-
عصرِ حاضر میں مسلمان خاتون کی ڈیجیٹل پرائیویسی کا تحفظ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں، مسلمان خواتین کے لیے یہ دور بیک وقت مواقع اور سنگین چیلنجز لے کر آیا ہے، ایک طرف ڈیجیٹل ذرائع نے علم حاصل کرنے اور آواز بلند کرنے کے نئے راستے کھولے، تو دوسری طرف پرائیویسی کے مسائل بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
عصرِ حاضر میں مسلمان خاتون کو دوہری جدوجہد کرنی پڑتی ہے، ایک تو اپنے نفس کی اصلاح اور دینی تربیت کی، دوسرے ڈیجیٹل دنیا میں اپنی عزت اور پرائیویسی کو بچانے کی، یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں، جب ایک خاتون سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچتی ہے، خود اعتمادی اور حیا کا توازن قائم رکھتی ہے، تو وہ خود بخود اپنی ڈیجیٹل پرائیویسی کا بھی تحفظ کر لیتی ہے۔
آج کل ایک چیز جو بہت عام ہوتی جارہی ہے وہ ہے خواتین کا بلا جھجک اپنی تصاویر دوستوں، رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں کو بھیج دینا یا اسٹیٹس اسٹوری لگادینا، یہ نادان لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ ہم نے تو صرف اپنی سہیلیوں کو بھیجا تھا مگر وہ لاعلم ہوتی ہیں کہ یہ تصاویر ایک چیٹ سے دوسری چیٹ، ایک گروپ سے دوسرے گروپ اور ایک اسٹیٹس سے دوسرے کی اسکرین شاٹس میں محفوظ ہوجاتی ہیں، بسا اوقات آپ کی وہ سہیلی جس پہ اعتماد کرکے آپ نے اپنی تصویر بھیجی تھی یا اسے اپنے پرائیویٹ اکاؤنٹ میں شامل کرکے اسٹوری لگائی تھی اس کا موبائل اس کا بھائی یا گھر کے دوسرے مردوں کے ہاتھوں میں بھی جاتا ہے اور ان کی نگاہوں سے بھی گزرتا ہے۔
اسی طرح کسی کو بھی بلاضرورت تصویر لینے کی اجازت نہ دیجیے خواہ اس وقت آپ کو سامنے والے کی دل آزاری کا خدشہ ہو کیوں کہ یہ ایک انکار بعد کی ہزار رسوائیوں سے بہتر ہے۔
سب سے ناپسندیدہ بات تو یہ ہے کہ وہ لڑکیاں جو گھر سے باہر نکلتے وقت مکمل پردے میں ہوتی ہیں حتیٰ کہ ان کی آنکھوں کے سوا جسم کا کوئی حصہ ظاہر نہیں ہوتا، ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں بھی موزوں میں چھپے ہوتے ہیں مگر ان کی پروفائل، واٹس ایپ اسٹیٹس یا انسٹاگرام اسٹوری پہ کچھ اس طرح کی تصویریں ہوتی ہیں کہ محض چہرے پہ ایک ایموجی لگالیا اور باقی جسم ظاہر ہوتا ہے، جبکہ قرآن میں واضح طور پر مسلمان خاتون کو حکم دیا گیا ہے:
﴿یَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ [الأحزاب: 59]
’’اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہوجایا کرے گی پھر وہ ستائی نہ جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔
جلابیب جلباب کی جمع ہے، جو ایسی بڑی چادر کو کہتے ہیں جس سے پورا بدن ڈھک جائے، مگر غالباً یہ سادہ لوح لڑکیاں یہ سمجھتی ہیں ہم نے اپنے چہرے کا کچھ حصہ چھپاکر اپنا پردہ مکمل کرلیا۔
پھر ایسی بھی لڑکیاں ہوتی ہیں جو مکمل پردے میں اپنی تصاویر سوشل میڈیا پہ اپلوڈ کرتی ہیں تو ان کو بھی یہ بات سمجھنے چاہیے کہ شریعت میں عورت نمائش نہیں بلکہ چھپانے کی چیز ہے اور اسی میں اس کا اعزاز ہے لہٰذا ایسے اسباب اختیار کرنے سے بچیں جو مردوں کو متوجہ کرنے کا سبب بنیں، عورت کو تو صرف ضرورت کے وقت مکمل پردے میں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ سوشل میڈیا تو ایک کھلا ہوا میدان ہے جہاں آپ کی پروفائل ہمہ وقت موجود رہتی ہے تاآنکہ اس کو بدلا نہ جائے۔
نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے: اَلمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ–’’عورت سراپا چھپانے کی چیز ہے، اور جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان تاک جھانک کرنے لگتا ہے‘‘۔
[سنن الترمذي:1173، صححه الألباني]
یاد رکھیے حیا صرف جسمانی پردے کا نام نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنے رویوں، گفتگو میں بھی وقار قائم رکھنا مسلمان عورت کی پہچان ہونی چاہیے۔
آن لائن ہراسانی سے بچاؤ کے اسلامی طریقے:
آج کے ڈیجیٹل دور میں آن لائن ہراسانی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، خواتین کو ڈائریکٹ میسجز، بدنما تبصرے، اور ناپاک گفتگو کا سامنا ہوتا ہے، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس سے بچنے کے راستے مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) غیر محرم سے بلا ضرورت بات نہ کریں، اگر کسی اجنبی نمبر سے میسیج آتا ہے تو پوری جانچ پڑتال کے بعد ہی اس کا نمبر محفوظ کریں، اور یہ بات یاد رکھیں کہ غیر محرم سے بات چیت کے اسلامی ضوابط آن اسکرین بدل نہیں جاتے نیز غیر محرم میں آپ کے کزن بھی شامل ہیں۔ (۲) پروفائل پہ اپنی تفصیلات اتنی کم رکھیں کہ کوئی بھی غلط نیت سے آپ تک نہ پہنچ سکے۔ ڈی پی پہ اپنی تصویر کبھی نہ لگائیں خواہ برقعے میں ہی کیوں نہ ہو۔ (۳) اپنی لوکیشن شیئر کرنے سے گریز کریں۔ (۴) ذاتی معلومات کو محفوظ رکھیں، اپنا مکمل نام، پتہ، فون نمبر یا بینک کی تفصیلات عوام میں شیئر نہ کریں اسی طرح اپنے گھر، اسکول اور کام کی جگہ کی تصاویر پوسٹ نہ کریں۔(۵) شکایت کا طریقہ: اگر آن لائن ہراسانی شدید ہو تو پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں، شوہر یا کسی بزرگ کو بتائیں۔ اور اگر قانونی ضرورت ہو تو سائبر کرائم سیل میں شکایت درج کروائیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خاتون دور حاضر کے چیلنجز سے باخبر رہتے ہوئے اپنی دینی شناخت اور غیرت کو بھی محفوظ رکھے۔