Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • دعائے شب قدر’’اللھم إنك عفو تحب العفو فاعف عني‘‘ کی تحقیق (قسط ثالث)

    امام بیہقی کے یہاں امام دارقطنی کے کلام کاحوالہ:
    متاخرین جب یہ قول ذکر کرتے ہیں تو عام طور سے امام دارقطنی اور امام بیہقی دونوں کے حوالے سے ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ کے نقل کے بعد ہی یہ قول زیادہ مشہور ہوا ہے۔
    بلکہ بعض تو صرف امام بیہقی ہی کے حوالے سے یہ قول ذکر کرتے ہیں ،دیکھیں:[نصب الراية 3/ 192 ، تنقيح التحقيق–ابن عبد الھادي 4/ 307 ]
    امام بیہقی رحمہ اللہ(المتوفی458ھ) نے ایک جگہ لکھا ہے:
    ’’هذا مرسل، ابن بريدة لم يسمع من عائشة رضي الله عنها أخبرني بذلك أبو عبد الرحمٰن السلمي، أنا علي بن عمر الحافظ رحمه الله فذكره‘‘۔
    ”یہ مرسل ہے، ابن بریدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہاسے نہیں سنا، مجھے یہ بات حافظ علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ کے حوالے سے ابوعبدالرحمٰن السلمی نے بتائی ہے“۔
    [الخلافيات بين الإمامين 6/ 56]
    ظاہر ہے اگر کوئی صرف اسی نقل پر اکتفا کرے گا تو اسے یہی لگے گا کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہاں علی الاطلاق سماع کا انکار کیا ہے کیونکہ یہاں نہ تو امام دارقطنی کے کلام کا پورا سیاق موجود ہے اور نہ ہی اس بابت امام دارقطنی رحمہ اللہ کی دیگرتصریحات پیش نظر ہیں ۔ نیز امام بیہقی کو یہ قول بتانے والا ابوعبدالرحمٰن السلمی ہے جو متکلم فیہ ہے بلکہ بعض نے اس پر شدید جرح کی ہے ۔معلوم نہیں اس نے کس انداز میں امام دارقطنی کا قول نقل کیا کیونکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کی اپنی کتابوں میں یہ بات الگ انداز میں ہے جس میں مطلقاً سماع کا انکار نہیں ہے ۔
    بہر حال ہماری معلومات کی حدتک امام بیہقی رحمہ اللہ سے قبل کسی بھی محدث نے امام دارقطنی رحمہ اللہ کے کلام سے یہ مطلب نہیں لیا ہے کہ انہوں نے یہاں مطلقاً سماع کا انکارکیا ہے ۔
    اور امام بیہقی رحمہ اللہ کے اس نقل کے بعد ہی امام دارقطنی رحمہ اللہ کی طرف اس قول کی نسبت اور اس کے حوالے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس لیے امام بیہقی رحمہ اللہ کے بعد کا کوئی بھی حوالہ اس بابت معتبر نہیں ہے ۔
    بالخصوص جبکہ آج امام دارقطنی رحمہ اللہ کی ”سنن“ اور ”علل“ کے حوالے براہ راست اور مکمل سیاق وسباق کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہیں اور وہاں ایسا کوئی موقف نظر نہیں آتا ۔
    بلکہ ممکن ہے کہ خود امام بیہقی رحمہ اللہ بھی خاص ’’حدیث تخییر ‘‘کی سند میں عدم سماع کے قائل ہوں نہ کہ علی الاطلاق ہر روایت میں ۔ کیونکہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے دعائے شب قدر والی حدیث پرانقطاع کا حکم نہیں لگایا ہے حالانکہ یہ روایت ”ابن بريده عن عائشة“ کے طریق سے امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کئی کتب میں نقل کی ہے۔ دیکھیں:[شعب الإيمان( 5/ 281 )، الأسماء والصفات (1/ 149) الدعوات الكبير (1/ 323) فضائل الأوقات (ص257) وغیرہ]
    فائدہ:
    ابن الجوزي رحمہ الله (المتوفی597ھ) نے ’’حدیث تخییر‘‘ کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :
    ’’ابن بُريدة لم يسمع من عائشة‘‘۔
    ”ابن بریدہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا ہے“۔
    [جامع المسانيد لابن الجوزي 8/ 313 ]
    ابن الجوزی رحمہ اللہ نے یہ بات ’’حدیث تخییر‘‘ کے تحت کی ہے ۔جس سے ظاہر ہے کہ یہ ان کا اپنا نقد نہیں بلکہ انہوں نے ’’حدیث تخییر‘‘ پر موجود کسی امام کے کلام کو نقل کردیا ہے۔
    اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابن الجوزی نے اسی کتاب میں جب دعائے شب قدر والی حدیث ذکر کی تو وہاں اس عدم سماع کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جبکہ یہ حدیث ”ابن بريده عن عائشة“ کے طریق سے ہے۔دیکھئے : [جامع المسانيد لابن الجوزي 8/ 187 ]
    واسطہ والی روایت پر بحث:
    بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ابن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے”يحيىٰ بن يعمر“ کے واسطے سے روایت کی ہے ۔[صحيح البخاري رقم6619 ]
    اس لیے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا سماع اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں ہے۔
    عرض ہےکہ:
    اولاً:
    صرف اور صرف ایک ہی سند میں یہ معاملہ ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ابن بریدہ کا یہ عام معمول ہو کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے اکثر کسی کے واسطے ہی سے روایت کرتے ہوں۔ بلکہ ابن بریدہ کا عام معمول تو یہ ہے کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے براہ راست روایات نقل کرتے ہیں۔
    ثانیاً:
    کسی راوی کا کسی راوی سے بالواسطہ روایت کرنا فی نفسہٖ انقطاع کی دلیل نہیں ہے ۔ کیونکہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں ایک راوی نے اپنے استاذ سے براہ راست بھی روایت کیا ہے اور بالواسطہ بھی روایت کیا ہے ۔ مثلاً:
    امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا:
    حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ المَدِينَةِ، أَوْ مَكَّةَ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ۔ ثُمَّ قَالَ: بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ۔ ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ، فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَاأَوْ: إِلَى أَنْ يَيْبَسَا۔
    [صحيح البخاري 216]
    اس حدیث میں مجاہد بلاواسطہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کررہے ہیں ۔
    لیکن ایک دوسری حدیث میں مجاہد نے طاؤس کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے چنانچہ:
    امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا:
    حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ،أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ فَقَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا۔
    [صحيح البخاري 1361]
    اب کیا اس روایت کی بنا پر یہ دعویٰ کرنا درست ہوگا کہ مجاہد کا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے کیونکہ یہاں انہوں نے طاؤس کے واسطے سے ان سے روایت نقل کی ہے ؟؟؟
    ظاہر ہے کہ محض اس بنا پرایسا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا ۔
    لہٰذا اگر عبداللہ بن بریدہ نے بھی ایک روایت میں ایک واسطے سے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بیان کردی تو محض اس چیز کو بنیاد بناکر یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ ابن بریدہ کا اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ہی ثابت نہیں ہے۔
    معاصرت وامکانِ سماع پر بحث:
    اس بات پر اہل علم کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن بریدہ اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا (المتوفی57ھ) کے مابین طویل معاصرت ثابت ہے ۔
    متقدمین کے یہاں دورانِ معاصرت ان دونوں کی ملاقات کا انکار کسی سے ثابت نہیں، امام دارقطنی کے قول کی وضاحت کی جاچکی ہے کہ وہ مطلقاً انکارِ سماع پر دلیل نہیں ہے ۔
    عصر حاضر میں بعض لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گرچہ عبداللہ بن بریدہ اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین طویل معاصرت ثابت ہے لیکن اس معاصرت کے دوران دونوں کی ملاقات ممکن نہیں ہے ۔
    اس کی دلیل ان کے بقول یہ ہےکہ عبداللہ بن بریدہ سن تحمل سے پہلے ہی اپنے والد کے ساتھ بصرہ چلے گے ، پھر وہاں سے مختلف علاقوں کا سفر کرتے رہے لیکن مدینہ لوٹ کر نہیں آئے ۔
    جواباًعرض ہے کہ:
    یہ دعویٰ کہ عبداللہ بن بریدہ سن تمیز سے پہلے مدینہ چھوڑ چکے تھے بالکل بے بنیاد ہے بلکہ صحیح روایات کے خلاف ہے ۔
    مدینہ میں امکانِ سماع:
    امام أبو زرعہ الدمشقي رحمہ الله (المتوفی281ھ) نے کہا:
    حدثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: جِئْتُ إِلَى أُمِّي يَوْمَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمَةُ، قُتِلَ الرَّجُلُ. فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، اذْهَبْ ‌فَالْعَبْ ‌مَعَ ‌الْغِلْمَانِ-
    عبد اللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے دن اپنی ماں کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے ماں! اس شخص (یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کو قتل کر دیا گیا ہے۔
    تو میری ماں نے کہا: بیٹا تم جاؤ! اوربچوں کے ساتھ کھیلو۔(یعنی ان معاملات میں مت پڑو)۔
    [تاريخ أبي زرعة الدمشقي ص630 وإسناده صحيح لاغبار عليه]
    یہ روایت اس بات کی بہت واضح دلیل ہے کہ عبداللہ بن بریدہ مدینہ میں سن تمییز میں بھی وقت گزار چکے ہیں ، ان کا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق سوال کرنا اور ماں کا یہ کہنا کہ جاؤ بچوں کے ساتھ کھیلو ۔ اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ وہ عمر کے ایسے مرحلے میں تھے جس میں حدیث کا سماع وحفظ کیا جاسکتا ہے۔
    چناچنہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک مرفوع حدیث ہےاور اسے انہوں نے کب روایت کیا اس کے تعلق سے ابن عباس رضی اللہ عنہمانے یہ الفاظ کہے ہیں:
    ’’كنت ‌ألعب ‌مع ‌الغلمان، فبصرت برسول الله صلى الله عليه وسلم، فاختبأت في دهليز باب دار قوم، فجاء، فدخل فحطأني حطأة أو حطأتين، ثم قال: اذهب فادع لي معاوية ‘‘.
    ”میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اچانک میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو میں کسی گھر کے دروازے کی دہلیز میں چھپ گیا۔ آپ ﷺ تشریف لائے اور اندر آئے، پھر آپ نے مجھے ہلکی سی تھپکی ماری (یا ایک دو ہلکی ضرب لگائی، جو پیار اور شفقت کی علامت تھی) پھر فرمایا: جاؤ، میرے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ“۔
    [صحيح مسلم رقم 2604 مستخرج أبي عوانة 20/ 50 رقم 11363 واللفظ له]
    معلوم ہوا کہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کی عمر تحمل وادا کی عمر ہوتی ہے۔
    ایک بے بنیاد مفروضہ:
    ایک شخص نے لکھا ہے کہ اس واقعہ میں یہ صراحت نہیں ہے کہ شہادت عثمان کے روز ”عبداللہ بن بریدہ“ مدینہ میں ہی تھے ، ہوسکتا ہے کہ وہ بصرہ چلے گئے ہوںاور وہاں انہیں شہادت کی خبر ملی ہو جس کے بعد انہوں نے اپنی والدہ سے سوال کیا ہو ۔
    عرض ہے کہ :
    اولاً:
    جب یہ بات متفق علیہ ہے کہ عبداللہ بن بریدہ مدینہ میں ہی پیدا ہوئے تھے تو بغیر کسی ثبوت کے ان کے بچپن کے اس واقعہ کو مدینہ سے باہر کا بتلانا غیر معقول وغیر مسموع ہے۔
    ثانیاً:
    اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ”يَوْمَ قَتْلِ عُثْمَانَ“ یعنی شہادت کے روز ہی عبداللہ بن بریدہ نے یہ بات کہی اور اس زمانے میں عین اسی دن شہادت کی خبر بصرہ کیسے پہنچ سکتی ہے ؟؟؟
    ظاہر ہے کہ اس وقت موبائل یا انٹرنیٹ توتھا نہیںکہ پل بھر میں ایک جگہ کی خبر پوری دنیا میں نشر ہوجائے۔
    ثالثاً:
    امام ابن عساکر رحمہ الله (المتوفی571ھ)نے کہا:
    ’’أنبأنا أبو علي الحداد أنا أحمد بن الفضل بن محمد أنا محمد بن اسحاق بن مندة أخبرنا القاسم بن القاسم السياري قال جدي أحمد بن سيار حدثنا عمار حدثنا يحيى بن واضح عن الحسين بن واقد عن عبد الله بن بريدة قال: ”شهدت الدار يوم قتل عثمان فرأيت الحسن بن علي معه“-
    ”میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن دار (گھر عثمان) کے پاس تھا، میں نے دیکھا کہ آپ کے ساتھ حسن بن علی رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔“
    [تاريخ دمشق لابن عساكر: ج 27 ص129 تا 130 وإسناده صحيح]
    یہ بہت واضح اور صریح دلیل ہے کہ شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت عبداللہ بن بریدہ مدینہ میں موجود تھے اس لئے اس کے بر خلاف سارے مفروضے بے بنیاد ہیں۔
    عبداللہ بن بریدہ کا دیگر اہلِ مدینہ سے سماع:
    کچھ لوگوں پر حیرت ہے کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن بریدہ کے سماع کی نفی کرنے کے لیے یہ دعویٰ کربیٹھتے ہیں کہ ابن بریدہ بچپن میں مدینہ چھوڑ کر چلے گئے تھے، پھر کبھی بھی واپس مدینہ نہیں آئے ،اس لئے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کا سماع ممکن نہیں ہے ۔
    لیکن دوسری طرف یہ لوگ ابن بریدہ کا سماع دیگر کئی ایسے مدنی صحابہ سے ثابت مانتے ہیں جو مدینہ ہی کے رہنے والے تھے اور مدینہ سے باہر سکونت اختیار کرنا ان سے ثابت نہیں ہے ۔مثلاً:
    ام المؤمنین ام سلمہ (المتوفی63ھ)رضی اللہ عنہا (السنن للبيھقي رقم 3418 وإسناده صحيح وصرح ابن بریدہ بالسماع )
    اور دیگر ان کے اساتذہ میں مدنی صحابہ ۔
    عرض ہے کہ جس طرح ان دیگر مدنی صحابہ سے ابن بریدہ کا سماع ممکن ہے ایسے ہی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ممکن ہے ۔
    تنبیہ:
    ایک شخص نے لکھاہے کہ اگر ابن بریدہ کا سماع عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے تو پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور دیگر فلاں وفلاں مدنی صحابہ سے کیوں ثابت نہیں ہے؟
    عرض ہے کہ جہاں تک ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات ہے تو:
    عبداللہ بن عباس سے ابن بریدہ کے سماع کا انکار کسی نے نہیں کیا ہے ۔
    بلکہ امام المقدسي (المتوفی 600ھ) نےکہا ہے:
    ’’عبد الله ‌بن ‌بُرَيدة… سمع: أباه، وعبد الله بن عَبَّاس‘‘
    ”عبداللہ بن بریدہ ۔۔۔ نے اپنے والد اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے‘‘۔
    [الكمال في أسماء الرجال6/ 122 ]
    نیز ”عبد الله بن بریدہ عن ابن عباس“ سے مروی موقوف طریق کو امام ابوحاتم (المتوفی277ھ)رحمہ اللہ نے درست قرار دیا ہے۔[العلل لابن أبي حاتم 2/ 603]
    نیز علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس سند کوموقوفاً صحیح قرار دیا ہے، دیکھیں:[سلسلة الأحاديث 1/ 219]
    رہی بات یہ کہ فلاں اور فلاں دیگر مدنی صحابہ سے ان کا سماع کیوں ثابت نہیں ۔
    عرض ہے کہ:
    دیگر مدنی صحابہ میں سے بھی بعض سے ان کا سماع ثابت ہے جس پر سب کا اتفاق ہے کما مضی اور بقیہ میں سے بھی سب سے نفس لقاء کا انکار نہیں کیا جاسکتا، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سے حدیث کا سماع نہیں کیا ۔
    اور یہ ضروری نہیں کہ ایک شخص ایک علاقہ میں موجود تمام اہل علم سے لازمی طور پر شرف تلمذ حاصل کرے ۔ بلکہ شاید ہی کوئی راوی ایسا ہو جس نے اپنے زمانے اور علاقے میں موجود تمام کے تمام اہل علم کی شاگردی اختیارکی ہو یا ہر ایک سے کوئی نہ کوئی روایت بیان کی ہو ۔ اس لیے یہ صرف عبداللہ بن بریدہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام رواۃ کا یہی حال ہے لہٰذا یہ اعتراض فضول ہے۔
    امام ابن سعد کا بے دلیل قول:
    ایک صاحب نے لکھا ہے کہ امام ابن سعد کے بقول ”عبداللہ بن بریدہ“ مدینہ سے شہادتِ عثمان سے قبل ہی نکل چکے تھے جیساکہ:
    امام ابن سعد رحمہ الله (المتوفی230ھ) نے کہا:
    ’’ثم خرج منها غازيا إلى خراسان في خلافة عثمان بن عفان، فلم يزل بھا حتى مات بمرو في خلافة يزيد بن معاوية‘‘۔
    ”پھر وہ (بصرہ) سے نکل کر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں غزوہ کی غرض سے خراسان چلے گئے، پھر وہیں موجود رہے یہاں تک کہ یزید بن معاویہ کی خلافت میں’’ مرو‘‘میں فوت ہوئے“۔
    [الطبقات الكبرى ط دار صادر 7/ 8]
    عرض ہے کہ:
    یہ بات امام ابن سعد رحمہ اللہ نے بے سند ذکر ہے اور چونکہ یہ ماقبل ذکر کردہ صحیح وصریح روایات کے خلاف ہے ، اس لیے مردود وغیر مسموع ہے۔
    نیز امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ان کے برخلاف ذکر کیا ہے چنانچہ :
    امام ابن حبان رحمہ الله (المتوفی354ھ)نے کہا:
    ’’فلما وقعت فتنة عثمان في المدينة خرج بريدة عنها بابنيه وسكن البصرة‘‘۔
    ”جب مدینہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق فتنہ برپا ہوا تو اس کے بعد بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے دونوں بیٹوں کو لے کر مدینہ سے نکل گئے اور بصرہ میں سکونت اختیار کرلی“ ۔
    [صحيح ابن حبان : 4/ 225]
    اور ابن حبان رحمہ اللہ کی بات ہی اکثر اہل علم نے ذکر کی ہے اور صحیح روایات بھی اس پر شاہد ہیں کمامضی ۔
    ایسی صورت میں امام ابن سعد رحمہ اللہ کا بیان غیر مسموع ہے، نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
    ’’وشذ بن سعد فقال منكر الحديث قلت ولم يلتفت أحد إلى بن سعد في هذا فإن مادته من الواقدي في الغالب والواقدي ليس بمعتمد‘‘۔
    ”اور ابن سعد نے سب کے برخلاف یہ کہا کہ یہ راوی منکر الحدیث ہے۔ میں (یعنی الحافظ ابن حجر) کہتا ہوں: اس معاملے میں کسی نے بھی ابن سعد کی بات کی طرف التفات نہیں کیا، کیونکہ ان کا زیادہ تر مواد (یعنی روایات اور معلومات) عموماً واقدی سے اخذ کردہ ہے، اور واقدی قابل اعتماد نہیں ہے“
    [مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 417]
    جاری ہے….
    ز ز ز

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings