Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • نماز جنازہ میں اعلان کی شرعی حیثیت (آخری قسط)

    نماز جنازہ میں اعلان کرنے کے متعلق علماء کرام کے اقوال:
    اماابو عمر یوسف بن عبد اللہ النمری (معروف ابن عبد البر۔ المتوفی:463 ھـ) فرماتے ہیں کہ :
    ’’وكان أبو هريرة رضي الله عنه يمر بالمجالس ، فيقول : إن أخاكم قد مات فاشهدوا جنازته‘‘۔
    ترجمہ:حضرت ابوہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجالس ميں بیٹھتے اورکہتے کہ تمہارا بھائی فوت ہو گيا ہے اس کے جنازہ میں شرکت کرو “۔
    [الاستذكار: 3 / 26 ]
    ا مام علاء الدین ابی بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587 ھـ) فرماتے ہیں کہ :
    ’’وَلَا بَأْسَ بِإِعْلَامِ النَّاسِ بِمَوْتِهِ مِنْ أَقْرِبَائِهِ وَأَصْدِقَائِهِ وَجِيرَانِهِ لِيُؤَدُّوا حَقَّهُ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، وَالدُّعَاءِ وَالتَّشْيِيعِ، وَلِأَنَّ فِي الْإِعْلَامِ تَحْرِيضًا عَلَى الطَّاعَةِ، وَحَثًّا عَلَى الِاسْتِعْدَادِ لَهَا، فَيَكُونُ مِنْ بَابِ الْإِعَانَةِ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى، وَالتَّسَبُّبِ إلَى الْخَيْرِ ، وَالدَّلَالَةِ عَلَيْهِ‘‘۔
    ترجمہ: ”میت کی وفات کی خبر میت کے اقربا، دوستوںاور پڑوسیوں کو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، مقصد یہ ہو کہ میت کا جنازہ ادا کریں، میت کے لیے دعا میں شامل ہوں اور تدفین کے لیے قبرستان تک جائیں۔ وفات کی اطلاع دینے سے ایک نیکی کے کام کی رغبت بھی ملے گی، اور لوگ اس کے لیے تیار بھی ہوں گے، تو اس طرح ایسی اطلاع نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں اعانت، خیر کے لیے ذریعہ ، اور اچھے کام کےلیے رہنمائی کا باعث ہو گی“۔
    [بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع للکاسانی : 1 / 299]
    شیخ ابو سعيد عبد الملک بن قريب الاصمَعِي المتوفی: 215 ھـ) فرماتے ہیں کہ :
    ’’ كَانَتْ الْعَرَبُ إِذَا مَاتَ فِيهَا مَيِّتٌ لَهُ قَدْرٌ رَكِبَ رَاكِبٌ فَرَسًا وَجَعَلَ يَسِيرُ فِي النَّاسِ وَيَقُولُ: نَعَاءِ فُلانٍ أَيْ أَنْعِيهِ وَأُظْهِرُ خَبَرَ وَفَاتِهِ، وَإِنَّمَا قَالُوا هَذَا لأَنَّهُ قَدْ ثَبَتَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ، وَأَيْضًا قَدْ ثَبَتَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ بِمَوْتِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ حِينَ قُتِلُوا بِمُؤْتَةَ. وَأَيْضًا قَدْ ثَبَتَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ أُخْبِرَ بِمَوْتِ السَّوْدَاءِ أَوْ الشَّابِّ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ: أَلا آذَنْتُمُونِي. فَهَذَا كُلُّهُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ مُجَرَّدَ الإِعْلامِ بِالْمَوْتِ لا يَكُونُ نَعْيًا مُحَرَّمًا وَإِنْ كَانَ بِاعْتِبَارِ اللُّغَةِ يَصْدُقُ عَلَيْهِ اِسْمُ النَّعْيِ، وَلِذَلِكَ قَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِنَّ الْمُرَادَ بِالنَّعْيِ فِي قَوْلِهِ: (يَنْهَى عَنْ النَّعْيِ) النَّعْيُ الَّذِي كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ جَمْعًا بَيْنَ الأَحَادِيثِ‘‘۔
    ترجمہ: ”جب عرب میں کوئی صاحبِ مرتبہ اور شرف آدمی فوت ہو جاتا تو گھڑ سوار شخص گھوڑے پر سوار ہوکر لوگوں میں چلتا اورکہتا رہتا: فلاں شخص کی موت کا اعلان، یعنی میں اس کی موت کی خبرکا اعلان اور اس کی وفات کو ظاہرکرتا ہوں۔ انہوں نے یہ اس لیےکہا ہےکہ نبی کریم ﷺسے ثابت ہے کہ انہوں نے نجاشی کی موت کا اعلان کيا، اور يہ بھی ثابت ہےکہ نبی کریم ﷺ نے زیدبن حارثہ،جعفر بن ابو طالب اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شہادت کی خبر دی جب وہ ميدانِ جنگ میں شہید ہوئے تھے ۔
    اور جب سیاہ عورت یا نوجوان جو مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا اس کی موت کا علم ہونے پر بھی نبی کریمﷺ نے فرمايا تھا: تم نے مجھے کیوں نہ بتایا ۔ تو یہ سب کچھ اس بات پر دلالت کرتاہے کہ صرف فوتگی کا اعلان کرنے میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی یہ حرام ہے، اگرچہ لغوی لحاظ سے اس پر نعی کا اطلاق ہوتا ہے، اور ان احادیث کوجمع کرنے کے لیے اہل علم کاکہنا ہے کہ اس قول میں ( وہ نعی سے منع کیا کرتے تھے ) نعی سے مراد وہ نعی اور فوتگی کا اعلان ہے جو دور جاہلیت میں معروف تھا “۔
    [تحفة الأحوذي : 4 / 51]
    امام موفق الدين ابن قدامہ المقدسی (المتوفی : 620 ھـ) فرماتے ہیں کہ :
    ’’ويكره النعي ، وهو أن يبعث مناديا ينادي في الناس: إن فلانا قد مات. ليشهدوا جنازته۔۔۔ وقال كثير من أهل العلم: لا بأس أن يعلم بالرجل إخوانه ومعارفه وذوو الفضل، من غير نداء. قال إبراهيم النخعي: لا بأس إذا مات الرجل أن يؤذن صديقه وأصحابه، وإنما كانوا يكرهون أن يطاف في المجالس: أنعي فلانا. كفعل الجاهلية‘‘. انتهى.
    ترجمہ: ” اور نعی مکروہ ہے، وہ اس طرح کہ لوگوں میں منادی کرنےوالا شخص بھیجا جائے کہ فلاں شخص فوت ہو گيا ہے، تاکہ اس کے جنازہ میں لوگ شریک ہو سکیں، اور بہت سے اہلِ علم کا کہنا ہے کہ : اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص اپنے دوست واحباب اور جاننے والوں کو بغیر بلند آوازکیے فوتگی کی اطلاع کرے“۔
    حضرت ابراہيم نخعی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں : ”جب کوئی شخص فوت ہو جائے تواس کے دوست و احباب کو اطلاع دینے ميں کوئی حرج نہیں، بلکہ وہ تو اہل ِجاہلیت کی طرح مجلسوں ميں گھوم پھرکر اطلاع دینےکو ناپسند کرتے تھے کہ میں فلاں شخص کی موت کی اطلاع دیتا ہوں “۔
    امام ابن العربی(المتوفی : 638 ھـ) فرماتے ہیں کہ :
    ’’يُؤْخَذُ مِنْ مَجْمُوعِ الأَحَادِيثِ ثَلاثُ حَالاتٍ: الأُولَى إِعْلامُ الأَهْلِ وَالأَصْحَابِ وَأَهْلِ الصَّلاحِ فَھٰذَا سُنَّةٌ، الثَّانِيَةُ: دَعْوَةُ الْحَفْلِ لِلْمُفَاخَرَةِ فَھٰذِهِ تُكْرَهُ، الثَّالِثَةُ: الإِعْلامُ بِنَوْعٍ آخَرَ كَالنِّيَاحَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ فَهَذَا يُحَرَّمُ‘‘. انتهى .
    ترجمہ: ”احادیث کے مجموعے سے تین حالتیں اخذ کی سکتی ہیں:
    پہلی حالت : اہل و عیال ، دوست واحباب ، اہلِ علم اور اصلاح پسند لوگوںکو وفات کی اطلاع دینا تو یہ سنت ہے ۔
    دوسری حالت : فخر (تکبر وریا) کے لیے اجتماع بلانا اور لوگوںکو جمع کرنا تو یہ مکروہ ہے ۔
    تیسری حالت : کسی اور نوع سے اعلان کرنا، جس میں نوحہ یا اس کے مثل کوئی کام ہو تو یہ حرام ہے ۔
    [فتح الباري شرح صحيح البخاري : 3 / 140 ح : 1188 ، وتحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: 4 / 52 ، عارضة الأحوذي : 4 / 206][وفتح الباری شرح صحیح البخاری : 4 / 102ح : 1245 و 1246]
    امام یحییٰ بن شرف النووی(المتوفی : 676 ھـ) فرماتے ہیں کہ :
    و’’الصحيح الذي تقتضيه الأحاديث التي ذكرناها وغيرها أن الإعلام بموته لمن لم يعلم ليس بمكروه , بل إن قصد به الإخبار لكثرة المصلين فهو مستحب وإنما يكره ذكر المآثر والمفاخر والتطواف بين الناس بذكره بهذه الأشياء، وهذا نعي الجاهلية المنهي عنه،فقد صحت الأحاديث بالإعلام فلا يجوز إلغاؤها وبهذا الجواب أجاب بعض أئمة الفقه والحديث المحققين‘‘. انتهى
    ترجمہ: ” اور احادیث جس کا تقاضا کرتی ہیں اس میں صحیح وہی ہے جو ہم نے ذکرکیا ہے،کہ جسے علم نہ ہو اسے معلوم کروانے کے لیے فوتگی کا ا اعلان کرنا مکروہ نہیں، بلکہ اس کا مقصد جنازہ میں زیادہ لوگوں کو شریک کرنا ہے، اور یہ مستحب ہے ۔ بلکہ مکروہ تو یہ ہے کہ میت کے محاسن اور صفات فخریہ طور پر بیان کیے جائیں اور لوگوںکے درمیان ان اشیاء کوذکر کرتے ہوئے گھوما جائے، اور یہی وہ نعی ہے جس سے منع کیا گیا ہے جو کہ دورِ جاہلیت کی نعی اور فوتگی کےاعلان میں شامل ہوتی ہے ۔ احاديث صحیحہ سے فوتگی کااعلان ثابت ہے، اس لیے اسے ختم کرنا جائز نہیں، بعض ائمہ اورمحققين نے یہی جواب دیا ہے“۔
    [المجموع : 5 / 174]
    حافظ ابن حجر العسقلانی(شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن محمد الکنانی العسقلانی- المتوفی : 852ھـ) فرماتے ہیں کہ :
    ’’النَّعْي لَيْسَ مَمْنُوعًا كُلّه , وَإِنَّمَا نُهِيَ عَمَّا كَانَ أَهْل الْجَاهِلِيَّة يَصْنَعُونَهُ فَكَانُوا يُرْسِلُونَ مَنْ يُعْلِن بِخَبَرِ مَوْت الْمَيِّت عَلَى أَبْوَاب الدُّور وَالأَسْوَاق‘‘.
    ترجمہ: ”ہر قسم کی نعی اور وفات کا اعلان ممنوع نہیں ہے، بلکہ وہ نعی اور اعلان ممنوع ہے جو اہلِ جاہلیت کرتے تھے، کہ وہ کسی اعلان کرنے والے کو بھیجتے تھے جو لوگوں کے گھروں کے دروازوں اور بازاروں میں جا کر وفات کا اعلان کرتاتھا“۔
    [فتح الباری شرح صحیح البخاری : 4 / 102ح : 1245 و 1246]
    امام محمد بن عبد الہادي السندي (المتوفی : 1138ھـ) حاشیہ سنن ابن ماجہ میں فرماتے ہیں کہ :
    ’’ كَانَ أَهْل الْجَاهِلِيَّة يُشْهِرُونَ الْمَوْت بِهَيْئَةِ كَرِيهَة، فَالنَّهْي مَحْمُول عَلَيْهِ، وَخَافَ حُذَيْفَة أَنْ يَكُون الْمُرَاد إِطْلاق النَّهْي، فَمَا سمِحَ بِهِ، فَهُوَ مِنْ بَاب الْوَرَع، وَإِلا فَخَبَر الْمَوْت سِيَّمَا إِذَا كَانَ لِمَصْلَحَةٍ كَتَكْثِيرِ الْجَمَاعَة جَائِز‘‘.
    ترجمہ: ” اہلِ جاہلیت فوتگی کا اعلان بڑے برے اور غلط طريقہ سے کیاکرتے تھے، لہٰذا یہ نہی بھی اسی پر محمول ہے، اور حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خدشہ لاحق ہوا کہ کہیںمطلقاً نہی نہ ہو، اس لیے انہوں نے اس کی اجازت نہ دی، جو کہ ورع اورتقویٰ میں سے ہے، وگرنہ موت کی خبر دینے میں جب کوئی مصلحت ہو مثلاً خاص کر نماز جنازہ میں لوگوں کی تعداد زیادہ کرنےکے لیے تو پھر جائز ہے“۔
    [سنن ابن ماجۃ بشرح السندي : 2 / 208]
    وقد سئل الشيخ أبو عبد الله عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفی: 1420ھـ)عن الإعلان في الصحف عن الأموات؟فقال:’’ لا نعلم فيه شيئًا، من باب الخبر‘‘.
    ترجمہ: ”شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ سے اخبار میں اعلانِ فوتگی دینے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : ”ہمیں اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، اس کا تعلق لوگوں کو خبر دینے سے ہے“۔
    [مسائل الامام ابن باز لابن مانع :ص: 108]
    شیخ محمد بن صالح العثیمین (المتوفی:1421 ھـ)فرماتے ہیں کہ :
    ’’وأما الإعلان عن موت الميت : فإن كان لمصلحة مثل أن يكون الميت واسع المعاملة مع الناس بين أخذ وإعطاء، وأعلن موته لعل أحداً يكون له حق عليه فيقضى أو نحو ذلك : فلا بأس‘‘۔انتهى.
    ترجمہ: ” میت کی وفات کے اعلان سے متعلق یہ ہے کہ: اگر اعلان کا کوئی مقصد اور مصلحت ہو ، مثلاً: میت کا بہت سے لوگوں کے ساتھ لین دین ہو اور وفات کا اعلان کرنے سے لوگوں کو اطلاع دینا بھی مقصود ہو جس کا میت سے لین دین ہے وہ میت کے ورثا ءسے اپنا تصفیہ کروا لے، یا کوئی اور مثبت مقصد ہو تو اعلان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے “۔
    [مجموع فتاوىٰ ورسائل العثيمين : 17 / 461 ]
    شيخ عبد الله بن عبد الرحمٰن الجبرين (المتوفی: 1430ھـ)فرماتے ہیں کہ :
    ’’لا بأس بنشر الخبر عن وفاة بعض الأشخاص المشهورين بالخير والصلاح ، ليحصل الترحم عليهم والدعاء لهم من المسلمين ، ولكن لا يجوز مدحهم بما ليس فيهم ، فإنَّ ذلك كذب صريح‘‘.
    ترجمہ: ”خیر و بھلائی میں مشہور و معروف افراد کی وفات کی خبر نشر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، مقصد یہ ہو کہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ رحمت کی دعا کی جائے، اور مسلمان ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کریں، تاہم اعلان کرتے ہوئے ان کی ایسے مدح سرائی نہ کی جائے جو ان میں تھی ہی نہیں، کیونکہ یہ صاف جھوٹ ہوگا“۔
    [فتاوىٰ إسلامية لأصحاب الفضيلة العلماء عبد العزيز بن باز، محمد بن صالح العثيمين، عبد الله بن عبد الرحمن بن جبرين : 2 / 106]
    دائمی فتویٰ کمیٹی کے علماء کرام فرماتے ہیں کہ :
    ’’یجوز دعاء أقارب الميت وأصحابه وجيرانه إذا توفي من أجل أن يصلوا عليه، ويدعوا له، ويتبعوا جنازته، ويساعدوا على دفنه، لأن النبي صلى الله عليه وسلم أخبر أصحابه لما توفي النجاشي رحمه الله بموته ليصلوا عليه‘‘ انتهى.
    ترجمہ: ”جب کوئی شخص فوت ہو جائے تو میت کے اقربا اور پڑوسیوں کو نماز جنازہ اور اس کے لیے دعاکرنے، اور اس کے جنازہ میں شريک ہونےکے لیے بلانا اور اعلان کرنا جائز ہے، تاکہ وہ اسے دفن کرنے میں ممد و معاون بنیں ،کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو نجاشی رحمہ اللہ کے فوت ہونے پر خبر دی تاکہ وہ اس کی نمازجنازہ پڑھیں‘‘۔
    [فتاوىٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء : 8 / 402]
    جدید ٹیکنالوجی اور آلات کے ذریعہ سے موت کی خبر دینا جائز ہے:
    جدید ٹیکنالوجی اورآلات کے ذریعہ سے موت کی خبر دینے کے لئے مائیکروفون، فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹس وغیرہ پر ، یا ایمیل کے ذریعے یا موبائل پیغامات کے ذریعے میت کی فوتگی کا اعلان کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس اعلان کا مقصد یہ ہو کہ لوگ جنازے میں شرکت کریں، یا میت کے لئے دعا اور بخشش طلب کریں، یا سوگواران سے تعزیت کریں، کیونکہ یہ اعلان ان تمام اچھے کاموں کا ذریعہ بنے گا۔
    خلاصۂ کلام: وفات پانے والے مسلمان شخص کا مسجد کے لاؤڈاسپیکر جدید ٹیکنالوجی اور آلات کے ذریعہ سے موت کی خبر دینے کے لیے مائیکروفون، فیس بک(Facebook)، ٹویٹر(Twitter)، انسٹاگرام (Instagram)، ٹک ٹاک(TikTok)، ایمو(imo)اور واٹس ایپ(WhatsApp) گروپس جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹس وغیرہ پر ، یا ایمیل کے ذریعے یا موبائل پیغامات کے ذریعے میت کی وفات کی خبر ، اطلاع اور اعلان کرنا جائز ہے۔ کیونکہ مذکورہ بالا تمام سماجی رابطے سے اعلان کرنے کا مقصد میت کے جنازہ اور اس کی تجہیز وتکفین کی خبر دینا ہوتا ہے اور یہ درست ہے ۔ کیونکہ نعی کی یہ آخری قسم سنت کے دلائل سے ثابت ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر دی، اور اسی طرح جنگ موتہ کے شہدا ءاور دیگر لوگوں کی وفات کی اطلاع دی۔ جیساکہ صحیحین کی روايت میں ہے کہ : ”ہمیں رسول کریم ﷺ نے حبشہ والے نجاشی کی موت کی خبراسی دن دی جس دن وہ فوت ہوا۔“۔
    [رواه البخاري في صحيحه : 1328و 3880 ، ومسلم في صحيحه : 951]
    اور اسی طرح حضرت ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سياہ مرد یا عورت مسجد کی صفائی کیاکر تا تھا تو وہ فوت ہوگیا، نبی کریم ﷺ نے اس کے متعلق دريافت کیا تو صحابہ کہنے لگے: وہ فوت ہو گيا ہے، تو رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمايا: ”تم نے اس کے متعلق مجھے کیوں نہ بتايا؟! مجھے اس کی قبر بتاؤ یا فرمایا: اس عورت کی قبر کو بتاؤ، تو رسول کریم ﷺ کو اس کی قبر بتایا گیا تو آپ ﷺ نے قبر پر نماز جنازہ پڑھی“۔
    [رواه البخاري في صحيحه : 458 ، ومسلم فی صحيحه : 956]
    اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی موت کی خبر اس وقت دی جب کہ ان کی مو ت کی خبرپہنچی نہ تھی۔
    [رواه البخاري في صحيحه : 4272] مذکورہ بالا تینوں احادیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو موت کی خبر دینا سنت ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو زید، جعفر، اور ابن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی موت کی خبر اس وقت دی جب کہ ان کی مو ت کی خبرپہنچی نہ تھی۔ جیساکہ حدیث موجود ہے ۔ اور اسی طرح سے نماز جنازہ کے علاوہ کسی اور مصلحت کے لیے فوت شدہ شخص کے لیے اعلان کرنا جائز ہے ۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو دین کے صحیح مسائل سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings