Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • کیش بیک، بونس ، منی ٹرانسفر اور ڈسکاؤنٹ کے مسائل

    حقیقت یہ ہے کہ بیع ، شرکت ، تجارت اور قرض یہ ایسے معاملات ہیں جن میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ نئی نئی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اور ان تبدیلیوں کو منضبط کرنے کے لیے اگر کوئی واضح اصول پیش کیا جا سکتا ہے تو وہی ہے جو قرآن و سنت نے بیان کیا ہے۔
    اصل یہ ہے کہ ہمیں ان چیزوں کو دیکھنا ہوگا جو کسی معاملے کے جواز پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ غرر کا معاملہ، دھوکے کا معاملہ ۔ ظاہر سی بات ہے کہ بیع میں مکمل طور پر غرر کا انکار نہیں کیا جا سکتا، کسی نہ کسی درجے میں بیع کی تقریباً ہر شکل میں کچھ نہ کچھ رِسک موجود ہوتا ہے۔ اسی لیے غیر مضر غرر کی بات کی جاتی ہے کہ غرر زیادہ نہ ہو۔ اسی طرح قمار (جُوا) کا مسئلہ ہے اور پھر ربا (سود) کا مسئلہ ہے۔
    مجھے کیش بیک ، بونس،منی ٹرانسفر، اور ڈسکاؤنٹ وغیرہ کے تعلق سے کچھ باتیں عرض کرنی ہیں۔ سب سے پہلے میں مختصراً یہ بات پیش کر دوں کہ یہ چیزیں ہیں کیا؟
    (۱) کیش بیک:
    یہ عام طور پر ایسی پیشکش ہوتی ہے جس میں خریدار کو خریداری کرنے کے بعد کچھ مخصوص رقم واپس دی جاتی ہے۔ یہ رقم عام طور پر اسی ادارے کی طرف سے دی جاتی ہے جس سے خریداری کی جاتی ہے۔ مثلاً کسی خاص کریڈٹ کارڈ یا موبائل ایپ کے ذریعے خریداری کرنے پر کُل خریداری کا کچھ فیصد واپس ملتا ہے۔
    اس کے تعلق سے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اگر یہ کیش بیک کا جو کارڈ دیا گیا ہے یا یہ جو آفر ہے، یہ کسی شرط یا سودی لین دین سے مشروط نہیں ہے تو پھر اس کا جائز ہونا بنتا ہے۔ اجمالی طور پر اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ اور اگر سودی کریڈٹ کارڈ وغیرہ پر مل رہا ہے تو سود کی وجہ سے وہ چیز ناجائز ہوگی۔ لیکن اگر بغیر سود کے، بغیر کسی شرط کے ہے، جیسے بعض اسلامی بینکوں کی جانب سے یہ سہولت دی جاتی ہے، تو ایسی صورت میں یہ جائز ہے۔ البتہ اس سلسلے میں علماء کرام کا اختلاف ہے۔
    (۲) بونس:
    یہ ایک اضافی رقم ہے جو کارکردگی یا خوشی کے اظہار میں دی جاتی ہے۔ مثلاً جہاں کوئی شخص کام کر رہا ہے، کمپنی والے عید یا نئے سال کے موقع پر، یا کمپنی کے نفع میں اضافہ ہونے پر یا کسی خاص کام کی کامیاب تکمیل کے بعد کارکن کو جو رقم دیتے ہیں وہ بونس کہلاتی ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ کارکردگی کی بنیاد پر دی جائے اور اس میں سود یا دھوکہ شامل نہ ہو تو یہ جائز ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کاروبار خود حلال ہو۔ اگر کاروبار ہی حلال نہ ہوگا تو پھر بونس کا حکم بھی کاروبار کے حکم کے تابع ہوگا۔
    (۳) منی ٹرانسفر:
    یہ عام طور پر ایک شخص یا ادارے کی طرف سے دوسرے شخص یا ادارے کو رقم منتقل کرنے کو کہتے ہیں۔ آج کل بینک، موبائل ایپس اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے یہ کام ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنے اہل و عیال کی مدد یا کاروباری مقاصد کے لیے کرتے ہیں۔ منی ٹرانسفر بذاتِ خود جائز ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں، بشرطیکہ رقم جائز طریقے سے منتقل کی جا رہی ہو اور اس میں کوئی سودی یا حرام عنصر شامل نہ ہو۔ اگر سود یا ناجائز فیس اس میں لی جائے تو پھر وہ حرام ہے۔
    (۴) ڈسکاؤنٹ:
    یہ قیمت میں کمی ہے جو خریدار کو مخصوص حالات یا کسی پیشکش کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ یہ کمی عام طور پر کاروباری لوگ خریدار کو راغب کرنے اور اپنی چیز زیادہ بیچنے کے لیے کرتے ہیں۔ ڈسکاؤنٹ کا حصول بنیادی طور پر جائز ہے بشرطیکہ خرید و فروخت جائز ہو اور قیمت میں کمی صارف کے فائدے میں کی جائے۔ اگر ڈسکاؤنٹ میں کوئی سود یا دھوکہ شامل نہ ہو تو یہ حلال ہے۔
    اب آئیے، تھوڑا سا اس کی بعض شکلوں کی طرف چلتے ہیں۔
    کیش بیک کا معاملہ:
    جیسا کہ میں نے ذکر کیا، یہ بیع اور قرض کی نئی شکلوں میں سے ہے، اور ان کے بارے میں علماء کرام کے مختلف نقطۂ نظر ہیں۔ بعض علماء ایک خاص زاویے سے دیکھتے ہیں جبکہ بعض دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے ایسے مسائل میں صاف طور پر یہ کہہ دینا کہ یہ بالکل جائز ہے یا بالکل ناجائز ہے، بڑی جسارت کی بات ہے۔ اور علماء کا طریقہ یہ ہے بھی نہیں۔ ایسے مسائل عام طور پر بڑی فقہی اکیڈمیوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔
    مجھے اس موضوع کی تیاری کے دوران ایک چیز پر تعجب ہوا۔ ’’مجمع الفقہ الاسلامی‘‘ سعودی عرب جیسے بڑے ادارے کے فتاویٰ دیکھنے کو ملے تو بعض شکلوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی اس پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا حقیقی ماحصل کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بین الاقوامی سطح کے بڑے بڑے علماء ان شکلوں میں بعض کے بارے میں کوئی واضح بات کہتے ہوئے جھجکتے ہیں تو ہم جیسے عام لوگ تو بالکل ہی محتاط رہیں گے۔
    شیخ خثلان (سعودی عرب کے مشہور عالم) جن کی مالیاتی معاملات پر خاص نظر ہے، انہوں نے یہ مسئلہ ذکر کیا کہ بعض بینک ہر خریداری کے وقت نقد رقم دیتے ہیں اور یہ کیش بیک کارڈ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ ایک ڈیجیٹل کارڈ ہوتا ہے جو عام طور پر مفت میں دیا جاتا ہے۔
    اب اس کارڈ کی دو شکلیں ہیں:
    (۱) کارڈ مفت دیا جائے: اگر یہ فری ہے اور اس میں سود یا غرر نہیں ہے تو اس کا استعمال درست ہے۔
    (۲) کارڈ کے بنانے کا اصل خرچ لیا جائے: اگر صرف واجب خرچ لیا جائے تب بھی درست ہے۔ لیکن اگر اس پر اصل خرچ سے زیادہ رقم کاٹی جائے تو پھر وہ درست شکل نہیں رہتی۔
    اسی طرح اگر اس کارڈ کے ذریعے رقم واپس کرنے میں تاخیر کی صورت میں جرمانہ لگایا جاتا ہے تو اس وجہ سے ایسے کارڈ کا استعمال درست نہیں ہوگا۔
    پس شرعی اعتبار سے سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کارڈ بذاتِ خود درست ہے یا نہیں۔ اگر کارڈ درست ہے، تو پھر اس پر جو کیش بیک ملتا ہے، اس کے بارے میں علماء نے کہا ہے کہ اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
    کیوں؟
    اس لیے کہ جب آپ کوئی چیز خریدتے ہیں اور اس کی اصل قیمت ایک ہزار روپے ہے، لیکن بیچنے والا کہتا ہے: میں تمہیں یہ چیز ایک ہزار روپے میں بیچ رہا ہوں مگر تمہیں سو روپے واپس دوں گا۔ تو حقیقت میں یہ صورت ایسی ہی ہے کہ چیز نو سو روپے میں بیچی جا رہی ہے۔ اس لیے یہ سود کی صورت نہیں ہے، کیونکہ سود میں نفع قرض دینے والے کو ہوتا ہے، لیکن یہاں فائدہ خریدنے والے کو ہو رہا ہے۔
    لہٰذا اگر اس معاملے میں سود یا غرر کی آمیزش نہ ہو تو کیش بیک لینا جائز ہے۔ یہ گویا بیچنے والے کی طرف سے خریدار کے لیے ایک تحفہ یا ہدیہ ہے۔
    قرض کم کر کے واپس کرنے کی صورت:
    اس بارے میں علماء کرام کے تین اقوال ملتے ہیں:
    پہلا قول: یہ شکل جائز نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس میں بیع کے ساتھ ایک شرط شامل ہو جاتی ہے کہ قرض کم کر کے واپس کیا جائے گا، اور یہ درست نہیں۔ اس رائے کے مطابق یا تو پوری بیع فاسد ہو جائے گی یا شرط باطل ہوگی۔
    دوسرا قول: کچھ علماء نے کہا کہ قرض اور شرط دونوں صحیح ہیں۔ امام شافعی کے ہاں ایک وجہ یہی بیان کی گئی ہے۔ بعض حنابلہ کے ہاں بھی یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ یہ درست ہے۔
    تیسرا قول (راجح قول): موجودہ دور کے بڑے علماء نے کہا ہے کہ یہ شکل جائز ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس میں کمی کر کے جو واپس کیا جا رہا ہے، اس سے فائدہ خریدنے والے کو ہو رہا ہے، بیچنے والے کو نہیں۔ اسی وجہ سے اس کو درست قرار دیا گیا ہے۔
    بعض علماء نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ قرض جتنا لیا گیا ہے اتنا ہی واپس کیا جائے۔ لیکن وہ اس کو ’’عقد معاوضہ ‘‘پر قیاس کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرے علماء نے کہا کہ یہ ’’عقد قرض ‘‘ پر قیاس ہے، اور اس میں کمی بیشی کی اجازت ہے۔
    اسی لیے بیع کے معاملات میں نیت اور قیاس کے زاویے سے حکم بدل جاتا ہے۔
    جنہوں نے اس کو ’’عقد معاوضہ ‘‘کہتے ہوئے بیع پر قیاس کیا، انہوں نے ناجائز کہا۔
    اور جنہوں نے اس کو ’’عقد قرض‘‘ پر قیاس کیا، انہوں نے کہا یہ جائز ہے۔
    اسی بنیاد پر کہا گیا کہ جب یہ’’عقد قرض ‘‘ میں داخل ہے، تو اس میں کمی کر کے واپس کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لہٰذا کیش بیک کا معاملہ بھی راجح قول کے مطابق درست ہے، بشرطیکہ کارڈ خود شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔
    بونس کا معاملہ:
    اس کے بارے میں بھی علماء کرام نے تفصیل سے بات کی ہے۔
    اگر بونس کسی ملازم کو اصل تنخواہ کے علاوہ دیا جاتا ہے، بطورِ خوشنودی یا ترغیب کے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً:
    کمپنی نے عید یا نئے سال کے موقع پر دیا۔
    کمپنی کو نفع ہوا اور اس نفع میں سے ملازمین کو دیا۔
    کسی خاص کام کی کامیاب تکمیل پر خوش ہو کر دیا۔
    ایسی صورتوں میں بونس جائز ہے، بشرطیکہ اصل کاروبار خود حلال ہو۔ لیکن اگر کاروبار ہی ناجائز ہے تو پھر بونس بھی ناجائز ہوگا۔
    میڈیکل اسٹور کی مثال:
    یہاں ایک خاص وضاحت ضروری ہے۔ میڈیکل اسٹور والے جب کسی کمپنی یا ایجنسی سے دوائیں خریدتے ہیں تو بعض اوقات کمپنی کی طرف سے انہیں خاص بونس یا کمیشن ملتا ہے۔ اس بونس کی وجہ سے وہ اسی کمپنی کی دوائیں زیادہ فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    یہ اصل میں تو جائز ہے، لیکن اگر اس میں درج ذیل باتیں شامل ہو جائیں تو ناجائز ہو جائے گا:
    اگر اس میں سود ، قمار (جُوا) یا غرر (دھوکہ) آ گیایا اگر مریض کو دھوکہ دے کر مہنگی دوا بیچنے کی نیت ہو تو یہ سب صورتیں ناجائز ہیں۔
    مزید یہ کہ بونس کا حق دار کون ہے؟
    کیا میڈیکل اسٹور کا کارکن (جو وہاں ملازم ہے)؟یا اسٹور کا مالک؟
    علماء نے کہا ہے کہ یہ بونس مالک کا حق ہے، نہ کہ کارکن کا۔
    اسی طرح مریض کو دھوکہ دینا ناجائز ہے۔ مثال کے طور پر: ایک انجیکشن کی اصل قیمت نو سو روپے ہے، لیکن مارکیٹ میں وہی انجیکشن گیارہ سو یا بارہ سو میں بھی بیچا جا رہا ہے۔ یہ ایک قسم کا دھوکہ ہے، اور افسوس کہ میڈیکل لائن میں یہ فراڈ عام ہے۔
    لہٰذا اگر بونس یا کمیشن میں دھوکہ، سود یا ناجائز عنصر شامل ہو تو وہ جائز نہیں۔ ورنہ اس کا لینا جائز ہے۔
    ڈسکاؤنٹ کا معاملہ:
    ڈسکاؤنٹ کی اصل یہ ہے کہ وہ جائز ہے۔ کسی چیز کی قیمت میں کمی، خریدار کو راغب کرنے یا سامان زیادہ فروخت کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اگر اس میں سود شامل نہ ہو،دھوکہ شامل نہ ہو،یا کوئی ناجائز شرط نہ ہوتو ڈسکاؤنٹ کا لینا اور دینا جائز ہے۔
    البتہ اگر ڈسکاؤنٹ میں مقصود صرف دھوکہ دینا ہو، یا اس میں قمار یا سود شامل ہو تو پھر وہ ناجائز ہو جائے گا۔
    مضمون کے اخیر میں اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں اس پروگرام میں مل بیٹھ کر کچھ باتیں کرنے کا موقع دیا، جو باتیں صحیح ہیں، وہ اللہ رب العالمین کی طرف سے ہیں، اور جو غلط ہیں وہ میری اور شیطان کی طرف سے ہیں۔ میں ان سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔
    و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد، و علی آلہ و أصحابه أجمعین۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings