Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • دعائے شب قدر’’اللھم إنك عفو تحب العفو فاعف عني‘‘ کی تحقیق (قسط رابع)

    اتصال وسماع کے دلائل کا ذکر:
    متقدمین نے سماع کا انکار نہیں کیا۔
    متقدمین میں سے کسی بھی امامِ فن نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن بریدہ کے سماع کا انکار نہیں کیا ہے ۔ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ کی طرف انکار کی نسبت درست نہیں ہے ۔ اس کی پوری تفصیل ماقبل میں پیش کی جاچکی ہے ۔
    معاصرت وامکانِ سماع ثابت ہے ۔
    اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اور عبداللہ بن بریدہ کے درمیان معاصرت ثابت ہے ۔
    اور ماقبل میں ہم پوری وضاحت کرچکے ہیں کہ ثبوتِ معاصرت کے بعد سماع سے مانع کوئی چیز نہیں ہے ، بلکہ امکانِ سماع کے شواہد موجود ہیں ۔ لہٰذا ان کے مابین سماع کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    امام مزی رحمہ اللہ نے سماع کا ذکر کیا ہے۔
    امام المقدسي (المتوفی 600ھ) نےکہا ہے:
    عبد الله ‌بن ‌بُرَيدة… سمع: أباه، وعبد الله بن عَبَّاس وأبا هريرة، وعمران بن حُصَين، وأبا موسى الأَشْعريّ،وعبد الله بن مُغَفَّل، والمُغيرة بن شُعْبة، وسَمُرَة بن جُنْدب، ومعاوية بن أبي سفيان،وعائشة رضي الله عنهم.
    ”عبداللہ بن بریدہ … نے اپنے والد ، عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ ،عمران بن حصین ، ابوموسیٰ الاشعری ، عبداللہ بن مغفل ، مغیرہ بن شعبہ ، سمرہ بن جندب ، معاویہ بن ابی سفیان اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے سنا ہے“۔
    [الكمال في أسماء الرجال6/ 122 ]
    محدثین کی تصحیح:
    محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابن بریدہ کی مرویات کو صحیح قرار دیا ہے ، چند حوالے ملاحظہ ہوں:
    امام ترمذي (المتوفی279ھ)رحمہ الله
    امام ترمذی نے اسے روایت کرنے کے بعد کہا:
    هذا حديث حسن صحيح۔ ”یہ حدیث حسن صحیح ہے‘‘۔
    [سنن الترمذي:رقم: 3513]
    حافظ ابن حجر رحمہ الله (المتوفی852ھ) ایک مقام پر فرماتے ہیں:
    وقال:( یعنی الدارقطی) هذه كلھا مراسيل، ابن بريدة لم يسمع من عائشة. قلت: صحح له الترمذي حديثه عن عائشة في القول ليلة القدر، من رواية: جعفر بن سليمان، بھذا الإسناد، ومقتضى ذلك أن يكون سمع منھا، ولم أقف على قول أحد وصفه بالتدليس۔
    ”انہوں(یعنی امام دارقطنی ) نے کہا: یہ سب (روایات) مراسیل ہیں، ابن بریدہ نے عائشہ سے کچھ بھی نہیں سنا۔ میں کہتا ہوں: ترمذی نے اس کے لیے (یعنی عبد اللہ بن بریدہ کے لیے) شب قدر والی حدیث میں عائشہ سے روایت کو صحیح قرار دیا ہے، جو جعفر بن سلیمان کی روایت سے اسی سند کے ساتھ ہے، اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ انہوں نے (اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے) سنا ہوگا۔ اور میں کسی کے قول پر واقف نہیں جس نے اسے (ابن بریدہ کو) تدلیس والا قرار دیا ہو‘‘۔
    [إتحاف المھرة لابن حجر:5 /17]
    امام حاکم (المتوفی405ھ)رحمہ الله
    امام حاکم رحمہ اللہ نے کہا:
    هذا حديث صحيح على شرط الشيخين-
    ”یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے“۔
    [المستدرك للحاكم، ط الھند: 1/ 530]
    فائدہ:
    شیخین کی شرط پر امام حاکم کی مراد عین شیخین کے رجال ہی نہیں بلکہ ان جیسے رجال بھی ہیں دیکھیں:
    [ مقدمة المستدرك للحاكم، ط الھند: 1/ 2]
    امام ابو محمد البغوي (المتوفی516ھ)رحمہ الله:
    آپ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا :
    هذا حديث صحيح۔ ”یہ حدیث صحیح ہے“۔ [مصابيح السنة 2/ 104]
    امام منذري (المتوفی656ھ) رحمہ الله:
    ”آپ نے امام ترمذی اور امام حاکم کی تصحیح کا اقرار کیا ہے“۔ [الترغيب والترهيب للمنذري: 4/ 138]
    نیز دیکھیں:[سلسلة الأحاديث الصحيحة 7/ 1009]
    امام نووي(المتوفی676ھ) رحمہ الله:
    آپ نے امام ترمذی اور امام حاکم کی تصحیح کا اقرار کیا ہے۔ [الأذكار للنووي:ص:191 ]
    نیز دیکھیں:[سلسلة الأحاديث الصحيحة: 7/ 1009]
    امام ابن دقيق العيد (المتوفی702ھ) رحمہ اللہ:
    آپ نے امام ترمذی اور امام حاکم کی تصحیح کا اقرار کیا ہے۔ [الإلمام بأحاديث الأحكام: 1/ 364]
    امام ابن عبد الہادي(المتوفی744ھ) رحمہ الله :
    آپ نے امام ترمذی اور امام حاکم کی تصحیح کا اقرار کیا ہے۔ [المحرر في الحديث:ص: 382]
    امام ذہبی (المتوفی748ھ)رحمہ الله:
    آپ نے امام حاکم کی تصحیح پر موافقت کی ہے۔ [المستدرك للحاكم مع تعليق الذهبي: 1/ 712]
    امام ابن القيم (المتوفی751ھ)رحمہ الله:
    آپ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا :حديث صحيح۔ ”یہ حدیث صحیح ہے“۔ [إعلام الموقعين ت مشھور: 6/ 320]
    حافظ ابن حجر(المتوفی852ھ) رحمہ الله:
    آپ نے امام ترمذی وحاکم کی تصحیح کو بلا تعاقب نقل فرمایا ہے۔ [بلوغ المرام من أدلة الأحكام:1/ 129]
    نیز ایک دوسرے مقام پر امام ترمذی کی تصحیح سے سماع پر استدلال بھی کیا ہے۔ دیکھیں [إتحاف المھرة لابن حجر:5 /17]
    تنبیہ:
    ابن علان(المتوفی 1057ھ) جیسے بدعقیدہ شخص نے ایک مقام پراس روایت سے متعلق خود کا نقد پیش کیا ہے [الفتوحات 4/ 346]
    بعض لوگ بغیر کسی دلیل اور مضبوط سیاق کے اس بدعقیدہ شخص کے کلام کو ابن حجر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جو سراسر باطل ہے اور ابن حجر رحمہ اللہ کی اپنی کتابوں میں موجود تصریحات کے بھی خلاف ہے۔
    جاری…….

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings