Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(21)

    ’’بغية المرتاد في الرد على المتفلسفة والقرامطة والباطنية‘‘کاتعارف پیش خدمت ہے:
    شیخ الاسلام کی اس کتاب کاتعلق فن عقیدہ سے ہے ۔
    سبب تالیف : یہ کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسکندریہ کے بعض اہل فضل کی طلب پر تصنیف کیا ہے،اس کتاب کے اندر انہوں نے ابن سبعین ،غزالی وغیرہ کے فلسفیانہ اور دیگر اہل کلام کے باطل عقائدو نظریات پر رد کیاہے ۔
    مکان تالیف : یہ کتاب شیخ الاسلام نے اسکندریہ میں قیام کے دوران ترتیب دیاہے ۔
    زمانۂ تالیف : شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا قیام اسکندریہ میں تقریباً آٹھ مہینے رہا ہے۔
    یعنی ربیع الاول ۷۰۹ھ سے شوال تک ،اس اعتبار سے تاریخ تالیف اس کتاب کا۱؍۳؍ ۷۰۹ھ ۔ ۲؍۱۰؍ ۷۰۹ھ درمیانی حصہ ہے۔
    کتاب کا نام : اس کتاب کے کئی ایک نام ذکر کئے جاتے ہیں جیسے ابن سبعین ، اسکندریہ ،وغیرہ ۔ النبوات میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کانام’’ الرد علی ابن سبعین و اہل الوحدة‘‘[النبوات :82] ذکر کیاہے۔’’الرد علی المنطقیین‘‘میں اس کا نام ابن تیمیہ نےالسبعینیة ذکر کیاہے[275]۔کہیں پر ابن تیمیہ نے’’ الرد علی الاتحادیة‘‘ذکر کیا ہے[مجموع الفتاویٰ10؍402]۔ابن قیم نے اس کتاب کانام’’المسائل الاسکندریۃ‘‘ ذکر کیاہے(نوٹ:أسماء مؤلفات ابن تيميۃ،اصلاً یہ کتاب ابن تیمیہ کے شاگرد ابن رشیق کی ہے ،غلطی سے ابن قیم کی طرف لوگوں نے منسوب کردیا ہے )۔ابن عبد الہادی نے اس کتاب کانام ’’مسائل الاسکندریة فی الرد علی الملاحدة والاتحادیة‘‘بیان کیاہے[العقود الدرية35] صلاح صفدی نےاس کانام’’المسائل الاسکندریة فی الرد علی الاتحادیة و الحلولیة‘‘[الوافي بالوفيات7/26] ذکر کیا ہے ۔ابن شاکر کتبی نے اس کانام’’المسائل الاسکندرانیة فی الرد علی الاتحادیة و الحلولیة‘‘۔[فوات الوفيات 10/79] ذکر کیا ہے۔ابن رجب الحنبلی نے اس کانام’’المسائل الاسکندرانیة‘‘بیان کیاہے۔[الذیل علی طبقات الحنابلة/ 403]
    اسماعیل باشا البغدادی نے اس کانام ’’المسائل الاسکندریہ علی الحلولیہ والاتحادیۃ‘‘[ھدیة العارفین اسماعیل باشا البغدادی 5/106]ذکر کیا ہے ۔
    خلاصۂ گفتگو یہ کہ عمومی طور پر اس کتاب کے تین نام زیادہ معروف ہیں ۔
    1- السبعينية۔2-المسائل الاسكندرانية – أو الاسكندرية-في الرد على الاتحادية والحلولية۔ 3- بغية المرتاد في الرد على المتفلسفة والقرامطة والباطنية۔
    (السبعينية)جہاں تک سبعینیہ نام کا مسئلہ ہے تو چونکہ اس کتاب کے اندر غالی صوفی ابن سبعین کے باطل عقائد پر بھی رد ہے۔اس وجہ سے بعض لوگوں نے رسالہ کی نسبت اسی طرف کردی ہے۔
    جہاں تک دوسرے نام کا تعلق ہے تو وہ سائل کے شہر کی جانب منسوب ہے۔جہاں تک تیسرے نام کا تعلق ہے تو وہ بعض نساخ نے کتاب کے مشمولات کو دیکھ کرکے اسی اعتبار سے موسوم کردیاہے ۔
    کتاب کے نام کے تعلق سے آخری بات یہ کہ اس کتاب کے جتنے مخطوطات دنیا کی مختلف لائبریریوں میں دستیاب ہیں ان تمام میںمذکورہ ناموں سےالگ ایک نام ہے۔یعنی ان تمام نسخوں میں یہی نام ہے ’’‌‌بغية المرتاد في الرد على المتفلسفة والقرامطة والباطنية أهل الالحاد من القائلين ب الحلول الاتحاد‘‘. (دیکھیں :بغية المرتاد بتحقیق د؍موسیٰ الدویش :57)
    کتاب کا موضوع : شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ابن عربی اور ابن سبعین جیسے گمراہ کن عقائد کے حاملین کے ساتھ ساتھ دیگر منطقیانہ اور فلسفیانہ فکر کی روشنی میں کتاب و سنت کو سمجھنے والوں پر رد کیا ہے۔
    فوائد علمیہ :
    (۱) عقل یہ عربی لفظ ہے ، عقل کا معنیٰ منع کرنا، روکنا ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے عقل الدواء البطن :امسکہ۔ عقلت المراءہ شعرہا اذا امسکتہ۔قرآ ن کریم میں اس کے مرادف جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ یہ ہیں ۔ اللب، الحجر، النھی، الحلم، الحجی۔
    (۲) یہ جو حدیث پیش کی جاتی ہے کہ اللہ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا یہ موضوع حدیث ہے ،عقل کی فضلیت میں بہت ساری حدیثیں بیان کی جاتی ہیں لیکن وہ سب صحیح سند سے ثابت نہیں ہیں۔’’ قال أبو حاتم بن حبان ‌البستي: لست أحفظ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم خبرا صحيحا في العقل‘‘۔’’بغية المرتاد في الرد على المتفلسفة والقرامطة والباطنية‘‘ [ص245]امام ابو حاتم ابن حبان کہتے ہیں کہ عقل کی فضیلت سے متعلق میرے علم میں کوئی بھی صحیح حدیث نہیں ہے۔
    ’’قال أبو الفرج بن الجوزي في ذم الھوى وغيره: ’’المنقول عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في فضل العقل كثير إلا أنه بعيد الثبوت‘‘۔بغية المرتاد في الرد على المتفلسفة والقرامطة والباطنية۔ [ص247]
    ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عقل کی فضیلت سے متعلق کئی ایک حدیثیں ہیں لیکن وہ سب صحیح سند سے ثابت نہیں ہیں ۔
    (۳)لفظ عقل حدیث میں بھی وارد ہے ، نیز احادیث میں لفظ عقل تین طرح سےمستعمل ہے ۔ ۱۔عقل دیت کے معنیٰ مستعمل ہے۔ ۲۔ عقل صیغہ فعل کےساتھ وارد ہوا ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے المجنون حتی یعقل ۳۔ عقل صیغۂ مصدرکے ساتھ وارد ہے جیسے حدیث میں ہے :ما رایت من ناقصات عقل و دین۔
    (۴) ایک راوی داؤد بن محبر ہے ان پرمحدثین نے ضعیف کا حکم لگایا ہے۔
    (۵)اس کتاب میں شیخ الاسلام نے جن شخصیات کے باطل عقائد پر کا ری ضرب لگایا ہے اور ان کی حقیقت کو واشگاف کیاہے ،ان میں امام غزالی ، ابن عربی اور ابن سبعین ہیں ۔
    (۶) اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (التوبة:۳۱) اس آیت کی تفسیر اس حدیث نبوی سے ہوتی ہے۔ قدمَ[عديُّ بنُ حاتمٍ]على النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ وهو نصرانيٌّ فسمعه يقرأُ هذه الآيةَ : اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ قال : فقلتُ له : إنَّا لسنا نعبدُهم ، قال : أليسَ يحرمونَ ما أحلَّ اللهُ فتحرِّمونَه ، ويحلُّونَ ما حرَّمَ اللهُ فتحلُّونَه ، قال : قلتُ : بلى ، قال : فتلك عبادتُهم.(سنن ترمذي :3095،حسن). ”عدی بن حاتم نبی ﷺ کے پاس آئے ،آ پ نے انہیں یہ آیت ،’’اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله‘‘ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو معبود بنا لیا ہے“ (التوبہ: ۳۱)، پڑھتے ہوئے سنا۔پھر میں نے کہا کہ ہم ان کی عبادت کہاں کرتے تھے ، آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے۔
    (۷) اللہ رب العالمین نے قرآن کریم میں تقریباً تیس یا اس سے زائد جگہوں پر اطاعت رسول ﷺ کا حکم دیا ہے۔
    (۸) عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:’’يتبع الدجال، من يهود أصبهان، سبعون ألفا. عليهم الطيالسة‘‘۔ ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اصبہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار (یہودی) دجال کی پیروی کریں گے، ان (کے جسموں) پر طینسان کی حبائیں ہوں گی۔ [صحیح مسلم:2944]
    (۹) صحیحین میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ﴿ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ﴾[ الأنعام:82] تو صحابۂ کرام بہت پریشان ہوئے کہ ہم میں سےکون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا ہے ،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے اللہ کے نیک بندے لقمان کی یہ بات نہیں سنی ۔ إن الشرك لظلم عظيم.
    (۱۰) اس کتاب میں جب شیخ الاسلام صاحب الفصوص کہیں تو اس سے مراد ابن عربی ہوا کرتے ہیں ۔ ابن عربی کی ایک کتاب فصول الحکم کے نام سے ہے۔
    تحقیق:
    (۱) بغية المرتاد… بتحقيق د. موسى الدويش.
    نوٹ: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی دیگر کتابوں کی طرح اس پر بہت زیادہ کام نہیں ہوا ہے ،بہت بحث و جستجو کے بعد صرف د؍موسیٰ الدویش کی تحقیق کی تحقیق ملی ہے ۔ آئندہ اگر کچھ ملا تو ضرور شامل کریں گے ان شاء اللہ
    جاری ……

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings