Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • نمازِ وتر کے احکام و مسائل (قسط :اول)

    نماز دین اسلام کا ایک بنیادی ستون ہے، اور اصل ایمان کی نشانی ہے، یہی قربت الہٰی کا ذریعہ اور یہی دل کی پاکیزگی واصلاحِ اخلاق کا سبب ہے، اسی نماز سے دنیوی واخروی فلاح وکامرانی مربوط ہے۔
    شریعت نے عبادات میں جہاں فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا ہے وہیں سنن ونوافل کی بھی رغبت دلائی ہے تاکہ انسان کا اللہ رب العالمین سے تعلق مضبوط رہے، جن میں نماز کے سنن ونوافل کے بھی کئی فضائل شریعت میں وارد ہیں۔
    انہی سنن ونوافل میں سے وتر کی نماز سب سے اہم اور خاص ہے، آپﷺحالت اقامت میں ہوں یا سفر میں ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام کرتے، اور اس کی تاکید اپنے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی فرماتے تھے، چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (۵۹ھ) بیان کرتے ہیں کہ:’’ أَوْصَانِيْ خَلِيْلِيْ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّي أَمُوتَ: صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَي، وَنَوْمٍ عَلَي وِتْرٍ‘‘۔’’مجھے میرے دوست (نبی کریم ﷺ)نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ:موت سے پہلے تک ان کو نہ چھوڑوں: ’’ہر مہینہ میں تین دن روزے، چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا‘‘۔
    [صحیح البخاری:۱۱۷۸، صحیح مسلم:۷۲۱]
    مذکورہ حدیث میں وارد پہلے کے دو اعمال (ایام بیض اور صلاۃ الضحیٰ) کے تعلق سے گزشتہ مضامین میں تفصیلی بحث گزر چکی ہے، چنانچہ ابھی انہی اعمال میں سے تیسرے اور آخری عمل (نمازِ وتر کے احکام و مسائل)عنوان سے متعلق مضمون قارئین کے استفادے کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔
    (۱) وتر کی تعریف:
    وتر کا لغوی معنیٰ:
    وتر کا معنیٰ ہے طاق یا وہ عدد جو جوڑے میں نہ ہو، مثال کے طور پر ’’اوترہ‘‘کا مطلب ہے کہ ’’اسے اکیلا کردیا‘‘یا’’اسے طاق بنا دیا‘‘۔[لسان العرب:۵؍۲۷۳]
    نمازِ وتر کی شرعی تعریف:
    نمازِ وتر سے مراد وہ نماز ہے جو عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر فجر طلوع ہونے کے درمیان ادا کی جاتی ہے، یہ نماز رات کی نمازوں کا اختتام ہوتی ہے۔[زاد المستقنع فی اختصار المقنع :ص: ۵۰]
    نیز اس نماز کی رکعتوں کی تعداد طاق ہونے کی وجہ سے اسے وتر کہا جاتا ہے۔
    (۲) نمازِ وتر کی خصوصیت:
    وتر کی نماز کی انفرادیت اس کے متعدد طاق رکعات ہونا، اس میں دعائے قنوت کا ہونا اور نبی ﷺکے سفر و حضر میں اس کا اہتمام کرنا ہے، اسی لیے یہ نماز دیگر نوافل سے ممتاز اور اعلیٰ درجہ رکھتی ہے۔
    نمازِ وتر کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ اس کا تعلق رات کی نماز سے ہے، جیسا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (۱۸ھ) سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ زَادَنِي رَبِّي صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، وَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَائِ إِلَي طُلُوعِ الْفَجْرِ‘‘۔’’میرے رب نے مجھ پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وتر ہے جس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے‘‘۔[صحیح الجامع:۳۵۶۶، صححہ الألبانی]
    (۳) نمازِ وتر کی فضیلت اور اہمیت :
    نمازِ وتر رات کی نمازوں میں سے ایک ہے، بلکہ یہ رات کی نمازوں میں سب سے زیادہ موکد اور افضل ہے، اور چونکہ رات کی نماز بذاتِ خود نہایت فضیلت والی ہے، بلکہ فرض نمازوں کے بعد یہ سب سے افضل نفل ہے، چنانچہ رات کی نمازوں میں سب سے افضل نمازِ وتر ہے اور یہ سب سے زیادہ تاکیدی بھی ہے، نبی کریم ﷺحالتِ اقامت اور سفر میں ہمیشہ اس نماز کا اہتمام کیا کرتے تھے، نمازِ وتر کی فضیلت و اہمیت پر بے شمار دلائل موجود ہیں :
    (۱) نمازِ وتر کی فضیلت اور اہمیت پر سنتِ نبویﷺسے دلائل:
    (۱) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (۴۰ھ)سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ إِنَّ اللّٰهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ ‘‘۔’’بے شک اللہ وتر (طاق)ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، لہٰذا اے اہل قرآن!تم وتر پڑھا کرو‘‘۔[سنن الترمذی: ۴۵۳، صححہ الألبانی]
    امام نووی رحمہ اللہ (۶۷۶ھ) اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
    (رسول اللہﷺکا ارشاد:’’بے شک اللہ وتر (طاق)ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے‘‘۔
    یہاں پر ’’وتر‘‘کا معنیٰ ہے:’’طاق یا اکیلا‘‘، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حق میں اس کا معنیٰ ہے:’’وہ یکتا ذات جس کا کوئی شریک نہیں اور نہ ہی کوئی ہمسر‘‘۔
    اور’’وتر کو پسند کرتا ہے‘‘کا مفہوم : اللہ تعالیٰ کا بہت سے اعمال اور عبادات میں طاق عدد کو ترجیح دینا، مثلاً اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی تعداد پانچ مقرر فرمائی، وضو کے اعضاء کو تین بار دھونے کا حکم دیا، طواف سات چکروں پر مشتمل رکھا، صفا و مروہ کی سعی سات مرتبہ رکھی، جمرات کو سات عدد کنکریاں مارنے کا حکم دیا، ایامِ تشریق تین دن مقرر کئے، استنجاء تین پتھروں سے کرنے کا حکم دیا، اسی طرح کفن تین کپڑوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
    اسی طرح زکوٰۃ میں بھی پانچ وسق (وسق غلے کی پیمائش کا ایک پیمانہ ہے)، اور چاندی کا نصاب پانچ اوقیہ (اوقیہ وزن کا ایک پیمانہ ہے)، اور اونٹوں کا نصاب بھی طاق اعداد پر مشتمل رکھا۔
    نیز اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی عظیم مخلوقات کو بھی طاق بنایا، جیسے کہ آسمان، زمینیں، سمندر، ہفتے کے دن اور دیگر بہت سی چیزیں اسی قبیل سے ہیں‘‘۔[شرح النووی علی مسلم :۶؍۱۷]
    (۲) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ (۵۱ھ)کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَي كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ‘‘۔’’وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے‘‘۔[سنن ابی داؤد:۱۴۲۲، صححہ الألبانی]
    (۳) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (۷۳ھ) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’ اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا ‘‘۔’’وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھا کرو‘‘۔[صحیح البخاری:۹۹۸، صحیح مسلم:۷۵۱]
    (۴) ابن عمر رضی اللہ عنہما (۷۳ھ) سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:’’ بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ‘‘۔ ’’وتر پڑھنے میں صبح سے سبقت کرو‘‘۔(صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو)[صحیح مسلم:۷۵۰]
    (۵) ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ إنَّ اللّٰهَ عزَّ وجلَّ زادكم صلاةً فصلُّوها فيما بينَ صلاةِ العشاء ِ إلى صلاةِ الصبحِ الوِتْرُ الوِتْرُ‘‘۔’’اللہ عز وجل نے تمہیں ایک اضافی نماز عطا فرمائی ہے، پس تم اسے عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی نماز (فجر) کے درمیان ادا کیا کرو، (وہ ہے) وتر!وتر‘‘۔[إرواء الغلیل (۱۵۸؍۲)، صححہ الألبانی]
    (۶) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (۱۸ھ)سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’زَادَنِي رَبِّي صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ،وَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَائِ إِلَي طُلُوعِ الْفَجْرِ‘‘۔’’میرے رب نے مجھ پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وتر ہے جس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے‘‘۔[صحیح الجامع:۳۵۶۶، صححہ الألبانی]
    (۷) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (۵۹ھ) نے فرمایا کہ : ’’ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّي أَمُوتَ، صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَي، وَنَوْمٍ عَلَي وِتْرٍ‘‘۔’’مجھے میرے جانی دوست (نبی کریم ﷺ)نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے تک ان کو نہ چھوڑوں، ہر مہینہ میں تین دن روزے، چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا‘‘۔[صحیح البخاری :۱۱۷۸، صحیح مسلم :۷۲۱]
    (۸) ابو الدرداء رضی اللہ عنہ (۳۲ھ) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:’’ أَوْصَانِي حَبِيبِي صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ، بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَي، وَبِأَنْ لَا أَنَامَ حَتَّي أُوتِرَ ‘‘۔’’میرے حبیب ﷺنے مجھے تین باتوں کی تلقین فرمائی ہے، جب تک میں زندہ رہوں گا ان کو کبھی ترک نہیں کروں گا، ہر ماہ تین دنوں کے روزے، چاشت کی نماز اور یہ کہ جب تک وتر نہ پڑھ لوں نہ سوؤں‘‘۔[صحیح مسلم :۷۲۲]
    (۹) رسول اللہ ﷺنمازِ وتر کا اہتمام سفر میں بھی کیا کرتے تھے، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (۷۳ھ)سے مروی ہے کہ:’’كانَ النَّبِيُّ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَي رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِيئُ إِيمَاء ً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلَي رَاحِلَتِهِ ‘‘۔’’نبی کریم ﷺسفر میں اپنی سواری ہی پر رات کی نماز اشاروں سے پڑھ لیتے تھے خواہ سواری کا رخ کسی طرف ہو جاتا آپ ﷺاشاروں سے پڑھتے رہتے مگر فرائض اس طرح نہیں پڑھتے تھے اور وتر اپنی اونٹنی پر پڑھ لیتے‘‘۔ [صحیح البخاری:۱۰۰۰، صحیح مسلم:۷۰۰]
    (۱۰) نبی کریم ﷺنمازِ وتر کے لیے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۵۸ھ)کو جگایا کرتے تھے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ: ’’ انَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةً عَلَي فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ‘‘۔’’نبی کریم ﷺ(تہجد کی)نماز پڑھتے رہتے اور میں آپﷺکے بستر پر عرض (چوڑائی) میں لیٹی رہتی، جب آپ وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی‘‘۔[صحیح البخاری:۵۱۲، صحیح مسلم:۷۴۴]
    (۲) سلف صالحین کے نزدیک نمازِ وتر کی اہمیت:
    (۱) عامر بن شرحبیل شعبی رحمہ اللہ (۱۰۴ھ)فرماتے ہیں:
    ’’نمازِ وتر نفل ہے اور یہ سب سے بہترین نوافل میں سے ہے‘‘۔[السنن الکبریٰ للبیہقی:۶۶۰؍۲]
    (۲) محمد بن سیرین رحمہ اللہ (۱۱۰ھ) نے فرمایا:
    ’’مجھے نفل نمازوں میں سے کسی ایسی نفل نماز کا علم نہیں جو سلف صالحین (صحابۂ کرام) کے نزدیک وتر اور فجر سے پہلے کی دو رکعتوں (سنت فجر) سے زیادہ عزیز ہو، انہیں وہ بالکل چھوڑنا گوارہ نہ کرتے تھے‘‘۔[جامع الأحادیث لجلال السیوطی:۱۵۶؍۴۱]
    (۳) امام شافعی رحمہ اللہ (۲۰۴ھ)فرماتے ہیں:
    ’’میں کسی مسلمان کو نمازِ وتر چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا، اگرچہ میں اسے فرض قرار نہیں دیتا، لیکن اگر کوئی شخص اسے جان بوجھ کر چھوڑ دے، تو وہ اس شخص سے بھی بدتر شمار ہوگا جس نے دن اور رات کے تمام نوافل چھوڑ دیئے ہوں‘‘۔ [کتاب’’الأم‘‘ للشافعی :۸۷؍۱]
    (۴) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (۲۴۱ھ)فرماتے ہیں:
    ’’جو شخص جان بوجھ کر وتر چھوڑ دے، وہ برا آدمی ہے اور اس کی گواہی قبول نہیں کی جانی چاہیے‘‘۔
    امام ابن قدامہ رحمہ اللہ (۶۲۰ھ) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ’’امام احمد رحمہ اللہ کا اس بیان سے مقصود (وتر کی) تاکید میں مزید زور دینا تھا، کیونکہ اس سلسلہ میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جو وتر کے ادا کرنے اور اس کی اہمیت و فضیلت کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں‘‘۔[المغنی لابن قدامۃ:۱۱۸؍۲]
    (۵) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (۷۲۸ھ) نے فرمایا:
    ’’نمازِ وتر تمام مسلمانوں کے اجماع کے مطابق سنتِ موکدہ ہے، اور جو شخص اسے ترک کرنے پر اصرار برتے، اس کی گواہی رد کردی جائے‘‘۔[مجموع الفتاویٰ:۸۸؍۲۳]
    (۴) نمازِ وتر کا حکم :
    نمازِ وتر کے حکم کے سلسلہ میں دو اقوال مشہور و معروف ہیں:
    (۱) پہلا قول: جمہور علماء ائمہ ثلاثہ اور دیگر محدثین کے نزدیک نمازِ وتر واجب نہیں بلکہ سنت ِموکدہ ہے۔اس کی دلیل سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ علیہ (۴۰ھ)سے مروی ہے کہ: ’’ اَلْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ سَنَّ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺَ، وَقَالَ:إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ ‘‘۔
    ’’وتر تمہاری فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہے، بلکہ رسول اللہﷺنے اسے سنت قرار دیا ہے،اور فرمایا:اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، اے اہل قرآن!تم وتر پڑھا کرو‘‘۔[سنن ترمذی:۴۵۳، صححہ الألبانی]
    ایک دوسری روایت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ (۳۶ھ) سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ’’اہل نجد کا ایک آدمی پراگندہ سر رسول اللہﷺکے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سن رہے تھے، لیکن جو کہہ رہا تھا ہم اسے سمجھ نہیں پارہے تھے، یہاں تک کہ وہ قریب آگیا، تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:’’خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ‘۔’’(اسلام) دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا ہے‘‘، اس نے پوچھا:کیا میرے اوپر ان کے علاوہ بھی ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا:’’نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو‘‘ [سنن النسائی: ۴۵۹، صححہ الألبانی]
    امام بغوی رحمہ اللہ (۵۱۶ھ) فرماتے ہیں: ’’اہل علم کا اس بات پر اجماع (اتفاق)ہے کہ وتر فرض نہیں ہے، بلکہ جمہور علماء کے نزدیک یہ سنت ِموکدہ ہے‘‘۔ [شرح السنۃ :۱۰۲؍۴]
    اور یہی قول امام مالک، ثوری، لیث، اوزاعی، ابو یوسف اورمحمد رحمہم اللہ بلکہ جمہور اہل علم سے مروی ہے۔
    (۲) دوسرا قول: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ (۱۵۰ھ)نمازِ وتر کو واجب قرار دیتے ہیں، ان کی دلیل بریدہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے سنا: ’’ اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا، الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا ‘‘۔’’وتر حق ہے جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں‘‘۔[سنن ابی داؤد:۱۴۱۹، ضعیف]
    (اس حدیث میں عبداللہ العتکی ہیں جنہیں امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے)۔
    یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ صاحبانِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ نے بھی وتر کو سنت کہا ہے۔
    امام نووی رحمہ اللہ (۶۷۶ھ)فرماتے ہیں: ’’ہمارے مذہب (شافعی)کے مطابق وتر واجب نہیں بلکہ سنت ِموکدہ ہے، اور صحابۂ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے جمہور علماء کا بھی یہی قول ہے‘‘۔[المجموع :۱۹؍۴]
    حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (۸۵۲ھ)’’فتح الباری‘‘میں فرماتے ہیں: ’’یقینا دن اور رات میں پانچ فرض نمازوں کے علاوہ کوئی نماز واجب نہیں ہے، اس شخص کے خلاف جو وتر یا فجر کی دو رکعتوں (سنت فجر)کو واجب قرار دیتا ہے‘‘۔[فتح الباری:۱۰۷؍۱]
    لہٰذا جمہور علماء کے مطابق نمازِ وتر سنت ِموکدہ ہے، اور یہ ان عبادات میں سے ہے جس کی فضیلت و اہمیت پر رسول اللہ ﷺاور سلف ِصالحین نے بطورِ خاص زور دیا ہے اور مسلمانوں کو اس کی ادائیگی کی بھرپور ترغیب دلائی ہے۔
    (۵) نمازِ وتر کا وقت :
    نمازِ وتر کا وقت عشاء کی نماز سے صبح کی نماز (فجر)کے درمیان تک ہے ۔
    اس کی دلیل ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ إنَّ ﷲَ عزَّ وجلَّ زادكم صلاةً فصلُّوها فيما بينَ صلاةِ العشائِ إلى صلاةِ الصبحِ الوِتْرُ الوِتْرُ‘‘۔’’اللہ عز وجل نے تمہیں ایک اضافی نماز عطا فرمائی ہے، پس تم اسے عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی نماز (فجر)کے درمیان ادا کیا کرو، (وہ ہے) وتر!و تر‘‘۔[إرواء الغلیل :۱۵۸؍۲، صححہ الألبانی]
    رسول اللہﷺسے رات کے مختلف اوقات میں نمازِ وتر پڑھنا ثابت ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (۵۸ھ) کی حدیث ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ: ’’مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَأَوْسَطِهِ، وَآخِرِهِ، فَانْتَهَي وِتْرُهُ إِلَي السَّحَرِ‘‘۔’’رسول اللہ ﷺنے رات کے ہر حصے میں وتر (رات)کی نماز پڑھی، رات کے ابتدائی حصے میں بھی، درمیان میں بھی اور آخر میں بھی، آپ کے وتر (کے اوقات)سحری تک جاتے تھے‘‘۔[صحیح مسلم:۷۴۵]
    امام نووی رحمہ اللہ (۶۷۶ھ) اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:
    ’’اس روایت کے مطابق نمازِ عشاء کے بعد رات کے تمام حصوں میں نمازِ وتر پڑھنے کا جواز ہے‘‘۔[شرح النووی علی مسلم :۲۴؍۶]
    لہٰذا جس کو گمان ہو کہ وہ آخر رات کو بیدار نہ ہوسکے گا اس کے لیے نمازِ وتر کو جلدی یعنی عشاء کی نماز کے بعد پڑھنا اور جس کو یقین ہو کہ وہ آخر رات کو بیدار ہوسکے گا تو اس کے لئے اسے موخر کرنا مستحب ہے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ (۷۴ھ)سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: ’’مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ، فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ‘‘۔ ’’جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا، وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے، اور جسے امید ہو کہ وہ رات کے آخر میں اٹھ جائے گا، وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور یہ افضل ہے‘‘۔[صحیح مسلم:۷۵۵]
    جاری……

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings