Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • اداروں اور جماعتوں میں اخوانی فکر کا نفوذ

    روافض کے یہاں زبان و بیان کی گہرائی ہوتی ہے، گفتگو کی نفاست تو ان ہی پر ختم ہے۔ دل میں لاکھ نفرت کا جہنم سلگ رہا ہو، یہ شعلہ زن نہیں ہوتے۔ ان کے یہاں ضبطِ سخن کی سنگین صلاحیت اور سخن سازی میں ناپیدا کنار مہارت ہوتی ہے۔ یہ لوگ فقروں کی بندش کا معیار بلندی افلاک سے کچھ کم نہیں رکھتے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ تقیہ کا مہذب اظہار روافض کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے۔ یہ اول درجے کی افسانہ نویس اور فسوں ساز قوم ہے۔
    مرثیہ نگاری کے فن میں، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت انجام دینے کے بعد سے ہی، ان کا کوئی ثانی نہ رہا۔ نالہ و شیون کو اس قوم نے ایک فن اور ایک تہذیب کا مقام دے دیا۔ دنیا کا عظیم ترین جھوٹ بھی اگر یہ قوم مرثیہ کی صورت بیان کر دے تو شعور لاکھ بیدار رہے، آنکھوں میں آنسو دبے پاؤں آ ہی جاتے ہیں۔ یہ حقیقت میں آنسوؤں کے سوداگر ہیں۔ یہ درد فروش اور فتنہ پرور لوگ ہیں۔ ان کے طلسماتی ہاتھوں نے جھوٹ کی لٹیں تراشنے میں ایسی ایسی فنکاری کا مظاہرہ کیا کہ جبینِ تاریخ حیرت کدہ بنی ہوئی ہے۔
    جس دور میں محدثین احادیثِ مصطفیﷺکی روایات میں مشغول تھے، یہ قوم جھوٹ کی حویلیاں تعمیر کرنے اور اخبار نویسی میں مصروف تھی۔ ان کا ہر آدمی کذب بیانی کی فیکٹری تھا۔ شہادتِ عثمان، جنگِ جمل و صفین اور شہادتِ حسینؓ وغیرہ کے فتنے برپا کرنے کے بعد، ان کا جو بھی وقت بچا، پوری طرح سے خرافات کی صناعی میں گزرتا رہا۔
    اس قوم کو اپنی آتشیں سلطنت کے بجھ جانے کا غم ہنوز نہیں گیا، بس شکل و صورت تبدیل ہو گئی ہے۔ مجوسیت کے جو اعلیٰ ترین تہذیبی اور تمدنی اقدار تھے، ان کی جھلک آپ لکھنؤ کے نوابوں کے یہاں دیکھ لیجیے۔ ملنے جلنے کا وہی ہنر، گفتگو کا وہی مخصوص سلیقہ، بھرپور سبائی ہنر مندی کے ساتھ اپنے جوبن پر نظر آتا ہے۔ کھانے پینے اور برتنے کا شاہی انداز یا کسروی سطوت کی پرچھائیاں ہر حویلی میں نظر آئیں گی۔
    آپ تشیع کی سیر گاہ میں چل کے تو دیکھیے، اس کے گلزاروں میں چہل تو کیجیے۔ پھر آپ دیکھیے گا کہ کانٹوں نے بھی کس طرح پھولوں کی وہ چادرِ حسن اوڑھ رکھی ہے کہ انگلیاں زخمی کرنے کو طبیعت مچل اٹھے۔ یعنی تلوار کی دھار میں جمالِ جاناں ناں، نگاہِ دل کو ایسا خیرہ کرتا ہے کہ زندگی کے لیے مرنے والا، موت کے لیے مر جائے۔
    آپ اگر حسنِ ایران کی قربان گاہ پر مصلے بچھانے کے بجائے قوتِ نظر بچائے رکھنے کے اہل ہیں، اگر آپ کی سفید داڑھی لبِ لعلیں کے فریب سے رنگین نہ ہو تو دیکھ سکیں گے کہ رافضیت کا پیڑ سبائی خاک اور کسروی تخم کی پرداختہ ہے۔ بس! اس کی نشو و نما اسلامی تہذیب و تمدن کی آب و ہوا میں مکمل ہوئی، اور دراصل یہی وہ درخت ہے جسے مکتبِ تشیع کا نام دیا گیا۔
    ہندوستان کی جماعتِ اسلامی اور عربی دنیا کی اخوانی تحریک بنیادی طور پر اسی رافضیت کا مدبر سنی ورژن ہے۔ اگر اس امر میں آپ کو شک ہو تو پوری تاریخ پر کبھی سرسری نظر ڈال لیجیے۔ آپ کو اس یقین کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ عہدِ زوال میں جو ایشین بریڈ رافضیت کاشت کی گئی، وہی تحریکیت یا اخوانیت ہے۔
    خیر القرون کا مطالعہ کیجیے، عہدِ مشاجرات کی تہہ میں جائیے، یہی رافضی سبائی ٹولہ متحرک ملے گا۔ اور موجودہ دور میں اسی ذہنیت کی بساط ’’حکومتِ الٰہیہ‘‘ کے نام سے بچھائی گئی۔ امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کی سزا انہیں یہ ملی کہ اس منصوبہ بند حادثہ نے ان کے رگ و پے میں ہوسِ اقتدار کی آگ بھر دی ہے۔ اب شاید ہی کوئی رافضی نواز اس تمازت سے باہر نکل پائے۔
    آخر اسی ذہنیت نے آپ کو قتل کیا۔ اسی ذہنیت نے قرابت داری اور نسلی بنیاد پر اسلامی سیاست کا اپنا جھوٹا اور خانہ ساز تصور پیش کیا۔ کسی کو لگتا ہے کہ’’حکومتِ الٰہیہ‘‘کوئی جدید اصطلاح ہے تو اس نے غلط سمجھا۔ فی الواقع یہ صرف مصطلحات کی تبدیلی کا مسئلہ ہے۔
    امامت و خلافت کے جس مزور نظریہ کی بنیاد پر سبائی فتنہ پروروں نے خلیفۂ ثالث کو شہید کیا تھا، جس نظریہ کو عدالتی شفافیت کا عنوان دیا تھا، جس فتنہ و فساد کو’’اصلاح‘‘کے لقب سے ملقب کیا تھا وہی فتنہ ہمہ گیر آج بھی کپڑے بدل بدل کر سامنے آ رہا ہے، اور امتِ رسولﷺآج تک اس شجرہ ٔخبیثہ کی زہرناکِیوں سے پریشان ہے۔
    اس جدید سنی سبائی تکنیک میں سیدیت، جمہوریت، ملوکیت اور جدیدیت کا ایک مخلوط تیار کیا گیا، اور یہ سارا مکسچر رافضی کھیتوں میں تیار کیا گیا۔ انہی کا لٹریچر، انہی کا انقلاب، انہی کے نعرے، انہی کے آیات الشیاطین اور انہی کے متعہ زادے اس کی جڑوں میں موجود رہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اپنی پیدائش سے اب تک جماعتِ اسلامی روافض کے دفاع میں منہمک رہی۔
    اس جماعت کے اکثر و بیشتر یا تمام افراد نے ہمیشہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ روافض کو ساتھ لیے بغیر امت کی تشکیل نہیں ہو سکتی۔ ہمیشہ یہ تبلیغ کرتے رہے کہ ان پر جھوٹے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ہمیشہ یہ بیانیہ تیار کیا کہ وہ مظلوم ہیں، ان پر توہینِ صحابہ کا الزام عبث ہے، تحریفِ قرآن کا نقطۂ نظر ان کی طرف قطعاً غلط منسوب ہے، اور یہ کہ وہ انقلابی ہیں، پھر وہ صالح انقلاب کے حامی ہیں، خمینی اس عظیم متحدہ امت کے حق میں رول ماڈل ہیں۔
    ایرانی قوم بہادر قوم ہے، یہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں سے ٹکرا جاتے ہیں۔ یہ قضیہ فلسطین کے ہم نوا ہیں، القدس آزاد ہوگا تو انہی سے ہوگا۔ یہ فرقہ پرست نہیں ہیں بلکہ اتحادِ امت کے داعی ہیں۔ الغرض، اس طرح کی بے شمار باتیں جماعت اسلامی اور اخوانی گروپ کی طرف سے کبھی قولاًاور کبھی عملاً ہمیشہ پیش کی جاتی رہی ہیں۔
    جماعت اسلامی کے رسائل و جرائد، ماہنامے، کتابیں، تقریریں، بیانات، وفود، آفسیں اور رجالِ کار سب اس بات کے شاہد عدل ہیں کہ انہوں نے سنیوں میں سافٹ رافضیت کی دعوت دی، اسے قابلِ قبول بنایا، اس کے لیے تنفر کے جذبات کم کرنے کی محنت کی، اس کا دفاع کیا، اس کے مقابل کھڑے ہونے والوں کو یہودیوں کا ایجنٹ کہا، انہیں بزدل قرار دیا، ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا، اور وہ سب کچھ کیا جو ایک بھائی اپنے بھائی کے لیے انجام دیتا ہے۔
    صاحبو! بہت اچھی طرح یاد رکھیے! جماعت اسلامی کے افراد پوری سبائی تکنیک کے ساتھ اداروں اور جماعتوں میں دخیل بن جاتے ہیں۔ یوپی انڈیا، اور نیپال کی جمعیت اہل حدیث میں یہ لوگ کلیدی عہدوں پر بھی قابض رہے ہیں، ممکن ہے آج بھی ہوں۔
    اس کی بڑی وجہ ہے کہ یہ لوگ منافق ہوتے ہیں۔ سبائی ٹولے سے انہیں جس نفاق کی تربیت ملی ہوتی ہے، اس کے سائے میں اپنی تمازت بھری طبیعت چھپائے پھرتے ہیں۔
    بعض دیگر جماعتوں کا حال تو اور برا ہے۔ وقت کا مغرور سبائی صفت اخوانی اور رافضی سلمان ندوی ندوۃ العلماء میں ایک لمبے عرصے تک طلبہ کو اپنے نظریات کی بدترین غذا مشنری جذبے کے تحت دیتا رہا۔ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا، رفع الیدین نہ کرنا، فروعاتِ فقہیہ میں تقلید کا دعویٰ بس اتنی بات حنفیت کے لیے کافی مان لی گئی۔ یوں’’ندویت‘‘اور ’’ندوی توسع‘‘کے نام پر جماعت اسلامی اور اخوانیت نے پوری دیوبندیت کا چیتھڑا بنا کر رکھ دیا ہے۔
    حالیہ دنوں میں اس خبیثِ زمانہ اور عہدہ و مناصب کے اس حریص بوڑھے کو جماعتِ غیر اسلامی کا ذہن رکھنے والوں نے اپنا اسٹیج دیا ہوا ہے۔
    حنفی احباب سے گزارش ہے کہ بلاشبہ اگر آپ ہمیں غلط سمجھتے ہیں تو ہم پر رد کرنا اپنا حق بھی سمجھ سکتے ہیں، مگر اللہ کے واسطے اس فتنہ تازہ کا ادراک کیجیے!یہ آپ کو اندر سے اس طرح تبدیل کر دے گا کہ آپ محسوس تک نہیں کر پائیے گا۔ عظمتِ صحابہ اور اصول پرستی ہمارا آپ کا مشترکہ مسئلہ ہے، ہمیں اس کی مخالفت میں اُٹھی ہر آندھی کو روکنا ہوگا۔
    جماعتِ اہل حدیث کی یہ صورت حال تو نہیں، لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا:محفوظ یہ بھی نہیں ہیں۔ تحریکی یا تحریکی صفت لوگ خاندانی اہل حدیث کے نام پر سلفیوں میں گھس کر اپنے افکار و نظریات پھیلانے کی محنت میں جٹے رہتے ہیں۔
    میں بعض ایسے اداروں کو اچھی طرح جانتا ہوں جن کے ذمہ داران پکے جماعتِ اسلامی اور اخوانی فکر کے حامل ہیں، اور بعض اخوانی فکر کے بڑے قابلِ سہولت کار ہیں۔ اپنے یہاں حکمت کے ساتھ اس ذہن کے لوگوں کو موقع دیتے ہیں، نیم دروں نیم بروں کی کیفیات میں جیتے ہیں، اور یہ تصور فروش لوگ آزادیٔ افکار کے نام پر گندے افکار کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔
    بعض بزدل ہیں، بعض جری۔ جو جری ہیں، وہ دفاع کرتے ہیں، جو بزدل ہیں، خود کو ظاہر نہیں کر پاتے۔ فکر و نظر کے یہ یتیم بعض دفعہ خود کے بارے میں ہی یہ طے نہیں کر پاتے کہ آخر وہ ہیں کیا!
    یوپی کے ایک ادارے میں کسی زمانے میں بعض بدترین اخوانی گھس آئے تھے جن سے آج بھی میرا مباحثہ جاری رہتا ہے۔ بلکہ ان ذمہ داران سے بھی مباحثے ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کی شناخت ہو اور پوری دیانت داری سے اس فکر کے حاملین سے دوری بنا کے رکھی جائے۔
    سعودیہ عربیہ میں کسی زمانے میں امت کے نام پر یہ فتنہ تعلیمی اداروں اور حکومتی شعبوں میں نفوذ کر گیا تھا۔ آج جب یہ فکر اپنے فسادات کی بنا پر روندی جا رہی ہے، تو پروپیگنڈہ کے وظیفے میں لگ گئی ہے۔
    الغرض! سبائی نفاق کے مختلف اشکال دیکھنے ہوں تو رافضیت اور ان کے سہولت کار اخوانیوں کو دیکھ لیجیے۔ ان لوگوں کو عقیدہ و عمل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ ثَوَاریت میں ان کے ساتھی بن جائیے، ایرانی انقلاب کے حمایتی ہو جائیے، سعودیہ عربیہ کو گالی دیجیے، ایرانی انقلاب اور ایران کا دفاع کیجیے،’’حکومتِ الٰہیہ‘‘کے نام سے کوئی بت بنا کر اس کی پرستش کیجیے، مولانا مودودی کے نظریۂ اصحاب سے اتفاق کر لیجیے، حدیث کے بارے میں شبہات پال لیجیے ،بس آپ ’’تحریقی‘‘ہو گئے! باقی آپ اپنی راہ پر قائم رہیے، کچھ حرج نہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ ’’تحریقی ‘‘ہو جاتے ہیں اور وہ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ اہلِ حدیث ہیں۔
    ٭٭٭

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings