Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • اسلام اور طلاق کی انسدادی تدابیر

    میاں بیوی کا رشتہ واحد رشتہ ہے جس کے ٹوٹنے کا امکان ہوتا ہے، جو محض طلاق کہہ دینے سے ٹوٹ جاتا ہے اور آج کے زمانے میں جب کہ ایک ہی شادی کا رواج ہے طلاق بہت سنگین مسئلہ بن گیا ہے، دَور رسالت میں چونکہ تعدد کا رواج تھا اس لیے مطلقہ عورتیں بھی پیغام نکاح ٹھکرانے کی ہمت رکھتی تھیں، آج صورت حال ایسی نہیں رہی ہے، طلاق عورت پر ایک بدنما داغ بن گیا ہے، طلاق کا دھبہ ایک عورت کی ساری خوبیوں پرپردہ ڈال دیتا ہے، مطلقہ عورت بقیہ زندگی تنہا گزارنے پر مجبور ہوتی ہے، در در کی ٹھوکریں کھاتی ہے،بھابھیوں کے طعن و تشنیع کا نشانہ بنتی ہے ، ساتھ ہی بچوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جاتا ہے، نوکری کرنے تک کی نوبت آ جاتی ہے ، اس لیے اسلامی شریعت گرچہ حکمت و مصلحت کے تحت طلاق کا جواز فراہم کرتی ہے لیکن اس کے لیے ہر قسم کی جلد بازی سے منع کرتی ہے اور آدمی کو ایسے حدود و قیود کا پابند بناتی ہے جس کے بعد طلاق دینا مشکل ہو جاتا ہے، اسلامی شریعت نے وقوع طلاق کے روک تھام کے لیے بہت سی تدابیر اختیار کی ہیں، ذیل میں چند تدبیریں قدرے تفصیل سے پیش کی جاتی ہیں:
    پہلی تدبیر : اسلام رشتہ کی بنیاد دین داری پر رکھنے کی تعلیم دیتا ہے: مال و دولت، حسن وجمال، حسب و نسب یہ سب ثانوی درجہ رکھتے ہیں، اولیت دینداری کو حاصل ہے۔ خصوصاً اس مشکل رشتہ کو فقط پسندیدگی کے کمزور دھاگے کے سہارے چلانا ممکن نہیں، اس لیے اس کا نمبر بہت بعد میں آتا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا:’’ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِھَا، وَلِحَسَبِھَا، وَلِجَمَالِھَا، وَلِدِینِھَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّینِ تَرِبَتْ یَدَاکَ‘‘۔’’عورت سے اس کے مال و دولت، حسب ونسب ،حسن و جمال اور دینداری کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے اور تم دینداری کی بنیاد پر نکاح کرو‘‘۔ [صحیح بخاری:5090]
    ایک آدمی نے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا میں اپنی بیٹی کا نکاح کس سے کروں ؟ تو کہا جو اللہ سے ڈرتا ہے کہ اگر وہ اس کو پسند کرے گا تو اس کی عزت کرے گا اور اگر ناپسند بھی کرے گا تو اس پر ظلم نہیں کرے گا‘‘۔ [مختصر منھاج القاصدین، لابن قدامہ المقدسی:ص: 78]
    دوسری تدبیر : مخطوبہ کو دیکھنے کی اجازت: اسلام میں نا محرم عورت کو دیکھنا ممنوع ہے مگر جس سے نکاح کرنا مقصود ہو اس کو دیکھنا مستحب ہے تاکہ درمیان میں کچھ ڈھکا چھپا نہ رہے جو بعد میں طلاق کا باعث بنے۔ آپ ﷺنے فرمایا:’’إذا خطب أحدکم المرأۃ فإن استطاع أن ینظر إلی ما یدعوہ إلی نکاحھا فلیفعل‘‘۔ ’’جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے اگر ممکن ہو تو اس کی وہ چیز دیکھ لے جو اس کے نکاح کی داعی ہے‘‘۔ (قد و قامت اور حسن و جمال وغیرہ۔[سنن ابی داؤد:2082،حسن]
    تیسری تدبیر : حق طلاق صرف مرد کو حاصل ہے : عورت فطرتاً کم عقل اور جذباتی ہے اس لیے شریعت نے اسے طلاق دینے کا اختیار نہیں دیا ہے ۔ البتہ وہ خلع لینے کی مجاز ہے، لیکن شریعت نے یہ شرط لگا کر اس راستے کو بھی بند کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایسی صورت میں عورت کو مہر واپس کرنا ہوگا۔
