-
ایک بکری کی قربانی کئی آدمیوں کی طرف سے کافی ہے عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: شَھِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَضْحَى بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ وَأُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: ’’بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي‘‘.
[سنن أبي داؤد:2810 وقال الألباني صحيح]
ترجمہ : جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ ﷺ خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ ﷺ نے”بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي”اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے (1) کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔
(1)ا س جملے سے ثابت ہوا کہ مسلم کی جس روایت میں اجمال ہے (یعنی: یہ میری امت کی طرف سے ہے) اس سے مراد امت کے وہ زندہ لوگ ہیں جو عدم استطاعت کے سبب اس سال قربانی نہیں کر سکے تھے نہ کہ مردہ لوگ۔
راوی کاتعارف : نام جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام السلمی الخزرجی ہے۔بیعت رضوان میں یہ بھی شریک تھے ، رسول اللہ ﷺ ، ابو بکر ،علی، ابو عبیدہ ،معاذ بن جبل ،زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہم سے انہوں نے روایت کیا ہے۔اپنے زمانہ میں یہ مدینہ کے مفتی تھے ،ان کے والد نقباء بدریین میں سے تھے ، احد میں ان کے والد کو شہید کردیا گیاتھا ، ان کے والد کی فضیلت کے تعلق سے امام ترمذی نے ایک روایت ذکر کیاہے:
جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:
’’يَا جَابِرُ، مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتُشْهِدَ أَبِي، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، قَالَ: أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَأَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي، تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ، قَالَ: يَا رَبِّ، تُحْيِينِي فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ،قَالَ: وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا
سورة آل عمران آية 169 [ترمذی 3010وقال الالبانی حسن]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺمجھ سے ملے اور فرمایا:”جابر! کیا بات ہے میں تجھے شکستہ دل دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد شہید کر دیئے گئے، جنگ احد میں ان کے قتل کا سانحہ پیش آیا، اور وہ بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ سے ملاقات کے وقت کہا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر پردہ کے کلام نہیں کیا (لیکن) اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر ان سے (بغیر پردہ کے) آمنے سامنے بات کی، کہا: اے میرے بندے! مجھ سے کسی چیز کے حاصل کرنے کی تمنا و آرزو کر، میں تجھے دوں گا، انہوں نے کہا: رب! مجھے دوبارہ زندہ فرما، تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا: میری طرف سے یہ فیصلہ پہلے ہو چکا ہے’’أنھم إليھا لا يرجعون‘‘ کہ لوگ دنیا میں دوبارہ نہ بھیجے جائیں گے“، راوی کہتے ہیں: آیت’’ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا‘‘ سی سلسلہ میں نازل ہوئی۔
مسائل :
(1)عید گاہ میں منبر کارکھنا جائز ہے۔ [عون المعبود وحاشيۃ ابن القيم:8/ 3]
(2) ایک بکری کی قربانی کئی آدمیوں یا پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے۔[عون المعبود وحاشية ابن القيم 8/ 3]
(3) قربانی کا جانور عید الاضحی کی نماز کی ادائیگی اور خطبہ کے بعد ذبح کیا جائے گا۔
(4)قربانی کا جانو ر ذبح کرتے وقت ’’بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ” کہہ دینا کافی ہے۔یعنی تسمیہ اور تکبیر ۔
(5)قربانی یہ سنت مؤکدہ ہے۔
(6)قربانی کا جانور اصل یہ ہے کہ خود سے ذبح کیا جائے ،اگر دوسرا بھی ذبح کرتا ہے توجائز ہے۔
(7)قربانی کا جانور عیدگاہ میں بھی ذبح کرسکتے ہیں اگر انتظام ہو تو ۔