الله من أقام المعاذير للأئمة، وعلم أن سعيھم إنما هو إلى الحق والھدى۔
[الجرح والتعديل- القاسمي:ص26]
جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’اس باب میں جو نہایت مفید ترین کتابیں لکھی گئیں ہیں ان میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب’’رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘ بھی ہے ۔اس کتاب کے حصول کے لیے اگر چین کا بھی سفر کرنا پڑے تو سفر کرلینا چاہیے اور مضبوطی سے پکڑلینا چاہیے ، اللہ رب العالمین رحم فرمائے شیخ الاسلام پر کہ انہوں نے ائمہ کرام کے اعذار کو بیان کیا اور یہ کہ ان ائمہ کرام کی پوری کوشش صرف اور صرف حق و ہدایت کی طلب تھی ۔
قال الشيخ ابن باز رحمه الله كما بسط ذلك الإمام العلامة شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله في كتابه الجليل: (رفع الملام عن الأئمة الأعلام) وقد أجاد فيه وأفاد وأوضح أعذار أهل العلم فيما خالفوا من الشرع فليراجع فإنه مفيد جدا لطالب الحق.
[مجموع فتاوى ومقالات متنوعة لابن باز:2/ 349]
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی عظیم الشان کتاب ’’رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘میں اسے تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں بڑے بہترین انداز میں اہلِ علم کے اُن تمام اعذار کو خوب واضح کیا جن کی وجہ سے ان کے بعض مسائل شریعت کے خلاف ہوگئے ۔ لہٰذا اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے، کیونکہ یہ طالبِ حق کے لیے بہت ہی مفید کتاب ہے‘‘۔
قال الشيخ عطية محمد سالم رحمه الله في شرح بلوغ المرام:’’وعندنا في كتاب‘‘رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘ لـ ابن تيمية رحمه الله، كتاب لا أعتقد أنه وجد في موضوعه ولا في بابه نظيره أبداً۔
[شرح بلوغ المرام لعطية سالم22/ 4]
شیخ عطیہ سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’ہمارے پاس ’’رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘ جیسی کتاب ہے ، یہ ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے باب اور اپنے موضوع پر بے نظیر ہے ۔
وجاء في شرح سنن أبي داود: والعلماء كتبوا في هذا المعنى كتابات واعتذارات عن الأئمة إذا وجدت أحاديث صحيحة تخالف ما رآه أحد منھم، ومن أحسن ما كتب في ذلك رسالة قيمة لابن تيمية رحمة الله عليه، اسمھا ’’رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘۔
[شرح سنن أبي داود، عبد المحسن العباد، الدرس 14]
شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کہتے ہیں :’’علماء کرام نے ائمہ کی طرف سے بعض مسائل میں خلاف شرع ملنے والے اقوال کے سلسلہ میں متعدد کتابوں میں ان کے اعذار کوبیان کیاہے، اس باب میں ایک بہترین اور قیمتی رسالہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا’’ رفع الملام عن الأئمة الأعلام‘‘ہے ۔
وقد أثنى على الكتاب الشيخ الألباني والشيخ ابن عثيمين والشيخ عبد المحسن العباد وغيرهم .
اس کتاب کی تعریف ان کبار علماء کے علاوہ علامہ ناصرالدین البانی اور ابن عثیمین وغیرہما نے بھی کیا ہے۔
طبعات الکتاب :
مختلف مکتبات سے یہ کتاب مطبوع ہے ،جس میں ہندوستان ، مصر ، یمن ، قطر ،شام اورمملکہ سعودیہ عربیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔لیکن اکثر اس کتاب کی جو مطبوعات ہیں وہ مجموع الفتاویٰ سے لی گئیں ہیں ،جسے عبد الرحمٰن القاسم رحمہ اللہ نے جمع کیا ہے۔
رفع الملا م کے نسخوں کی تعداد اور سب سے پہلی طباعت :
رفع الملام عن الائمہ الاعلام ،اس کے دنیا بھر میں تقریباً 44 یا 45 نسخے ہیں ،سب سے پہلے یہ کتاب ممبئی میں 1311ھ میں لیتھو پر چھپی ۔ابو بکر کٹیر صاحب نے شائع کیا تھا۔(عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرہ ’’معارف ابن تیمیہ کی عصری معنویت‘‘ سے یہ بات لی گئی ہے)۔
سب سے بہترین طباعت:
سب سے بہترین طباعت دارالعاصمہ ریاض کی ہے جو سنہ 2013ء میں چھپی ہے ، محقق عبد الرحمٰن الجمیزی نے سات خطی نسخو ں کو سامنے رکھ کر کے اس کی تحقیق کی ہے۔
تحقیقات، تعلیقات، شروحات وتلخیصات:
1- رفع الملام عن الأئمة الأعلام :تحقيق وتعليق: عبد الرحمٰن بن أحمد الجميزي. طبعة قوبلت على سبع نسخ خطية ومعه تعليق ابن القيم على قطعة من الكتاب في تجليد فني فاخر علٰى ورق أصفر شامواه بخط واضح جدا في 320 صفحة، من إصدارات دار العاصمة.
محقق نے اس میں تمام احادیث و آثار کی تخریج کی ہے۔احادیث پر اہل علم نے جو حکم لگایا ہے اسے بھی بیان کیاہے، بطو ر خاص علامہ البانی رحمہ اللہ کا حکم ۔
2- رفع الملام عن الأئمة الأعلام شرح فضيلة الشيخ عبد الله عبد الرحمن الميمان الصفحات :80
3- رفع الملام عن الأئمة الأعلام:عبد السلام الشويعر الصفحات: 245۔
4- رفع الملام عن الأئمة الأعلام :عبد الكريم بن عبد الله الخضير ،عضو هيئة كبار العلماء، و عضو اللجنة الدائمة للبحوث العلمية و الإفتاء۔
5- دراسة منھجية لكتاب رفع الملام عن الأئمة الاعلام، المؤلف: لقمان أمين الشاربازيري، المحقق: عثمان محمود سعيدآلاني، الصفحات: 49۔
6-عبد الرزاق البدر ، یہ ابھی مطبوع نہیں ہے۔یوٹیوب پر محاضرہ کی شکل میں موجود ہے۔
7- رفع الملام عن الأئمة الأعلام بتحقيق وتعليق الفقير إلى عفو الله ومغفرته، محمد حامد الفقي
8-ملخص رفع الملام عن الأئمة الأعلام، عبد الله بن مسعود مزيتي الإبراهيمي.
9- خلاصة كتاب رفع الملام عن الأئمة الأعلام لشيخ الإسلام ابن تيمية الحراني رحمه الله،مالك بن محمد بن أحمد أبو دية
10- رفع الملام عن الأئمة الأعلام: تقديم وتعليق، علي بن نايف الشحود
11- رفع الملام عن الأئمة الأعلام :دراسة وتحقيق، عبد الله بن ابرهيم الأنصاري
اردو اور دیگر زبانوں میں تراجم :
1-ائمہ اسلام ، ترجمہ سید ریاست علی ندوی رفیق دارالمصنفین اعظم گڑھ
2- رفع الملام عن الائمۃ الاعلام کا ایک ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے جو مولانا محمد خالد سیف حفظہ اللہ کی تقدیم ، تحقیق و تخریج کے ساتھ ’’ائمہ سلف اور اتباع سنت‘‘ کے نام سے ’’طارق اکیڈمی ۔فیصل آباد نے شائع کیا ہے۔
اس موضوع سے متعلق ایک اہم کتاب :
’’جلب المنفعة فی الذب عن الأئمة المجتھدین الأربعة‘‘ نواب صدیق حسن خاں ، ترجمہ : ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع، ترجمہ وتحقیق : محمد الاعظمی۔
جاری ……….