Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • علامہ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ ۔محاضرہ نمبر(۵)

    معارف ابن تیمیہ کی عصری معنویت اور استفادے کے طریقے:(تیسری قسط)

    ابن تیمیہ کی تصانیف جو چھپ کرکے آگئی ہیں ان سے استفادے کا کیا طریقہ مناسب رہے گا ۔طلبہ آج کے زمانہ میں کیسے استفادہ کریں ؟
    ابن تیمیہ کی اتنی ساری کتابیں دیکھ کر ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،جب آدمی کو طریقہ معلوم ہوجاتا ہے تو ان سے استفادہ بھی آسان ہوجاتا ہے
    (1)۔ ابن تیمیہ کا اسلوب بہت ہی آسان ہے ،ابن تیمیہ کے اسلوب کے سلسلہ میں ایک واقعہ ہے بلکہ ایک لطیفہ کہہ لیجیے ، بنگلہ دیش کے ایک انجینئر تھے ،وہ ام القریٰ یونیورسٹی میں عربی سیکھنے کےلیے آئے ،وہ الف، ب بھی نہیں جانتے تھے، وہ آئے اور دو سا ل میں عربی سیکھ لیے ،اس کے بعد وہ عربی کی مختلف کتابیں او رپرچہ وغیرہ پڑھتے تھے لیکن ان کو سمجھ میں نہیں آتا تھا ،پھر وہ کہتے تھے کہ ابھی مجھے عربی سمجھ میں نہیں آتی ہے ،ایک دن ابن تیمیہ کا مجموع الفتاویٰ ان کو ہاتھ آگیا او روہ اس کو کھول کر پڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ اس میں مجھے تو ساری باتیں سمجھ میں آنے لگی ہیں اور وہ کہنے لگے کہ ابن تیمیہ اتنے آسان اسلوب میں لکھتے ہیں،اس طرح اور لوگ کیوں نہیں لکھتے ہیں ۔میرا کہنا یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی اصل کتابیں پڑھیں وہ زیادہ مفید ہیں، بجائے اس کے کہ ترجمہ پڑھاجائے،ترجمہ میں بہت سارے لوگوں نے تحریف اورغلطی کی ہے اور کبھی کبھی اختصار کے پیش نظر کچھ کا کچھ بنادیا ہے۔اور کبھی تلخیص کرکے اصل فکر ہی نچوڑ کرکے ختم کردیا ہے،اس لیے اصل کتابیں پڑھنی ضروری ہے، اب اصل کتابیں ان کی بہت سی ہیں ، 35 جلدوں میں مجموع الفتاویٰ ہے ،اس کے علاوہ او ر جو ہیں وہ بھی چالیس پچاس جلدیں بن جائیں گی ،اب سوال یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی کو ن سی کتابیں پہلے پڑھی جائیں ؟اس کی دو تین شکلیں ہو سکتی ہیں ،نمبر ایک یہ کہ پہلے چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھیں جو ان کی فکر کی نمائندکی کرتی ہیں جیسے رفع الملا م وغیرہ (2)، اس سے ذہن صاف ہوجائے گا کہ یہ ائمہ کلام کا احترا م کرتے ہیں یا نہیں کرتے ہیں ،ان کے بارے میں ان کی کیا
    رائے ہے اور مذاہب فقہیہ کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے ، اسی طرح ان کی ایک دوسری کتا ب ہے’’السیاسۃ الشرعیۃ‘‘ ،اسلام کے اصول حکمرانی کیاہیں،کن چیزوں پر ہیں؟ ان کی یہ کتاب’’إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا‘‘ (نساء :58) کی ایک طرح سے تفسیر ہے۔ یہ کتاب ایک رات میں انہوں نے مکمل کردیاتھا ، تیسری ایک کتاب ہے’’الحسبة ‘‘یعنی اسلام میں پبلک ڈیوٹیز کیا ہیں ؟آپ کسی منکر نام کو دیکھ رہے ہیں تو اس کا انکار کس طرح کریں گے ؟ اسی طرح چوتھی ان کی ایک کتاب ہے’’المظالم المشترکة‘‘ یعنی ایسے مظالم جو عام طورپر ہوتے ہیں اس کا حل کیاہے ؟ حکومت یا اسی طر ح عوام یا سوسائٹی کا اس میں کس حد تک دخل ہوسکتا ہے؟اسی طرح ان کی بدعات اور شرکیات سے متعلق جو کتابیں ہیں انہیں پڑھنا چاہیے ، انہوں نے سب سے پہلے یہ تصور دیا کہ ولی اللہ کون ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ہے’’إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ‘‘(انفال :34) اولیاء اللہ متقی او رپرہیز گار ہیں ، اولیاء اللہ اور اولیاءالشیطان میں کیا فرق ہے ؟اس پر ان کی ایک کتاب’’ الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاءالشیطان‘‘ ہے اسی طرح زیارت قبر نبوی کامسئلہ ہے ،اس پر لکھنے کی وجہ سےکئی بار داروگیر بھی کیے گئے ، اور کئی بار اس سے متعلق انہوں نے لکھا بھی ہے، اس میں ایک چھوٹا سا رسالہ زیارت قبو ر سے متعلق ہے یعنی زیارت قبو ر کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟اس میں کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے اور کن چیزوں سے دور رہنا چاہیے ،کون سی چیز یں اس میں بدعت ہیں او رکون سی چیزیں سنت ہیں ،زیارت قبر نبوی کو وہ جائز قرار دیتے ہیں،ہاں سفر صرف اور صرف زیارت قبر نبوی کا ہو تو وہ اس چیز کو گنا ہ قرار دیتے ہیں ،
    (3) کئی تحریریں ان کی اس پر ہیں ۔ ایک مسئلہ طلاق ثلاثہ سے متعلق ہے ،بہت بارا نہوں نے لکھا،میں نے جامع المسائل کی جب پہلی جلد چھاپی تو اس میں طلاق کے بہت سے مسائل بیان کئے اور مجموع الفتاوی میں بھی 34 ویں جلد میں وہ مسئلہ ہے،اس کے اندر انہوں نے یہ بتایا ہے کہ تین طلاق کوتین نافذکر دینے سے جو حضرت عمر کے زمانہ میں تھا ، اس کے بعد جو مفاسد پیدا ہوئے اس کا تدارک کس طریقہ سےکیاجائے ،معاشرتی طور یہ بہت بڑا مسئلہ ہے ، اب اس کے بعد حلالہ کا سہارا لیا جاتا ہے،اور حلالہ بالکل ہی حرام ہے ، اس کے بعد احادیث وآثار کا انہوں نے مراجعہ کیا اور صحیح مسلم کی جو مشہور حدیث طلاق سے متعلق ہے اس کو اساس بناکر پھر انہوں نے لمبی گفتگو کی ہے،ان کو روکا جاتا تھا کہ فتویٰ مت دیجیے لیکن وہ کہتے تھے کہ میں حق بیان کرنے سے نہیں رک سکتا ہوں ،پھر اس کی وجہ سے جیل بھی چلے گئے
    (4)، ایک تیسرامسئلہ اس زمانہ میں جو فقہاء کا متفقہ مسئلہ تھا کہ اگر کوئی طلاق معلق دے مثلاً وہ کہے اگر تم اس کمرے سےباہر گئی تو طلاق ،اگر تم نے ایسا کیاتو طلاق ،تو کیا وہ طلاق واقع ہو گی یا نہیں ہوگی یا اس پر کفارہ واجب ہوگا،ابن تیمیہ کا موقف یہ تھا کہ طلاق معلق کا اگر کفارہ دے دیا جائے تو اس کے بعد پھر طلاق واقع نہیں ہوتی ہے،
    (5) اصلاًوہ ایک طرح سے معاشرہ میں پھیلے فساد کا علاج کیسے ہو اسی کا وہ علاج کرنا چاہتےتھے ، طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کے جتنے اندیشے تھے وہ تقریباً آج کے حالات میں سب صحیح ثابت ہورہے ہیں ،موجو دہ دور میں اکثر عرب ممالک میں یہی قانون بنا ہوا ہے،تین ایک ہی ہے ،اور اس کے بغیر آپ مسائل کو حل نہیں کرسکتے ،ہمارے یہاں جو سلسلہ جاری تھا ،اس کی وجہ سے حلالہ کا بھی سلسلہ جاری ہوا ، اب جب خواتین کا شعور بیدار ہوا اور خواتین کو بھی تجسس ہوئی،تو سمجھ میں آیا کہ حلالہ کس قدر قبیح ہے،بہر حال کہنے کا مطلب ہے کہ ابن تیمیہ صرف نظری طور پر بحث نہیں کرتے تھے بلکہ معاشرتی طورپر وہ مسائل کو دیکھتے تھے ،ایک بہت مشہور بات ہے کہ اسلام نے نکاح کو آسان بنایاہے،کہ جتنا مہر دے سکتا ہو کم سے کم تب بھی وہ نکاح کرسکتا ہے، کچھ بھی نہیں ہے حافظ قرآن ہے تب بھی کرلے اور وہی قرآن سیکھنا سکھانا مہر ہوگا۔اور طلاق کو مشکل بنادیاجائے تاکہ طلاق دینے کی نوبت بہت کم آئے اور خاندان بکھر نے سے بچ جائے،لیکن متاخرین فقہاء نےاس کو الٹ دیا،نکاح کے لیے نکحتک،زوجتک،جیسےبھاری بھرکم الفاظ تراشے اور طلاق بس معمولی سا لفظ بو ل دیا تو طلاق واقع ہوگئی ۔
    بہر حال کہنے کا مطلب ہے چھوٹے چھوٹے رسائل سے ابن تیمیہ کو پڑھنا شروع کریں ، اور اس کا ایک چھوٹا سا مجموعہ’’ مجموعة الرسائل الکبریٰ‘‘ کے نام سے ۔1323 ہجری میں چھپا تھا ،
    (6)پھر بعد میں بھی چھپتا رہا ہے،اس میں ایک چھوٹا سا رسالہ ہے’’الوصیة الصغریٰ‘‘ ،ابن تیمیہ سے کسی نے کہا کہ ہمیں وصیت کیجئے کہ علم کیسے حاصل کریں ، کون سی کتابیں پڑھیں اور روزی روٹی کیسے حاصل کریں ،اسی طرح اس میں ایک چھوٹا رسالہ ہے’’الواسطیة‘‘ کسی نے ابن تیمیہ سے کہا کہ عقائد کا مختصر طورپر جس کاعلم ہم تمام لوگوں کو ہونا چاہیے وہ کیاہے؟ تحریرکردیں ۔پہلے تو کہا کہ عقیدے کی بہت سی کتابیں ہیں جاؤ کوئی بھی کتاب پڑھ لو ، لیکن واسط شہر سے رضی الدین واسطی آئے تھے انہوں نے کہا کہ نہیں آپ ہی لکھ دیجئے پھر ایک ہی بیٹھک میں قرآنی آیات وغیرہ کو جمع کرکے انہوں نے لکھ دیا ۔صفات باری تعالیٰ سے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے’’حمویة‘‘ لکھ دیا ، حماہ ایک جگہ کا نام ہے ، یہ فتویٰ اسی کی جانب منسوب ہے ۔ اس طریقے کے چھوٹے چھوٹے رسالے پڑھنے سےان کے بنیادی افکارسامنے آجائیں گے ،پھر آگے کوئی بھی مسئلہ ہو جو سمجھ میں نہ آرہاہوتو مجموع الفتاویٰ ابن تیمیہ کی 36ویںاور37 ویںجلد میں جاکرکے دیکھئے اور پھر پڑھ لیجئے یہ پورا مجموعہ موضو عاتی ترتیب پر ہے۔پہلے ان کی چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھنے کےبعد جو ان کی بڑی بڑی کتابیں ہیں ۔جیسے: ’’الرد علی المنطقیین،در ء تعارض العقل والنقل،منھاج السنة،الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘‘ وغیر ہ پڑھیں ،اب ان کے انصاف کا اندازہ لگائیے کہمنھاج الکرامۃ کے نام سے ابن مطہرحلی نے شیعہ عقائد سے متعلق ایک کتاب لکھی ،پھر وہ کتاب ابن تیمیہ کو دی گئی او ر کہا گیا کہ اس کا جواب دیجئے ،پوری کتاب کا مکمل اقتباس نقل کرکے پھر اس کا جواب دیتے ہیں،بلکہ جس نے دوبارہ چھاپا ہے یعنی ڈاکٹر محمد رشاد سالم، انہوں نے پہلی جلد میں اصل’’ منھاج الکرامہ‘‘ بھی چھاپ دیا ،تاکہ مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہو،لیکن بعد میں جو دوسرا ایڈیشن چھپا اس میںمنھاج الکرامہ حذف کردی گئی،منھاج السنہ کہنے کو تو شیعوں کے رد میں ہے لیکن بیچ میں بہت سے تاریخی مسائل اور عقائد کے مسائل بیان کئے گئے ہیں ،اسلام میں گمراہیوں کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اس کی پوری تاریخ ہے ،اس کے علاوہ بہت سے موضوعات ،صحابہ کے تعلق سے ، قرآن کے تعلق سے اوراسلامی اصول حکمرانی کے تعلق سے موجود ہیں ۔منھاج السنہ آپ پڑھیں گے تو ایک جگہ اسلوب سے متعلق گفتگو آئے گی ،اسلوب میں کیا ہے ، انہوں نے کہا ہے کہ جو لوگ اپنے طریقۂ تحریر کو مختلف طریقہ سے محسنات لفظیہ اورمعنویہ ،ثنائع ا ور بدائع ،الفاظ او ربھاری بھرکم چیزیں استعمال کرکے سوچتے ہیں کہ ہماری تحریر بہت بہترین ہوگی ،ادبی ہوگی ،تو اس کی مثال ویسے ہی ہے جیسے کوئی بزدل آدمی ہو اور اس کے ہاتھ میں تلوار دے دی جائے،اس کا دل ہی مضبو ط نہیں ہے تو وہ تلوار چلائے گا کیسے ؟ کہنے کا مطلب ہے کہ اصل جب تک آدمی خود علمی اعتبار سے مضبو ط نہ ہواس وقت تک بھاری بھرکم الفاظ کچھ کام کے نہیں ۔ طلبہ سب سے پہلے ان کی چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھیں یا پھر ذہن میں یہ رکھیں کہ مجھے اس موضوع سے متعلق پڑھنا ہے ، تو ابن تیمیہ نے اس موضوع سے متعلق کہاں کیا کیا لکھا ہے۔
    ایسی کوئی کتاب بتائیں جس کو پڑھنے پر مکمل طور پر ابن تیمیہ دکھائی دیں ؟
    دیکھئے ابن تیمیہ چھوٹی سی چھوٹی کتاب میں بھی نظر آتے ہیں اور بڑی سی بڑی کتاب میں بھی نظر آتے ہیں ۔اور ابن تیمیہ اپنے اسلوب کے اعتبار سے بالکل منفردنظر آتے ہیں ، بلکہ بسا اوقات ابن تیمیہ اور ان کے شاگر د ابن قیم میں التباس ہوجاتا ہے کہ ہم کس کو پڑھ رہے ہیں ۔اس لیے کہ بسا اوقات ابن قیم رحمہ اللہ پورا کا پورااقتباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب سے نقل کرلیتے ہیں۔مثلاً عیسائیوں کے رد میں ابن تیمیہ کی ایک بے نظیر کتاب ’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ‘‘ ہے ، یہ بہت ضخیم کتاب ہے، چار یا چھ جلدوں میں مطبوع ہے، ابن قیم نے اس کا اختصار تیار کیا ہے’’هداية الحيارى في أجوبة اليهود والنصارى لابن قيم الجوزية‘‘ تین جلد میں اختصار ہے، اب اگر آپ اتنی ضخیم کتاب نہیں پڑھ سکتے ہیں تو ثقہ قسم کے جو ہیں اس طرح کے اختصار کرنے والے مؤلفین ان کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں ،یا مثلاً جیسے منھاج السنہ ہے جو شیعوں کے رد میں بہت بڑی کتاب ہے، اگر آپ اس کامختصرپڑھنا چاہتے ہیں تو علامہ ذہبی نے جو اس کا مختصر تین جلدوں میں تیار کیا ہے اسے پڑھیں (7) اسی طرح موجودہ د ور میں شیخ عبد اللہ غنیمان صاحب نے اختصار کیا ہے۔
    بہر حال کہہ یہ رہاتھا کہ ابن تیمیہ لکھتے لکھتے بہت دو ر چلے جاتے ہیں پھر’’والمقصود‘‘ کہہ کرکے واپس آتے ہیں۔تو یہ استطرادات ان مختصرات میں نہیں ملیں گے ،یہی استطرادت مولانا ابو الکلام آزاد کے یہاں بھی دیکھنے کو ملیں گے ، دیکھئے ابو الکلام آزاد ، علامہ اقبال ، علامہ شبلی ،سید سلیما ن ندوی وغیرہ سب ابن تیمیہ سے متاثر تھے ،یہ سب لوگ معارف ابن تیمیہ کی احیاءو اشاعت کو وقت کی بہت بڑی ضرورت سمجھتے تھے ، اور اس کی وجہ کیابیا ن کیا علامہ اقبال نے اپنے ایک خط میں لکھا یہ دوشخصتیں ایسی ہیں جو امت کو جوڑتی ہیں نہ کہ امت میں تفرقہ پیدا کرتی ہیں ۔
    حواشی (آفاق احمد السنابلی المدنی)
    1- اس سلسلہ میں صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ کا ایک محاضرہ ہے ’’كيف تقرأ كتب شيخ الإسلام ابن تيمية‘‘۔جس میں انہوں نے بڑے سہل اور ترتیب کے ساتھ شیخ الاسلام کی کتابوں سےاستفادہ کا طریقہ بتایاہے۔ یہ محاضرہ یوٹیوب پر اور تحریری شکل میں بھی موجود ہے۔اس کا ترجمہ بھی میں نے کیاہے، موقع ملاتو اہل السنہ میں قسط وار شائع کریں گے ان شاء اللہ۔
    2- فہد بن عبداللہ الترکی نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کے مطالعہ کی بالترتیب ایک فہر ست تیار کی ہے ، جس میں انہوں نے سب سے پہلے چھوٹی چھوٹی کتابوں کا ذکر کیاہے۔انہوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کو پڑھنے کے لیے تین حصوں میں تقسیم کیاہے۔
    پہلا مجموعہ :جس میں عقید ہ کی چھوٹی چھوٹی کتابیں ذکر کی گئی ہیں ، انہی کتابوں سے ابن تیمیہ کے کتابوں کے مطالعہ کی شروعات کرنی ہے۔
    1-العقيدة الواسطية مع شروطها. 2-الفتو ی الحموية مع شروحها. 3-قاعدة في التوسل والوسيلةوهي رسالة صغيرة. 4-الفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان مجلد صغير. 5-اقتضاء الصراط المستقيم في مخالفة أصحاب الجحيم مجلد وقد طبع محققاً في مجلدين. 6-الصارم المسلول على شاتم الرسول مطبوع في مجلد وقد طبع في ثلاثة۔ أجزاء محققة تحقيقاً جيداً. 7-الاستغاثة في الرد على البكري مجلدان. 8-التدمرية مع شروحها. 9-قسم العقيدة من الفتاوي المصرية. ويقع قسم العقيدة منها في المجلد الأول في قرابة المائتي صفحة. 10-الأجزاء الأولى من «مجموع الفتاو » جَمْع الشيخ عبد الرحمن بن قاسم وابنه محمد – رحمهما الله – من الجزء الأول وحتى الجزء الثاني عشر. باستثناء الجزء التاسع المتعلق بالمنطق فتؤخر قراءته كما سيأتي إن شاء الله. 11-جامع المسائل تحقيق محمد عزيز شمس, وتشتمل على رسائل ليست في «مجموع الفتاوى .» 12-المستدرك على « مجموع الفتاو ی» للشيخ محمد بن قاسم قسم العقيدة منه. 13-مجموعة الرسائل بعناية الشيخ محمد رشيد رضا رحمه الله.
    دوسرے نمبرپر وہ کتابیں پڑھیں جو ذرا لمبی ہیں۔
    1- الاستقامة، وفيه الرد على رسالة القيشري مطبوع في مجلدين بتحقيق الدكتور محمد رشاد سالم رحمه الله.
    2- الجواب الصحيح لمن بدَّل دين المسيح ط: دار العاصمة وهي أحسن الطبعات الموجودة.
    3- منهاج السنة النبوية في الرد على الشيعة القدرية مطبوع في تسعة مجلدات التاسع فهارس تحقيق الدكتور محمد رشاد سالم رحمه الله. وللذهبي – رحمه الله – مختصر له سماه : المنتقى من منهاج السنة. وكذلك للشيخ عبد الله العنيمان وفقه الله.
    تیسر نمبر پر ان کتابوں کا مطالعہ کریں ،جن میں ردود اور مناقشہ ،اہل کلام اور اہل فن کے مصطلحات وغیرہ بھی موجود ہیں۔
    1-النبوات: وهو مِنْ آخر ما صنفه ابن تيمية رحمه الله, وقيل : إنه ألفه في السجن. مطبوع في مجلد متوسط, وطبع في مجلدين بتحقيق الطويان.
    2-الرسالة الصفدية وقد طبعت في مجلد تحقيق الدكتور محمد رشاد سالم, ثم طبعت في مجلد واحد بتحقيق الحليمي والدمشقي.
    3-بيان تلبيس الجهمية, ولم يكمل, بل لا تزال أجزاء منه مخطوطة, وطُبع منه مجلدان بتحقيق الشيخ محمد بن عبد الرحمن ابن قاسم رحمهما الله.
    4-درء تعارض العقل والنقل مطبوع في عشرة مجلدات ۔
    5-المنطقيين مطبوع في مجلد واحد.
    6-المجلد التاسع من مجموع الفتاویٰ۔ وهو المتعلق بالمنطق.
    تفسیر اور علوم القرآن سے متعلق ابن تیمیہ کی کتابوں کا مطالعہ اس ترتیب سے کریں :
    1- الجْزاء المختصة بالتفسير ضمن «مجموع الفتاوي» والتي تحمل الرْقام : ج,13 ج,14 ج,16 ج.17
    2- تفسير الشيخ الكبير. وهو مطبوع في سبعة مجلدات بعناية الدكتور عبد الرحمن عميرة, وهو مجموع من كلام الشيح.
    3- تفسير آيات أشكلت «في مجلدين» وهو موجود ضمن «مجموع الفتاو ی.» -4 دقائق التفسير, وهو مجموع من كلام الشيخ.
    فقہی ابواب میں ابن تیمیہ کی کتابوں کامطالعہ ا س ترتیب سے کریں :
    1- الاختيارات العلمية للبعلي رحمه الله وهو أكبر كتب الاختيارات وأوفاها. لكن الطبعة التي رأيناها كثيرة الخْطاء والتصحيف, فلعلها تُحقق.
    2- اختيارات شيخ الإسلام ابن تيمية لتلميذه الحافظ ابن عبد الهادي مجلدا صغير.
    3- اختيارات شيخ الإسلام التي خالف فيها الأئمة الأربعة لبرهان الدين إبراهيم بن محمد بن قيم الجوزية رحمهما الله تعالى وهو رسالة صغيرة.
    4- اختيارات شيخ الإسلام ابن الإسلام ابن تيمية لد ىمترجميه جمعها من كُتب تراجم شيخ الإسلام : سامي بن محمد جاد الله.
    ثم بعد ذلك يقرأ ما كتبه الشيخ من المسائل الفقهية في قسم العبادات لوضوحها, وسهولتها, وظهور مسائلها وهذا يشمل :
    1-الجزء الحادي والعشرين, والثاني والعشرين, والثالث والعشرين, والرابع
    والعشرين, والخامس والعشرين, والسدس والعشرين, والسابع والعشرين من «مجموع الفتاو .»
    2-شرض العمدة, ولم يكمل الشيخ بل شرض أبواب العبادات. كتبه الشيخ وهو في متقبل الغمر.
    3-الجزء الأول والثاني من الفتاوی المصرية.
    4-القواعد النورانية بتحقيق الدكتور : أحمد خليل.
    5-المسائل الماردينية مجلد صغير.
    6-مستدرك الشيخ محمد بن قاسم قسم العبادات منه.
    ثم ينتقل بعد ذلك إلى الابواب الفقهية الاخری من أبواب المعاملات والعقود وغيرها ويشمل :
    1- الجزء الثامن والعشرين, والتاسع والعشرين, والثلاثين, والحادي والثلاثين, والثاني والثلاثين, والثالث والثلاثين, والرابع والثلاثين, والخامس والثلاثين, من مجموع الفتاوی .
    2- الجزء الثالث, والرابع والخامس من«الفتاوی المصرية.» -3 مستدرك ابن قاسم قسم المعاملات والعقود وغيرها.
    ثم ينتقل إلى كتابات الشيخ الأخرى وتشمل :
    1- الجزء الثامن عشر من «مجموع الفتاوى » وهو قسم الحديث.
    2- الجزء التاسع عشر من مجموع الفتاوى وكذلك الجزء العشرين وهما في أصول الفقه
    3- المسوّدة لآل تيمية.
    3-اس سلسلہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک رسالہ’’زيارة القبور والاستنجاد بالمقبور‘‘ ہے۔اسی طرح یہ مسئلہ مجموع الفتاوی میں بھی ہے۔دیکھیں(مجموع الفتاویٰ (27/ 26)۔شیخ الاسلام کو اس مسئلہ میں بڑی آزمائشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
    4-مجموع الفتاوی کی 33ویں جلد اسی مسئلہ سے متعلق ہے ۔ جامع المسائل کی پہلی جلد میں طلاق کے مسائل موجو د ہیں ۔
    5- مجموع الفتاوی کی 33ویں جلد طلاق کے ساتھ ساتھ تعلیق الطلاق بالشرط سے متعلق ہے۔صفحہ 137 سے 141 تک ۔اسی طرح شیخ الاسلام کی ایک دوسری کتاب ہے’’كتاب الرد على السبكي في مسألة تعليق الطلاق لابن تيمية‘‘۔
    6-’’مجموعة الرسائل الكبرىٰ‘‘یہ مجموعہ دو جلدوں میں داراحیاء التراث العربی ، بیروت لبنا ن سے مطبوع ہے ،اس مجموعہ میں کل 29 رسالے ہیں ۔ پہلی جلد میں یہ رسائل ہیں :
    1-الفرقان بین الحق و الباطل ۔2-معارج الوصول۔3- التبیا ن فی نزول القرآن۔4-الوصیة الصغری۔ (الوصية في الدين و الدنيا)5- النیة في العبادات ۔6- العرشیہ (تتضمن للسؤال عن العرش هل هو كرى أم لا)۔7- الوصیہةالکبری(الوصية الكبرى بما جاء به الرسول و بيان فضل أمته على سائر الأمم)۔8- الارادہ والامر ۔9- العقیدة الواسطیة ۔10- المناظرة فی العقیدہ الواسطیہة۔11- العقیدة الحمویة الکبری۔12- الاستغاثة۔
    دوسری جلد میں یہ رسائل ہیں ۔
    1- رسالة الاکلیل فی المتشابہ و التاویل ۔2- فی الجواب عن قول القائل اکل الحلال متعذر لایمکن وجودہ فی ھذا الزمان۔3- فی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تشد الرحال الا الی ثلاثہةمساجد – وفی زیارة بیت المقدر۔ 4- مراتب الارادہ ۔5- فی القضاء والقدر ۔6- فی الاحتجاج بالقدر ۔7- فی درجات الیقین ۔8- بیان الھدی من الضلال ۔9- فی سنھة الجمعة۔ 10- تفسیر المعوذتین ۔11- بیان العقود المحرمة ۔ 12-فی معنی
    القیاس ۔ 13- فی حکم السماع و الرقص ۔14- فی الکلام علی الفطرہة۔ 15- فی الکلام علی القصاص ۔16- فی الکلام علی رفع الامام الحنفی یدیہ فی الصلاة۔ 17- فی مناسک الحج.
    7- المنتقى من منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والاعتزال، جو مختصراً المنتقى من منهاج الاعتدال کے نام سے معروف ہے۔امام ذہبی نے اختصار کیا ہے۔حققه و على حواشيه :محب الدين الخطيب ۔
    جاری…….

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings