-
طلاق سے متعلق عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا سیاسی وتعزیری فیصلہ جب یہ کہاجاتا ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےتعزیر اور سزا کےلیے تین طلاق کو نافذ کیا تھا ، تو بعض لوگ یہ جذباتی اعتراض کرتے ہیں کہ جب ایک چیز شرعاً جائز تھی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ اس جواز کو حرمت میں تبدیل کرنے والے کون ہوتے ہیں ، کیا انہیں تحلیلِ حرام کا منصب مل گیا تھا ؟
جواباً عرض ہے کہ:
اولاً:
تعزیز اور سزا کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ کسی آدمی کو سزا دیتے ہوئے اسے کچھ جائز چیزوں اور نعمتوں سے محروم کردیا جائے۔
مثلاً ایک شخص کا اپنے گھر میں اپنے بال بچوں کے ساتھ رہنا جائز امر ہے ، لیکن وہ کوئی جرم کر دے جس کے سبب اسے اس کے گھر اور بال بچوں سے دور کرکے جیل میں بند کردیا جائے ، تو اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس کا اپنے گھر اور بال بچوں کے ساتھ رہنا جائز تھا پھر اسے اس پر حرام کیوں کردیا گیا ؟
اسی طرح کسی شخص کو بطور سزا جلا وطن کردیا جائے تو اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا اپنے وطن میں رہنا جائز تھا ، پھر اسے اس پر حرام کیوں کردیا گیا تھا ، کیونکہ سزا کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ کسی کو ایسی چیزوں اور سہولتوں سے محروم کردیا جائے جو اس کے لیے جائز تھیں۔
ثانیاً:
یہ طلاق کا واحد معاملہ نہیں ہے جس میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تعزیر و سزا کے لیے جائز چیز پر بھی پابند ی لگائی بلکہ اور بھی کئی معاملات میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطور سزا حلال و جائز چیز پر پابندی لگائی مثلاً ایک عورت نے اپنے غلام کے ساتھ نکاح کرلیا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ اب تم زندگی میں کسی بھی دوسرے مرد سے شادی نہیں کرسکتی ہو ، چنانچہ:
امام عبد الرزاق رحمہ الله (المتوفی211ھ) نے کہا:
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: ’’جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَنَحْنُ بِالْجَابِيَةِ، نَكَحَتْ عَبْدَهَا فَانْتَھَرَهَا، وَهَمَّ أَنْ يَرْجُمَهَا، وَقَالَ: لَا يَحِلُّ لَكِ مُسْلِمٌ بَعْدَهُ“۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :ہم جابیہ کے مقا م پر تھے تو ایک عورت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی جس نے اپنے غلام کے ساتھ نکاح کرلیا تھا ، تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا اور اسے رجم کرنے کا ارادہ کیا ، لیکن پھر یہ کہا کہ اس کے بعد کوئی بھی مسلمان تمہارے لیے حلال نہیں ، (یعنی اب تم کسی اور سے بھی شادی نہیں کرسکتی )“۔
[مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 7/ 209 رقم 12817 وإسناده صحيح وصححه ابن حزم في المحلي 9/ 72]
غور کریں کہ اس واقعہ کے بعد بھی اس عورت کے لیے جائز تھا کہ وہ کسی بھی دوسرے آزاد مرد سے شادی کرتی ، لیکن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطور سزا اس کے لئے کسی بھی مسلم مرد سے شادی کرنے کو حرام کردیا ۔
ظاہرہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایسا بطور سزا و تعزیر کیا ہے ، اس لیے یہ قطعاً نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے ایک حلال چیز کو حرام کردیا ۔
ثالثاً:
عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صرف حرام طلاق دینے پر نہیں بلکہ بغیر طلاق دینے پر بھی میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی ہے ۔ دیکھئے:[تفسير الطبري، ت شاكر: 4/ 367، وقال ابن كثير: وهذا إسناد صحيح، انظر: تفسير ابن كثير / دار طيبة 1/ 583، وانظر أيضا:مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 7/ 177]
عبدالرحمان الصابونی لکھتے ہیں:
”وقد فرق عمر بين كل من طلحة وحذيفة وزوجتيهما الكتابيتين وقال: لا أحرمه ولكن أخشي الاعراض عن الزواج بالمسلمات،فزواج المسلم بالكتابية مباح علي ما ذهب إليه جمھور المسلمين ومع هذا فقد رأي عمر أن من المصلحة منع مثل هذه الزيجات بل وفسخھا إن حصلت. فإذا كان من يملك حق التفريق دون طلاق بين الزوجين ، ألا يملك التفريق بعد طلاق محرم فيجعله ثلاث؟“
”عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما میں سے ہرایک کو ان کی اہل کتاب بیوی سے الگ کردیا اور کہا: میں اسے حرام نہیں کہتا لیکن اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں لوگ مسلم عورتوں سے شادی کرنے سے اعراض نہ کرنے لگیں ، تو اہل کتاب عورت سے شادی کرنا جائز ہے جیساکہ جمہور کا موقف ہے ، اس کے باوجود بھی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مصلحت اس بات میں دیکھی کہ اس طرح کی شادیوں پر روک لگادیں ، بلکہ اگر کہیں ایسی شادی کرلی گئی ہے تو اسے فسخ کردیں ، تو جس شخصیت کو اس بات کا حق حاصل تھا کہ وہ بغیر طلاق کے میاں بیوی کو الگ کردے ، اسے اس بات کا حق کیوں نہیں ہوسکتا کہ وہ حرام طلاق دینے کے بعد ایسے میاں بیوی کو الگ کردے“ ۔
[مدى حرية الزوجين في الطلاق:ج1ص253]
رابعاً:
حنفی علماء نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےتعزیر وسزا کے طور پر ہی تین طلاق کو نافذ کردیا تھا چنانچہ:
شمس الدین محمد الخراسانی القھستانی الحنفی رحمہ اللہ (962ھ) فرماتے ہیں:
”وَاعْلَمْ أَنَّ فِي صَدْرِ الْأَوَّلِ إِذَا أَرْسَلَ الثَّلَاثَ جُمْلَةً لَمْ يُحْكَمْ إِلَّا بِوُقُوعِ وَاحِدَةٍ إِلَى زَمَنِ عُمَرَ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ –، ثُمَّ حَكَمَ بِوُقُوعِ الثَّلَاثِ سِيَاسَةً لِكَثْرَتِهِ بَيْنَ النَّاسِ“۔
”اور جان لیں کہ صدر اول میں جب ایک ہی جملے میں تین طلاق دی جاتی تھی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک ایک ہی شمار کی جاتی تھی ، پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیاسی فرمان کے تحت تین کے وقوع کا فیصلہ کردیا کیونکہ لوگ بکثرت ایسا کرنے لگے تھے“ ۔
[جامع الرموز ص 277 مطبوعہ کلکتہ]
عبد الرحمٰن بن محمد بن سليمان الحنفی (المتوفی 1078ھ) نے بھی لکھا ہے:
”واعلم أن في صدر الأول إذا أرسل الثلاث جملة لم يحكم إلا بوقوع واحدة إلى زمن عمر – رضي الله تعالى عنه -، ثم حكم بوقوع الثلاث لكثرته بين الناس تھديدا“۔
”اور جان لیں کہ صدر اول میں جب ایک ہی جملے میں تین طلاق دی جاتی تھی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک ایک ہی شمار کی جاتی تھی ، پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطور سزا تین کے وقوع کا فیصلہ کردیا کیونکہ لوگ بکثرت ایسا کرنے لگے تھے“۔
[مجمع الأنھر في شرح ملتقى الأبحر 1/ 382]
علامہ محمدبن علی المعروف بالعلاء الحصکفی الحنفی (المتوفی 1088ھ) نے بھی یہی بات کہی ہے ۔
[ الدر المنتقى المطبوع مع مجمع الأنھر 1/ 382]
یہی بات احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی رحمہ اللہ (المتوفی1231) نے بھی لکھی ہے ، دیکھئے: [حاشية الطحطاوى على الدر المختار: ج 2 ص 105جدید نسخہ ج 4ص 363]
حافظ محمد قاسم دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:
”لیکن جب دور عمر میں طلاقوں کی کثرت ہوئی تو ان کو تین شمار کرنے کی اجازت دے دی گئی ، فاروق اعظم نے یہ بات یوں ہی نہیں کہی ، بلکہ جب طلاقوں کا رواج کثرت سے ہوگیا تو آپ نے کبارصحابہ سے مشورہ لیا اور شوہروں کے کان گرم کرنے کی مصلحت سے تین طلاق شمار کرنے کی اجازت عام فرمادی“۔
[حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ ص 156 بحوالہ تحفہ احناف :ص223]
سید سلمان ندوی صاحب نے بھی اپنی مختلف ویڈیوز میں یہی بات کہی ہے ۔
بریلوی مکتب فکر کے عالم مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی صاحب فرماتے ہیں:
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ ملاحظہ فرمایا کہ لوگ طلاق ثلاث کی حرمت کا جانتے ہوئے اب اس کے عادی ہوتے چلے جارہے ہیں ، تو آپ کی سیاست ِحکیمانہ نے ان کو اس امر حرام سے باز رکھنے کے لیے بطور سزا حرمت کا حکم صادر فرمایا ، اور خلیفہ وقت کو اجازت ہے کہ جس وقت وہ دیکھے کہ لوگ اللہ کی دی ہوئی سہولتوں اور رخصتوں کی قدر نہیں کررہے اور ان سے استفادہ کرنے سے رک گئے ہیں ، اور اپنے لئے عسرت وشدت پیدا کررہے ہیں ، تو بطور سزا انہیں ان رخصتوں اور سہولتوں سے محروم کرنے کے بعد وہ اس سے باز آجائیں ۔
حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے یہ حکم نافذ کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ حضور نبی کریم ﷺ یوں ارشاد گرامی ہے بلکہ فرمایا: فلو أمضيناه عليھم (کاش ہم اس کو ان پر جاری کردیں) ، ان الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آپ کی رائے تھی اور امت کو اس فعل حرام سے باز رکھنے کے لیے یہ تعزیری قدم اٹھایاگیا تھا“ ۔
( دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات ص241 تا 242 )
معلوم ہوا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بطور سزا تین طلاق کو نافذ کردینا یہ حلال کو حرام بنانا نہیں ہے کیونکہ سزا کا مطلب ہی یہی ہوتا کہ آدمی کو کچھ جائز چیزوں اور سہولتوں سے محروم کردیا جائے۔
کسی خلیفہ یا حاکم کی جاری کردہ تعزیر وسزا دائمی نہیں ہوتی :
کوئی بھی خلیفہ یاحاکم اپنے زمانے اور اپنے وقت کے لحاظ سے کوئی سزا یا تعزیر جاری کرتا ہے ، ایسی سزا وتعزیر قیامت تک کے لیے نہیں ہوسکتی ہے بلکہ زمانے ،حالات اور مصلحت کے بدلنے سے ان سزاؤں میں بھی بدلاؤ لایا جاتا ہے ۔
اور حیرت کی بات ہے کہ احناف طلاق کے مسئلہ میں ایک صحابی کی طرف سے جاری کردہ تعزیر کو دائمی ماننے پر مصر ہیں ، جبکہ دوسری طرف نبی ﷺ کی جانب سے جاری کردہ تعزیر کو ختم کرنے میں ذرا بھی پس وپیش نہیں کرتے جبکہ نبی ﷺ کی جانب سے طے کی گئی سزا دائمی ہوتی ہے کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی کی بنیاد پر ہوتی ہے اور اللہ رب العالمین ہر زمانے اور ہر دور کے حالات و مصلحت سے آگاہ ہے ۔
چنانچہ نبی ﷺ نے غیر شادہ شدہ زانی کے لیے سو کوڑے کے ساتھ ساتھ ایک سال جلاوطنی کی سزا مقرر کی ہے ، لیکن احناف نے نبی ﷺ کی طرف سے جاری کردہ اس سزا کو یہ کہہ کر ساقط کردیا کہ اب اس سزا میں فائدے کے بجائے نقصان ہے ۔
اسی کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی صاحب فرماتے ہیں:
”غیر شادی شدہ زانی کی حد کا ذکر تو قرآن حکیم میں موجود ہے کہ اسے سو (100) درے لگائے جائیں ، لیکن حدیث میں ہے مائة جلدة وتغريب عام (بخاری رقم 2649) یعی سو درے لگائیں جائیں اور ایک سال جلاوطن کردیا جائے ، جب چند آدمیوں کو جلا وطن کیا گیا تو وہ کفار کی صحبت سے متاثر ہوکر مرتد ہوگئے ، اور علمائے احناف نے یہ کہہ کر جلاوطنی کی سزا کو ساقط کردیا کہ یہ تعزیر ہے اور اب اس سے بجائے اصلاح کے ارتداد کا دروازہ کھل گیا ہے ، اس لیے اب یہ تعزیر ساقط کرنی ضروی ہے ، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی اس (طلاق ثلاث والی) تعزیر کو آج باقی رکھنے سے جو مفاسد اسلامی معاشرے میں رونما ہورہے ہیں ، کون سی آنکھ ہے جو اشکبار نہیں اور کون سا دل ہے جو درد مند نہیں“ ۔
( دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات ص242 )
قارئین ملاحظہ فرمائیں یہ ایک حنفی بریلوی عالم ہی کی بات ہے کہ اگر احناف نبی ﷺ کی تعزیر کو ساقط کرسکتے ہیں تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تعزیر کو ساقط کیوں نہیں کرسکتے ؟
تین طلاق دینے پر کوڑوں کی سزا
یہ بھی واضح رہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ ایسی طلاق دینے والوں کو کوڑے بھی مارتے تھے ۔چنانچہ:
چ امام عبد الرزاق رحمہ الله (المتوفی211)نے کہا:
”عن إسماعيل بن عبد الله،قال: أخبرني عبيد الله بن العيزار، أنه سمع أنس بن مالك يقول: كان عمر بن الخطاب إذا ظفر برجل طلق امرأته ثلاثا أوجع رأسه بالدرة“۔
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جب کسی ایسے شخص کو پاجاتے جو اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا تو اس کے سر پر کوڑے برساتے“ ۔
[المصنف لعبد الرزاق الصنعاني، دار التأصيل: 5/ 406 واسنادہ صحیح ، إسماعيل بن عبد الله ھو إسماعيل بن عبد الله بن الحارث البصرى]
امام ابن ابی شيبہ رحمہ الله (المتوفی235ھ)نے کہا:
”حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سلمة بن كھيل، عن زيد بن وهب، أن رجلا بطالا كان بالمدينة طلق امرأته ألفا، فرفع إلى عمر فقال: إنما كنت ألعب، فعلا عمر راسه بالدرة، وفرق بينھما“۔
”زید بن وھب کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک ہنسی مزاح کرنے والا شخص تھا ، اس نے اپنی بیوی کو ہزار طلاق دے دی، اس کامعاملہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ تک لایا گیا تو اس نے کہا : میں تو صرف مزاح اور تفریح کررہا تھا ، تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے سر پر کوڑے مارے اور میاں بیوی دونوں کو الگ کردیا“ ۔
[مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 10/ 105 وإسناده صحيح وصححه المحقق]
امام ابن ابی شيبہ رحمہ الله (المتوفی235ھ)نے کہا:
”حدثنا علي بن مسهر، عن شقيق بن أبي عبد الله، عن أنس قال: كان عمر إذا أتي برجل قد طلق امرأته ثلاثا في مجلس أوجعه ضربا، وفرق بينھما“۔
”انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی ایسا شخص لایا جاتا جو اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیتا تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ اس کی پٹائی کرتے اور میاں بیوی کو الگ کردیتے“ ۔
[مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 10/ 102وإسناده صحيح]
ان سارے آثار کے بارے میں ہمارا یہی کہنا ہے کہ یہ ایک تعزیری فرمان تھا اور اس طرح کا فرمان قیامت تک کے لیے نہیں ہوتا لہٰذا اسے شرعی فتویٰ کہہ کر ہرزمانہ میں اس سے استدلال کرنا قطعا ًدرست نہیں ہے ۔
غیرمدخولہ بیوی کو دی گئی تین طلاق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ
بلکہ خود فریق مخالف بھی اس فرمان فاروقی کی ساری باتوں پر عمل نہیں کرتے نہ ان کو حجت سمجھتے ہیں ، چنانچہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہر طرح کی طلاق بدعت اور ہر طرح کی تین طلاق کے لیے تھا جس میں مدخولہ بھی اور غیر مدخولہ سب شامل ہیں ۔
لیکن فریق مخالف غیرمدخولہ بیوی کو دی گئی تین طلاق کے بارے میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فرمان سے اختلاف کرتے ہیں اور اسے تین نہیں مانتے ، جبکہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ مدخولہ کے ساتھ ساتھ غیر مدخولہ کو بھی دی گئی ہر طرح کی تین طلاق کو تین قرار دیتے تھے جیساکہ اس سلسلے میں بھی ان سے کئی روایات مروی ہیں چنانچہ:
امام بيہقی رحمہ الله (المتوفی458ھ) نے کہا:
”أخبرنا أبو نصر بن قتادة أخبرنا أبو الفضل بن خميرويه حدثنا أحمد بن نجدة حدثنا سعيد بن منصور حدثنا سفيان عن شقيق سمع أنس بن مالك يقول قال عمر بن الخطاب رضى الله عنه فى الرجل يطلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بھا قال : هى ثلاث لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره وكان إذا أتى به أوجعه“۔
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں کہا جس نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاق دے دی کہ یہ تین طلاق ہے، اس کی بیوی حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سےشادی نہ کرلے اور ایسا شخص جب عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے پاس لایا جاتا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسے مارتے“۔
[السنن الكبرى للبيھقي، ط الھند: 7/ 334 وإسناده صحيح]
ابو جعفر طحاوي رحمہ الله (المتوفی321ھ) نے کہا:
حدثنا يونس، قال: أخبرنا سفيان، قال: حدثني شقيق، عن أنس بن مالك، عن عمر قال في الرجل يطلق البكر ثلاثا: إنها لا تحل له، حتى تنكح زوجا غيره“۔
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے باکرہ (یعنی غیرمدخولہ) کو تین طلاق دینے والے شخص کے بارے میں کہا: اس کی بیوی حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے“۔
[شرح معاني الآثار، ت النجار: 3/ 59 ، رقم 4490 وإسناده صحيح]
ان روایات سے معلوم ہوا کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ غیرمدخولہ کو دی گئی تین طلاق کو بھی تین قرار دیتے تھے ، لیکن فریق مخالف اسے نہیں مانتا۔
حلالہ کی شادی اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ:
بلکہ حلالہ جیسے لعنتی فعل سے متعلق بھی یہ لوگ عمر فاروق رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کے فتویٰ سے رو گردانی کرتے ہوئے نہ صرف حلالہ کو جائز بتلاتے ہیں بلکہ اسے کار ثواب بھی بتلاتے ہیں جبکہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نہ صرف اسے حرام قرار دیتے تھے بلکہ یہ بھی کہتے تھے کہ جو کوئی یہ کام کرتے ہوئے پکڑا گیا اسے رجم کردوں گا، چنانچہ:
چ امام ابن حزم رحمہ الله (المتوفی456ھ) نے کہا:
”حدثنا محمد بن سعيد بن نبات نا أحمد بن عون الله نا قاسم بن أصبغ نا محمد بن عبد السلام الخشني نا محمد بن بشار نا يحيى بن سعيد القطان نا شعبة عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن قبيصة بن جابر الأسدي قال: قال عمر بن الخطاب: لا أوتى بمحلل أو محلل له إلا رجمته“۔
”قبيصہ بن جابر الاسدي کہتے ہیں کہ عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس جو بھی حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا وہ لایا گیا تو میں اسے رجم کردوں گا“۔
[المحلى لابن حزم، ت بيروت: 12/ 195وإسناده صحيح و الأعمش هنا يروي عنه شعبة فعنعنته مقبولة ، وأخرجه أيضا عبدالرزاق في مصنفه رقم 10777من طريق الثوري ومعمر ،وأخرجه أيضا سعيد بن منصور في سننه 2/ 75 وعنه حرب الكرماني في مسائله 1/ 320 من طريق جرير بن عبدالحميد ،وأخرجه أيضا سعيد بن منصور في سننه 2/ 75 وعنه حرب الكرماني في مسائله 1/ 320 وابن أبي شيبه في مصنفه 4/ 294 والبيھقي في سننه 7/ 208 من طريق أبي معاويه ،وأخرجه أيضا الثعلبي في تفسيره 6/ 231 من طريق ابن مسھر ، كلھم (شعبة والثوري ومعمر وجرير وأبومعاوية وابن مسھر ) عن الأعمش به]
اسی طرح عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے بیسیوں فتاویٰ ایسے ہیں جو سیاسی اور تعزیری نہیں بلکہ خالص شرعی فتاویٰ ہیں لیکن فریق مخالف بالخصوص حنفی حضرات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ، اس کے برعکس جب تین طلاق کی بات آتی ہے تو لوگوں کے سامنے عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا تعزیری فرمان پیش کرکے اسے عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا شرعی فتویٰ باور کراتے ہیں اور اس کی مخالفت کو عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی قرار دیتے ہیں جو بہت بڑی نا انصافی ہے۔