    چوتھی تدبیر: خِطبہ دینے والے کی غیبت کا جواز: اگر کوئی شخص جو اپنی لڑکی کا نکاح کسی لڑکے سے کرنا چاہتا ہودوسرے لوگوں سے اس کے اخلاق کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے تو اسے اجازت ہے کہ اگر اس لڑکے میں کوئی قابل گرفت بات ہو تو وہ بیان کرسکتے ہیں ۔ صحیح مسلم کی روایت ہے آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ بنت قیس سے کہا:’’أَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: انْكِحِي أُسَامَةَ‘‘۔’’ ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا ، اور رہا معاویہ تو وہ انتہائی فقیر ہے ، اس کے پاس کوئی مال نہیں ، تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لو ۔ میں نے اسے ناپسند کیا ، آپ نے پھر فرمایا: اسامہ سے نکاح کر لو‘‘۔
    [صحیح مسلم :3697]
    پانچویں تدبیر: نکاح کے لیے رضا مندی ضروری ہے: اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ گھر کے سرپرست اپنے لڑکے یا لڑکی کا نکاح بالجبر کر دیں بلکہ ان کی مرضی معلوم کرنا اور ان کا عندیہ لینا ضروری ہے۔ لیکن چونکہ عورت شرم و حیا کا پیکر ہوتی ہے اس لیے اس کی خاموشی کو اس کی اجازت مانا ہے۔
    [صحیح مسلم:3476]
    چھٹی تدبیر: اسلام نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کی تعلیم دی ہے : مثال کے طور پر بیوی کو یہ تعلیم دی کہ وہ وظیفۂ زوجیت کو نہ بھولے اور جب شوہر اس کو بلائے تو انکار نہ کرے۔ آپ ﷺنے فرمایا:’’اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا ، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا اور مرد اس پر غصہ ہو کر سو گیا ، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں‘‘۔[صحیح بخاری:3237]اسی طرح بیوی کے بھی حقوق بتائے اور فرمایا:’’جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے ، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے ۔ یا یوں کہا : جب کما کر لائے (تو اسے پہنائے )اور چہرے پر نہ مار ، برا نہ بول اور اس سے جدا نہ ہو مگر گھر میں ‘‘۔[سنن ابی داؤد:2142،قال الالبانی حسن صحیح]
    ساتویںتدبیر : میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾’ان کے (بیویوں کے) ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو‘‘۔[النساء:19]اور آپ ﷺ نے فرمایا:’’ لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقاً رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ‘‘۔’’کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے ۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہے تو دوسری پسند ہو گی‘‘۔ [صحیح مسلم:1469]
    آٹھویں تدبیر: طلاق میں جلد بازی سے منع کیا ہے: اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ اگر واقعی بیوی میں کوئی قابل مواخذہ بات ہو تو بھی طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ پہلے افہام و تفہیم سے مسئلہ کو حل کونے کی کوشش کرو یا بستر الگ کر دو یا ہلکی مار مار دو، پھر بات نہ بنے تو فریقین باہم مل کر صلح کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: { وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا}’اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر راستہ تلاش نہ کرو‘‘۔[ا لنساء :34]
    نویں تدبیر: میاں بیوی میں دراڑ پیدا کرنے کو شیطان کا پسندیدہ کام بتلایا ہے: تاکہ میاں بیوی چوکنا رہیں اور اس کے فریب میں نہ آئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے ، پھر وہ اپنے لشکر روانہ کرتا ہے، اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالتا ہے ، ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے :میں نے فلاں فلاں کام کیا ہے ، وہ کہتا ہے :تم نے کچھ نہیں کیا ، پھر ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے:میں نے اس شخص کو (جس کے ساتھ میں تھا ) اس وقت تک نہیں چھوڑا ، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرا دی ، کہا:وہ اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے:تم سب سے بہتر ہو‘‘ ۔[صحیح مسلم:7106]
    دسویں تدبیر : میاں بیوی کو ایک دوسرے کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے: آپ ﷺ نے فرمایا:’’صرف تین جگہ پر جھوٹ جائز اور حلال ہے، ایک یہ کہ آدمی اپنی بیوی سے بات کرے تاکہ اس کو راضی کر لے، دوسرا جنگ میں جھوٹ بولنا اور تیسرا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا‘‘۔
    [سنن ابی داؤد :4921 قال الالبانی صحیح]
    گیارہویں تدبیر: حالت حیض میں طلاق دینے کی ممانعت: اسلام اس بات سے بھی منع کرتا ہے کہ شوہر حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے۔ اور صحیح قول کے مطابق حالت حیض میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنّ ﴾’’اے نبی! ( اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز ) میں انہیں طلاق دو‘‘۔[الطلاق :1]عورت کی عدت طلاق کے بعد تین مرتبہ حیض کا آنا ہے، ایسی صورت میں اگر حالتِ حیض میں طلاق دے دی جائے تو عورت کی عدت تین حیض کے بجائے چار حیض ہو جائے گی ،جو صحیح نہیں ہے۔
    بارہویں تدبیر: ایسے طہر میں طلاق دینے کی ممانعت جس میں میاں بیوی کا ملاپ ہوا ہو: اس کی کئی وجوہات ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ اگر میاں بیوی کا ملاپ ہوا ہے تو غالب گمان یہ ہے طلاق کی وجہ کوئی بڑی نہیں ہے میاں بیوی کا ملنا ہی اس کی سب سے بڑی دلیل ہے ،دوسری وجہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے اس ملاپ کی وجہ سے عورت کا حمل ٹھہر جائے اور آدمی اپنے بچے کی فکر میں بیوی کو طلاق نہ دے۔ البتہ حالت حمل میں طلاق دینا منع نہیں ہے کیوں کہ ایسی حالت میں آدمی بچوں کی فکر میں خود طلاق دینے سے باز رہتا ہے اور اگر طلاق دے بھی دے تو رجوع کے لیے وضع حمل تک کا وقت اس کے پاس میسر ہوتا ہے۔
    تیرہویں تدبیر : تین طلاق کو ایک طلاق مانا ہے: میاں بیوی میں ہمیشہ کے لیے جدائی تیسری طلاق کے بعد واقع ہوتی ہے اور تین طلاق کے لیے ضروری ہے کہ آدمی تین الگ الگ موقع پر تین الگ الگ طلاقیں دے۔ صحیح مسلم کی صریح حدیث ہے کہ دور رسالت میں اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھی۔[صحیح مسلم:3675]
    چودہویں تدبیر: طلاق کے بعد بیوی کو شوہر کے گھر میں ہی عدت گزارنے کا حکم: اس کی حکمت یہ ہے کہ جب دونوں ایک ہی گھر میں رہیں گے تو آمنا سامنا ہوگا، ایک دوسرے کا دیدار ہوگا تو شاید دل میں پھر سے محبت کے دیپ جل جائیں اور موافقت کی کوئی صورت پیدا ہوجائے،تیسری طلاق کے بعد رجوع ممکن نہیں ہے اس لیےاس کی عدت عورت اپنے گھر میں گزارے گی۔
    پندرہویں تدبیر : تین حیض تک رجوع کا موقع: طلاق کے سد باب کے لیے شریعت نے ایک تدبیر یہ بھی اختیار کی ہے تاکہ رجوع کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔ عدت کا مقصد محض استبرائے رحم نہیں ہے کیوں کہ وہ تو ایک مہینے میں بھی حاصل سکتا ہے۔
    سولہویں تدبیر: طلاق رجعی کے بعد اگر میاں بیوی پھر سے ایک ہونا چاہیں تو ان کے اولیاء کو انہیں ایسا کرنے سے روکنے کی اجازت نہیں ہے ،اللہ تعالیٰ نے لڑکی کے اولیاء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِذَاطَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ﴾’’اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدّت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں‘‘۔[البقرۃ:232]
    سترہویں تدبیر: ہمیشہ کی جدائی کے لیے تین طلاق کی شرط: اس میں غور کریں تو دو تدبیریں معلوم ہوں گی، پہلی یہی کہ ہمیشہ کی جدائی کے لیے ایک دو طلاق کے بجائے تین طلاق کی شرط لگائی ہے۔ دوسرے یہ کہ تیسری طلاق کے بعد رجوع کے سارے راستوں کو مسدود کردیا(سوائے ایک راستہ کے جو مرد کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے) تاکہ مرد کو بیوی کے ہمیشہ کی جدائی کا خوف دامن گیر رہے اور وہ طلاق دینے سے باز رہے۔ ورنہ زمانۂ جاہلیت کے جیسا بغیر تحدید کے طلاق دینے کا جواز ہوتا تو عورت کی زندگی برباد ہو جاتی کہ آدمی نہ اسے مکمل اپناتا اور نہ چھوڑتا کہ دوسرے سے نکاح کرلے۔
    اٹھارہویں تدبیر: اگر شوہر دوسری شادی کرنا چاہے تو سوکن کو اجازت نہیں کہ دوسری سوکن کو طلاق دینے کا مطالبہ کرے : آپﷺ نے فرمایا:’’لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَۃُ طَلَاقَ أُخْتِھَا لِتَکْفِیئَ مَا فِی إِنَائِھَا‘‘۔’’عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو اس کے برتن میں ہے اُسے اپنے میں انڈیل لے‘‘۔[سنن ترمذی:1190،صحیح]
    انیسویں تدبیر: زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی ہے: کہا جاتا ہے بہت سی عورتیں اپنے بچوں کے باپ کے ساتھ رہ رہی ہوتی ہیں۔ بچوں کے مستقبل کی فکر پائے طلاق کی زنجیر بن جاتی ہے۔ اور میاں بیوی کو جوڑے رکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی لیے جب حضرت خولہ کے شوہر نے ان سے ظہار کرلیا جو اس وقت طلاق کا درجہ رکھتا تھا تو وہ بے قرار ہوگئیں اللہ کے رسول کے پاس آئیں اور کہا اللہ کے رسول !میرے شوہر نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اس لیے ہمارے ایک ہونے کی کوئی صورت بتائیں جس سے ان کی زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے۔[سنن ابی داؤد:2214،قال الالبانی حسن]
    انیسویں تدبیر : صلح کی ترغیب دی ہے: جب میاں بیوی کے مابین نباہ مشکل ہو جائے اور طلاق دینا ضروری لگنے لگے تو ایسی صورت میں اسلام انہیں صلح کی تعلیم دیتا ہے کہ نزاع کے معاملے میں کچھ کمپرومائزاور سمجھوتہ کرلیں۔ اور کچھ جائز شرطوں کے ساتھ ایک ساتھ رہنے کا وعدہ کرلیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالصُّلْحُ خَیْرٌ﴾ ’’(طلاق کی بنسبت) صلح بہت بہتر چیز ہے‘‘۔
    ان ساری تدابیر کا مقصد یہی ہے کہ میاں بیوی میں جدائی نہ ہونے پائے جس میں ان کا، ان کے بال بچوں اور خاندان کے دوسرے افراد کا نقصان ہے، اس لیے میاں بیوی کو چاہیے حتی المقدور صبر و تحمل سے کام لیں، معاف کرنا اور نظر انداز کرنا سیکھیں۔ رشتوں کو نبھانے کے لیے کبھی بہرا، کبھی گونگا اورکبھی اندھا بننا پڑتا ہے۔ طلاق دینے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کریں اور جب مصالحت اور موافقت کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو بغیر طلاق کے چند مہینوں کے لیے ایک دوسرے سے دور ہو جائیں، اس کے بعد بھی طلاق دینا ناگزیر معلوم ہو تو اس کا آپشن تو ہے ہی شریفانہ طریقے سے الگ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ سے نعم البدل کی دعا کریں۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings