Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • عالمیت یا محض مبادیات ؟ (قسط اول)

    دینی تعلیم کے نام پر آن لائن شارٹ ٹرم اسلامی کورسز کا مغالطہ اور اس کا ازالہ:
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اسے علم و عقل کی نعمت سے نوازا اور اسے زمین پر جانشین مقرر فرمایا، علمِ دین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے اپنے حبیب ﷺ کو معلم بنا کر مبعوث فرمایا:
    ﴿هُوَ الَّذِىۡ بَعَثَ فِى الۡاُمِّيّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ [الجمعة : 2]
    ترجمہ:’’وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت (سنت) سکھاتا ہے‘‘۔
    علمِ دین کی اہمیت و فضیلت اس بات سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے علمِ دین کی صحیح سمجھ عطا فرماتا ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ‘‘۔
    ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے‘‘۔
    [صحيح البخاري: 71، وصحيح مسلم:1037]
    علمِ دین کا حصول، اس کی حفاظت اور ترویج انبیاءِ کرام کی عظیم میراث ہے، اسلام کے ہمہ گیر نظامِ حیات میں علم اور اہلِ علم کو جو عزت و مقام عطا کیا گیا ہے، اس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی، اسلامی نقطہ نظر سے علمِ دین محض چند کتابوں کے سطحی مطالعہ یا معلومات اکٹھا کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ نور ہے جو اخلاصِ نیت، صحبتِ اساتذہ، طویل جدوجہد اور کڑی نگرانی کے ذریعہ سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا ہے، سلفِ صالحین کے ادوار سے لے کر آج تک شرعی علوم کی تحصیل سے لے کر تعلیم و تدریس تک رسائی کا ایک منظم اور کٹھن منہج رہا ہے۔
    عصرِ حاضر میں ٹیکنالوجی نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں ایک تشویشناک رجحان نے بھی جنم لیا ہے جسے ’’آن لائن شارٹ ٹرم عالمیت کورسز‘‘ کہا جا سکتا ہے، آج انٹرنیٹ پر بے شمار ادارے اور انسٹیٹیوٹ چند سالوں یا چند ماہ میں دو چار گھنٹوں پر مشتمل ’’عالمیت کورس‘‘ یا ’’ڈپلومہ‘‘ کروا رہے ہیں، اس کا المناک نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ان مختصر اور غیر مستند کورسز کے فارغ التحصیل طلبہ خود کو مستند عالم؍عالمہ، یا مفتی؍مفتیہ سمجھنے میں فریبِ نفس کا شکار ہو جاتے ہیں، محض اسلام کی چند بنیادی معلومات اور تراجم کے سرسری مطالعہ کے بعد یہ افراد حساس شرعی مسائل پر فتوے صادر کرنے لگتے ہیں اور اپنے ناموں کے ساتھ عالم؍ عالمہ، مفتی؍مفتیہ یا اسکالر جیسے بھاری القابات لگانے لگتے ہیں، شریعت کی نظر میںادھورے علم کے ساتھ مسائل بتانا اور فتویٰ دینا، بالخصوص مسائلِ نوازلہ میں، تو یہ گمراہی کی بدترین شکلوں میں سے ہے۔
    چنانچہ اس مضمون میں اسی رجحان کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آن لائن تعلیم وتعلم کچھ غلط نہیں ہے لیکن اس تعلیم کو اعلان کے وقت شارٹ ٹرم عالمیت کا نام دینا، اور پھر اس کو قلیل وقت میں ختم کروا کر طلبہ کو عالمیت کی سند دینا، یہ ضرور تشویشناک امر ہے، کیونکہ ہندوستانی یا برصغیر کے تناظر میں عموماً عالمیت کا حقدار وہ طالب ہوتا ہے جس نے حصولِ علم میں مقررہ مدت تک حضوری طور پر اساتذہ ٔکرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ہو، اور مقررہ مدت میں پڑھائی جانے والی تمام شرعی کتب میں ناجح ہو، جبکہ یہاں شارٹ آن لائن کورسز میں بالکل الٹی گنگا بہتی دکھائی دے رہی ہے۔
    حصولِ علم میں سلف صالحین نے چھ چیزوں کی رعایت کرنے کی رہنمائی کی ہے، جیسا کہ مشہور عربی کا شعر ہے :
    ’’لَن تَنالَ العِلمَ إِلّا بِسِتَّةٍ : ذَكاءٌ وَحِرصٌ وَاِجتِهادٌ وَبُلغَةٌ وَصُحبَةُ أُستاذٍ وَطولُ زَمانِ‘‘۔
    ’’حصولِ علم چھ چیزوں کے بغیر ہرگز ممکن نہیں:
    (1) ذہانت (2) شوق (3) انتھک محنت اور کوشش (4) گزر بسر کا سامان (5) استاد کی صحبت (6) طویل زمانہ‘‘۔[ذيل تاريخ بغداد لابن النجار (١٦/٤٤)، وفتح المجيد للشيخ عبد الرحمٰن بن حسن آل الشيخ (٤١٦)]
    ان تمام امور سے پہلے ایک طالبِ علم کو جس بنیادی زیور سے آراستہ ہونا ہے وہ ہے :
    اخلاص و تقویٰ :
    حصولِ علم صرف رضائے الٰہی کے لیے ہو، اگر نیت شہرت، نام و نمود یا دنیاوی مفادات کی ہو تو اس پر سخت وعید ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَعْنِي رِيحَهَا‘‘۔
    ’’جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا‘‘۔
    [سنن ابی داؤد : 3664، صححه الألباني]
    اس سلسلہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کا واقعہ ہر طالبِ علم کے لیے نصیحت ہے کہ جب انہوں نے امام وکیع رحمہ اللہ سے حافظہ کی کمزوری کی شکایت کی، تو استادِ محترم (امام وکیع) نے انہیں گناہوں سے بچنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: میرے استاد نے مجھے بتایا کہ علم اللہ تعالیٰ کا نور ہے، اور اللہ کا نور کسی بدعمل یا نافرمان شخص کو عطا نہیں کیا جاتا‘‘۔
    [مجموع فتاوىٰ ورسائل العثيمين:26/117]
    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
    ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ‌﴾ [البقرة: 282]
    ترجمہ: ’’اللہ سے ڈرو اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے‘‘۔
    اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو نرم اور اسے علم کے لیے آمادہ و منشرح کر دیتا ہے، نبی ﷺ کا فرمان ہے:
    ’’إنَّما العِلمُ بالتَّعَلُّمِ‘‘۔
    ’’علم تو سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے‘‘۔
    [السلسلة الصحيحة:342]
    سلفِ صالحین نیت کی درستی کو کس قدر اہمیت دیتے تھے، اس کا اندازہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کے اس قول سے لگایا جاسکتا ہے، وہ فرماتے ہیں:
    ’’ما عالجت شيئاً أشد علي من نيتي، إنها تقلب علي‘‘۔
    ’’میں نے اپنی نیت سے زیادہ کسی چیز کے علاج (اصلاح) کو مشکل نہیں پایا، کیونکہ وہ مجھ پر بار بار بدلتی رہتی ہے‘‘۔
    [الجامع لأخلاق الراوي للخطيب البغدادي:1/317]
    عصرِ حاضر کے شارٹ کورسز میں بسا اوقات مقصد محض سوشل میڈیا پر فالوورز اکٹھا کرنا یا اختلافی و منافرتی بحثوں میں حصہ لینا ہوتا ہے، جو سراسر اخلاص کے منافی ہے۔
    چنانچہ معلوم یہ ہوا کہ حصولِ علم میں ایک طالبِ علم کو اخلاص و تقویٰ اپنانا لازمی ہے۔
    استاذ کی صحبت اور کڑی نگرانی :
    دینی علوم میں استاد کی صحبت اور نگرانی کوئی ثانوی شے نہیں، بلکہ اصولی تقاضا ہے، سلف صالحین کے ہاں استاد کی صحبت کا یہ عالم تھا کہ وہ برسہا برس اپنے شیوخ کے قدموں میں گزار دیتے تھے، وہ اساتذہ سے صرف حدیث، فقہ یا تفسیر کے الفاظ اور لغوی معنی نہیں سیکھتے تھے، بلکہ وہ اپنے اساتذہ کی خاموشیوں، ان کے غصے، ان کی نرمی، ان کے ادب اور ان کے تقویٰ سے اپنی عملی زندگی کی تربیت حاصل کرتے تھے، چنانچہ امام ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے:
    ’’إن هذا العلم دين فانظروا عمن تاخذون دينكم‘‘۔
    ’’بے شک یہ علم دین ہے، پس تم دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کرتے ہو‘‘۔
    [أخرجه مسلم في مقدمة الصحيح:1/16]
    اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’علم چار قسم کے لوگوں سے نہ لیا جائے:
    (1) نہ بے وقوف شخص سے، جس کی بے وقوفی علانیہ ہو۔ (2) نہ اس شخص سے جو بدعت کا پیروکار ہو اور لوگوں کو بھی بدعت کی طرف دعوت دیتا ہو۔
    (3) نہ اس شخص سے جو لوگوں کی باتوں میں جھوٹ بول لیتا ہو اگرچہ حدیثِ نبوی ﷺ میں سچ ہی کہتا ہو۔
    (4) اور نہ کسی ایسے بزرگ و نیک اور عبادت گزار شخص سے جو اس بات کا علم نہ رکھتا ہو کہ وہ کیا اور کس بارے میں بول رہا ہے‘‘۔[جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر:2/820]
    ایک طالب علم جب تک کسی ماہر اور باعمل استاد کی کڑی نگرانی میں وقت نہیں گزارتا، وہ کتابوں کی عبارتیں تو روانی سے پڑھ سکتا ہے لیکن ان عبارتوں کے پیچھے چھپی ہوئی حکمت، اسلاف کا فہم، موقع و محل کی مناسبت اور شریعت کے کلی مقاصد کو ہرگز نہیں پا سکتا۔
    آن لائن کورسز میں اکثر استاد سے براہ راست ملاقات، رد و بدل، اخلاقی تربیت اور عملی رہنمائی مفقود ہوتی ہے، شارٹ ٹرم کورسز میں تو یہ اور بھی کم ہو جاتی ہے۔
    جاری ………

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings