Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • جنت میں خصوصی گھر دلانے والے چند مسنون اعمال

    اسلام اپنے ماننے والوں کو جن اعمال صالحہ کی تعلیم دیتا ہے ان کی دوقسمیں ہیں ۱۔ فرائض و واجبات ۲۔ سنن و نوافل، دونوں کے فضائل و ثمرات قرآن و سنت میں بیان کئے گئے ہیں تاکہ اہل ایمان کے دلوں میں ان اعمال کا شوق و جذبہ پیدا ہو ،فرائض و واجبات کا اداکرنا توہر حال میں ضروری ہے، رہے سنن و نوافل تو ان کا ادا کرنا واجب اور ضروری نہیں (ان کے ادانہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ) ، اگرانہیں انجام دیں گے تو اجروثواب ملے گا اور اگرفرائض وواجبات کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہوئی ہوگی تو سنن و نوافل سے فرائض کی کمی پوری کردی جائے گی۔اور ان سنن و نوافل میں بعض تو ایسے ہیں کہ جن کی ادائیگی پر خصوصی بشارت سنائی گئی ہے۔

     میں نے اپنے اس مضمون میں چندایسے ہی اعمال صالحہ کا تذکرہ کیا ہے جن کے انجام دینے والوں کو محمد رسول اللہ ﷺ نے جنت میںخصوصی گھر دلانے کی خوش خبری سنائی ہے۔

    ۱۔ سنن رواتب کی پابندی کرنا ۔ 

    عَن أُمَّ حَبِيبَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:’’مَنْ صَلَّی اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِی يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، بُنِی لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘

    نبی ﷺ کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’جو شخص روزانہ ۱۲ رکعات نماز بطور نفل ادا کرتا ہے( فرض نمازوں کے علاوہ )تو اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایاجائے گا، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سے میں نے رسول(ﷺ) کی یہ حدیث سنی ہے اس وقت سے برابر ۱۲ رکعات سنن رواتب پڑھتی چلی آرہی ہوں ‘‘ [صحیح مسلم :۷۲۸]

    مذکورہ حدیث کے اندر آپ ﷺ نے پنج وقتہ فرض نمازوں کے ساتھ ۱۲ رکعات سنن رواتب کی پابندی پر جنت میں ایک گھر ملنے کی خوش خبری سنائی ہے ، اس لئے ہم تمام مسلمانوں کو جنت میں مزید ایک گھر حاصل کرنے کے لئے فرض نمازوں کے ساتھ سنن رواتب کا بھی اہتمام کرنا چاہیے ۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے :

     فجر کی فرض نماز سے پہلے ۲/ رکعات ،ظہر کی فرض نماز سے پہلے ۴/ رکعات اور فرض کے بعد ۲ رکعات ،مغرب کی فرض نماز کے بعد ۲/ رکعات ، عشاء کی فرض نماز کے بعد ۲/ رکعات (ٹوٹل۱۲/رکعات )

    جومسلمان نمازوں میں سستی اور کاہلی کے عادی ہوتے ہیں وہ اکثر سنن رواتب کا اہتمام یہ کہہ کر نہیں کرتے کہ سنن رواتب فرض نماز نہیں ،اس طرح کی بات کرنا ایک مسلمان بندے کے لئے مناسب نہیں ہے ۔

    ۲۔بچے کی وفات پر صبر کرنا :

    عَنْ أَبِي سِنَانٍ، قَالَ:دَفَنْتُ ابْنِي سِنَانًا، وَأَبُو طَلْحَةَ الخَوْلَانِيُّ جَالِسٌ عَلٰي شَفِيرِ القَبْرِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ الخُرُوجَ أَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ:أَلَا أُبَشِّرُكَ يَا أَبَا سِنَانٍ؟ قُلْتُ: بَلٰي، فَقَالَ:حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَرْزَبٍ، عَنْ أَبِي مُوسَي الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’ إِذَا مَاتَ وَلَدُ العَبْدِ قَالَ اللّٰهُ لِمَلَائِكَتِهِ:قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ:نَعَمْ، فَيَقُولُ:قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ، فَيَقُولُونَ:نَعَمْ، فَيَقُولُ:مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُون: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ، فَيَقُولُ اللّٰهُ:ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الجَنَّةِ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الحَمْدِ‘‘

    ابوسنان کہتے ہیں میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا اور ابو طلحہ خولانی قبر کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے تھے جب میں نے (قبر سے ) نکلنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ابوسنان !کیا میں تمہیں بشارت نہ سنائوں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں مجھے ضرور بشارت سنائیے، تو انہوں نے کہا مجھ سے ضحاک بن عبد الرحمن بن عرزب نے بیان کیا، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا : ’’ جب کسی بندے کا بچہ فوت ہوجاتا ہے تواللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی ؟تو فرشتے کہتے ہیں: ہاں ،پھر اللہ پوچھتا ہے :تم نے اس کے جگر کا ٹکڑا لے لیا؟ تو فرشتے جواب دیتے ہیں ہاں ، پھر اللہ پوچھتا ہے :میرے بندے نے کیا کہا؟ تو فرشتے جواب دیتے ہیں: اس بندے نے تیری حمد بیان کی اور ’’انا للّٰہ وانا الیہ راجعون‘‘ پڑھا ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میرے بندے کے لئے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو‘‘[ سنن ترمذی : ۱۰۲۱،صحیح ]

     بڑے خوش نصیب ہیں وہ والدین جن کی کوئی اولاد( لڑکا یا لڑکی) بچپن میں فوت ہوگئی ہو اور اللہ نے انہیں صبر جمیل کی بھی توفیق بخشی ہو، اللہ رب العالمین ایسے والدین کو قیامت کے دن بیت الحمد نامی خصوصی محل عطا فرمائے گا ، اس لئے جب بھی ہم میں سے کسی کا کوئی بچی یا بچہ وفات پاجائے تو ہمیں جزع فزع کرنے کے بجائے اللہ کے فیصلہ پر راضی رہنا چاہئے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا چاہیے تاکہ جنت میں ہمیں بھی بیت الحمد نصیب ہو، اور جب کسی مسلمان بھائی کے گھر میں کوئی نالغ بچہ فوت ہوجائے تو ہمیں اس کے گھر جاکر اس کے والدین کو بھی تسلی دینی چاہئے کہ: اولاد بھی اللہ کی امانت ہے جب چاہتا ہے اسے واپس لے لیتا ہے اس لئے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھو اور صبر کرو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں بیت الحمد نامی گھر عطا فرمائے گا ۔

    ۳۔ جھگڑا ختم کرنے کے لئے اپنا حق معاف کردینا ۔

    عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاء َ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا‘‘

    ’’ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو‘‘ [سنن ابی داؤد:۴۸۰۰،حسن]

     مذکورہ حدیث میں رسول اللہ ﷺنے ایسے شخص کو جنت کے اندر ایک گھرکی ضمانت دی ہے جو حق پر ہوتے ہوئے لڑائی جھگڑا ختم کرنے کے لئے اپنے حق سے دستبردار ہوجائے ، بلاشبہ یہ اسلا م کی ایسی بے مثال اور عظیم الشان تعلیم ہے کہ جس پر اگر تمام مسلمان عمل کرنا شروع کردیں تو ان شاء اللہ تمام باہمی اختلافات اور جھگڑے ختم ہوجائیں گے اور اپنے تو اپنے بیگانے بھی جگری دوست بن جائیں گے اور اس عظیم الشان تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق انہی خوش نصیب بندوں کو ملتی ہے جو ہمیشہ اپنی آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے ہیں ۔

    ۴۔مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولنا ۔

     نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا

    ’اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا( ضامن ہوں ) اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو‘‘ [سنن ابی داؤد:۴۸۰۰،حسن]

      فتنوں کے اس دور میں اکثر انسانوں کی زندگی کا مقصد ہی ہنسی مذاق بن کر رہ گیا ہے ، باقاعدہ ہنسنے اور ہنسانے کی محفلیں بپا کی جاتی ہیں جن میں بڑے بڑے اداکاروں کو بلایا جاتا ہے جو لوگوں کی واہ واہی اور بڑے سے بڑانذرانہ وصول کرنے کے لئے مبالغہ اور جھوٹ بولنے کو باعث شرف سمجھتے ہیں ،ایسے ماحول میں بالخصوص اہل اسلام کو دنیا کے لوگوں کے سامنے آپ ﷺ کی یہ تعلیم عملی طور پر عام کرنی چاہئے کہ’’ دین اسلام ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دیتا‘‘۔

    ۵۔ خوش اخلاق ہونا :

    نبیﷺ نے فرمایا’’ وَبِبَیْتٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَہُ‘‘

    اورمیں جنت کی بلندی میں ایک گھر کا  ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو خوش اخلاق ہو‘‘ [سنن ابی داؤد: ۴۸۰۰،حسن]

     مذکورہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کو جنت کی بلندی میں ایک گھر کی ضمانت دی ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں ، اچھے اخلاق کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اللہ کی مخلوقات کے ساتھ بالخصوص اللہ کے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں ، ہم کسی بھی شخص کا برا نہ چاہیں اور اگر کوئی ہمارا برا چاہے تو ہم اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک کریں اس کا دوسرا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے اچھے سلوک کی وجہ سے ہمارا جگری دوست بن جائے۔

    ۶۔اللہ کے لئے مسجدتعمیر کرنا:

    عن عُبَيْدِ اللّٰهِ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ، حِينَ بَنَي مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ،يَقُول:’’ مَنْ بَنَي مَسْجِدًا لِلّٰهِ تَعَالٰي، قَالَ بُكَيْر:حَسِبْتُ، أَنَّهُ قَال:’’يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللّٰهِ، بَنَي اللّٰهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ‘‘، قَالَ ابْنُ عِيسَي فِي رِوَايَتِهِ:مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ۔

     عبیداللہ خولانی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی تعمیر کی اور اسے لوگوں نے برا سمجھاتو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تم نے مجھ پر بہت زیادتی کی ہے، میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:’’جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنائے گا اور اصل راوی حدیث بکیر کہتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ خالص اللہ کی رضامندی کے لئے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا‘‘۔ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے ویسا ہی ایک گھر جنت میں بنائے گا۔ [ صحیح مسلم :۵۳۳]

    بلا شبہ اللہ رب العالمین مسجد کی تعمیر کرنے والوں کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا لیکن اس کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ جس مال سے مسجد کی تعمیر کی جائے وہ مال حلال اور پاک ہو،حرام نہ ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے : ’’ان اللّٰه طيب لا يقبل الا طيبا‘‘’’بیشک اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز کو ہی قبول فرماتا ہے‘‘‘ [صحیح مسلم :۱۰۱۵]

    دوسری شرط یہ ہے کہ مسجد کی تعمیر کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضاجوئی و خوشنودی ہو ریاکاری ودکھاوا نہ ہو۔ جیساکہ نبی ﷺفرمان ہے : ’’انما الاعمال بالنيات وانما لكل امری ما نوی‘‘ ’’ تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی ہے‘‘ [ صحیح بخاری: ۱]

     اور مذکورہ حدیث کے اندر بھی ’’من بنی مسجدالِلّٰہ ‘‘کا لفظ موجود ہے جس کا ترجمہ ہی یہی ہوتا ہے کہ جس نے اللہ کے لئے مسجد بنائی ۔

    ۷۔بازار میں داخل ہونے کی دعا ء پڑھنا۔

    عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:’’مَنْ قَالَ حِينَ يَدْخُلُ السُّوقَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَي لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ‘‘

    عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت دعا یہ پڑھے: ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ كُلُّهُ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ‘‘ ’’اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حکمرانی ہے، اور اسی کے لیے ہر طرح کی حمد و ثناء ہے، وہی زندگی، اور موت دیتا ہے، اور وہ زندہ ہے، اس کے لیے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے‘‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دے گا، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرے گا ۔ [سنن ابن ماجہ: ۳۵۲۲۔ حسن ]

    بازار میں اس دعا ء کا ثواب اس واسطے زیادہ ہے کہ بازار دنیا میں مشغول ہونے اور اللہ سے غفلت کی جگہ ہے تو اس جگہ اللہ کو یاد رکھنا بڑے جواں مردوں کا کام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللّٰهِ}’’یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کو ان کی تجارت او رخرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی ہے‘‘[ النور: ۳۷]

    ۸۔ صف میں خالی جگہ کو پر کرنا :

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’من سد فرجة بني اللّٰه له بيتا فى الجنة ورفعه بها درجة‘‘

    ’’جو شخص صف میں خالی جگہ کو پر کرے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے لئے جنت میں گھر بنائے گا اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا‘‘[الصحیحۃ :۱۸۹۲]

    بظاہر صف میں خالی جگہ پر کرنا بڑا آسان عمل معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے بڑا مشکل امر ہے کیونکہ جس کا دل اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے تعلق سے بالکل صاف ہوگا وہی اس مہتم بالشان نیکی کو انجام دے سکتا ہے ورنہ بہت سے سگے بھائی اور سگے رشتہ دار بھی ایک دوسرے سے نماز میں قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملانے کے لئے تیار نہیں ہوتے ایک دوسرے سے بھاگتے رہتے ہیں جس کی بناپر بسا اوقات دو آدمیوں کے درمیا ن یا ایک آدمی اور مسجد کے دیوار کے درمیان کی جگہ باقی رہ جاتی ہے۔

    ۹۔سورہ اخلاص کی دس مرتبہ تلاوت کرنا:

    عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’مَنْ قَرَأ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ حَتّٰي يَخْتِمَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ، بَنَي اللّٰهُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ ‘‘فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:إِذًا نَسْتَكْثِر

    سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’جو شخص’’ قُلْ ہُوَ اللّہُ أَحَدٌ‘‘ یعنی سورۃ الاخلاص آخر تک دس مرتبہ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول!پھر تو ہم بہت سے محلات حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ بھی بہت زیادہ اور بہت عمدہ عطا کرنے والا ہے‘‘[الصحیحۃ : ۵۸۹]

    سبحان اللہ! عمل کتنا چھوٹاہے اور ثواب کتنا عظیم ہے ، مذکورہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے صرف دس بار سورہ اخلاص کی تلاوت پر جنت میں ایک محل کی خوشخبری سنائی ہے ، سورہ اخلاص بیشک ایک عظیم الشان سورہ ہے کیونکہ پوری سورہ اللہ کی توحیداور اس کی عظمت کے بیان پر مشتمل ہے ،اس لئے ہمیں سورہ اخلاص کی تلاوت کے ساتھ اس کے معنی و مفہوم کو سمجھ کران پر پکا ایمان بھی رکھنا چاہیے ۔

    اللہ رب العالمین ہمیں مذکورہ تمام جنت میں گھر دلانے والے اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں شرف قبولیت سے نواز کر ہمیں جنت کے قصور و محلات کا مستحق بنائے آمین ۔

مصنفین

Website Design By: Decode Wings